غیرملکی طلباء کی کمی کی اصل وجہ معیارتعلیم کی گراوٹ ہے

ایک ایسے وقت جب ہندوستان دنیا کے ایک سپرپاوربننے کی جانب رواں دواں ہے، یہ خبر یقینا پریشان کن ہے کہ یہ ملک اب ایشیا کا ٹاپ ایجوکیشن ہب نہیں رہا۔ا س تشویشناک خبرکا انکشاف مرکزی حکومت کے جاری کردہ 2017کے اعدادوشمارسے ہوتا ہے۔ عیاں رہے کہ 2016کے با لمقابل 2017میں 2ہزار 60 غیر ملکی طلباء ہندوستانی تعلیم گاہوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے کم آئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ غیر ممالک سے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے 2017میں صرف 36 ہزار 887طلبا آئے جبکہ 2016میں یہ تعداد 38ہزار947تھی۔اس طرح 2016کی نسبت 2017میں غیرملکی طلباء کی کمی تقریباً 6فیصدرہی۔
ویسے آل انڈیاسروے آن ہائر ایجوکیشن (2016-17) نے گذشتہ 5 جنوری 2018کو جواعدادوشمار جاری کیاہے،اس کے مطابق، ہندوستان میں فی الوقت 47ہزار 575 غیرملکی طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ تعدادمرکزی حکومت کے بتائے گئے اعدادو شمارسے زیادہ ہے۔لیکن اس پرہمیں چونکنانہیں چاہئے، کیونکہ یہ تعدادزیادہ اس لئے دکھائی پڑرہی ہے کہ ان غیر ملکی طلباء میں سے بہت سے طلباء تین ، چار یاپانچ سالہ کورس بھی کر رہے ہیں جبکہ ان طلباکی اصل چیکنگ اس سے ہوتی ہے کہ ہرسال کتنے کتنے طلبا ء ہندوستان کی تعلیم گاہوں کے اعلیٰ کورسزمیں داخلے لینے ہندوستان سے ویزا حاصل کرکے یہاں آئے۔
حالانکہ مرکزی حکومت کا دعویٰ ہے کہ غیرملکی طلباء پوری دنیاکے 162 ممالک سے ہندوستان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں مگران ملکوں کی فہرست کودیکھ کر معلوم پڑتاہے کہ زیادہ ترکاتعلق سارک ممالک اور افریقی ممالک سے ہے۔سروے سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ پڑوسی ممالک نیپال (23.65فیصد)، افغانستان (95)، بھوٹان (4.8) اورافریقی ممالک نائجیریااورسوڈان (4.4 فیصد) میں یہ تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

بحرحال اصل سوال تویہ ہے کہ ہندوستان جوزمانہ قدیم سے تعلیم اوراعلیٰ تعلیم کولیکر دنیا کے مختلف ممالک کے طلباء کیلئے کشش کا باعث رہاہے، آج اس کی تعداد کم ہوتی ہوئی کیوں چلی جارہی ہے؟ بعض ماہرین کی محض یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ غیرممالک میںہندوستانی تعلیم گاہوں کے تعلق سے کوئی مؤثرمہم نہیں چلائی جارہی ہے۔اسی کوبنیادبناکرمرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل متعددٹارگیٹ ممالک میں تابڑتوڑ مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا کہناہے کہ احمدآبادکے آئی آئی ایم کی قیادت میں کچھ مینجمنٹ اداروں نے ’اسپیشل اسٹڈی ان انڈیا‘ مہم شروع کی ہے جسے بڑی سطح پرآزمایاجاسکتاہے۔ علاوہ ازیں اس سلسلے میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ ہندوستانی یونیور سٹیوں میں سے ایک چوتھائی ہی کے پاس فی الوقت بین الاقوامی طورپر غیرملکی طلباء کواپنی جانب کھینچنے کیلئے منظم طورپر کنسلٹنی کا نظم ہے۔نیز اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتاہے کہ ہندوستان میں بڑھتے ہوئے نسلی حملہ کا رجحان بھی غیر ملکی طلباکی ہندوستان آکر پڑھائی کرنے کے تعلق سے ہمت شکنی کرتا ہے۔یہ سب بھی وجوہات ہیںبعض غیرملکی طلباء کیلئے جس کے سبب وہ ہندوستان نہ آکر چین ، سنگاپور اورہانگ کانگ جاناپسند کرلیتے ہیں جوانہیں کم خرچ پربھی اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کا آفر دیتے ہیں۔
ویسے ہندوستان کے اندرغیرملکی طلباء سب سے زیادہ ریاست کرناٹک میں آتے ہیں۔ ا س کے بعدہی نمبرتمل ناڈو ، مہاراشٹر، اترپردیش، تلنگانہ ، پنجاب ، دہلی اورآندھراپردیش کے ہیں۔ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے جوطلبا آتے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر بی ٹیک، بی بی اے ، بی ایس سی، بی کام، بی سی اے، بی فارما ، ایم بی بی ایس ، بی ایس سی (نرسنگ ) اورپی ایچ ڈی کے خواہاں ہوتے ہیں۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ غیرملکی مسلم طلباء کی تعداد جدید تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ( اے ایم یو)، جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی)، نئی دہلی، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی، جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد،مولانا آزاداردو یونیورسٹی (مانو) حیدرآبادمیں خاصی ہوتی ہے۔ یہاں ان غیر ملکی اوراین آر آئی طلباء کوکوٹا بھی کہیں کہیں دستیاب ہے۔اب اس بات کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ہندنژاد یعنی پپل آف انڈیا آریجین (پی آئی او) کیلئے الگ سے کوٹاکا اہتمام ہو۔تب ان غیرملکی مسلم طلباء کی تعدادان اداروں میں مزیدبڑھ سکتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ان جدیدتعلیم گاہوں کے علاوہ ہندوستان میں دنیاکے چندممتاز مدارس بھی ہیں جہاں غیر ملکی مسلم طلبا قابل ذکرتعدادمیں آکرپڑھتے ہیں۔ ان مدارس میں مثال کے طورپرلکھنؤ کے دارالعلوم ندوۃ العلماء ، دیوبندکے دارالعلوم اورسہارنپور کے مظاہرالعلوم کے نام لئے جاسکتے ہیں۔
جیسا کہ اوپرکہاگیاکہ ہندوستان اعلیٰ تعلیم کا زمانہ قدیم سے مرکزرہاہے۔ بہار کے نالندہ یونیورسٹی اوروکرم شیلا یونیورسٹی عمومی طورپر اورریاست کیرل میں ’کوچومکّہ‘ یعنی ’چھوٹا مکّہ‘ کے نام سے معروف پونانی کا مدرسہ ڈیڑھ ہزاربرس قبل بین الاقوامی طورپر غیر ملکی طلباء کیلئے کشش کا باعث ہوتاتھا۔
ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں اس تلخ حقیقت کوہرگز نظراندازنہیں کرناچاہئے کہ ہندوستان میں بحیثیت مجموعی تعلیم کے معیار میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ بھلے تعدادکے لحاظ سے تعلیمی ادارے اورکورسز بڑھے ہوں۔ معروف دانشور آنجہانی نیردسی چودھری نے 15برس پہلے اپنے انتقال سے قبل برطانیہ میں ایک انٹرویو میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہندوستان میں تواب ووکیشنل ایجوکیشن زیادہ حاصل کیاجارہا ہے اورشاید یہی وجہ ہے کہ وہاں ’ایجوکیٹیڈ، افراد کی کمی تیزی سے ہوتی جارہی ہے۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی یہ ضروری ہے کہ تعلیم اوراعلیٰ تعلیم کے معیارپربھی نظرہو۔ تبھی ہندوستان کی تعلیم گاہیں صرف غیرملکی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی طلباء کیلئے بھی پرکشش بنی رہیں گی اوریہاں سے باہرکے ملکوں میں جاکر تعلیم حاصل کرنے کا رجحان مزیدکم ہوگا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *