کشمیر کے حالات میں کوئی زمینی تبدیلی نہیں

جموں کشمیر میں تعینات فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں مسلسل 30سال سے یہاں ملیٹنسی کو ختم کرنے کی ایک ناکام کوشش کررہی ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں کبھی بھی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو یہاں ایسی کامیابی نہیں ملی ، جس کی بنا پر وہ کہہ سکتی تھیںکہ اب اس ریاست میں ملی ٹنسی اور تشدد مکمل طور ختم ہوچکا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی اس بے بسی کے چلتے اب ان کے لئے ایک اور چیلنج مقامی نوجوانوں کی ملی ٹنسی کے تئیں بڑھتی ہوئی رغبت ہے۔ ملی ٹینٹوں کے خلاف جاری ’’آپریشن آل آئوٹ‘‘ کے تحت گزشتہ سال یعنی 2017میں فورسز نے 215مقامی اور غیر ملکی ملی ٹینٹوں کو مار گرایا۔ لیکن اسی سال مزید 117کشمیری نوجوان ملی ٹنسی میں شامل ہوگئے ہیں۔
ملی ٹینسی میں شمولیت
یہ تعداد گزشتہ سات سال کے دوران ملی ٹنسی میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی سب سے زیادہ ہے۔ حال ہی میں شمالی کشمیر کے کپوارہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان منان وانی نے سوشل میڈیا پر حزب المجاہدین میں شمولیت کا اعلان کردیا ۔منان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ارضیات سے متعلق موضوع پر پی ایچ ٖڈی کررہا تھا۔ اپنی تعلیم کے آخری سال میں منان کے ملی ٹینٹ بننے نے سب کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ چند ماہ قبل جنوبی کشمیر کے ایک 26سالہ نوجوان زاہد منظور وانی نے بھی سوشل میڈیا پر حزب المجاہدین میں اپنی شمولیت کا اعلان کیا تھا۔ زاہد سائنس کے مضمون میں گریجویشن کے بعد خاندانی تجارت سے منسلک ہوگیا تھا۔ اس کا ایک بھائی ایم بی بی ایس اور دوسرا بی ایس سی کررہا ہے۔ گھر میں پیسے کی ریل پیل بھی ہے۔لیکن ان خوشگوار حالات زندگی کے باوجود زاہد نے سکون کی زندگی ترک کرکے تشدد کی راہ اپنا لی۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں وادی کے ہر علاقے میں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران جو دو سو سے زائد نوجوان ملی ٹینٹ بن گئے ہیں، ان کی عمر 16سے 23سال کے درمیان ہے۔ حالانکہ فوج اور فورسز کی جانب سے جاری ’’آپریشن آل آوٹ ‘‘ کے دوران ان نئے ملی ٹینٹوں میں اکثر مارے جاچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے۔

 

 

 

 

 

 

نئے سال کی آمد پر سرینگر کے 22کلو میٹر دور لیتہ پورہ میں پیرا ملٹری فورس کے ایک تربیتی مرکز پر تین جنگجوئوں کے خود کش حملے نے سیکورٹی ایجنسیوں کو سشدر کردیا کیوںکہ حملہ آور تین جنگجوئوں میں سے دو مقامی نوجوان تھے۔ ایسا واقعہ 18سال بعد رونما ہوا ہے ، جب کسی کشمیری جنگجونے فورسز پر خود کش حملہ کیا ہے۔ پچھلی بار مئی 2000میں سرینگر کے ایک 16سالہ نوجوان آفاق احمد شاہ نے سرینگر کے بادامی باغ علاقے میں واقعہ فوجی چھائونی کے صدر دروازے پر بارود سے بھری اپنی گاڑی کو اڑا دیا تھا۔ اس حملہ کے 18سال بعد 16سالہ فردین احمد کھاندے اور25سالہ منظور احمد بابا نامی جنوبی کشمیر کے دو جنگجوئوںنے پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو کے ہمراہ فورسز کے کیمپ پر دعویٰ بول دیا۔ حملے میں فورسز کے پانچ جوان مارے گئے جبکہ 36گھنٹے کی جوابی کارروائی میں فورسز نے ان تینوں حملہ آوروں کو مار گرایا ۔فردین احمد کھانڈے ایک پولیس اہلکار کا بیٹا تھا ۔وہ محض تین ماہ پہلے ہی ملی ٹنٹ بن چکا تھا ۔خود کش حملے سے پہلے اس نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا تھا، جس میں اس نے کشمیری نوجوانوں سے ملی ٹنٹ بننے کی اپیل کی تھی ۔یہ ویڈیو ریکارڈنگ فردین کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔
یہ ساری مثالیں دلی کے میڈیا کے اُس پروپگنڈے کی نفی کرتے ہیں کہ کشمیر میں نوجوان غریبی اوربے روزگاری کی وجہ سے تشددکی راہ اپنارہے ہیں۔یہاں کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی مبصرین شروع سے ہی اس بات کو غلط قرار دیتے رہے ہیں۔تجزیہ کار پر ویز مجید نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے کشمیری نوجوان ملی ٹنسی یا پتھرائو جیسی پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ بھارت کی کئی ریاستوں میں بے روزگاری کی شرح جموں کشمیر سے زیادہ ہے لیکن ان ریاستوں میں نہ ہی پتھرائو ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ملی ٹنٹ بن جاتا ہے۔ملی ٹنسی میں شامل ہونے والے کشمیری نوجوانوں کو یہ پتہ کہ وہ فوج اور فورسز کے ہاتھوں چند ہفتوں یا زیادہ سے زیادہ چند ماہ میں مارے جائیں گے ۔ لیکن اس کے باوجود اگر وہ ملی ٹنٹ بن جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شعوری کی بیداری کے ساتھ یہ قدم اٹھاتے ہیں۔‘‘
ملی ٹنٹ تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کے بھرتی کے علاوہ سیکورٹی ایجنسیوں کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے ، وہ ان جنگجوئوں کو حاصل عوامی سپورٹ ہے۔ لیتہ پورہ میں پیرا ملٹری فورسزکے تربیتی کیمپ پر فدائین حملہ کرنے والے جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگ شامل ہوگئے تھے۔ چار دن تک ان کے آبائی علاقوں میں تعزیتی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ۔ ان کے گھروں پر تعزیت پرسی کے لئے آنے والوں کا تانتا کئی دن تک بندھا رہا ۔یہ تو خیر ملی ٹینٹوں کے تئیں عام لوگوں کا رویہ ہے۔ لیکن ’بھارت نواز‘ پکارے جانے والے کشمیری سیاستدانوں کا ملی ٹینٹوں کے تئیں رویہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ حال ہی میں حکومت کو اُس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب حکمران جماعت پی ڈی پی کے ایک ممبر اسمبلی اعجاز احمد میر نے اسمبلی اجلاس کے دورن ملی ٹینٹوں کو اپنا بھائی کہہ کر پکارا اور مارے جانے والے ملی ٹنٹوں کو ’شہید‘ قرار دیا۔اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں اعجاز احمد میر نے کہا ’’آپ انہیں ملی ٹینٹ کہیں، دہشت گرد یا اور کچھ ، یہ کشمیری ہیں اور ہمارے بھائی ہیں۔‘‘ وادی میں گزشتہ دو سال کے دوران عام کشمیریوں کی جانب سے ملی ٹینٹوں کو فورسز اور فوج کے ذریعے مارے جانے سے بچانے کا ایک خطرناک سلسلہ دیکھنے کو ملا۔ جب فورسز کسی علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پانے کے بعد اس علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن شروع کرتے ہیں یا ان کی ملی ٹینٹوں کے ساتھ مڈ بھیڑ شروع ہوجاتی ہے تو مقامی نوجوان گھر وں سے باہر آکر فورسز پر پتھرائو شروع کردیتے ہیں تاکہ ملی ٹینٹوں کو بھاگ نکلنے کا موقعہ ملے۔حالانکہ فوجی سربراہ جنرل بپن رائوت نے گزشتہ سال جنگجوئوں کی اس طرح سے مدد کرنے والوں کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو فوج ان پتھرائو کرنے والوں کو جنگجوئوں کا معاون تصور کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔ کلیکن اس وارننگ یا دھمکی کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سال 2017میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں 29افراد مارے گئے ، جن کے بارے میں فورسز کا کہنا ہے کہ وہ جنگجوئوں کو بھاگ نکلنے کا موقعہ دینے کے لئے تشدد بپا کررہے تھے۔ اسی طرح وادی میں فورسز اور فوج پر پتھرائو کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق سال 2016میں وادی میں پتھرائو کے 2808واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جبکہ سال 2017 میں اس طرح کے 1109واقعات رونما ہوئے۔جولائی 2008سے اب تک فورسز نے پتھرائو کرنے والوں کے خلاف 11,500فوجداری مقدمات درج کر لئے ہیں۔حالانکہ حکومت نے حال ہی میں چار ہزار سے زائد مقدمات کو واپس لینے کا اعلان کیا لیکن حکومت کے اس مثبت اقدام کے باوجود زمینی حالات پر کوئی تبدیلی رونما ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ وادی میں کس قدر پر تشدد حالات جاری ہیں ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال رفتہ میں 348افراد تشدد کی نذر ہوکر مارے گئے ۔ ان میں 56عام شہری ، 215ملی ٹینٹ اور78فورسز اہلکار شامل ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

زمینی حالات
یہ ہیں وہ زمینی حالات و واقعات جو فی الوقت کشمیر میں بنے ہوئے ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مرکزی سرکار کے پاس ان حالات کو ٹھیک کرنے کی کیا اسٹریٹجی ہے؟ جہاں تک فوجی قوت کے استعمال کا تعلق ہے، وہ گزشتہ تیس سال سے جاری ہے لیکن فورسز اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں اب تک یہاں کے زمینی حالات کو تبدیل کرنے میں ناکام ثابت ہوچکی ہیں۔ اگر ملی ٹنسی اور تشدد کو فوج اور فورسز ختم کرسکتی تھیں تو یہ کام گزشتہ تیس سال میں ہوچکا ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایسی صورتحال میں مبصرین کا ماننا ہے کہ نئی دلی کے پاس کشمیر میں ایک سنجیدہ پولیٹیکل پراسس شروع کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ سینئر صحافی اور روز نامہ چٹان کے ایڈیٹرطاہر محی الدین نے اس حوالے سے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ میرا ماننا ہے کہ کشمیر اُس دور سے گزر چکا ہے ، جب اسے فوجی طاقت کے بل پر زیر کیا جاسکتا تھا۔ یہاں کے حالات تب تک ٹھیک ہوتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں، جب تک نہ کشمیر کے تنازعے کا کوئی حتمی اور دائمی سیاسی حل نکالا جاتا۔ اور اسکے لئے ایک سنجیدہ سیاسی عمل شروع کرنا ناگزیر ہے۔‘‘
مودی سرکار نے گزشتہ سال اکتوبر میں انٹیلی جنس بیرو (آئی بی) کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کے لئے ایک مذاکرات کار نامزد کیا ۔ تب سے دنیشور شرما اب تک تین بار کشمیر کا تفصیلی دورہ کرچکے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے لئے بطور مذاکرات کار دنیشور شرما سرگرمیاں کوئی نتیجہ برآمد نہیں کرسکیں۔ غالباً ان کی غیر سیاسی شخصیت اور کشمیر کے حوالے ان کے خیالات کی وجہ سے وہ کوئی مثبت نتیجہ برآمد کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ۔انہوں نے یہاں اپنے دوروں کے دوران سینکڑوں وفود سے ملاقاتیں کیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان سے ملنے والے اکثر لوگ وہ تھے ، جن کا کشمیر کے زمینی حالات کو تبدیل کرنے میں کوئی رول نہیں ہوسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ چھوٹی چھوٹی تاجر انجمنیں، ٹیکسی ڈرائیورس ایسوسی ایشن ، این جی اوز سے جڑے لوگ، مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے کارکن وغیرہ سے ملنے کے بعد دنیشور شرما کو کیا حاصل ہوسکتا تھا۔
کشمیر کاکوئی پر امن اور دائمی سیاسی حل نکالنے علاحدگی پسند لیڈروں ، جنگجوئوں اور نوجوانوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ سب صرف اُسی صورت میں ممکن ہے ، جب حکومت ہند زبانی جمع خرچ کئے بغیر اور اپنی انا کو قابو میں رکھتے ہوئے ایک سنجیدہ سیاسی عمل شروع کرتی ہے۔ برعکس صورت میں کشمیر کے حالات اسی طرح بد سے بدتر ہوتے جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *