طلاق ثلاثہ بل ناقابل عمل:مولاناحسیب صدیقی

Haseeb-Siddiqi
مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے جنرل منیجر مولانا حسیب صدیقی نے بی جے پی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کی مرکزی اور صوبائی حکومت مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے چھیڑ چھاڑ کرکے ملک کے اصل مسائل سے عوام کا ذہن بھٹکارہی ہے،انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے اپنے دور میں دس سے زائد مسلمانوں کے ایسے مسائل کھڑے کئے ہیں جو راست طورپر ان کے مذہبی معاملہ سے منسلک ہیں،اس طر ح کے پروپیگنڈوں کے پیچھے بی جے پی کا خالص انتخابی ذہن کام کرتاہے جس کا مقصد مسلمانوں اور دیگر فرقوں کو الگ کرکے اپنے ووٹ بینک کو مضبوط رکھناہے۔ یہاں جاری اپنے بیان میں مولانا حسیب صدیقی نے شمار کراتے ہوئے بتایاکہ بی جے پی نے طلاق ثلاثہ،مسلمانوں کے ہجومی قتل،خواتین کو بغیر محرم کے حج پر جانے کی چھوٹ،لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی،گوشت پر پابندی،دینی مدارس کے نصاب سے چھیڑ چھاڑ،مدارس میں جدید کاری اور وزیر اعظم کی تصویر لگانے ،گائے کی خریدو فروخت پر پابندی اور تعدد ازدواج جیسے ایسے مسائل ہیں جو خالص مسلمانوں کے شرعی معاملے ہیں اور بی جے پی حکومت اس طرح کے مسائل کو اٹھاکر مسلمانوں اورملک کے عوام میں تفریق پیدا کرکے ان کے آئینی حقوق سلب کرنے کا کام کررہی ہے ۔
انہوں نے کہ مرکزی کی مودی حکومت اور اترپردیش کی یوگی حکومت اس ملک کے عوام کو مسلسل مذہبی معاملات میں الجھا رکھا ہے اور عوام کے اصل مسائل کو پس پشت ڈال رکھا ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستان کی معیشت چوپٹ ہوتی جارہی ہے۔ مولانا حسیب صدیقی نے کہا کہ ہندوستان میں جتنی قومیں رہتی ہیں ان سب کو اپنے مذاہب کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا پورا حق دستور ہند دیتا ہے اور دستور سے چھیڑ چھاڑ کرنے یا اس میں مداخلت کرنے کا کسی بھی حکومت کو کوئی حق حاصل نہیں ہے لیکن مرکزی حکومت مسلمانوں کو حاصل دستوری حقوق میں داخل اندازی کرکے اس ملک کے ایک فرقہ کو خوش کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی یکساں سول کوڈ تو نہیں لار ہی ہے بلکہ وہ مسلمانوں کے اس طرح کے شرعی مسائل میں مداخلت کرکے انہیں دستوری حقوق سے محروم ضرور کردینا چاہتی ہے۔ حسیب صدیقی نے کہاکہ بی جے پی کی پوری طرح آر ایس ایس کی ایجنڈے پر کام کررہی اور پی ایم اپنی سیاسی اور انتخابی ضرورتوں کو پورا کررہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آزادہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے ججز کو میڈیا کے سامنے اپنی بات کہنے کے لئے آنا ،پڑا جس سے تمام حالات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ مولانا حسیب صدیقی نے کہاکہ ہندوستان کے آئین میں مذہبی آزادی کے قوانین موجودہیں ہم اس کی روشنی میں یہ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہبی معاملات میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی نہ کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کے بجائے ملک کی ترقی کے سلسلہ میں غوروفکر کرے ،مہنگائی ،روزگار اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنقید نہیں بلکہ ملک کی موجودہ صورت حال اور حکومت کی غلط سوچ وفکر کے تئیں اظہار فکر مندی ہے۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ ہندؤں اور دیگر اقلیتوں، دلتوں وپسماندہ طبقات کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرکے امن وسکون اور محبت کی فضا قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے پاس ایک مکمل نظامت حیات شریعت کی شکل میں موجود ہے اس کے علاوہ ہم اس ملک کے باشندے ہیں اور ملک کے آئین نے ہمیں جو حقوق دئیے ہیں انہیں نہ تو کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی ان میں مداخلت کرنے کا کسی کو حق ہے اس لئے پرسنل لاء میں مداخلت خلاف قانون اور ناقابل عمل ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *