مذہبی بنیاد پر شہریت کا بل نہیں این آر سی اپڈیٹنگ خوش آمدید

2017اور 2018 کی درمیانی شب جب پورا ملک نئے سال کو خوش آمدید کہنے میں مصروف تھا تو اس وقت آسام کے باشندوں کی شہریت کی قسمت کا فیصلہ ہورہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شب ریاست آسام کے لوگ بھی جاگے ہوئے تھے۔البتہ دیگر ریاستوں کے لوگوں اور ریاست آسام کے لوگوں کے جاگنے میں واضح فرق تھا۔ قبل الذکر کے جاگنے میں نئے سال کی خوشی کا اظہار تھا تو آخر الذکر کے جاگنے میں بے چینی تھی اس بات کو جاننے کے لئے کہ 31دسمبرو یکم جنوری کی درمیانی شب میں سپریم کورٹ کے حکم پر ریلیز کئے گئے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی )کی پہلی فہرست میں کس کس کا نام شامل ہے اور کس کس کا نام شامل نہیں ہے۔ اس فہرست میں شہریت کے کل 3کروڑ 29لاکھ درخواست دہندوں میں سے صرف ایک کروڑ 90 لاکھ کے نام موجود ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ باقی ایک کروڑ 29لاکھ یعنی 40 فیصد لوگوں کو مزید انتظار کرنا پڑے گا این آر سی کی آئندہ فہرست کا۔ توقع ہے کہ یہ دوسری فہرست اسی سال کبھی منظر عام پر آئے گی۔
فہرست بنانا مشکل کام
این آر سی کی فہرست تیا رکرنا کتنا مشکل اور جوکھم بھرا کام ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس فہرست میں ایک ہی خاندان کے کچھ لوگوں کو اس پہلی فہرست میں جگہ ملی تو کچھ کو نہیں ملی۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ کچھ ریاستی وزیر ایم پی اور ایم ایل اے بھی اس پہلی فہرست میں آنے سے رہ گئے۔حیرت تو اس وقت انتہا پر پہنچ گئی جب یہ معلوم ہوا کہ باغی علاحدگی پسند الفا (آزاد) لیڈر پریش برووا جو کہ گزشتہ 37برسوں سے چین – میانمار سرحد پر کہیں چھپے ہوئے بتائے جاتے ہیں، کا اس فہرست میں نام شامل ہے جبکہ آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی یو ڈی ایف ) کے سربراہ اور لوک سبھا رکن مولانابدرا لدین اجمل قاسمی فہرست سے غائب ہیں۔
پہلی فہرست کے محروم لوگوں میں 1983 میں اسی شہریت کے ایشو کو لے کر بدنام زمانہ قتل عام سے گزرے نیلی کے متاثرین کی قابل ذکر تعداد بھی شامل ہے۔ پہلی فہرست کے محروم لوگوں میں سلچر کے کاشی پور علاقہ میں اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہ رہا 40 سالہ ڈرائیور حنیف خاں بھی تھا جس نے شہریت کی فہرست میں اپنا نام نہ دیکھ کر گھر واپس لوٹتے وقت درخت سے لٹک کر خود کشی کرلی ۔ اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ’’ 31دسمبر کو آنے والی اس فہرست کو لے کر حنیف کئی دنوں سے بہت تنائو میں تھا۔ وہ اکثریہ پوچھتا تھاکہ اگر ہمارے نام فہرست میں نہیں آئے تو ہم سب کا کیا ہوگا۔ وہ گھر سے باہر جانے میں خوفزدہ رہتا تھا اور باہر جاتا بھی تھا تو فوراً لوٹ آتا تھا سڑک پر چلتی ہوئی پولیس کی کسی گاڑی کو دیکھ کر ‘‘۔
ظاہر سی بات ہے کہ این آر سی فہرست 2018 میں متعدد بار نظر ثانی کے بعد مکمل ہوگی مگر شہریت کو ثابت کرنے والے دستاویز کی فراہمی کی نزاکت اور پہلی فہرست کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی ہے کہ آئندہ فہرست سبھی درخواست دہندگان کو مطمئن کرسکے گی۔
آسام ملک کی ایسی واحد ریاست ہے جس نے 1951 کی مردم شماری کے بعد این آر سی تیار کیا تھا۔ 1985 میں ہوئے آسام معاہدہ کے 32 برسوں بعد 31دسمبر 2017 ۔یکم جنوری 2018 کی شب پہلے اپ ڈیٹیڈ این آر سی کو پانے کے بعد بھی یہ ایسا کرنے والی پہلی ریاست بن گیا ہے۔ عیاں رہے کہ 1951 کے این آر سی کو ریاست آسام میں ان درخواست دہندگان کے ناموں کے ساتھ اپڈیٹ کیا جاتا ہے جن کا نام 1951 کے این آر سی یا 25-24 مارچ 1971 کی درمیانی شب تک ریاست کی کسی انتخابی فہرست میں آیا تھا اور ا ن کے اولاد میں سے تھا اور تمام ہندوستانی شہری بشمول ان کے بچے اور اولاد میں سے تمام لوگ جو کہ 24مارچ 1971 کے بعد آسام آگئے تھے۔
مائیگریشن اور ڈیموگرافک تبدیلی 1950کی دہائی سے آسام کی سیاست میں بڑی اہم گردانی جاتی ہے۔1970 کی دہائی کے اواخر میں آسام ایجی ٹیشن شہریت کے سوال پر مرکوز تھا اور اس نے غیر قانونی مائیگرینٹس کے ڈیٹیکشن یعنی پتہ لگانے ، ڈیلیشن یعنی منسوخی اور ڈیپوریٹیشن یعنی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔1985 کے آسام معاہدہ میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان ایشوز سے نمٹاجائے گا اور گزشتہ 31دسمبر- یکم جنوری کو این آر سی کی جو پہلی فہرست اپڈیٹ ہوکر منظر عام پر آئی ہے، وہ دراصل انہی وعدوں کو پورا کرنے کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے۔ ویسے یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ ریاست آسام میں غیر قانونی مائیگرینٹس کی صحیح تعداد اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکے گی جب تک کہ این آر سی اتھارٹیز کے ذریعے فائنل ڈرافٹ میں اس پہلی فہرست کے محروم لوگوں کے دعوے اور اعتراضات نمٹانہ لئے جائیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

گرام پنچایت سرٹیفکیٹ
واضح رہے کہ بعد کے ڈرافٹ کے لئے این آر سی کی جانچ سے شادی کے بعد مائیگریٹ کرنے کی صورت میں رہائش کے دعوئوں کے ثبوت میں گرام پنچایت کے سکریٹریز اور ایگزیکٹیومجسٹریٹس کے ذریعے جاری کئے گئے سرٹیفکیٹ کو جمع کرنے والی 29لاکھ خواتین کی درخواست پر کوئی فیصلہ ہو پائے گا۔ کیونکہ سپریم کورٹ نے ان دستاویز کو ثبوت کے طور پر قبل کے گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک آرڈر کو کنارے لگا کر منطوری دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ نے ان دستاویز کو این آر سی میں شمولیت کے لئے دعوئوں کی جانچ کے عمل میں کمزور اور غیر موثر قرار دیاتھا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ گرام پنچایت کے سکریٹری کے ذریعے جاری کیا گیاسرٹیفکیٹ کسی بھی طرح شہریت کا ثبوت نہیں ہے اور یہ ایسا ثبوت تبھی بن پائے گا جب دعویدار اور اس کے ہندوستانی رشتہ دار شہری کے نسب کے درمیان ربط اور رشتہ ہو۔ نیز یہ سرٹیفکیٹ دو مرحلوں میں جانچا جائے گا۔ پہلا خود اس سرٹیفکیٹ کی صداقت ہوگی تو دوسرا اس میں دی گئی تفصیلات کی تصدیق ہوگی۔جانچ کا دوسرا عمل یقینا لمبا ہوگا جس کے دوران حقائق کی معلومات اور سرٹیفکیٹ میں ریکارڈ کی گئی دیگر تفصیلات کو سرٹیفکیٹ کے حامل کو ایک موقع فراہم کرنے کے بعد یقینی بنایا جائے گا۔
بی جے پی کا شہریت بل
این آر سی کے پہلے ڈرافٹ کے شائع ہوتے ہی پہلا دھماکہ یہ ہوا کہ آسام میں برسراقتدار مخلوط حکومت کے شریک کار سیاسی پارٹی آسام گن پریشد (اے جی پی ) نے بی جے پی سے تعلق توڑنے کی دھمکی دی۔ اس کا کہنا ہے کہ بی جے پی سٹیزن شپ (ترمیم ) بل کو پاس کرانے سے باز آئے۔عیاں رہے کہ یہ بل 1971 کے بعد آسام میں داخل ہوئے ہندو بنگلہ دیشیوں کو شہریت فراہم کرنے کی بات کرتا ہے۔ تمام اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس اور آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اور طلباء و نوجوان تنظیموں نے مذہب کی بنیاد پر غیر قانونی مائیگرینٹس کی شناخت کی شدید مخالفت کی ہے۔انہوں نے اس بل کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو یہ اپڈیٹیڈ این آر سی کے ساتھ ساتھ سٹیزن شپ رجسٹر کے اپڈیٹ کرنے کے پورے عمل کو بے ثر اور بے کار بنادے گا۔ سچ بھی یہی ہے کہ بی جے پی کے ذریعے اس بل کو قانون بنانے کی صورت میں آسام معاہدہ کی رو سے غیر ملکیوں کی شناخت کا سوال این آر سی کے فائنل ڈرافٹ کے شائع ہوجانے کے بعد بھی رہ جائے گا اور اس کا جواب دینا ممکن نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں مسئلہ مزید الجھے گا۔
اس تلخ حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ این آر سی کا یہ ڈرافٹ درحقیقت اصل مسئلہ کے حل کی جانب پہلا قدم ہے اور اس سے بہت سے احتمال اور اندیشے نیز تشویشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ سپریم کورٹ کے اڑیل رویہ کو دیکھتے ہوئے آسام نے 31دسمبر کی آدھی رات کو این آر سی کا پہلا ڈرافٹ شائع کردیا جس کے نتیجے میں اس کی فراہم کردہ فہرست ڈرافٹ کی ڈرافٹ ثابت ہوئی اور 3کروڑ 29 لاکھ درخواست دہندگان میں سے ایک کروڑ 29لاکھ لوگوں کی شہریت کا معاملہ رک کر مزید جانچ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اب یہ حکومت کا کام ہوگا کہ اس نے فہرست میں نام نہ آنے کی صورت میں بار بار جو وضاحت کی ہے کہ اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اس تعلق سے لوگوں کی تشویش کو دور کرکے انہیں مطمئن کرے۔ آگے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جب ڈرافٹ حتمی شکل اختیار کرے گا تب شہریت سے محروم افراد کی اصل تعداد سامنے آئے گی اور یہ تعداد ریاست کی غیر قانونی مائیگرینٹس قرار دی جائے گی ۔ ویسے یہ بھی طے ہے کہ فائنل ڈرافٹ کے آنے کے بعد بھی دعووں اور اعتراضات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

 

 

 

 

 

 

شہریت کے اس ایشو کا انسانی نقطہ نظر بھی بڑ اہی اہم ہے۔ اس حقیقت سے سبھی لوگ واقف ہیں کہ 25 مارچ 1971 کے کٹ اف ڈیٹ کو بھیتقریبا 5 دہائی گزر گئی اور اس درمیان جو افراد یہاں غیر قانونی طور پر آگئے ہوں گے ، اب ان کی اولاد اور در اولاد ہیں۔ ان کی یہ اولادیں وہ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں پیدائش کے بعد آنکھ کھولا ہے، یہیں رہے ہیں اور اسی ملک کو اپنا وطن جانا ہے۔لہٰذا سوال یہ ہے کہ اب ان سے کہاں جانے کی توقع کی جائے؟وہ حالات جن کے تحت 20 ہزار مشتبہ یا ڈی ووٹرس یہاں رہنے پر مجبور ہیں، اس نے ان کے اندر زبردست عدم اعتماد اور خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورت حال پیدا کردیا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ اس اندیشہ کو بھی ختم نہیں کیا جاسکتاہے کہ بنگلہ دیش سے کسی ڈیپورٹیشن کے معاہدہ کے نہ رہنے کی صورت میں ’غیر ملکیوں ‘ کی تعداد بڑھے گی۔ یہ صورت حال مرکز کے ذریعے مذہب کی بنیاد پر سٹیزن شب (ترمیم ) بل کو پاس کرنے کے ارادے سے مزید الجھتی ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان سے آئے غیر قانونی ہندومائیگرینٹس ہندوستانی شہریت کے مستحق ہوجائیںگے۔ قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے 2014 کے عام انتخابات کے منشور میں 31 دسمبر 2014 کو کٹ اف ڈیٹ بتایا گیا ہے جس سے این آر سی کا عمل بری طرح متاثر ہوگا۔ بی جے پی کے حق میں بہتر یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد کو سیل کرنے کے وعدے کی انتخابی مہم پر فوکس کرے اور اسی کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں کے لئے شفاف ورک پرمٹ جیسے پروویژن کے امکان کو تلاش کرے بجائے اس کے کہ وہ کسی سیاسی متنازعہ قانون کا سہارا لے۔
آخری بات یہ ہے کہ آسام کی ڈیموگرافک تبدیلی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اس کا سلسلہ 19ویں صدی سے جاری ہے اور اس کے اقتصادی ، نسلی ، کلچرل اور مذہبی طول و عرض ہیں۔تقسیم اور قومی شناختوں کی سختی نے شہریت کے سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔لہٰذا یہ غیر حقیقت پسندانہ ہوگا کہ سخت سرحدوں اور تنگ شناختوں پر اصرار کیا جائے اور آبادی کی بڑی منتقلی کے لئے کہا جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں اس طرح کی سیاست کا اثر آسام تک محدود نہیں رہے گا۔ ریاست آسام بلاشبہ ’غیر شہریوں ‘ کے خلاف فرق ظاہر کرنے کے لئے بہت سے طریقے یا انسٹرومنٹس اختیار کرسکتاہے مگر اس طرح کا اپروچ نئے مسائل پیدا کرے گااور سماجی بے چینی و اضطراب کو بڑھائے گا۔ اس تناظر میں مرکز میں وزیر مملکت برائے مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹر پرائزیز گری راج سنگھ کا فیس بک پر یہ اظہار خیال بڑا ہی تکلیف دہ ہے کہ ’’ آسام کے عوام نے ہمیں موقع دیا ہے اور ہم نے دخل اندازوں کی نشاندہی کرنے کا کام شروع کردیا ہے تاکہ سماجی برابری بنی رہے۔اگر ہمیں مغربی بنگال کے عوام موقع دیتے ہیں تو ہم وہاںبھی ایسے عناصر کی نشاندہی کرنے کا کام کریں گے ‘‘
ضرورت ہے ایک ایسے سیاسی حل کی جس کے تحت اس ناقابل تردید حقیقت کو تسلیم کیا جاسکے کہ جدید ممالک مائیگریشنز کی پیداوار ہیں اور کلچرل نفوذ پختہ اور مناسب انداز میں شہریت کے ایشو سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے۔ شہریت کے اس مسئلہ کو بہت ہی احتیاط سے نمٹئے ورنہ اس مسئلہ کے سلجھنے کے بجائے مزید الجھنے کا اندیشہ لاحق ہوگا ۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *