طلاق ثلاثہ بل کے بعد یونیفارم سول کوڈ کا ایشو پھر تھیلے سے باہر

5 جنوری 2018 کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے سرمائی اجلاس کے ختم ہوتے ہی ایوان زیریں لوک سبھا سے 28 دسمبر کو پاس کیا گیا طلاق ثلاثہ کا بل ایک ماہ بعد ہورہے بجٹ اجلاس تک لٹک گیا۔بی جے پی قیادت والا برسر اقتدار این ڈی اے چاہتا تھا کہ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا سے بھی اس بل کو کسی بھی طرح پاس کراکے اسے قانونی شکل دیتے ہوئے تاریخ رقم کی جائے جبکہ راجیہ سبھا میںاکثریت والا متحدہ اپوزیشن اس بل کے جیل ٹرم کے پروویژن و دیگر چند نکات پر نظر ثانی کے لیے اپنے موقف پر جما رہا اور اسے پارلیمانی سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کرتا رہا۔
متحدہ اپوزیشن نے اس تعلق سے ایوان بالا میںجو پختگی اور بالغ نظری دکھائی ہے،وہ جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لیے خوش آئند اور خوش کن ہے۔ خاص بات تو یہ ہوئی کہ اپوزیشن میں کانگریس و دیگر پارٹیوں کے علاوہ بی جے پی حلیف تیلگو دیشم پارٹی اور سرکار کی دوست سمجھی جانے والی پارٹیاں آل انڈیا انا دراویدا منتراکثرھگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) اور بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) جو کہ راجیہ سبھا میںہمیشہ کسی بل کو پاس کرانے میں پیش پیش رہتی ہیں، بھی اپوزیشن کے خیمہ میںکھڑی رہیں اور طلاق ثلاثہ بل کو ترمیم کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کرتی رہیں۔
اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس اجلاس میںاین ڈی اے اپنے مقصد کے اعتبار سے تاریخ رقم نہ کرسکا تو منتشر اپوزیشن نے اتحاد کا شاندار مظاہرہ کرکے ایک الگ تاریخ بنائی۔ اس کے لیے یہ مبارکباد کی مستحق ہے۔ کیونکہ یہ اتحاد قائم کرنے کا عمل دراصل جمہوریت کی جیت ہے۔ تنوع کی جیت ہے اور یک رنگی سوچ کی شکست ہے۔ توقع ہے کہ جمہوری اقدار کو اس طرح کے عمل سے مضبوطی ملے گی۔ متحد اپوزیشن کے اس مظاہرے سے مسلم ملت بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھی تقویت پہنچی ہے اور اطمینان ہوا ہے۔ عیاںرہے کہ بورڈ و دیگر تنظیموں اور شخصیات نے اپوزیشن کی مختلف پارٹیوںسے اپیل کی تھی کہ وہ اس سلسلے میںکھل کر سامنے آئیں۔
اپوزیشن کے اتحاد کی اس وقت ملک کو شدید ضرورت ہے۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد میجوریٹیرین بننے کی صورت میںماہر آئین فالی ایس نریمن نے جن خطرات کا اندیشہ کیا تھا، گزشتہ ساڑھے تین برسوں میںوہ دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ رواداری، تنوع اور تحمل و برداشت دم توڑتا ہوا نظر آرہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کثرت میںوحدت کے تصور والے ملک کو ایک رنگ میںرنگنے کی بات کی جانے لگی ہے۔
اسی تناظر میںقابل ذکر ہے کہ ایک ایسے وقت جب راجیہ سبھا میںطلاق ثلاثہ کے بل پر گرما گرم بحث ہورہی تھی، ٹھیک اسی وقت یہ خبر سننے کو ملی کہ لاء کمیشن اس بات کی تیاری کررہا ہے کہ مذہبی اسکالروں ، سیاسی گروپوں و دیگر سے بات چیت کی جائے اور پھر اندازہ لگایا جائے کہ کیا یہ وقت یونیفارم سول کوڈ کے لیے مناسب اور موزوں ہے یانہیں؟

 

 

 

 

 

 

 

 

لاء کمیشن کے چیئرپرسن جسٹس بی ایس چوہان نے ایک انگریزی روزنامہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم لوگ یونیفارم سول کوڈ کے ایشو کو دیکھ رہے ہیں۔ اگر تفصیلی بات چیت کے بعد لاء کمیشن اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کام کے لیے یہ وقت موزوں نہیںہے یا یہ قومی یکجہتی کے مفاد میںنہیں ہے، تب ہم لوگ تمام مذاہب کے پرسنل لاز پر نظر ثانی کی سفارش کریںگے۔‘‘ عیاں رہے کہ وزارت قانون سے ملی ہدایت کی روشنی میںلاء کمیشن نے یونیفارم سول کوڈ پر سوال نامہ 7 اکتوبر 2016 کو جاری کیا تھاتاکہ فیملی لاز کے مختلف امور پر رائے سامنے آسکے۔ یہ وہی دن تھا جب مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میںسائرہ بانو کی طلاق ثلاثہ پر پابندی لگانے کے لیے عرضی کے حق میں ایفی ڈیوٹ فائل کیا تھاجس کی مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شدید مخالفت کی تھی اور ملک بھر میںدستخط مہم چلا کر یہ پیغام دیا تھا کہ ملت کو شریعت میںکسی قسم کی مداخلت منظور نہیںہے اور اسے لاء کمیشن کو بھیجا تھا۔
اس طرح لاء کمیشن کے سوال نامہ کے جواب میںکل 60 ہزار مسلمانوں نے ریسپانس دیا۔ ان میںسے بیشتر طلاق ثلاثہ سے متعلق تھے۔ کمیشن نے اس ایشو کو اس امید میں روک کر رکھاکہ طلاق ثلاثہ کے معاملے کو دیکھ رہی سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ شاید یونیفارم سول کوڈ پر کچھ ہدایات دے۔ مگر اسے اس سلسلے میںمایوسی ہاتھ لگی۔ لہٰذا یہ اب پھر سے اس ضمن میںمتحرک ہوگئی ہے۔ جسٹس چوہان کا کہنا ہے کہ کمیشن جلد ہی مذہبی اسکالروں،سیاسی پارٹیوں و دیگر طبقات سے ملاقات کرکے پرسنل لاز کے مختلف امور بشمول شادی، طلاق، کسٹڈی اور وراثت پر بات چیت کرے گا۔ اس گفت و شنید میںیہ تمام مذاہب کے کوڈیفائڈ یا غیر کوڈیفائڈ قوانین کے ساتھ ساتھ قبائلی یا رسمی قانونوں کا بھی جائزہ لے گا۔
واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ کو لانا بی جے پی کے 2014کے انتخابی منشور میںشامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 17 جون 2016 کو وزارت قانون نے لاء کمیشن سے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ کے معاملے کو وہ دیکھے اور اس ضمن میںاپنی رپورٹ پیش کرے۔ لہٰذا لاء کمیشن کے چیئرپرسن 30 اگست 2018 سے قبل اپنی رپورٹ تیار کرکے متعلقہ وزارت کو پیش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے بعد ان کی مدت کار کردگی ختم ہورہی ہے۔
لہٰذا اب صرف مسلم ملت کا معاملہ نہیںہے بلکہ لاء کمیشن ملک کے تمام مذاہب، قبائل ودیگر گروپوں سے بھی مخاطب ہوکر یونیفارم سول کوڈ کے بارے میںحتمی رائے جاننا چاہتا ہے۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا تمام مذاہب ، قبائل و دیگر گروپ اس بات کے لیے تیار ہیں کہ وہ اپنے اپنے تشخص کو ایک شناخت میںضم کرکے یونیفارم سول کوڈ کے بننے کی راہ ہموار کریں۔جہاںتک آئین ہند کا سوال ہے، اس نے یونیفارم سول کوڈ کی بات یقینا کی ہے مگر اس شرط پر کہ جب تمام فریقین اس کے لیے تیار ہوں۔ ہندوستان کے تکثیری سماج کے لیے یونیفارم سول کوڈ یقینا بڑا سوال ہے۔ اس ضمن میںیاد آتے ہیں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار جنہوں نے مہا گٹھ بندھن کی سرکار کے وقت لاء کمیشن کو بہار سرکار کی جانب سے باضابطہ مکتوب لکھ کر اس سے باز رہنے کو کہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب ان کا اس سلسلے میںکیا موقف رہے گا؟ اب سب کو یونیفارم سول کوڈ کے سلسلے میںسب سے پہلے لاء کمیشن سے مخاطب ہونے والے ایک وزیر اعلیٰ کے موقف کا انتظار ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *