ویٹ لفٹنگ میں ہے تندرستی کارازپوشیدہ

اس دنیائے فانی میں ہرانسان اپنے آپ کوصحت منداورتندرست رکھناچاہتا ہے اوریہ اس کا خواب بھی ہوتاہے کہ وہ خوبصورت اورشیڈول دکھے۔اس معاملے میں مردوخواتین ،بچے ،جوان لڑکے اورلڑکیاں اپنے اپنے طورپرسہولیات کے حساب سے ورزش کرتے ہیں۔چاہے وہ جیم کے ذریعہ ہو،یادیگرکھیلوں کے ذریعے۔
ویٹ لفٹنگ کے نام سے معروف وزن اٹھانے والا کھیل طاقت اورتکنیک کے ٹیسٹ سے متعلق ایک قسم کاکھیل ہے۔کھلاڑی کواچھی صحت کے ساتھ ہی دماغی طورپربھی مضبوط ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔چوٹی کے ویٹ لفٹرس اپنے وزن سے تین گنازیادہ تک وزن اٹھالیتے ہیں۔ویٹ لفٹنگ میں دوطرح کے تکنیکوں کا استعمال ہوتاہے۔پہلی تکنیک ہے اسنیچ،جس میں وزن کوسرسے اوپرتک اٹھاناہوتاہے ۔دوسری تکنیک ہے کلین اینڈجرک،جس میں وزن کودومرحلوں میں اٹھاناہوتاہے۔کامیابی سی وزن اٹھانے کیلئے ویٹ لفٹنگ کے ہاتھ سرکے اوپرتک جانااورجسم کاسیدھارہناضروری ہوتاہے۔ہرویٹ لفٹرس کووزن اٹھانے کیلئے تین بارچانس ملتے ہیں۔
ویٹ لفٹنگ کولیکرمردخاص طورپرزیادہ جنونی ہوتے ہیں۔ویٹ لفٹنگ کیسی ہو،ہیوی یا لائٹ،یہ پوری طرح آپ کی ضرورت اورجسمانی صلاحیت ومضبوطی پرمنحصر کرتاہے۔ لائٹ ویٹ لفٹنگ کوزیادہ دنوں تک کرناآپ کی پٹھوں کووہی فائدہ دیتاہے جتناہیوی ویٹ لفٹنگ کم وقت تک کرنا۔لیکن ،آپ جتناوزن اٹھاتے ہیں وہ آپ کی مسلسوں کے فائبر کومتاثر کرتاہے۔ویٹ لفٹگ کا وزن اس بات پرمنحصرکرتاہے کہ آپ کس طری کی طاقت حاصل کررہے ہیں۔ہیوی ویٹ لفٹنگ سے پٹھوںکابڑے پیمانے پراضافہ ہوتاہے اورآپ کی باڈی چربی کوختم کرنے والے ہارمون کی سرایت کوبڑھادیتی ہے۔
ڈوپنگ معاملوں کی وجہ سے اس کھیل پربرااثرپڑاہے۔بیجنگ اولمپک میں بلغاریہ کی پوری ٹیم کومقابلے سے ہٹادیاگیاتھاکیونکہ اسے پابندی عائدکی گئی دوالینے کا قصوروار پایا گیا تھا۔ ویٹ لفٹنگ کی دنیامیں سب سے بڑانام بلغاریہ میں پیداہوئے ترکی میں نیم سلیما نوگلو کاہے جنہوں نے اپنے کریئرمیں 46عالمی ریکارڈ توڑے۔
ایک پورٹل ویب میں شائع آرٹیکل میں ویٹلفٹنگ کے کچھ فائدے بتائے گئے ہیں وہ ہیں:تناؤ کم ہوگا،جی ہاں،ویٹ لفٹنگ کاایک بڑافائدہ یہ ہے کہ آپ خودکوتناؤ مکت محسوس کرتے ہیں۔اگرآپ باضابطہ طورپراسے اپنی ورزشوں میں شامل کرتے ہیں،توآپ ذہنی تناؤ جیسے مسائل سے کوسوں دوررہسکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

ویٹ لفٹگ کادوسرافائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ کے جسم کی بناوٹ شڈول ،جسم کومثالی وخوبصورت شکل دیتی ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جولوگ ورزشوں کی شکل میں اسے 6مہینے تک ہفتے میں تین بارشامل کرتے ہیں ،وہ خوش رہنے کے معاملے میں دوسروں کے مقابلے میں بہت آگے ہوتے ہیں۔یہ آپ کی خوشی میں حیرت انگیزاضافہ کرنے میں مددگارہیں۔اس سے آپ کے جسم پرکپڑے بہ نسبت زیادہ فٹ ہوتے ہیں۔اس کی یہی وجہ ہے کہ یہ آپ کی مسلس میں اضافہ اورچربی کودھیرے دھیرے کم کرتاہے،جس میں جسم کی بناوٹ میں بدلاؤ آتاہے اورآپ جوبھی پہنتے ہیں وہ آپ پرزیادہ اچھالگتاہے۔
چربی:لوگوں میں یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ صرف کارڈیوکے ذریعہ جلدچربی کوختم کرکے وزن کوکم کیاجاسکتاہے۔لیکن یہ طریقہ غلط ہوتاہے،جب آپ صرف کارڈیوورزشوں کے ذریعہ وزن کم کرتے ہیں۔کیونکہ اس سے چربی کے ساتھ آپ کی خلئے بھی ٹوٹتی ہیں۔اس لئے کارڈیوکے ساتھ ویٹ لفٹنگ کرکے آپ نہ صرف وزن گھٹاتے ہیں، سلسوں کاتعمیربھی کرتے ہیں۔
لگاتارکیلوری کم ہونا:یہ بھی ایک خاص فائدہ ہے کہ جب آپ ورزش ختم کردیتے ہیں، اس کے بعدبھی آپ لگاتارجسم سے کیلوری کم کررہے ہوتے ہیں۔کیونکہ آپ کی جسم وسیلس اپناکام کررہے ہوتے ہیں۔
بہترین نیند:جہاں ہاں،یہ آپ کوچین کی نیندسلانے کیلئے فائدے مندہے۔ورزشوں کے ہونی والی تھکان آپ کوبسترپرجاتے ہی نیندلانے میں مددگارہوتی ہے،اوربیحدسکون سے سونے کیلئے متاثرکرتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

ہڈیاںبنے مضبوط:سائنسدانوں کے ذریعہ کئے گئے ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویٹ لفٹنگ ورزش سے آپ کی ہڈیاں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔عمرکے ساتھ ساتھ ہڈیوں کا کمزورہوناعام بات ہے،لیکن اس ورزش سے آپ اسے کم کرسکتے ہیں۔
بلڈپریشر:اس طرح کی ورزشیں بلڈپریشر کوہائی ہونے سے روکتی ہے۔ایسے میں آپ کابلڈپریشرمعتدل بنارہتاہے،اورآپ کودل سے متعلق کسی بھی قسم کے مسائل سے بچاتا ہے۔ خاص طورسے یہ دل کے دورے کی امکان کوکم کرتاہے۔
کام میں فعالیت:ویٹ لفٹنگ سے آپ کی مسلس مضبوط ہوتی ہیں اورآپ کے کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتاہے۔اتناہی نہیں، یہ آپ کوصحت کے تئیں نظم ونسق کا سبق پڑھاتا ہے۔
نومبر 2017میں میرابائی چانونے عالمی ویٹ لفٹنگ چمپئن شپ میں تاریخ رقم کی ہے۔ویٹ لفٹنگ مقابلے میں سونے کاگولڈجیت کرمیرابائی پچھلے دودہائیوں سے زائدوقتوں میں یہ کمال کرنے والی پہلی ہندوستانی ہوگئی ہیں۔انہو ںنے امریکہ میں یہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریواولمپک کے خراب کارکردگی کوبھلاکرگولڈمیڈل جیت کراس کی بھرپائی کی۔انڈین ریلوے میں کام کرنے والی چانونے اسنیچ میں 85کلواورکلین اینڈ جرک میں 109کلووزن اٹھایا۔انہو ںنے 48کلوکٹیگری میں کل 194کلووزن اٹھاکرنیانیشنل ریکارڈ بنایا۔پوڈیم میں کھڑے ہوکرترنگادیکھ کراس کے آنسونکل گئے۔ان سے پہلے اولمپک میں کانسہ کا تمغہ فاتح کرنم ملّیشوری نے 1994اور1995میں عالمی چمپئن شپ میں پیلاتمغہ جیتاتھا۔ چانو ریواولمپک میں تینوں مقابلوں میں ناکام رہی تھیں اور12وزن لفٹنگوں میں وہ مقابلے پوری نہ کرنے والی دومیں سے ایک رہی تھیں۔
بتایاجاتاہے کہ ریواولمپک میں ملی ہارکے بعدچانوپانچ دنوں کیلئے اپنے گھرگئیں اور پھر ٹریننگ کیلئے پٹیالہ لوٹ آئی۔اس کے بعدسے گولڈمیڈل جیتنے تک وہ واپس نہیں گئی۔ہرروزوہ اسی محنت سے پریکٹس کرتی تھی۔ان کے کوچ جانتے تھے کہ پریکٹس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ چانوذہنی طورپربھی مضبوط ہو۔وہ پچھلاسب کچھ بھول کرآنے والے نورنامنٹ میں دھیان دے۔چانو نے ہرطرح سے خودکواس ہارکی یادوں سے دورکیا اورپورادھیان صرف عالمی چمپئن شپ پرلگایا۔جس کے بعدوہ گولڈ میڈل جیت کر عالمی چمپئن بن گئیں۔
بہرکیف ہرانسان کوچاہئے کہ وہ اپنے سہولیات کے حساب سے ورزش وایکسرسائزکرکے اپنے آپ کوفٹ رکھے ۔کسی بیماری کواپنے اوپرسوارہونے نہ دے،صحت وتندرستی ہے توسب کچھ ہے ورنہ اس دنیائے فانی میں کچھ بھی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *