سادھنا ٹاپ کا سانحہ اور سرکاری کی بے حسی

گزشتہ دنوں برفانی تودہ گرنے سے کپواڑہ – تنگدھر روڈ کے سادھنا ٹاپ پر 11 لوگ مارے گئے۔ بر فانی تودہ گرنے کی وجہ سے گاڑی نیچے چلی گئی۔ یہ سڑک کشمیر کے باقی حصوں کے ساتھ کرناہ تحصیل کو جوڑتی ہے۔ کرناہ 1947 سے پہلے مظفرآباد ضلع کا حصہ تھالیکن اب یہ اس طرف کپواڑہ ضلع میںآتا ہے۔ یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی نیلم وادی کے سامنے ہے اور سری نگر سے قریب ہے۔
حادثہ کی خبر سے لوگ بہت ناراض تھے۔ انھو ں نے اس واقعہ کو سرکار کی بے حسی کے طور پر دیکھا۔ سیاسی لحاظ سے فوجی علاقہ بن چکے کرناہ میںصرف گرمیوں میںہی لوگ باہر نکل سکتے ہیں۔ سردیوںکے مہینے میںلوگ دنیا کے باقی حصوںسے کٹ جاتے ہیں۔
مختصر اور طویل مدتی اقدامات اٹھائے جاتے تو یہ سانحہ نہیںہوتا۔ انتظامیہ موسم کے حالات سے محتاط رہ سکتا تھا اور ٹریفک کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ سادھنا کو سردیوںمیں موت کے جال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں سڑک حادثوں کی وجہ سے 185 لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ اس حادثہ سے صرف دو دن قبل 36 سالہ سماجی کارکن الطاف خواجہ کا برین ہیمریج کی وجہ سے انتقال ہوگیا کیونکہ ان کے خاندان کو انھیںلے کر سری نگر تک پہنچنے میںسات گھنٹے لگ گئے تھے۔ سرکار کے دعووںکے باوجود کرناہ بنیادی سہولتوںسے محروم ہے۔ 70 سال میں کرناہ ایک ایسی مثال بن گیا ہے جہاںلوگوں کی زندگی سدھارنے کی کوئی خواہش سرکار کے پاس نہیںہے۔ یہ تب ہے جب یہ علاقہ دفاعی لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔
1996 سے 2014 تک نیشنل کانفرنس کے کفیل الرحمان اس علاقے کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کی نمائندگی کے دوران ان کی پارٹی نے 10 سال تک ریاست پر حکمرانی کی۔ اس دوران ، وہ ایک بھی ایسا کام کرنے میں ناکام رہے جو اس علاقے کی مانگ تھی۔ ٹی پی چوکی بل اور جالرا کے بیچ ایک سرنگ کی تعمیر کی بھی مانگ تھی تاکہ 70,000 لوگ 10,500 فٹ کی اونچائی والے راستے سے بچ سکیں۔کرناہ کے لوگوںکے لیے یہ سرنگ ایک لائف لائن تھی۔
بے اعتنائی کا شکار کرناہ سیاستدانوںکے لیے نارملسی پروجیکٹ کے لیے ایک مثال ہے۔ خاص طور سے تب ، جبکہ دہشت گردانہ سرگرمیاں عروج پر ہوں۔ جب بھی حکومت ہند اور مقامی مین اسٹریم کے سیاستدانوں کو کشمیر کو عام طور پر دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کرناہ، گریز اور مچیل میں پبلک میٹنگیںکرتے ہیں۔ چونکہ وہاںکے لوگ بھولے ہیں، زمین سے گھرے ہوئے ہیں اور اکثر فوج کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔ ان کے پاس اس لائن پر جانے کے علاوہ کوئی متبادل نہیںبچتا ہے۔ بدلے میںصرف فرضی وعدے ملتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

گزشتہ دو سال میںکرناہ سے دو رکن اسمبلی اور کونسل ہوئے۔ ایم ایل اے راجہ منظور اور ایم ایل سی جاوید میرچال ۔ وہ اس حکومت کا حصہ ہیں جو لوگوںکی تکلیف کو کم کرنے کے لیے کچھ بھی کام نہیں کررہی ہے۔ دوسری طرف سبھی قانون بنانے والے اپنے بے بس ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔راجہ منظور نے جنوری 2017 میںاسمبلی سیشن کے دوران اپنے حلقے کی صورت حال کے بارے میںکہا تھا کہ میںچاہتا ہوںکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لیے جانے والی سبھی سڑکوں کو کھول دیا جائے تاکہ کرناہ کے لوگوںکو وہاں علاج کے لیے لے جایا جاسکے کیونکہ میرے علاقے کے اسپتالوں کے مقابلے میں وہاں کے اسپتال کہیں زیادہ بہتر ہیں۔
یہ بیان بتاتا ہے کہ دوردراز کے علاقے میں ایک مصنوعی سرحد کے دونوں کناروں پر رہنے والوںکے حالات کیا ہوتے ہیں۔ دیہی لوگ اکثر دوسرے فریق کی سہولیات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، کنٹرول لائن (ایل او سی) پر واقع سید پورہ گاؤں خشک سالی کا شکار ہوجائے گا اگر دوسری طر ف سے پانی کی سپلائی بند کردی جائے۔ ایک اور مثال ہے کرناہ کی۔ 27 فروری 2016 کو کرناہ کے لوگوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے راشن کے لیے تنگدھر سے ٹیٹوال تک ایک بڑے مارچ کا انعقاد کیا۔ یہ فوڈ سیکورٹی قانون کے خلاف احتجاج تھا، جسے وہ مانتے تھے کہ یہ ان مقامی لوگوں کو بھوک سے مرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جن کے پاس زمین نہیںہے۔ حالانکہ یہ مارچ افسروں کی مداخلت اور یقین دہانی کے بعد کنٹرول لائن سے 3 کلو میٹر پہلے چتر کوٹ میںبند کردیا گیا۔ 8 جنوری کو تنگدھر میںپھر سے ہزاروںلوگوں نے جمع ہوکر مانگ کو دوہراتے ہوئے ٹیٹوال کی طرف مارچ کیااور یہ جتانے کی کوشش کی کہ ان کے لیے پاکستان کی طرف چلے جانا ہی بہتر ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

یہ دلیل تب بھی سامنے آئی جب صحافی کرناہ پہنچے۔ نیلم اور لیپا وادی میںکیا ہو رہا ہے، اسے گاؤںوالوں نے اپنی دلیل کی بنیا د پر بتایا جیسے اس طرف کے لوگوںکے مکان، بہتر سڑک، بجلی کی سپلائی اور صحت کے لیے بہتر دیکھ بھال وغیرہ۔
جب سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام نے صدر رہتے ہوئے اس علاقے کا دورہ کیا تو انھوںنے لوگوںکو یقین دہانی کرائی تھی کہ سرنگ کو ترجیح کے طور پر لیا جائے گالیکن کچھ نہیںہوا۔ اس کے برعکس،پاکستان سرکار نے پہلے ہی لیپا وادی میںایک سرنگ کو منظوری دے دی ہے اور چینی کمپنی سے معاہدہ کیا ہے۔ سرکاری بے حسی ایک سبب ہے ، جس کی وجہ سے ان محاذوں پر کوئی پیش رفت نہیںہوئی۔لیکن ایک دوسری وجہ ،ہندو پاک کے بیچ کی سیاست ہے جو آخرکار لوگوں کی مصائب کو بڑھاتی ہے۔ اگر سڑک کم سے کم ضرورت مندوں کی خدمت کے لیے کھلی ہوتی تو اس سے کچھ راحت ملتی۔لیکن دونوںملکوں کے ذریعہ بنائی گئی باڑ اسے ناممکن بنا دیتی ہے۔
2005میںٹیٹوال کو زلزلے کے بعد کھولا گیا تھا اور ایک پل ان منقسم لوگوں سے جڑا تھا جس سے سرحد پار سے ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔اگرچہ کچھ لوگ گرمی میںایل اوسی پرمٹ کے ساتھ اسے پار بھی کرسکتے تھے۔ لیکن حقیقی ناکہ بندی سرکار کے دماغ میںہے، جس نے لوگوںاور ان کے علاقے کو بندھک بنا دیا ہے۔ جموں و کشمیر ریاست کے سبھی حصوں میںکنکٹوٹی واحد حل ہے جو مصیبت زدہ لوگوںکو راحت دے سکتی ہے۔یہ ایسا درد ہے جو ایک بغیر سلجھے سیاسی مدعے اور فوج کے استعمال سے جڑا ہوا ہے۔
جہاںتک آئینی پروویژنس کا تعلق ہے، لوگوں کو آزادی کے ساتھ آمدو رفت کا حق ہے۔ آزادانہ آمدو رفت 5 جنوری جیسے سانحوں کو ختم کرنے میںمدد کرسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ریاستی اور مرکزی سرکار کو بیدار ہونا چاہیے اور اس روٹ پر سرنگ کی مانگ کو منظور کرنا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *