سپریم کورٹ جج معاملہ اصل مسئلہ عدلیہ کے وقار کا ہے

ہندوستانی تاریخ میں جب پہلی بار سپریم کورٹ کے چار ججوں (جسٹس جے چلمیشور، جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس مدن بی لوکور اور جسٹس کورین جوسف )نے پریس کانفرنس کرکے چیف جسٹس دیپک مشرا کو لے کر سوال اٹھائے تو ملک بھر میں ہنگامہ مچ گیا۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس پریس کانفرنس سے پہلے ان چار ججوں نے چیف جسٹس کے نام لکھے خط میں کیا لکھا تھا۔
اس خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’’ اچھی خاصے قائم اصولوں میں ایک اصول یہ بھی ہے کہ روسٹر کا فیصلہ کرنے کا حق چیف جسٹس آف پریویلیج کے پاس ہے،تاکہ وہ نظام قائم رہے کہ اس عدالت کا کون ممبر اور کونسی بینچ کس معاملے کو دیکھے گی۔ یہ روایت چیف جسٹس کو اپنے ساتھیوں کے اوپر اپنی بات تھوپنے کیلئے نہیں کہتی ہے۔ مذکورہ اصول کے بعد اگلا مدلل قدم یہ ہوگا کہ اس عدالت سمیت الگ الگ عدالتی اکائیاں ایسے کسی معاملے سے خود نہیں نمٹ سکتی جن کی سنوائی کسی مناسب بینچ سے ہونی چاہئے ۔ ہمیں یہ بتاتے ہوئے بے حد مایوسی ہو رہی ہے کہ گزشتہ کچھ وقت سے جن دو قانونوں کی بات ہو رہی ہے، ان کی پوری طرح تعمیل نہیں کی گئی ہے۔ ایسے کئی معاملے ہیں جن میں ملک اور اداروں پر اثر ڈالنے والے مقدمے اس عدالت کے چیف جسٹس نے اپنی پسند کی بینچ کو سونپے۔ جن کے پیچھے کوئی دلیل نظر نہیں آتی ۔ہر حال میں ان کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ ان چاروں ججوں کے مطابق جب ان کے اس خط کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تب انہیں مجبوراً میڈیا کے ذریعہ عوام کے سامنے اپنی بات رکھنی پڑی ۔
دراصل چاروں ججوں نے چیف جسٹس کے ذریعہ روسٹر بنانے اور ججوں کے کیس سونپنے کے طریقے پر بنیادی طور سے سوال اٹھائے تھے۔ سپریم کورٹ میں روسٹر کا مطلب ہے کہ کون سی بینچ کے پاس کون سا مقدمہ جائے گا اور اس پر کب سنوائی ہوگی۔ روسٹر بنانے کا حق چیف جسٹس کے پاس ہوتا ہے۔ اب یہ کہیں بھی تحریری شکل میں نہیں ہے کہ کس کیس کو کون سنے گا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ چیف جسٹس جس بینچ کو چاہے، کوئی بھی کیس سنوائی کے لئے سونپ سکتے ہیں۔ چاروں ججوں کے اعتراض کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی ۔ان کا یہ کہنا تھا کہ کئی ایسے اہم کیس تھے، جنہیں چیف جسٹس نے ان سے جونیئر ججوں کے بینچ کو سنوائی کے لئے سونپ دیا۔ اب اس کے کیا معنی ہیں، اسے بھی سمجھنا ضروری ہے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

حالانکہ ان چاروں ججوں نے کھلے عام کسی خاص کیس کی چرچا تو نہیں کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی ایسے کیس تھے، جن کی سیاسی اہمیت تھی۔یعنی جن پر آنے والے فیصلے سے سیاسی صورت حال میں کافی اتار چڑھائو آسکتا تھا اور ایسے کیس کو چیف جسٹس نے مذکورہ چار بینچ والے ججوں کے بجائے ان سے جونیئر بینچ کے پاس بھیج دیا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد اٹارنی جنرل ، بار کونسل وغیرہ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے اور جو ایشو تھے، انہیں سلجھا لیا گیا ہے۔ ویسے ابھی تک چیف جسٹس کی طرف سے اس پر کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ اس درمیان ،سپریم کورٹ نے سات معاملوں کی لسٹ جاری کی، جنہیں آئینی بینچ سننے والی ہے لیکن اس بینچ میں مذکورہ چار ججوں میں سے کوئی بھی شامل نہیں ہیں۔
غور طلب ہے کہ چیف جسٹس کے بعد یہ چاروں جج سب سے سینئر ججوںکے درجے میں آتے ہیں۔ جن سات معاملوں کو آئینی بینچ سننے جارہی ہے، اس میں یہ ایشو شامل ہے۔ دفعہ 377 کی اعتباریت، سبری مالا میں خواتین کا داخلہ ،پارسی خواتین کی مذہبی پہچا، زنا پر جرمانہ قانون کی اعتباریت، ایم پی ؍ایم ایل اے پر مجرمانہ معاملے ،ٹیکس اور کنزیومر قانون سے جڑے معاملے۔
بہر حال پورے معاملے کو کئی نظریئے سے دیکھا گیا اور تجزیہ بھی کیا گیا۔ سرکار حامی طبقہ نے ان چار ججوں پر بھی الزام لگانے میں کوئی کمی نہیں رکھی اور اس طرح عدلیہ کی ساکھ کو گہرا دھکا پہنچایا۔ لیکن موجودہ عدلیہ معاملہ کو تاریخ کے آئینے سے بھی دیکھا جانا چاہئے۔ اس لئے تاکہ یہ سمجھ میں آسکے کہ عدلیہ بھی کبھی کبھی سیاسی دبائو میں آجاتی ہے۔
دو واقعات ہیں۔ ایک ایمرجینسی سے پہلے کا اور ایک ایمرجینسی کے بعد کا ۔یہ دونوں واقعات بتاتے ہیں کہ کیسے ایماندار ججوں کو آٹوکریسی بھی ان کے راستے سے ہٹا نہیں سکتا۔ 12جون 1975 کو الٰہ آباد ہائی کورٹ سے ایک فیصلہ آنا تھا۔یہ کیس تھاراج نارائن بنام اندرا گاندھی۔ 1971 میں رائے بریلی سیٹ سے انتخاب ہارنے کے بعد راج نارائن نے انہیں ہائی کورٹ میں چیلنج دیا تھا۔ جسٹس جگموہن لال سنہا کے اس فیصلے سے پورا ملک ہل گیا تھا۔ اندرا گاندھی کا انتخاب رد ہوگیا تھا لیکن یہ فیصلہ دینے سے پہلے جسٹس سنہا کو کن حالات سے گزرنا پڑا ،یہ جاننا بھی کم دلچسپ نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

پرشانت بھوشن نے اپنی کتاب’ دی کیس ڈیٹ شک انڈیا ‘میں لکھا ہے کہ جسٹس سنہا کے یہاں الٰہ آباد کے ایک کانگریسی ایم پی روز روز آنے لگے تھے۔ اس پر سنہا کو کہناپڑا کہ وہ ان کے گھر نہ آئیں۔ شانتی بھوشن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب یہ عرضی سنی جارہی تھی تو جسٹس ڈی ایس ماتھرالٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ جسٹس سنہا کے یہاں اپنی بیوی سمیت آپہنچے۔ جسٹس ماتھر نے تقریباً آزمائش دیتے ہوئے جسٹس سنہا سے کہا کہ انہیں پتہ چلا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے لئے جسٹس سنہا کے نام پر غور ہو رہاہے۔ جیسے ہی یہ فیصلہآئے گا،انہیں سپریم کورٹ کا جج بنا دیاجائے گا۔
اس کے بعد فیصلہآنے کے پانچ دن پہلے چیف جسٹس ماتھر کا پھر فون آیا۔ ماتھر نے ان سے کہا کہ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری نے گزارش کیا ہے کہ فیصلے کو جولائی تک ملتوی کر دیاجائے۔ اس کے علاوہ سی آئی ڈی والوں نے بھی جسٹس سنہا اور ان کے پی اے کی بھی جاسوسی کی۔ باوجود اس کے، جسٹس سنہا اپنے راستے سے نہیں ہٹے۔اس کے بعد ملک میں ایمرجینسی لگی۔ اس دوران لوگوں سے رائٹ ٹو لیو یعنی جینے کا حق تک چھین لیا گیا۔
ایمرجینسی کے دوران جبل پور کے اے ڈی ایم بنام شیو کانگ شکل کے معاملے میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اکثریت سے بنیادی حقوق کو معطل کرنے کے حق میں فیصلہ دے دیاتھا۔ اس بینچ کے ممبر تھے چیف جسٹس اے این رائے، جسٹس ایچ آر کھنہ ، ایم ایچ بیگ، وائی وی چندر شوڑ اور پی این بھگوتی ۔لیکن بینچ کے ایک ممبر جسٹس ایچ آر کھنہ نے اکثریت کی رائے سے اپنی الگ رائے دی۔ جسٹس ہنس راج کھنہ نے اپنی الگ رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ سرکار بنیادی حقوق کی توہین کے خلاف سنوائی کرنے کے ہائی کورٹ کے اختیار کو کسی بھی حالت میں چھین نہیں سکتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سینئر ہونے کے بعد بھی بعد میں جسٹس کھنہ سے جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا۔ بعد میں جسٹس کھنہ نے استعفیٰ دے دیا۔ ان دو واقعات کا ذکر اس لئے ضروری ہے کیونکہ تاریخ کا تجزیہ کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ تاریخ کی غلطیاں نہ دوہرائی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *