اردو اکادمی، دہلی کے زیراہتمام مشاعرہ جشنِ جمہوریت منعقد

mushaira
حسب روایت یوم جمہوریہ کی مناسبت سے اردو اکادمی دہلی کے ذریعہ منعقد ہونے والا ’’مشاعرہ جشنِ جمہوریت ‘‘11جنوری کی شب لال قلعہ میدان میں منعقد ہوا۔ آزادی کے بعد دہلی سمیت پورے ملک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں لال قلعہ کا مشاعرہ اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس کا سلسلہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے ذریعہ منعقد کیے جانے والے مشاعروں سے جا ملتا ہے۔ اردو اکادمی کے ذریعہ منعقد کیا جانے والا یہ چھتیسواں مشاعرہ تھا یعنی دہلی اردو اکادمی کے قیام1982سے تاحال یہ مشاعرہ تسلسل کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے گو کہ لال قلعہ کے اس مشاعرے کا آغاز1952میں ہوا جو پہلے ’ اردو سبھا‘ کے زیر اہتمام اور پھر ساہتیہ کلا پریشد کے ذریعہ یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے منعقد کیا جاتا تھا۔1982 میں قیامِ اردو اکادمی کے بعد اس مشاعرے کے انعقاد کی ذمہ داری اسے دی گئی جو تا حال جاری ہے۔
11جنوری2018کو منعقد اس مشاعرے کے بعد اس کی عمر میں ایک اور سال کا اضافہ ہوگیا۔ اس مشاعرے کی ایک اور اہمیت یہ تھی کہ اس برس اردو اکادمی،دہلی کے وائس چیئر مین پروفیسر شہپر رسول بنائے گئے ہیں جو خود بھی اردو کے نہایت معتبر شاعر ہیں۔ مشاعرے کا افتتاح دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودویا نے کیا جبکہ صدارت ہندی کے مشہور کوی کنور بے چین نے کی۔
اس موقع پر اپنی ایک مختصر سی تقریرمیں نائب وزیر اعلیٰ نے اردو سمیت تمام دیگر زبانوں اور اس کی تہذیب کو سراہتے ہوئے یہ یقین دلایا کہ عام آدمی کی سرکار اس کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔انھوں نے کہا کہ لال قلعہ کا یہ تاریخی مشاعرہ جمہوریت قائم کرنے کے لئے پیش کی جانے والی قربانیوں کو یاد دلانے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے مگر دیکھنا یہ بھی ہے کہ اس جمہوریت کو بچانے میں ہم سے کہاں غلطی ہوئی ہے، یہ بات اقتدار اور حزب اختلاف دونوں طرف بیٹھے لوگوں کو سوچنا ہوگی۔ انھوں نے اس موقع پر ایک اعلان کرتے ہوئے کہا محکمہ فن و ثقافت و السنہ کے تحت جتنے بھی پروگرام دہلی میں منعقد ہوتے ہیں اب صرف ایک مس کال کے ذریعہ آپ کے فون پر ان کی معلومات آنے لگیں گی۔9323300300 نمبر کا اعلان کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اس لیے کیا جارہا ہے تاکہ ادب و ثقافت کے شوقین سبھی پروگراموں میں شرکت کرسکیں۔
اس موقع پر انھوں نے مدعو شعرا کا پھولوں سے استقبال کیا۔ اس تاریخی مشاعرے کے سامعین کو دہلی حکومت میں وزیر خوراک و رسد عمران حسین نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہم لال قلعہ کے اس مشاعرے کو اپنی وراثت سمجھتے ہیں اور اپنی وراثت کی حفاظت ہم پر فرض ہے جو ہم کر رہے ہیں۔ مشاعرے کے آغاز میں تمام مہمانوں اور سامعین کا استقبال کرتے ہوئے پروفیسر شہپر رسول وائس چیئرمین اردو اکادمی نے یوم جمہوریت اور لال قلعہ مشاعرے سے جمہوری اقدار کے رشتے پر نہایت مفصل اور مدلل گفتگو کی۔ اس موقع پر سکریٹری اردو اکادمی ایس ایم علی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ مشاعرے کے آغاز میں سورترشنا گروپ کے ذریعہ قومی ترانہ، ترانۂ اردو اور دیگر ترانے بھی پیش کیے گئے۔ سامعین کی کثیر تعداد سرد موسم کے باوجود موجود تھی شعرا کی فہرست بھی طویل تھی اس کے باوجود شکیل جمالی کی نظامت میں ایک اور نہایت کامیاب مشاعرے کا رات صبح پانچ بجے اختتام ہوا۔ مشاعرے میں دہلی کے ایم۔ ایل۔ اے انل باجپائی اور اجے دت، کونسلر صاحبان اور اکادمی کی گورننگ کونسل کے ممبران میں فیروز احمد، صلاح الدین، فریدالحق وارثی، ارتضیٰ قریشی، فرحان بیگ، ایف۔ آئی۔ اسماعیلی، صابر علی، نوشاد علی، ڈاکٹر شمیم احمد، کامنا پرساد، رعنا صفوی، نشیط شادانی، عناتر اللہ وغیرہ موجودتھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *