تلنگانہ میں اردو دوسری سرکاری زبان سرکار

اردو ملک کی قدیم اور استعمال ہونے والی زبان ہے ۔ایک طرف اس کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوںمیں ہے تو دوسری طرف اس کو تعصب کا بھی شدید سامنا ہے ۔ اگر تلنگانہ جیسی نو مولود ریاست میں اس کو سرکاری زبان کی حیثیت دی گئی ہے اور اس زبان کو فروغ دینے کے لئے اردو اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے تو وہیں دوسری طرف اترپردیش جیسی ملک کی بڑی ریاست جہاں تقریبا 18فیصد آبادی کی مادری زبان اردو ہے ،تعصب کا یہ عالم ہے کہ بلدیہ الیکشن کے بعد ایک کامیاب امیدوار اردو میں حلف لیتا ہے تو اس پر تنقید وں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔یہ واقعہ شہر علی گڑھ کا ہے ۔دراصل مشرف حسین بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر علی گڑھ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں کونسلر منتخب ہوئے۔ وہ خود اردو کے استاد ہیں اور انھوں نے اردو میں ہی اپنے عہدے کا حلف لیا جس کے بعد ماحول کشیدہ ہو گیا اور توڑ پھوڑ شروع ہوگئی جبکہ قانون کے مطابق ’اردو زبان میں حلف لینا کوئی جرم نہیں ہے اور یہ زبان آئین اور ریاست دونوں جگہ اپنی اہمیت رکھتی ہے لیکن یہ تنگ نظری کا شکار ہے۔
فراخدلی کا مظاہرہ
یہ تو ہے اترپردیش میں اردو کے تئیں تنگ نظری کا لیکن اسی کے ساتھ تلنگانہ نے اردو کے تعلق سے انتہائی فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل قانون ساز اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،اچھی بات یہ ہے کہ یہاںبی جے پی نے بھی اردو بل کی مخالفت نہیں کی ۔حالانکہ یہاں بھی کچھ لوگوں نے تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کہ کہ یہ زبان مسلمانوں کی زبان ہے ،مگر وہاں کی حکومت نے بل پاس کرکے یہ بتا دیا کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے، یہ ایک ہندوستانی زبان ہے، سب لوگ اردو بولتے ہیں اور اسی لئے تمام سیاسی پارٹیوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد جس طرح اترپردیش ، بہار،‘ مغربی بنگال میں اردو کو دیگر18زبانوں کے ساتھ اضافی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اسی طرح سے تلنگانہ ملک بھر میں ایسی ریاست ہوگی جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت دی گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ 1888 میں اردو کو دکن میں سرکاری زبان کا درجہ دیا گیاتھا۔ قطب شاہی دور میں فارسی زبان سرکاری طور پر استعمال ہوتی تھی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

عملی اقدامات
چونکہ وزیراعلی کے چندرشیکھررائو خود اردو سے محبت کرتے ہیں۔لہٰذا اب اردو کو آگے بڑھانے کے لئے اردو اکیڈمی کے قیام کی منظوری دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ وہاں اردو کمپیوٹر سنٹرس کو بھی ترقی دینے پر غور و خوض ہورہا ہے۔ اس ریاست کے 9اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا۔یہ وہ علاقے ہیں جہاں اردو کثرت سے بولی پڑھی اور لکھی جاتی ہے۔ اب اس بل کے پاس ہوجانے کے بعد ریاست کی تمام 31اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے برتی جائے گی۔ وزیراعلی کے چندرشیکھررائو نے اعلان کیا ہے کہ دفتر وزیراعلی ‘ ریاستی وزراء کے دفتر،ڈی جی پی کے دفتر ‘ کلکٹرس کے دفاتر میں اردو کے افسروں کی تقرری کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔ چندراشیکھرراؤ نے حسب وعدہ برسوں سے متحدہ آندھرا پردیش میں ناانصافی کا شکار اردوزبان کو ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کا مؤقف دیتے ہوئے اپنے وعدہ کو عملی جامہ پہنایا ۔ اس سے ریاست میں بسنے والے اردو داں طبقہ میں خوشی کی لہربھی دؤڑادی ہے۔ وزیراعلیٰ کے سی آر نے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا مؤقف دینے سے قبل ریاستی اسمبلی میں یہ اعلان کیا تھا کہ اندرون60یوم ریاست میں 66اردو مترجمین کے تقررات کئے جائیں گے اور اردو زبان کو اس کا مکمل حق دیتے ہوئے اسے روزگار سے جوڑا جائے گا۔ ریاست تلنگانہ کے 31 اضلاع کے کئی سرکاری دفاتر، پولیس اسٹیشنس، بس اسٹانڈس کے سائن بورڈس پراردوندارد ہے ! سرکاری دفاتر میں اردو زبان میں درخواستیں قبول نہیں کی جارہی تھیں کہ ان دفاتر میں اردو داں عہدیدار مؤجود نہیں ہے ۔
دوسری جانب ریاست کی آرٹی سی بسوں کے بورڈس پر اردو کو جگہ نہیں دی گئی، اسی طرح سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ حکومت کے انفار میشن بیورو اوراضلاع کے ڈی پی آر اوز کے دفاتر میں اردو داں عہدیداروں کے نہ ہونے کے باعث کئی اہم خبریں انفارمیشن بیورو اورریاست کے تمام ڈی پی آر اوز سے تلگو یا انگریزی زبان میں پریس نوٹس اردو اخبارات کے نمائندوں یا دفاتر کو بذریعہ ای۔ میل روانہ کئے جاتے تھے ، اس طرح اردو اوراردو اخبارات کو نظر انداز کئے جانے سے حکومت کا ہی نقصان ہوتا تھا کیونکہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ یا آغاز کردہ کئی ایک عوامی اطلاع پر مشتمل اور ترقیاتی اسکیمات کی تفصیلات اردو کے قارئین تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔ اردو داں طبقہ کی یہ بھی ایک شکایت رہی ہے کہ اقلیتوں سے متعلق اردو اخبارات کے ذریعہ کئی ایک اسکیمات کی عدم تشہیر کے باعث وہ ان اسکیمات کے فوائد سے محروم رہ جاتے تھے انہیں اسکی اطلاع تک موصول نہیں ہوتی۔ اب ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت مل جانے سے ہ بشمول اسمبلی ، سیکریٹریٹ ، آئی اینڈ پی آر، ڈی آئی جی پولیس، کمشنر پولیس حیدرآبادکے بشمول 31اضلاع کے ضلع کلکٹریٹ میں اردو داں عہدیداروں کا تقرر کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اردو داں کی ذمہ داری
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ 66 اردو مترجمین کے تقررات انتہائی صاف و شفاف طریقہ سے عمل میں لا یا جائے اور ان تقررات کے لئے کسی کی بھی سفارش کو مکمل نظر انداز کیا جائے ، مترجمین کے تقررات کیلئے ان کا اہلیتی ٹسٹ منعقد کیا جائے جو کہ تلگواور اردو زبان سے یکساں واقفیت رکھتے ہوں اگر سفارش کے ذریعہ تقررات عمل میں لایا جائے تو تو پھر حکومت کے اس نیک مقصد کے ہی بے اثر ہونے کا امکان ہے۔ جب ریاستی حکومت اور وزیراعلیٰ کے سی آر نے کھلے ذہن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کو ریاست کی دوسری زبان کا مؤقف عطا کردیا ہے تو ضروری ہے کہ ہم اردو والے بھی اب اردو زبان کیساتھ اپنی بے اعتنائی اور سوتیلانہ رویہ ترک کردیں ۔شادی بیاہ و دیگر تقاریب کے دعوت ناموں میں اردو کو بھی جگہ دیں،تاجرین اپنی دْکانات کے سائن بورڈس پر اردو بھی تحریرکروائیں۔ سوشل میڈیا پران دنوں مسلم نوجوانوں کی جانب سے شعر و شاعری سے شغف دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی ’’ ضرورت شدید ہیکہ اب محلہ واری ، ٹاؤنس اور شہری سطح پر اردو تنظیمیں اردو زبان سے نابلد مسلم نوجوانوں کو اردو سکھانے کیلئے آگے آئیں اور یہ کام نہایت ذمہ داری اور نظم و ضبط کیساتھ کیا جائے ، ساتھ ہی ہر گھر میں اردواخبارکو لازمی کرلیا جائے تاکہ اردو اخبارات مزید بہتر طریقہ سے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو وسعت دے سکیں ، اردو تنظیمیں اور سیاسی قائدین اردو اخبارات کیلئے اشتہارات بھی وقتاً فوقتاً جاری کرتے رہیں کیونکہ اشتہارات ہی کسی اخبار کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں حکومت بھی اقلیتی اسکیمات کی تشہیر کیساتھ ساتھ دیگر سرکاری پروگراموں کے اشتہارات اردو اخبارات کو بھی جاری کرتی رہے تو امکان قوی ہیکہ ریاست تلنگانہ میں اردو کا ماضی تابناک ہوگا ۔ وہیں اردو والوں کے لئے بھی لازمی ہیکہ وہ ریاست کی پہلی زبان تلگو کو سیکھنے کی کوشش کریں کیونکہ دیکھا یہ جاتا ہیکہ شہر کی بہ نسبت اضلاع کے مسلمان تلگو زبان باآسانی لکھ ، بول اور پڑھ لیا کرتے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں سے بھی اپیل ہے کہ وہ اردو مترجمین کے تقرر تک حسبِ ضرورت اردو اعلانات کیلئے کسی اردو داں فرد کی خدمات حاصل کریں ورنہ انکی جانب سے اردو سے نابلد افراد کے ذریعہ اگر اعلانات لکھواکرشہر کے اہم مقامات پرنصب کئے جائیں گے تو وہ مذاق کا مؤضوع بن جائے گا !!! جیسا کہ زیر نظر تصویر ان دنوں سوشل میڈیا پر مذاق کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *