کانہا ٹائیگر ریزرو بیگا قبیلے کے ساتھ شیر بھی ہورہے ہیں غائب

بیگا قبیلہ قدیم آدم قبیلوںمیں سے ایک ہے۔ یہ مدھیہ پردیش کا تیسرا بڑا قبیلہ ہے۔ 9 اگست 2012 سے اس قبیلے کو قومی انسان کا درجہ حاصل ہے۔ مدھیہ پردیش کے منڈلا، بالاگھاٹ، اماریا، انوپ پور اور چھتیس گڑھ میںترقی کی خوش حالی کی 21 ویںصدی میں بھی یہ ناقابل رسائی جنگلو ں میںدشواری بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ ریاست میںبیگا خاندانوں نے ڈیولپمنٹ کے پروجیکٹس سے بے گھر ہو کر اپنی زمین چھوٹنے کے بعد نئے سرے سے زندگی گزارنے کی شروعات کی لیکن ان سے کہیںزیادہ خاندان لاپتہ ہوگئے۔ نقل مکانی ، صرف زمین یا روزگار سے ہونے والی نقل مکانی نہیںہے کیونکہ اس نے نہ صرف ان کی تہذیب و ثقافت اور جینے کا طریقہ بدلا ہے بلکہ ان کے زندہ رہنے پر ہی سوال کھڑا کردیا ہے۔
کانہا کا درجہ
مدھیہ پردیش کے دو ضلعوں منڈلا اور بالا گھاٹ کے بیچ کانہا قومی پارک ہے۔ کانہا کو 1879 میںمحفوظ جنگل کا درجہ دیا گیا تھا اور 1955 میںاسے قومی پارک کا درجہ دے دیا گیا تھا۔1973 میں جب پروجیکٹ ٹائیگر شروع ہوا تو ہندوستان میںجو سب سے پہلے ٹائیگر ریزروڈڈکلیئر ہوئے تھے،کانہا اس میںسے ایک تھا۔ اپنے ابتدائی دور میںاس محفوظ جنگل کا رقبہ 253 کلو میٹر تھا جسے 1967 اور 1970 میںبڑھا کر 446 کلومیٹر کردیا گیا۔ 1973 میںپروجیکٹ ٹائیگر میںاس کے شامل ہوجانے کے بعد اس کا رقبہ 940 کلو میٹر ہوگیا جو کہ اب بڑھتے بڑھتے (کور و بفر ملاکر) 1945 کلومیٹر ہوگیا ہے۔
انگریزوں نے بیگاؤں کی خاص طرز زندگی کو دیکھتے ہوئے میکال ماؤنٹین رینج میں36 مربع میل میںالگ سے بیگا چک کا قیام کیا تھا۔ بیگا زمین کو ماتا مانتے ہیں اور اس لیے اس کی چھاتی پر ہل چلانے کو بھی جرم مانتے ہیں۔ آدیواسی سماج کبھی بھی لطف اندوز ہونے کے لیے شکار نہیںکرتا لیکن اسے ہی جنگل سے نقل مکانی کی سزا ملی۔
کرے کوئی ، بھر ے کوئی کی طرز پر آخر کار کانہا کے بنواسی فرقہ کو جنگل،قدرت اور شیرکے تئیں اپنے پیار کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور انھیںبے دخل کرکے کانہا کے جنگلوں سے باہر کردیا گیا۔ مانے گاؤں کانہا ٹائیگر ریزرو کے بفر زون میںآتا ہے اور یہاںابھی خاندان کے 167 لوگ رہ رہے ہیں۔ یہ سبھی بیگا خاندان ہیں۔ بیگاؤں کو جنگل کا راجہ کہا جاتا ہے اور بیگا شیر (باگھ) کو اپنا راجہ مانتے ہیں۔ 1997-98 میںگوپال سنگھ کو دیگر لوگوں کے ساتھ بوتل بہرا یعنی پرانے مانے گاؤں میں بسایا گیا تھا۔ اب انھیںمانے گاؤں، ان کے لفظوں میںکہیںتو نئے مانے گاؤ ں میںبسایا گیا ہے۔ یہاںانھیںمکان کے پاس ہی کھیتی کے لیے زمین دی گئی ہے۔ زیادہ تر کو 4-5 ایکڑ زمین ملی تو ہے لیکن زیادہ تر زمین اوبڑ کھابڑ اور بنجر ہی ہے۔ گاؤں میںآنگن باڑی ہے جو کہ اکثر کھلتی بھی ہے۔ یہاں ایک پرائمری اسکول بھی ہے۔ اس میںکچھ بچے پڑھنے جاتے ہیں۔ پہلے کے گاؤں کانہا میںبھی پانچویںتک کا اسکول تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

طبی و دیگر سہولیات
نزدیکی طبی سہولت 2.5 کلومیٹر دور بچھیا میںواقع ہے۔80 سالہ ٹکو بیگا کا کہنا ہے کہ 10-11 برس پہلے انھیں کانہا سے زبردستی نکال دیا گیا تھا۔ ان کے پاس جنگل میںبھی پانچ ایکڑ زمین تھی۔ کئی بار چیتل فصل خراب کردیتے تھے۔ ان کے باوجود جنگل انھیںبہت کچھ دیدیتا تھا۔ وہ اس سامان کو کسلی کے بازار میںبیچ دیتے تھے اور گھر کا سودا لے آتے تھے۔ ان کا بیٹا جبرو بیگا پارک کی مکی گیٹ پر چوکیداری کرتا ہے۔ ٹکو کا کہنا ہے کہ جنگل میںبانس کی ٹوکری بنا کر بیچتے تھے اور وہاں شہد بھی مل جاتا تھا۔ اس گاؤں کا صرف ایک لڑکا ابھی تک دسویںتک پہنچا ہے اور لڑکیاںتو اتنا بھی نہیںپڑھ پاتیں کیونکہ اس عمر تک آتے آتے سبھی کی شادی کردی جاتی ہے۔
مانے گاؤں میںبسے بیگا کانہا کے جنگلوںمیںدھان،مکا اور رائی بوتے تھے۔ جنگل انھیں کھانے کے ضروری چیزیں فراہم کردیتا تھا۔ نقل مکانی کے بعد بھی دھان،مکااور کودو لگا رہے ہیں لیکن اب انھیں کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ساتھ ہی نقل مکانی کے وقت کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے سے بھی یہاں کے باشندے بہت پریشان ہیں۔ کنہیا لال دھروے کا کہنا ہے کہ وہاں (جنگل) کھیلنے، کودنے، کھانے پینے کی خوب سہولت تھی۔ کھیتی باڑی بہت نہیںتھی لیکن سرکار مزدوری تو دے ہی دیتی تھی۔ جنگل میںجانوروں کے سینگ مل جاتے تھے جن کو بیچ کر ایک حصہ رینجر کو دیتے تھے۔ ساتھ ہی لکڑی اور جڑی بوٹی بھی جنگل سے مل جاتی تھی۔ نئی آبادی میںبچوں کی پڑھائی کی سہولت تو ہے لیکن روزگار کی تلاش میںماںباپ دونوںہی مصروف رہنے کی وجہ سے بچوںپر دھیان نہیں دے پارہے ہیں۔ اس لیے بچے نہ تو پڑھ رہے ہیں اور نہ ہی ان کی ترقی روایتی طریقے سے ہوپارہی ہے۔

نوآبادکاری
منڈلا ضلع کے بچھیا بلاک ڈیولپمنٹ بلاک کی راتا پنچایت کے تحت آنے والا کپوٹ بہرا گاؤں کانہا کے ٹائیگر ریزرو سے نقل مکانی کی مجموعی تشریح کرتا ہے۔ اس گاؤں میںکانہا ٹائیگر ریزرو کے تحت آنے والے سوڈر و اندری (کسلی) گاؤں کے باشندوں کو 1987 میںبسایا گیا تھا۔ اس گاؤں میںدو ٹولوں میںیہ کمیونٹی رہتی ہے۔ ایک ٹولہ ہے یادووں اور گونڈوںکا اور دوسرا ٹولہ ہے جریا ٹولہ، جس میںبیگا رہتے ہیں۔ بیگا کو آدم ذات کا درجہ حاصل ہے اور یہ ایسی کمیونٹی ہے جو پوری طرح جنگل پر انحصار کرتی ہے۔ صاف طور پر کہا جائے تو بیگا کمیونٹی کو جنگل کے باہر جینے کا طریقہ شاید ابھی تک نہیں آیا ہے۔ بیگا کمیونٹی کا سماجی تانا بانا بہت ہی خود پر مرکوز ہے اور وہ بہت زیادہ جسمانی محنت کرنے میںبھی یقین نہیںرکھتا ہے۔ شاید اسی لیے انھیں اس نئی آبادی میںبھی سب سے پیچھے بسایا گیا ہے اور ان کے ٹولے (محلے) تک سڑک بھی نہیںبنی ہے۔
کپوٹ بہرہ گاؤںمیںراشن کی دکان نہیں ہے۔ کپوٹ بہرہ میںپرائمری اسکول ضروری ہے۔ سب ہیلتھ سینٹر دو کلو میٹر کی دوری پر ہے اور ضلع اسپتال منڈلا میںیعنی 50 کلو میٹر دور ہے۔ اس گاؤں میںویسے 11 کنویںاور 5 فیصد ہینڈ پمپ ہیں لیکن گاؤں کے پانی میںفلورائڈ کا زبردست مسئلہ ہے۔ صرف دو ہینڈ پمپوں کا پانی پینے کے لائق ہے۔ ویسے اس گاؤںکے سبھی لوگ روزگار گارنٹی قانون کے کارڈ ہولڈر ہیں۔ کچھ کو ہی روزگار ملا ہے۔ ا س گاؤں کے لوگوںکو 1985 میںجنگل سے بے دخل کرکے یہاں بسایا گیا تھا۔ انھیںکوئی نوٹس دیے بغیر اپنی اصل رہائش سے ہٹادیا گیا تھا۔ اس کے بدلے بہت سارے وعدے کیے گئے تھے۔ جیسے یہ کہا گیا تھاکہ جنگل میںجتنی زمین ہے اتنی ہی باہر ملے گی لیکن محض 6.25 ایکڑ زمین ہے دی گئی۔ اتنا ہی نہیںآبپاشی اور گھریلو استعمال کے لیے مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں11,000روپے کا بل دے دیا گیا۔ بل جمع نہ کر نے کی صورت میںگاؤں میں زیادہ تر گھروںکی بجلی کاٹ دی گئی۔
پانی کا بڑا مسئلہ
گاؤں کے لوگوںکا کہنا ہے کہ یہاںکے پانی میںاناج تک نہیںپک نہیں پاتا۔ اس لیے دور سے پانی لانا پڑتا ہے۔ زمین میںدیمک کی بہتات ہونے سے کھیتی بھی ٹھیک سے نہیںہوپارہی ہے۔ فیتو اوئیکے بیگا کمیونٹی کے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں یعنی جنگل میںاچھا لگتا تھا۔ ان کی اور ان کے ٹولے کی حالت دیکھ کر یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اس سے بری حالت کہیںاور ہو ہی نہیںسکتی۔ فیتو اوئیکے کے چار بچے ہیں دو لڑکے اور دو لڑ کیاں۔ وہ کہتے ہیں کہ بری سے بری حالت میںبھی جنگل میں بھوکے نہیں رہتے تھے۔ یہاں تو اتنا بھی نہیںملتا کہ چھوٹے بچے کو بھی ٹھیک سے کچھ کھلا سکیں۔ ان کا یہ بھی درد ہے کہ گاؤں میںاب ددریا اور مادر نہیںبجتا بچوں کے کھیل بھی اب نہیںہوتے۔ جیسے ہی بچے 14-15 برس کے ہوتے ہیں،کام کرنے ناگپور یا جبل پور چلے جاتے ہیں۔ پورا گاؤ ں کم و بیش ایک بار دوبارہ نقل مکانی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ چونکہ یہ ونگرام کے درجے میںآتے ہیں، اس لیے انھیںریونیو سے متعلق حق بھی نہیںہے ۔ سرکار اسے پلاین کا نام دے کر اپنے کو بچارہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرکار اب ایک طرح سے اس طبقہ کو جبریہ بے گھر کررہی ہے۔
گھرسی (گھو سری ) بہرہ میںخاص طور سے بیگاؤں کو بسایا گیا ہے۔ اس گاؤں میں 1955-56 میںجاتاڑ باڑا گاؤں کے 20 خاندانوں کو بسایا گیا تھا۔ اتنے لمبے عرصے بعد بھی ان کی حالت میںکسی بھی طرح کا کوئی سدھار ہوا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ گھوسری بہرہ کی کل آبادی قریب 300 ہے اور یہاں 60 خاندان رہتے ہیں، جن میںسے زیادہ تر بیگا ہی ہیں۔ ان سبھی کو 6.25 ایکڑ زمین ملی ہے۔ لیکن یہ زمین کھیتی کے لیے بہت سازگار نہیں ہے۔ اس گاؤں میںایک پرائمری اسکول ہے۔ سیکنڈری اسکول یہاںسے 10 کلومیٹر دور کوئیلی کھاپا اور ہائر سیکنڈری اسکول 15 کلو میٹر دور گڑھی میںواقع ہے۔ سب سے نزدیکی سب ہیلتھ سینٹر 10کلو میٹر دور کوئلی کھاپا، پرائم ہیلتھ سینٹر 15 کلومیٹر دور گڑھی اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر 45 کلومیٹر دور بیہر میںہے۔

 

 

 

 

 

 

 

کانہا ریزرو کی چوہدی
کانہا ٹائیگر ریزرو مدھیہ پردیش کے دو ضلعوں منڈلا اور بالاگھاٹ میںپھیلا ہوا ہے۔ بالا گھاٹ ضلع کی بیہر تحصیل کے تحت آنے والی کدلا پنچایت اور گاؤں کانہا ٹائیگر ریزرو کے کور ایریا میںآتا ہے۔ ویسے کدلا جنگل علاقے میں آتا ہے لیکن یہ گاؤں روایتی طور پر یہیں پر ہی واقع ہے۔ اس گاؤں میںکوئی بے گھر نہیں ہے۔ نسل در نسل یہاں لوگ رہائش کررہے ہیں۔
اگر سماجی حالا ت کا موازنہ کیا جائے تو یہاںبسی پوری کمیونٹی میںعدم اطمینان ہے۔ بے گھرہوتے وقت جو بچے تھے، وہ اب بالغ ہوگئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہاںآکر سب بچے دکھی تھے۔ جنگل کا ماحول ٹھنڈا تھایہاں پر گرم تھا۔ سب سے بڑا المیہ ان کے ثقافتی ماحول کو لے کر ہے۔ اس پورے گاؤں میںایک بھی مادر (ڈھول ) نہیںہے۔
رانی گنج میں13 بے گھر خاندان رہتے ہیں۔ اس میں5 خاندان گونڈ ہیں اور 6 بیگا۔ انھیں-56 1954 کے مدھیہ سلپورا سے لاکر بسایا گیا ہے۔ ان کے بھی مسائل دیگر سے الگ نہیںہیں۔ نہ تو انھیںالاٹ کی گئی زمین کاشت کے لائق ہے اور نہ ہی روزگار اور تعلیم و صحت کا معقول انتظام ہے۔ بیگا کمیونٹی بے گھر ہونے کے بعد سہج نہیںہوپارہی ہے۔ اس کو ان کے بچوں میںبھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سرکار کے ذریعہ ان کے مفاد کے لیے کیے جانے والے دعووں اور بے گھر ہونے کے بعد سالوںسال بیت جانے کے باوجود انھیںدیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کمیونٹی جنگل سے باہر زندگی بسر کرنے کو کبھی تیار ہوہی نہیںسکتی۔اتنا ہی نہیں ، انھیں جو زمینیں دی گئیں یہ اس پر کھیتی بھی ٹھیک سے نہیںکرپارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ویمبر یا جھوم کھیتی کے لیے ٹرینڈ تھے۔ چونکہ وہ زراعت پر توجہ نہیںدیتے ہیں، اس لیے کھیتی ان کے ذریعہ معاش کا ذریعہ بھی نہیںبن پارہی ہے۔ ان کی اس بے بسی کا فائدہ اٹھاکر بالا گھاٹ ضلع کے بیہر بلاک میں انھیں الاٹ کی گئی زمین کو ریسورٹ بنانے والے اور دیگر لوگ محکمہ جنگلات اور ریونیو محکمے کی سانٹھ گانٹھ سے خرید کر مالا مال ہورہے ہیں اور بیگا کمیونٹی ایک بار پھر دوبارہ در در بھٹکنے کو مجبور ہورہی ہے جیسے جیسے کانہا کے جنگلوں سے انسان کو باہر کیا گیا ویسے ویسے شیر بھی غائب ہوتے گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *