مہاراشٹر کے اسکولوں کے بند کیے جانے کا فیصلہ اصل وجہ کم تعداد نہیں، تعلیم کی بدحالی ہے

مہاراشٹر کی بی جے پی سرکار نے طلبہ کی کم تعداد والے 4093 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنوری تک ان میںسے 1300 اسکولوں کو بند کیا جانا ہے۔سرکار کی دلیل ہے کہ ان اسکولوںمیںطلبہ کی تعداد دس یا اس سے بھی کم ہونے کی وجہ سے ان اسکولوںکو بندکیا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ ان اسکولوں میںپڑھانے کے لیے بھی ٹیچر نہیں آتے ہیں۔ وزیر تعلیم ونود تاوڑے بتاتے ہیں کہ یہ فیصلہ محکمہ تعلیم کی تجویز پر لیا گیا ہے۔ بند کیے جانے والے اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ اور اساتذہ کو اس بابت نوٹس دے دیا گیا ہے۔ سرکار ان اسکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کو تین کلو میٹر کے دائرے میںواقع سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوںمیںیکجا کرے گی۔ کونکن ضلع میں بند ہونے والے زیادہ تر مراٹھی اسکول ہیں۔ راہل گاندھی نے بھی گجرات الیکشن کے دوران یہ مدعا اٹھایا تھا کہ بی جے پی کے زیر انتظام ریاستوں میںسرکاری اسکول بند ہورہے ہیں۔ وہیں، شیو سینا نے بھی اس کے پیچھے انگریزی اسکولوں کو آگے بڑھانے کی سازش کی بات کہی ہے۔
حال میںاتراکھنڈ کی بی جے پی سرکار نے بھی ایسا ہی فیصلہ لیا تھا۔ وہاںطلبہ کی کم تعداد والے تین ہزار اسکولوں کو بند کیا جانا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول بلڈنگ بھی کسی دیگر محکمے یا پنچایتوںکوسونپ دی جائے گی۔ اب اس کے پیچھے سرکار کی منشا کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ان اسکولوں میںبچوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ان اسکولوں کو بند کیا جارہا ہے یا پھر اسکول کی عمارت نجی اسکول منیجروں کو سونپ کر سرکار سب کو تعلیم کی اپنی ذمہ داری سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔
سوال کئی ہیں۔ سب سے پہلے، ان اسکولوں میںطلبہ کی تعداد بڑھانے کی کوشش کیوں نہیںکی گئی؟ کیا ان اسکولوںمیںمعیاری تعلیم، بہتر نصاب یا انگریزی میڈیم کی تعلیم دے کر طلبہ کی تعداد نہیںبڑھائی جاسکتی تھی؟ کیا نجی اسکول منیجروں کے ہاتھوں میںکوئی جادو کی چھڑی ہے، جسے پھراتے ہی نجی اسکول منیجر ان اسکولوں کو ایک منافع بخش ادارے میںبدل دیںگے؟ اگر ایسا ہے تو پھر سرکاری سطح پر یہی کوشش کیوں نہیںکی گئی؟ اتراکھنڈ سرکار نے تعلیم کی نجکاری کی اپنی منشا بھی واضح کردی ہے۔

 

 

 

 

 

سرکار نے فیصلہ لیا ہے کہ جن اسکولوںمیںطلبہ کی تعداد زیادہ ہے، ویسے اسکولوں کو پی پی پی موڈ میںچلایا جائے گایا پھر نجی کمپنی یا نجی اسکول منیجروں کو سونپ دیا جائے گا۔ یعنی جن اسکولوں میںطلبہ کی تعداد زیادہ ہوگی،ان کی نجکاری کردی جائے گی اور جہاں طلبہ کی تعداد کم ہوگی،انھیں بند کردیا جائے گا۔ اترپردیش سرکار بھی شہری علاقوںکے ان پرائمری اور اَپر پرائمری اسکولوں کو بند کرنے پر غور کررہی ہے، جہاںطلبہ کی تعداد کافی کم ہے۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ طلبہ کی کم تعداد والے اسکولوںکو بند کرکے طلبہ کو نزدیکی اسکولوںمیںیکجا کیا جائے گا۔ تعلیم کے شعبے میںمختلف ریاستوں کے ذریعہ اپنائے جارہے اچھے اور شفاف کام کے طریقوں کو اترپردیش میں لاگو کیا جائے گا۔
مہاراشٹر میںپہلے مرحلے میںکونکن کے 500 اسکولوں کو بند کیا جائے گا، جہاں طلبہ کی تعداد 10سے بھی کم ہے۔ اسی دوران پونے کے 76اسکولوں کو بھی بند کیا جائے گا۔ ریاست میںانگریزی اسکولوںمیںبچوں کی تعداد میںاضافہ ہو رہا ہے۔وہیںمراٹھی میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہورہی ہے۔ ریاستی سرکار کے اس فیصلے سے 10 ہزار طلبہ اور 2500 اساتذہ کو دوسرے اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔ ماہرین تعلیم سرکار کے اس فیصلے کو تانا شاہی سے بھرپور فیصلہ بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار کا یہ حکم تعلیم کا حق ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ مہاراشٹر قانون ساز کونسل میںاساتذہ کے نمائندے کپل پاٹل کہتے ہیں کہ سرکار اسکول اور طلبہ کے غلط اعداد وشمار پیش کرکے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر ایجوکیشن مافیاکے مفاد میںکام کررہی ہے۔
ریاستی سرکار کے 2016کے ڈیٹا کے مطابق، ضلع پریشد اسکولوں اور لوکل باڈی کے اسکولوں میںنامنیشن کے لیے طلبہ کی تعداد2009-10میں16.4 لاکھ کم ہوئی ہے۔ ہر سال 2 لاکھ سے زیادہ طلبہ نے ضلع پریشد اور سرکاری اسکولوںکو چھوڑ کر نجی اسکولوں کا رخ کیا ہے۔ حال میںریاست کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوںکا سروے کیا گیا تھا۔ اس سروے سے پتہ چلا کہ ریاست کے 5002 اسکولوں میں بچوں کی تعداد کافی کم ہوئی ہے۔ 5002اسکولوں میں سے 4,353 اسکول ضلع پریشد اور 69 اسکول نجی امداد سے چلتے ہیں۔ جن اسکولوں میںبچوں کی تعداد 0 سے 10 تک ہے، ایسے 4,422 اسکولوں کا پھر سے سروے کیا جائے گا، جس میںسے 1,314 اسکولوں کو منتقل کیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے وزیر تعلیم ونود تاوڑے بتاتے ہیںکہ یہ فیصلہ طلبہ کے مفادات کو دھیان میںرکھ کر لیا گیا ہے۔ طلبہ کو تین کلومیٹر کے دائرے میںواقع اسکولوں میںمنتقل کیا جائے گا۔ اساتذہ یا طلبہ کو بھی اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
کیسے بند ہوتا ہوا اسکول موسٹ وانٹیڈ بن گیا؟
مہاراشٹر کے ریسود تعلقہ میںایک اسکول ہے ناولی ضلع پریشد اسکول۔ پچھلے ایک سال تک یہ اسکول بند ہونے کے دہانے پر تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ وہاں کے ہیڈ ماسٹر کو یہ کہنا پڑرہا ہے کہ معاف کرو، جگہ مکمل ہے۔ اس اسکول میںداخلے کے لیے اب لوگ سال بھر تک انتظار کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ گاردے اور دیگر چار اساتذہ نے اس اسکول کو بہتر بنانے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ مئی 2016 میں دیہاتیوںنے ضلع آفس پر احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کے بعد پانچ اساتذہ کو یہاں مقرر کیاگیا۔ گاردے سمیت ان اساتذہ نے آٹھویںکلاس تک کے بچوںکو پڑھانا شروع کیا۔ دیہاتیوں نے بھی اقتصادی مدد کی، جس سے چار کمرے کے اس اسکول میںکمپیوٹر لیب، ٹائلٹ اور پینے کے پانی کا بندوبست کیا گیا۔ اگر پانچ اساتذہ مل کر ایک بدحال اسکول کو آدرش اسکول میںبدل سکتے ہیں تو پھر سرکار کیوں تعلیم کی بدحالی کو درست کرنے کے لیے قدم نہیںاٹھاتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *