ملک کی سیاسی ثقافت پر بحث کی ضرورت ہے

2 جی کیس کاطویل انتظار والا عدالتی فیصلہ سبھی کے لیے حیرت انگیز ہے۔ اس معاملے میںسبھی ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔یہ سب جانتے ہیں کہ سی بی آئی کا کنوکشن ریٹ (سزا دلانے کی شرح) محض 6 فیصد ہے۔ سی بی آئی کے ذریعہ فائل کیے گئے 94 فیصد کیس میںملزموںکو سزا نہیںہوپاتی ہے۔ ظاہر ہے،سی بی آئی کو بہت قابل ادارہ نہیںکہا جاسکتا ہے۔ یہ فیصلہ بہت سارے سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ سی بی آئی کے قانونی وجود اور قانونی صورت حال کو لے کر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیںکہ سردار پٹیل نے دہلی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ ایکٹ پاس کیا تھا۔ اس کا مقصد جن سیوکوں کے کرپشن کی نگرانی کرنا تھا۔ بعد میںاسے سی بی آئی کا نام دیا گیا۔ جو سی بی آئی کا اصل کام تھا،وہ یہ تھا کہ سی بی آئی جن سیوکوں پر نظر رکھے اور بدعنوانی کا معاملہ سامنے آئے تو اس کے خلاف کارروائی کرے۔ بعد میںسبھی ریاستوںکی پولیس کی نااہلی سے اگر کوئی کیس پیچیدہ ہوجاتا تو اسے سی بی آئی کو سونپنے کی بات کی جانے لگی تاکہ اس کیس پر ریاست کے وزیر اعلیٰ کا اثر نہ پڑے۔
سی بی آئی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ سی بی آئی پنجرے میں بند ایک طوطا ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخاب کا ایک متعین طریقہ ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ برسر اقتدار پارٹی کا سی بی آئی پر اثر تو رہتا ہی ہے۔ خاص طور سے موجودہ سرکار نے راکیش استھانا کو سی بی آئی کا اسپیشل ڈائریکٹر مقرر کرکے سی بی آئی کی اتھارٹی کو اور گھٹا دیا ہے۔ استھانا کے خلاف کئی سارے الزام ہیں۔ سی وی سی بھی برسراقتدار پارٹی کے بہت قریب ہیں اور مشکوک حالات میںاستھانا کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیںکرائی گئی تاکہ وہ اس عہدے کے لیے نااہل نہ ہوسکیں۔ سی بی آئی کے اعلیٰ افسروں کو شک سے دور ہونا چاہیے۔ یہ صرف اسی سرکا ر کا مسئلہ نہیںہے۔ ہر سرکار ایسا سی بی آئی ڈائریکٹر چاہتی ہے، جس پر اس کا کنٹرول ہوتاکہ اپنی پارٹی کی حفاظت کرسکے اور دیگر پارٹیوں پر حملہ کرسکے۔ یہ سرکار بھی ایسا ہی کررہی ہے اورتھوڑا آگے بڑھ کر کررہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

2 جی کیس میںآئے فیصلے کے بعد ا س پر بحث ہونی چاہیے کہ کیسے سی بی آئی آزاد اور خود مختار بنے؟ اس پر غور ہو کہ کیا سی بی آئی کسی جوڈیشیل اتھارٹی کے کنٹرول میںکام کرے یا پھر کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے اس کی آزادی یقینی ہوسکے۔ ابھی سی بی آئی لالو یادو کے خلاف دہلی میںایک کیس چلا رہی ہے۔ ایسی افواہ ہے کہ سرکار چاہتی ہے کہ الیکشن سے پہلے سی بی آئی کچھ ایسا کرے تاکہ لالو یادو کی شبیہ خراب ہوجائے۔ 2 جی کیس میںبھی فیصلہ آنے سے کچھ دن قبل تک برسراقتدار پارٹی کے قریبی لوگ یہ بتارہے تھے کہ ڈی ایم کے لیڈر کنی موجھی کے بری ہونے کا امکان ہے اور باقی کو جیل ہوگی۔ اس سیکیا ثابت ہوتا ہے ؟۔ کیا وہ لوگ (برسراقتدار پارٹی کے) ڈـی ایم کے سے کوئی ڈیل کرنا چاہتے تھے؟ـ کریمنل پروسیجر کوڈ کے تحت مجرم کے جرم کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے مضبوط جانچ، ثبوت اور گواہ جٹانے پڑتے ہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ 2 جی کیس میںسی بی آئی یہ کام نہیںکرپائی۔ سی بی آئی کو عدالت میںہا رکا منہ دیکھنا ہی تھا۔
نام نہاد کرکٹ میچ فکسنگ معاملے میںسی بی آئی جانچ کو میںنے قریب سے دیکھا ہے۔ اس معاملے میںسی بی آئی نے جو رپورٹ دی، اس رپورٹ کی آج کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سی بی آئی نے سٹے بازوں پر سارے الزام منڈھ دیے اور یہ کہتے ہوئے کارروائی نہیں کی کہ گیمبلنگ ایکٹ میںجرمانہ محض 500 روپے ہے۔ لہٰذـا سی بی آئی پک اینڈ چوز کے حساب سے کام کرتی ہے۔ جب لگتا ہے کہ کسی کو پریشان کرنا ہے تو اس پر بہت سارے معاملے لاد دیتی ہے اور اگرکسی کو راحت دینی ہو تویہ کہہ دیتی ہے کہ ثبوت نہیںملے یا کمزور ہیں۔ 2 جی معاملے میںکیا ہوا، اس کی مجھے پوری جانکاری نہیںہے۔ میںپچھلے کچھ عرصہ سے یہ بول رہا ہوں کہ کیگ رپورٹ پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ ایک لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے کے 2 جی گھوٹالے پر ونود رائے کی رپورٹ پر بہت ہو ہلہ ہوا اور اس کے الگ الگ مطلب نکالے گئے۔ میںپچھلے کچھ مہینوںسے یہ بول رہا ہوں کہ اس کی جانچ ہونی چاہیے کیونکہ ونود رائے نے موجودہ سرکار سے فیور لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرح کیگ کو بھی آئینی طور پر ختم نہیںکیا جاسکتا ہے۔ دراصل ہونا یہ چاہیے کہ ایسے عہدوں پر بیٹھے عہدیداروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی سیاسی تقرری نہ دی جائے۔ مجھے نہیںمعلوم کہ سرکار کیا سوچ رہی ہے؟ 2 جی پر آئے فیصلے سے سیاسی طور پر بی جے پی کو بیشک دھکا لگا ہے کیونکہ بی جے پی ضرور یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کانگریس پارٹی بدعنوانی میںملوث تھی۔ اس فیصلے پر کانگریس کی کیا سوچ ہے،یہ بھی مجھے نہیںمعلوم ،لیکن سی بی آئی الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ ایک عام آدمی کی طرح میںکہوںگا کہ اے راجا کے ذریعہ ٹینڈر کی تاریخ کا پہلے ہی اعلان کرنا اور ٹینڈر کلوز (بند) کردینا قانون کے خلاف ہے۔ شاید اس کے لیے ان پر مجرمانہ فعل کے لیے معاملہ نہ بنتا ہو، اس لیے انھیںشبہ کا فائدہ دے دیا گیا۔ کل ملاکر یہ شرمناک ہے کہ اتنے سالوں کے عمل کے بعد اور جس کی بنیاد پر پچھلا الیکشن لڑا گیا ہو، وہ بنیاد ہی عدالت میں ڈھے گئی۔ مودی جی اس مدعے پر کانگریس کو گھیرتے رہتے ہیں۔ انھیںبھی اپنی حکمت عملی بدلنی پڑے گی کیونکہ جو اگلی سرکار ہوگی ، وہ موجودہ سرکار کی مدت کار میںہور ہے گھوٹالوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہ تو بعد میںپتہ چلے گا کہ واقعی یہ گھوٹالے ہیںیا نہیںہیں۔ جمہوریت میںفیصلہ لینا پڑتا ہے اور ہر فیصلے پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہرایک پارٹی کے انداز پر بحث ہونی چاہیے۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ سبھی پارٹیوںنے اپنی آئیڈیالوجی پر سے ہی بھروسہ کھودیا ہے او ر اسی لیے اس طرح کے مسائل آرہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

نریندر مودی بڑی امیدوںکے ساتھ اقتدار میںآئے تھے۔ ڈھائی سال تک انھوںنے سوچا کہ کچھ نہیںہورہا ہے توانھوںنے نوٹ بندی کی۔ یہ ناکام ہوگئی۔ پھر جی ایس ٹی لے کر آگئے۔ گجرات الیکشن کے بعد انھیںسمجھ میںآگیا کہ عوام ہمیشہ ان کے ساتھ نہیںرہنے والے ہیں۔ ان چیزوں نے ثابت کیا کہ اقتدار حاصل کرنا مشکل ہے، حکومت چلانا اس سے بھی مشکل ہے اور عوام کی امیدوںپر کھرا اترنا سب سے زیادہ مشکل ہے۔ 2014 کا الیکشن کیگ کے ذریعہ اجاگر گھوٹالوں کی بنیاد پر لڑنا اور اس کا یہ انجام ہونا شرمناک ہے۔ شرد پوار نے بالکل ٹھیک کہا کہ اگر کیگ نے لاکھوںکروڑ کے اعداد و شمار نہیں دیے ہوتے تو کانگریس الیکشن نہیںہارتی۔ عوام میںیہ تاثر بنا کہ ملک کو لوٹ لیا گیا لیکن اسے ثابت نہیںکیا جاسکا۔ بی جے پی کو الیکشن میںفائدہ ہوا۔ انتظامی امور اور اقتدار آپ کے لیے سیاسی مقبولیت نہیںلاسکتے۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگائی اور انھیںالیکشن ہارنا پڑا۔ موجودہ سرکار نے نوٹ بندی کی، سی بی آئی اور ای ڈی کا غلط استعمال کیا۔ اس کا کوئی فائدہ نہیںملنے والا ہے۔ آخیر میںآپ کو اپنے بنیادی اصول کی طرف لوٹناپڑے گا۔ اگر آپ کو کرکٹ کھیلنا ہے تو جب بیٹنگ کی باری آئے تو اچھی بیٹنگ کرنی پڑے گی اور جب فیلڈنگ کی باری آئے تو اچھی فیلڈنگ کرنی پڑے گی۔ ہار کا ٹھیکرا امپائر پر نہیںپھوڑتے۔
وزیر اعظم کے ذریعہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لیے کیے گئے بے بنیاد تبصرے کی وجہ سے کانگریس نے پارلیمنٹ کے بیش قیمت وقت میںرکاوٹ ڈالی۔ لیکن جو مودی کو جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیںکہ مودی اپنے تبصرے کے لیے کبھی افسوس کا اظہا رنہیںکریںگے۔ الیکشن کے بعد انھوںنے بیان دیا کہ اب الیکشن ختم ہوگئے ہیں، اس لیے الیکشن میںجو بھی جملے استعمال کیے گئے ہیں، انھیں بھلا دیاجانا چاہیے۔ منموہن سنگھ پر انھوںنے بہت سنگین الزام لگائے اور بعد میںاس کو جملہ کہہ دیا۔ مجھے لگتا ہے کہ ملک کی سیاسی ثقافت پر بحث کی ضرورت ہے۔ فوری طور پر فائدے والے اسٹینڈ لینا ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہیں۔ گجرات کے نتیجوںپر اب بھی بحث جاری ہے۔ بی جے پی نتیجوںکو لے کر خوش ہے۔ بی جے پی سمجھتی ہے کہ اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ ایسی سوچ اسے مبارک۔ مئی 2019 بہت دور نہیںہے۔ بہتر طریقے سے ملک چلانے کے لیے اسے سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *