کیا سیف الاسلام قذافی کی آمد آمد ہے؟

لیبیا کے مرد آہن معمر قذافی کب کے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ ان کے اقتدار پر غیروںکا قبضہ ہوچکا ہے لیکن مرحوم قذافی کے حامیوںکی کافی بڑی تعداد اب بھی لیبیا میںموجود ہے، جو ان کے بیٹے سیف الاسلام کو لیبیا کا صدر بنانے کے لیے کوشش کررہی ہے۔ اس بات کا اندازہ ہورہا ہے لیبیا میں ہونے والے انتخابات کی سرگرمیوںسے۔
لیبیا میںپارلیمانی اور صدارتی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں حالانکہ اس بار لیبیا کے مرد آہن معمر قذافی جیسی دبنگ شخصیت دنیا میں موجود نہیں ، جو کبھی ان انتخابات کی آن بان شان اور مرکز نگاہ ہوا کرتی تھی ،لیکن ان کی باقیات اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام اور وقار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اب مرحوم سابق صدر کی امیدوں کا آخری سہارا ان کے فرزند سیف الاسلام القذافی ہیں جو اب تک روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں تاہم انھیںایک آدھ بار منظر عام پر دیکھا گیا ہے اور ان کی ملک کی سیاست میںسرگرمیاں شروع کرنے کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ واضح ہوکہ لیبیا میں2018 کے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے دوران مرحوم معمر قذافی کی باقیات کے پاس اقتدار اور ملک کی زمام سنبھالنے کا ایک نیا اور اہم موقع ہوسکتا ہے۔ ان کے حامیوںکی بہت بڑی تعداد ہے او روہ چاہتی ہے کہ ان کے بیٹے سیف الاسلام لیبیا کی زمام حکومت سنبھالیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی سیاسی ماہرین سیف الاسلام کے سیاسی ویژن کے بارے میںکئی طرح کے خدشات کا بھی اظہار کرتے ہیں۔
سیف الاسلام ملک کی سیاست میںداخل ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں 2018 کے انتخابات ہونے پر ہی پتہ چلے گا لیکن یہ بات فی الحال ضرور کہی جاسکتی ہے کہ ماضی میں معمر قذافی کے ساتھ رہنے والے او ران سے سیاسی اور مالی طور پر مستفید ہونے والے قبائلی رہنماؤں نے خود کو منظم کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے مرحوم معمر قذافی کے حامیوںکے میراتھن اجلاس ہورہے ہیں۔ ان کے انتخابات کے لیے پلاننگ ، پارلیمانی امیدواروں کے ناموںکا اعلان اور صدارتی انتخابات کے لیے سیف الاسلام کا نام استعمال کر نے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ لیبیا کے مرد آہن معمر قذافی کے حامی کافی تعداد میں اب بھی ملک میںموجود ہیں۔
لیبیا میںانتخابات 2018 میںہونے ہیں ۔ مرحوم قذافی کے حامی ان کے بیٹے کو اقتدار کی راہ پر لانا چاہتے ہیں، وہ اپنے مقصد میںکس حد تک کامیاب ہوتے ہیں، اس کے بارے میں انتخابات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔فی الحال وہاںانتخابی سرگرمیاں تیزی سے چل رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *