ستاروں کی پیدائش کا انکشافات

stars
امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ایک خصوصی دور بین نے گیس اور ذرات سے ستاروں کی پیدائش کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں ہیں۔سوفیا اوپزرویٹری نامی اس خصوصی دور بین کو ایک جمبو طیارے پر نصب کر کے بھیجا گیا ہے اور اس سے ملنے والی معلومات سے ستاروں کی پیدائش میں مقناطیسی فیلڈ کے کردار کے بارے میں پتہ چلا ہے۔
سائنسدانوں نے سوفیا پر نصب ایک خصوصی آلے کی مدد سے زمین کے ایک قریبی ستاروں کی نرسری روح اوفیوچی اے ( Rho Ophiuchi A) کا جائزہ لیا۔قابل ذکر ہے کہ ’ستاروں اور سیاروں کی پیدائش کے عمل کو سمجھنا جدید فلکیات کا اہم ترین چیلنج ہے۔‘’ہمیں یہ معلوم ہے کہ ستارے اور سیارے گیس اور ڈسٹ کے ذرات کے انتہائی بڑے بادلوں سے بنتے ہیں جو کہ ہماری گیلکسی ملکی وے میں موجود ہیں۔‘بنیادی خیال یہ ہی ہے کہ یہ بادل اپنی ہی کششِ ثقل سے سمٹ جاتے ہیں۔ جیسے جیسے ان کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے یہ گیس کے کلمپس بن جاتے ہیں اور پھر اور زیادہ کثافت والے ’کور‘ نامی سٹکچرز پیدا ہو جاتے ہیں۔گیس اور ڈسٹ کے انھیں کورز میں ستارے پیدا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سانٹوس کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔

 

روح اوفیوچی اے کئی سینکڑوں ستاروں کو جنم دے رہا ہے جن میں کئی ہمارے سورج کی طرح ہیں جن کے نظامِ شمسی کی طرح کے اپنے سیارتی نظام ہیں۔سوفیا سے ملنے والی معلومات سے سائنسدان یہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ڈسٹ کے ان بادلوں میں ذرات مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔اس کے علاوہ انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈسٹ کے ذرات کی مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ ہم آہنگی کی حد سے اس بات کا تعین بھی ہوتا ہے کہ سیارہ پیدا کرنے والے بادل کی کثافت کیا ہوگی۔ توقع کی جاتی ہے کہ بادل کے باہر والے حصے کے ذرات پر زیادہ ریڈیئیشن پہنچتی ہے اس لیے وہ مقناطیسی فیلڈز کے ساتھ بہتر الائن ہوتے ہیں۔‘’جیسے جیسے آپ بادل کے اندرونی حصے میں جاتے ہیں، ذرات کو ریڈیئیشن کم ملتی ہے اور وہ الائن کم ہی ہوتے ہیں۔‘’کیونکہ اس بادل کا وزن ہوتا ہے اسی لیے اس کی کششِ ثقل بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ بس سمٹ جاتا ہے اور ستارے بن جاتے ہیں۔ مگر اس میں دیگر چیزیں ملوث ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک مقناطیسی فیلڈ ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *