سفید انقلاب کا نقیب برونی ڈیری

ملک میں جب سفید انقلاب کی بات ہوتی ہے تو پہلا نام گجرات کے آنند کا آتا ہے لیکن ٹھیک اس کے بعد اگر اس معاملے میںکوئی نام لیا جاتا ہے تو وہ نام برونی ڈیری کا ہی ہوتا ہے۔ ہندوستان کے اولین صدر دیش رتن ڈاکٹر راجند پرساد کے نام پر برونی میںقائم دیش رتن ڈاکٹر دگدھ اتپادن سہکاری سنگھ لمٹیڈہے۔ برونی ڈیری کی اقتصادی حالت شروعاتی کچھ سالوںتک خراب رہی لیکن کہتے ہیں کہ جہاں چاہ ہوتی ہے، وہیںراہ ہوتی ہے۔ برونی ڈیری کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہچکولے کھاتے کھاتے اور مصیبتوں سے لڑتے لڑتے آج برونی ڈیری کامیابی کے روز نئے طول و عرض طے کررہی ہے۔ ضلع کی خواتین نے اپنی انتھک کوشش سے نہ صرف برونی ڈیری کو آگے بڑھایابلکہ یہ بھی ثابت کیاکہ اگرکسی کام کو کرنے کے بارے میں ارادہ کر لیا جائے تو کوئی بھی ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔
خواتین کا رول
بیگو سرائے ضلع میںسفید انقلاب کی نقیب برونی ڈیری کوآپریٹو کی نظیر پیش کر رہی ہے۔ کوآپریشن یہاں تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ برونی ڈیری پر منحصر ضلع کے دو لاکھ خاندان کے ممبر خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔ برونی ڈیری نے خواتین کے امپاورمنٹ کو نئی سمت دے کرانھیںخود مختار بنایا ہے۔ گاؤں میںبرونی ڈیری کی 2250 ملک سوسائٹیز ہیں، جن میں317خواتین سوسائٹیز ہیں، جہاںسارا کام عورتوں کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ روزانہ لگ بھگ پانچ لاکھ لیٹر گائے کا دودھ اکٹھا ہورہا ہے۔
ایک دور تھا جب بہار سرکار نے اسے خسارے میں ہونے کی وجہ سے بند کرنے تک کو کہا تھا لیکن مرکزی سرکار نے اسے چالو رکھنے کی بات کہی۔ بند ہونے کے خطرے سے بچنے اور مالی حالت میںسدھار لانے کے لیے برونی ڈیری مینجمنٹ اور ملازمین تیار ہوئے اور دیہات کی طرف رخ کیا۔مویشی پالنے والوں کو اچھی نسل کی دودھ دینے والی گائے کی خرید ، بیماری سے بچاؤ، مصنوعی حمل کی سہولت،دودھ اکٹھاکرنے کے مرکز کا قیام، مویشی چارہ، مویشی بیمہ جیسی سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ بناکر گاؤں کے کسانوں کو اس سے ہونے والے فائدوں سے واقف کرایا۔ نتیجتاً دودھ دینے والے جانوروں کو پالنے والوںکی تعداد بڑھنے لگی۔ اچھی نسل کی گائے خرید کر کسانوں کو فراہم کرائی گئیں، جس کا نتیجہ کافی بہتر نکلا اور برونی ڈیری فائدے میںچلنے لگی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

خواتین کی کوآپریٹو سوسائٹی
گاؤں میںعورتوں کے لیے کوآپریٹو سوسائٹی کی تشکیل کراکر اسے برونی ڈیری سے جوڑا گیا۔ برونی ڈیری کے پراپن انچارج بتاتے ہیںکہ آج برونی ڈیری کا دائرہ کار نہ صرف بیگو سرائے ضلع بلکہ کھگڑیا، لکھی سرائے ضلع اور پٹنہ ضلع کا باڑھ سب ڈویژن تک تیار ہوچکا ہے اور مذکورہ علاقوں میںکل 2250 دودھ سمیتی کام کر رہی ہیں جن میںفیمیل ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز کی تعداد 317 ہے۔ روزانہ پانچ لاکھ لیٹر دودھ کلیکٹ ہورہا ہے۔ ایک لاکھ 60 ہزار ہدف کو لے کر 1,59,174 خاندانوںکو اس سے جوڑا چکا ہے۔ ٹرانسپورٹر، اسٹال چلانے والے اور ملازمین کو ملاکر لگ بھگ دو لاکھ خاندان برونی ڈیری سے جڑے ہیں۔
سمیتی میںدودھ سپلائی کرنے والے کسانوں کو ہر ماہ تین بار دودھ کی قیمت کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ رعایتی شرح پر بھوسا، چارہ، جانوروںکے لیے متناسب غذا، دوا، ٹیکہ وغیرہ دودھ والے کسانوں کو فراہم کرایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی حمل مرکز کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ڈیری فارمرس کو دودھ کی قیمت کے علاوہ عام سبھا کے فیصلے کے مطابق خرچ کی کٹوتی کے بعد منافع، بونس دیا جاتا ہے۔
برونی ڈیری 85-90 شہری اور 75-80 گرامین اسٹال کے ذریعہ اپنے پروڈکشن کو فروخت کرتی ہے۔ برونی ڈیری دودھ کے علاوہ اپنے پروڈکشن گلاب جامن، رس گلہ،پیڑا، پنیر، رسکدم، میٹھا اور سادہ دہی،لسّی، ملک کیک،گھی ربڑی وغیرہ کی سیل اسٹال کے ذریعہ کرتا ہے۔ برونی ڈیری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے جڑی مہیلا سمیتی میںسارا کام عور توںکے ذریعہ ہی کیا جاتا ہے۔ گائے کا پالن پوشن، مصنوعی وضع حمل،ٹیکہ کاری، دودھ دوہنا،دیارا علاقوں سے دودھ کے کین میںاکٹھا کرکے ناؤ کے ذریعہ مرکز تک پہنچانا ، یہ سارے کام عورتیںکرتی ہیں جو عورت کو خود مختار اور امپاورمنٹ کی سمت میںپیش رفت کا اشارہ ہے۔
برونی کی کثیر جہتی سرگرمیاں
سفید انقلاب کی نقیب برونی ڈیری نہ صرف دودھ کی پیداوار کرتی ہے بلکہ مچھلی اور بطخ پالنے کی تربیت دینے کے لیے ایک رہائشی ٹریننگ سینٹر ہے۔ ٹریننگ انچارج بتاتے ہیںکہ 60 کسانوںکا بیچ بناکر انھیںٹریننگ دی جاتی ہے۔
ٹریننگ میںبہار کے علاوہ اترپردیش کے کسان بھی شامل ہوتے ہیں۔ پراپن انچارج بتاتے ہیںکہ 2006 میںرتن من وبھن گاما اور 2008 میںکیشاوے دگدھ اتپادن سہکاری سمیتی کو بہتر انصرام، مؤثر انتظام اور ڈیر ی ڈیولپمنٹ میں اہم شراکت کے لیے برونی ڈیر ی کا انتخاب ایوارڈ کے لیے کیا گیا۔ سالانہ تقریب میںبرونی ڈیری کے صدر وجے شنکر سنگھ اور منیجنگ ڈائریکٹر سنیل رنجن مشرنے ایوارڈ کا علامتی نشان اور دو کروڑ دو لاکھ 52 ہزار 115روپے کا چیک انیمل ہسبنڈری منسٹر اور کمپفیڈ کے ڈائریکٹر سے حاصل کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *