’ بھومی ادھیکار آندولن‘ کی تحقیقاتی ٹیم لنچنگ کے بعد راجستھان سخت خوف و ہراس میں

یہ یقینا بڑی تشویش کی بات ہے کہ گئو رکشا کے نام پر ہیٹ کرائم کا جوسلسلہ تقریباً دو برس قبل شروع ہوا ہے، وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ اس تعلق سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دلت بھی اس کاشکار ہورہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال راجستھان کے بعد ریاست اترپردیش اور گجرات ہے۔ گزشتہ 9جنوری کو مبینہ طورپر گائے کی چوری کے الزام میں اترپردیش کے بلیا میں دو افراد کی گئو رکشوں کے ذریعے بری طرح پٹائی کی گئی اور پھر ان کے سرمنڈوا کر انہیں بازار میں گھمایا گیا۔ان کے ساتھ پلے کارڈ لگے ہوئے تھے جس پر لکھا ہوا تھا کہ ہم ’’ گائے چور ہیں ‘‘۔
’’ون انڈیا نیوز ‘‘ کے مطابق مذکورہ پلے کارڈ کے ذریعے دراصل اترپردیش کے بلیا کے ان دونوں افراد سے یہ اقرار کرایا جارہاتھا کہ ان لوگوں نے گائیں چرائی ہیں ۔ویسے پولیس کی بروقت چابک دستی سے معاملہ آگے نہیں بڑھا مگر اس واقعہ سے یہ اندازہ بخوبی ہوجاتاہے کہ ہیٹ کرائم کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ ریاست گجرات کے اونا میں انہی دنوں پیش آیا۔ وہاں کے متعدد دلتوں پر پہلے سے یہ الزام ہے کہ وہ مردہ گائے کی کھال نکالتے ہیں ۔2016 میں موتا سمادھیالیہ نام کے گائوں میں سات دلتوں کا اس الزام میں پریڈ کرایا گیا تھا اور پھر مجمع کے بیچ ان کی فلوگنگ یعنی کورے سے پٹائی ہوئی۔ بعد ازاں انہیں اونالے جاکر گاڑی سے باندھ کر دوبارہ پٹائی ہوئی۔ پولیس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کیااور 20افراد کو گرفتار بھی کیا۔یہ ہیٹ کرائم اتنا بڑھ رہاہے کہ اس سے تنگ آکر گجرات میں ایک دلت خاندان نے بدھ مذہب اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کمزور طبقات کے خلاف ہیٹ کرائم کے بڑھنے سے متعلقہ مقامات میں خوف و ہراس کی فضا بھی بری طرح پائی جارہی ہے جس کی مثال ریاست راجستھان ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی متعدد لنچنگ بھی ہوچکی ہے۔ لہٰذا میوات خطہ اور ریاست راجستھان میں خوف و ہراس کی اس صورت حال کا براہ راست جائزہ لینے کی غرض سے گزشتہ 6-7جنوری 2018 کو’ بھومی ادھیکار آندولن‘ کے تحت متعدد ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، وکلاء و دیگر شخصیات پر مشتمل ایک وفد وہاں گیا۔ اس وفد نے وہاں سے واپس لوٹ کر جو کچھ بیان کیا ہے ،وہ یقینا ایک جمہوری ملک کے لئے بڑی تشویش کی بات ہے ۔ اس فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے مطابق، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہاں ہیٹ کی فضا کے یہ متاثرین پولیس کے ذریعے بھی مبنہ طور پر پریشان کئے جارہے ہیں۔ مذکورہ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم بھرت پور، الور، راجسمند اور اودے پور گئی اور ان مقامات پر گئو رکشا کے نام پر بڑھتے ہوئے لنچنگ و دیگر حملوں کے واقعات کا جائزہ لیا۔
ریاست کیرل کے سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن کے کے راگیش نے کہا کہ مذکورہ ٹیم بھرت پور ضلع کے گھاٹ میکا گائوں پہنچی جہاں اس نے گئو رکشکوں کے ذریعے لنچ کئے گئے عمر خاں کے خاندان کے لوگوں سے مل کر صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

رکن پارلیمنٹ بدر الدجی خاں نے کہا کہ عمر خان کی لنچنگ کے بعد طاہر اور جاوید جو کہ واقعہ کے وقت اس کے ساتھ تھے اور زخمی بھی ہو گئے تھے ،کو گائے کی اسمگلنگ کے نام پر گرفتار کرلیاگیا ہے اور اس طرح جو لوگ مظلوم تھے، انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ اسی وفد میںشامل سپریم کورٹ کے وکیل پی وی سریندر ناتھ نے پولیس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کے طرز عمل کے سبب نام نہاد گئو رکشکوں کی ہمت افزائی ہوتی ہے اور پھر وہ اپنے کرتوت انجام دے کر دہشت پھیلاتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ گئو رکشکوں کو اس وقت پولیس کی تائید و حمایت مل جاتی ہے جب وہ ملزمین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا متاثرین کے خلاف ایکشن میں آجاتے ہیں اور انہیں گائے کی چوری اور دوسرے الزامات میں ملوث ہونے کا چارج لگا کر ان کے خلاف مقدمہ کرتے ہیں اور انہیں گرفتار کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ طاہر اورجاوید کو ضمانت بھی نہیں دی گئی ہے۔
راجستھان کے بارے میں یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ ان دنوں گئو رکشکوں کی متشدد سرگرمیوں کا اڈہ بناہوا ہے۔یہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں پولیس آئوٹ پوسٹس گائے کی حفاظت کے لئے باضابطہ بنائے گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق صرف بھرت پور اور الور اضلاع میں ایک درجن گئو رکشا پولیس آئوٹ پوسٹس موجود ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی واقعہ کے وقت گئو رکشکوں کو ان آئوٹ پوسٹس سے کوئی دقت نہیں ہوتی ہے اور وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔
الور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے یہ افراد ابھی حال میں ایک فیک انکائونٹر میں ہلاک 22 سالہ تعلیم نام کے مقتول نوجوان کے خاندان سے ملے جنہوں نے انہیں بتایا کہ کس طرح تعلیم نام کا نوجوان گولیوں سے ہلاک کیا گیا اور اب تک بار بار کوشش کرنے کے باوجود اس تعلق سے ایف آئی آر تک درج نہیں کیا جاسکا ہے۔
اسی طرح راجسمند، جہاں مغربی بنگال کے افرازل کو ہلاک کیا گیا، بھی جاکر یہ ٹیم وہاں کے کلکٹر اور ایس پی سے ملی۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ یہاں انتظامیہ اور پولیس کا رول اچھا رہا۔ حکام نے ٹیم کو بتایا کہ قاتل نے افرازل کو قتل کرنے کی سازش رچی تھی اور لو جہاد کی فرضی کہانی کو بڑے ہی منصوبہ کے ساتھ پھیلائی تھی۔ ٹیم نے ’’چوتھی دنیا ‘‘ کو بتایا کہ اس نے اودے پور میں عوامی سماعت بھی منعقد کی جس میں فرقہ وارانہ حملوں اور پولیس زیادتیوں کے متاثرین نے بتایا کہ کس طرح برسراقتدار بی جے پی و دیگر ہم خیال تنظیمیں ماحول کو بگاڑ رہی ہیں۔ پرتاپ گڑھ میں کھلے میدان میںقضاء حاجت سے فارغ ہورہی خواتین کے فوٹو لیتے وقت اعتراض کرنے پر ہلاک کئے گئے ظفر خاں کی بیوہ رشیدہ بی نے ٹیم کو بتایا کہ جن لوگوں نے ان کے شوہر کو مارا، وہ سب کے سب آزاد گھوم رہے ہیں اور ریاست کی بی جے پی حکومت نے ابھی تک کوئی بھی معاوضہ ان کے شوہر کے مارے جانے پر نہیں دیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

فیکٹ فائنڈنگ کے ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں اقلیتی کمیونٹی کے آٹو ڈرائیورس ، سبکدوش سرکاری ملازمین، تجار و دیگر افراد کو شکایت ہے کہ ان کے تئیں سرکاری و سماجی طورپر اچھا برتائو نہیں کیا جارہا ہے۔بہار سی پی آئی (ایم – ایل )کے ایم ایل اے محبوب عالم نے کہا مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس بات کا اندیشہ ہے کہ فرقہ وارانہ صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے کیونکہ بی جے پی کو اپنی ناکامی چھپانے کے لئے اصل ایشو سے ذہن ہٹانا اور ان ایشوز میں الجھانا مقصود ہے۔
انہیں اپوزیشن کانگریس سے بھی شکایت ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہیٹ کرائم کے خلاف کانگریس کو جو رول ادا کرنا چاہئے تھا، وہ اس نے ادا نہیں کیا جس کے نتیجے میں صورت حال مزید بگڑتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد پر حملے ہوئے یا جو متاثرین الٹے الزامات کی بھینٹ چڑھ گئے اور گرفتار کئے گئے، ان کی مدد کو بھی یہ پارٹی سامنے نہیں آئی اور پولرائزیشن کا خوف دکھا کر خود بھی خاموش رہی اور اپنے کارکنان کو آگے بڑھنے سے روکا۔
اس اہم فیکٹ فائندنگ ٹیم میں مذکورہ بالا شخصیات رکن راجیہ سبھا اور آ ل انڈیا کسان سبھا کے جوائنٹ سکریٹری اور سی پی ایم کے کے کے راگیش، کانگریس کے مغربی بنگال کے لوک سبھارکن بدر زماں خاں اور سی پی آئی (ایم -ایل )کے ایم ایل اے اور کسان سبھاکے رہنما محبوب عالم کے علاوہ سابق ایم ایل اے اور آل انڈیا کسان سبھاکے موجودہ صدر اما ا رام ودیگر افراد بھی تھے۔ ’بھومی ادھیکار آندولن‘ جلد ہی اپنی اسٹڈی پر مبنی اپنی رپورٹ جاری کرے گا جس سے صورت حال کو سمجھنے اور اس پر قابول پانے میں مدد ملے گی کیونکہ سماج کو تقسیم کرنے کا سلسلہ فوراً رکنا چاہئے۔ یہی ملک و ملت اور سبھی کے مفاد میں ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *