بزرگ شخصیت حافظ محمد سالم کا انتقال

Hafiz-Salim
دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث مولانا عبدالاحد مرحوم کے چھوٹے صاحبزادے اور دارالعلوم دیوبند کے سابق اعزازی ناظم مطبخ حافظ محمد سالم کا طویل علالت کے بعد گزشتہ رات انتقال ہوگیا ، مکتبہ مصطفائی کے مالک حافظ محمد سالم تقریباً ایک سال سے نسیان کی بیماری میں مبتلاتھے اور گزشتہ ایک ماہ سے صاحب فراش تھے ۔ مرحوم نے اپنی پوری زندگی انتہائی سادگی سے گزاری، مرحوم ملنسار اور خوش مزاج انسان تھے اور قرآن پاک کی تلاوت اپنے اجداد سے ورثہ میں ملی تھی ، اجداد کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ رمضان کے آنے کے دوماہ قبل سے کلام پاک کا اس قدر شغل فرماتے کہ سننے والوں اور دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہوتا کہ رمضان المبارک بالکل قریب ہی آچکا ہے اور اسی کا اثر تلاوت میں یہ رہا کہ ہر دیکھنے والے کو یہ محسوس ہوتا کہ رمضان المبارک آہی چکا ہے ، مرحوم کا بھی ہمیشہ یہی مشغلہ رہا ہے اور جب رمضان المبارک آجاتا تو اس کی کوئی ساعت ہی ایسی گزرتی جو بغیر کسی تلاوت کلام پاک کے رہ جاتی ہو، مرحوم نے اپنی اس78سالہ حیات مبارکہ میں رمضان المبارک میں تقریباً نصف صدی سے زائد مختلف مساجد میں تراویح میں کلام پاک کی تکمیل کی ہے۔خاص طور پر تقریباً 25سال جامع مسجد میں تراویح میں کلام پاک سنایا ہے۔ 78سالہ حافظ سالم کی نماز جنازہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی ابوالقاسم نعمانی نے پڑھائی، تدفین قبرستان قاسمی میں عمل میں آئی، نماز جنازہ میں مولانا عبدالخالق مدراسی، مولانا عبدالخالق سنبھلی، مولاناخضر احمد کشمیری، مولانا منیر، سابق اسمبلی رکن معاویہ علی، مولانا حسیب صدیقی، مولانا حسن الہاشمی، مولانا غانم، حسان غانم، اطہر عثمانی، عامر عثمانی، عبداللہ عثمانی، مرحوم حافظ محمد سالم دارالعلوم کے استاد مولانا بلال اصغر کے برادر خورد تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *