ریختہ کو مختلف شہروں میں لے جانے کی ضرورت ہے

ایک بار پھر اردو کو ایک کمیونٹی سے جوڑا جارہا ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اردو ان سبھی لوگوںکے لیے ہے جو اسے سمجھتے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں۔ دہلی میں8 دسمبر کو جشن ریختہ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے مشہور بالی ووڈ اداکارہ نے کہا کہ یہاں موجود ہزاروں پرجوش مرد و خواتین، زیادہ تر نوجوان،آپ کو حقیقت بتاتے ہیںکہ کیسے اردو سبھی کے لیے ہے نہ صرف مسلمانوںکے لیے ہے۔ آرگنائزر اردو کی اس تقریب کو جشن مانتے ہیں۔ یہ جشن 4 سال میںجنون بن گیا۔ ہندوستان بھر کے محبان اردوکی حصہ داری اس تاثر کو خارج کرتی ہے کہ یہ زبان مررہی ہے۔ تین دن تک چلے اس جشن میںہزاروںلوگوںنے شرکت کی اور یہ امید جگائی کہ اردو کو لے کر ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
وحیدہ رحمان کے علاوہ ایک دیگر بحث، جس کا موضوع تھا،’’ مسلم سوشل فلموںمیںاردو ثقافت کی عکاسی‘‘ میںشبانہ اعظمی نے بھی ایسے تصور کو خارج کیا کہ اردو کا تعلق ایک خاص مذہب سے ہے۔ انھوںنے فراق گورکھپوری اور کئی دیگر لوگوںکی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان لوگوںنے اردو سے پیار کیا اور تاعمر اسی زبان میںلکھتے رہے۔ انھیںیہ بتاتے ہوئے تھوڑا درد بھی ہوا کہ کیسے اردو نے ایک تہذیب کی نمائندگی کی ہے اور مختلف مذہب، ذات اور پنتھ کو گلے لگایا ہے۔ انھوں نے یہ کہا کہ اسے صرف مسلمانوںسے نہیںجوڑیں،یہ ناانصافی ہوگی۔ کیا آپ مانتے ہیںکہ یہاںموجود ہزاروںلوگ مسلم ہیں؟ ان کے اس بیان پر وہاںموجود لوگوںنے تالیوںکی گڑگڑاہٹ سے استقبال کیا۔ایک دیگر فلم ساز مظفر علی نے بھی اردو اور فلموں میںاس کے کردار پر بات کی۔

 

 

 

 

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ریختہ آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی توسیع اور قبولیت ایسی ہو گئی ہے جس سے سنجیو صراف تھوڑے نروس بھی ہوجاتے ہیں۔ صراف بزنس مین ہیںاور اب اردو کی تشہیر کر رہے ہیں۔ ریختہ کا قیام انھوںنے 2013 میں کیاتھا۔ ان کا مقصد تھا کہ لوگوںتک اردو کو آن لائن فراہم کرایا جائے۔ ریختہ ویب سائٹ پر تقریباً 2500 قلمکاروں کی 30,000 غزلیں اورنظمیںاَپ لوڈیڈ ہیں۔ مشکل الفاظ کے معنی بھی الگ سے دیے گئے ہیں۔ جلد ہی، ریختہ نئی دنیا کی مانگوںکے مطابق ا س زبان کو لوگوںتک پہنچا رہا ہے۔ کئی لوگوںکے لیے اردو کایہ جشن اور بھی کئی خوشیاںلے کر آتا ہے جیسے تانیہ ویلس سے لے کر مراٹھی بینڈ سکھن اور بنگلورو کی پرواز، جنھوںنے یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔تانیہ ویلس نے اپنے شاندار لہجے سے ناظرین کو محظوظ کیا۔ ان ٹیلنٹس نے ان نوجوانوںکو متوجہ کیا جو اردو شاعری پسند کرتے ہیں لیکن اس زبان کو سیکھنے میںانھیںدقت محسوس ہوتی ہے۔
یہ دکھ کی بات تھی کہ اس میںپاکستانی فنکار نہیںآسکے لیکن اداکار فرید کوکب کا ہدایت کردہ ڈرامہ، جو جون ایلیا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے، کو پسند کیا گیا۔ ’’جنت سے جون ایلیاکا خط‘‘ میںجنت میںغالب سے لے کر فراز اور میر تک کی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔ اسے پاکستانی مصنف انور مقصود نے لکھا ہے۔ فرید نے اسے ایک ڈرامہ کی شکل دی ہے۔ ریختہ ایک ایساواقعہ بھی ہے جو فن کے لیے بازار کے راستے کھولتا ہے۔ مثال کے طور پر فوڈ کورٹ میںپروسے گئے پکوان کو تخلیقی نام دیے گئے،جیسے شام اودھ،لٹّی، کشمیری وازوان اور الہام۔ کرافٹ مارکیٹ میںآپ کو زرود،عشق اردو ، صوفی بازار ملتا تو آپ کیلی گرافی کو بھی دیکھ سکتے تھے اور ہاں، کتابیں بھی لوگوںکے لیے ایک اہم توجہ کا مرکز تھیں۔
منٹوئیت
حالانکہ اس بار ریختہ کی اہم کشش ’’منٹو کے روبرو‘‘تھا۔ اپنے انوکھے انداز کے لیے مشہور بالی ووڈ کے دو مقبول ستاروںنے تقریب کے دوسرے دن سعادت حسن منٹو کو ری ڈسکور کیا۔ نندیتا داس اور نواز الدین صدیقی ، جن کی فلم منٹو جلد ہی اسکرین پر آنے والی ہے، نے فلم کے بارے میںبات کی۔ داس نے یہ بتایا کہ کیسے انھیںلگا کہ منٹو پر ایک فلم بنانا چاہیے۔ داس نے کہا کہ اگر ہمیںاپنے سماج کی خدمت کرنی ہے اور اسے بچانا ہے تو ہمیںمنٹو کو جاننے کی ضرورت ہے۔ داس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ تناؤ کے سبب انھیںفلم میںپاکستان کی جگہ ہندوستان میںہی لاہور بنا کر شوٹ کرنا پڑا۔

 

 

 

 

 

 

 

سازش یا رجحان
اردو جیسی زبان کی گراوٹ کے بارے میںعام سوچ یہ ہے کہ اسے کمزور رکنے کی سازش کی جارہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو ہندوستان اور پاکستان ، دونوںجگہ اپنے وجود کے لیے لڑ رہی ہے۔ ویسے پاکستان میںزیادہ لوگ اس زبان کو بولنا، لکھناسیکھتے ہیں۔ پاکستان کی یہ قومی زبان تو ہے لیکن نوجوان نسل اب انگریزی کو اپنا رہی ہے۔ ہندوستان میںجہاں اس زبان کو مسلم پہچان سے جوڑا گیا ہے،وہیںاس کے اقتصادی امکانات بھی بہت روشن نہیںہیں۔ روزگار پانے کے ذریعہ کے طور پر اسے اپنانے والے لوگوںکی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ پالیسی سازوں نے اردو کو نظر انداز کیا کیونکہ یہ اقتصادی ترقی کے حوالے سے بہت بدلاؤ نہیںکرتی ہے اور یہ سب زبان کے مستقبل کے لیے اچھا نہیںرہا۔ہندوستان کی سرکاروں نے اس زبان کو فروغ دینے کے لیے فنڈ فراہم کرائے ہیں ۔ پی وی نرسمہا راؤ نے جہاںصرف 6 ملین گرانٹ دی تھی، وہیںباجپئی سرکار میں50 ملین روپے ملے۔ 2012-13 میںیہ 400 ملین تھا اور پچھلے بجٹ میںاسے اور بڑھا دیا گیا۔ (حالانکہ اس میںسبھی ہندوستانی زبانوں کی تشہیر کو شامل کردیا گیا )۔ حال میںاردو میڈیم طلبہ کی تعداد میںاضافہ ہوا ہے لیکن اس زبان کے سامنے ابھی بھی چیلنجز ہیں۔ یونیورسٹی آف ہڈلبرگ کے ڈپارٹمنٹ آف پالیٹکل سائنس کے ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کی انویتا ابیّ، امتیاز حسنین اور عائشہ قدوائی نے ایک اسٹڈی کی تھی۔ اس کا موضوع تھا، اردو کس کی زبان ہے؟ یہ اسٹڈی بہار، لکھنؤ، میسور،دہلی اور شملہ میں کی گئی تھی۔ یہ اسٹڈی بتاتی ہے کہ ایک خاص مذہب سے پہچانے جانے کے بجائے اردو ایک بڑی کمیونٹی کی زبان ہے۔ ایسا تصور بڑھ رہا ہے۔ اس میںکوئی شک نہیںہے کہ جیسے سنسکرت اور فارسی کو ریاست کا تحفظ ملا،ویسے ہی ایک زبان کی ترقی کے لیے ریاستی تحفظ ضروری ہے۔ اگرچہ بہار، اترپردیش اور دہلی میںاردو دوسری سرکاری زبان ہے لیکن اس کے وجود کے لیے چیلنجز اس کے اصل بولنے والوں سے ہی آتے ہیں جو یہ مانتے ہیںکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس سب کے باوجود ریختہ نے نئی امید پیدا کی ہے۔ صراف کی پہل کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ اسے کل ہند بنانے کے لیے مختلف شہروں میںلے جانے کی ضرورت ہے اور اگر سیاسی قوت ارادی ہے تو پاکستان میںبھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *