اے ایم یو کے عبد اللہ گرلز کالج سے مثبت امیدیں

ہندوستان کی معروف تعلیم گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو )میں انڈر گریجویشن تک طالبات کی تعلیم کا علاحدہ نظم ہے ۔ویسے انڈر گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل کورسز طالبات مخلوط نظم کے تحت طلباء کے ساتھ حاصل کرتی ہیں۔انڈر گریجویشن تک طالبات کے علاحدہ نظم کے پیش نظر ہی اے ایم یو میں طالبات کی الگ سے یونین قائم ہے جو کہ ہر سال منتخب ہوتی ہے جس میں اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل تعلیم حاصل کرہی طالبات بھی حصہ لیتی ہیں۔ اس سال ہر بار کی طرح اے ایم یو کے طلباء اور طالبات کی یونینوں کے انتخابات ابھی حال میں الگ الگ ہوئے جس میں مشکور عثمانی طلباء یونین کے نئے صدر اور نباء نسیم طالبات یونین کی نئی صدر منتخب ہوئیں۔ مگر خاص بات یہ رہی کہ نباء نسیم اپنے انقلابی انداز کے سبب ہر جگہ چھائی رہیں اور موضوع بحث بن گئیں۔
آئیے ،دیکھتے ہیں کہ کون ہیں یہ نباء نسیم اور یہ کیوں موضوع بنی ہوئی ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ اے ایم یو کی طالبات یونین کی تاریخ میں جو شہرت نباء نسیم ان کے انقلابی انداز کے سبب مل رہی ہے، وہ اس سے قبل کبھی کسی کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ نباء نسیم کی شہرت کے آگے طلباء یونین کے نئے صدر مشکور عثمانی بھی دب گئے ہیں۔ ایسا بھی واقعی پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

 

 

 

 

 

نباء نسیم اے ایم یو کے عبد اللہ گرلز کالج جو کہ اب اے ایم یو ویمن کالج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، میں بی اے کی سیکنڈایئر کی طالبہ ہیں۔ان کا اصل سبجیکٹ پالٹیکل سائنس ہے مگر وہ ماڈرن ہسٹری بھی پڑھتی ہیں۔یہ 2015 میں اے ایم یو کے عبداللہ گرلز کالج میں آئیں اور تب سے یہاں ہیں۔انہوں نے 2017 میں طالبات یونین کا صدارتی انتخاب لڑا۔ان کا یہ انتخاب اس لحاظ سے بڑا اہم تھا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اے ایم یو کے ویمن کیمپس کے مسائل کو بہت ہی پرزور انداز میں اٹھایا اور پورے انتخابی ماحول پر چھا گئیں۔کہا جاتا ہے کہ جب انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اپنے بازوئوں کو دائیں اور بائیں لہراتے ہوئے چلا کر کہا کہ ’’عبد اللہ گرلز کالج کا واش روم صاف کیوں نہیں ہوتا ہے ؟وہاں موجود کوڑا دان بدلا کیوں نہیں جاتا ہے؟لائبریری میں 2002 کے بعد کی کتابیں کیوں موجود نہیں ہیں ‘‘ تو پورے ماحول میں جیسے انقلاب آگیا اور طالبات کی ہیروئین کے طور پر یہ اچانک ابھر کر سامنے آگئیں۔ انہوں نے یہ سوالات بھی اٹھائے کہ ’’ یہاں کامن ہال کیوں نہیں ہے؟ہمیںصرف اتوار کو باہر جانے کی اجازت کیوں ہے؟جب اتوار کو بینک نہیں کھلتے، ڈاکٹر نہیں ملتے تو اتوار کی اجازت کا کیا مطلب ہے؟‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’ یہ ہمارا بنیادی حق ہے جسے آپ کو دینا ہی ہوگا ورنہ ہم مہم شروع کریں گے‘‘۔ انہوں نے انتخابی مہم کے آخری دن بھی اپنے خطبہ میں سبھوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔ جب انہوں نے کہا کہ ’’ میرا بیلٹ نمبر 2ہے ‘‘۔تب پورا آڈیٹوریم چیخ پڑا تھاکہ’’ نہیں ایک ہے ‘‘اس وقت نباء نسیم نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’’ دراصل میں دیکھنا چاہتی تھی کہ میرا بیلیٹ نمبر کتنے لوگوں کو معلوم ہے ‘‘۔
نباء نسیم عبد اللہ گرلز کالج کی یونین کی تاریخ میں سب سے کم عمر صدر ہیں۔پُر عزم ہوکر وہ کہتی ہیں کہ ’’ ابھی میں 18برس کی ہوئی ہوں اور اس دن کا بہت شدت سے اس وقت سے انتظار کررہی تھی جس دن کالج میں آئی تھی، اسی دن طے کرلیا تھا کہ طالبات کی یونین کا صدر بننا ہے ۔اب انشاء اللہ ممبر اسمبلی یاممبر پارلیمنٹ بننے کا نمبر ہے ‘‘۔ واضح رہے کہ نباء نسیم کالج سے باہر کئی طرح کی تحریکوںاور مظاہروں میں شامل ہوتی رہی ہیں۔ان کے فیس بُک پروفائل پر گوری لنکیش کی تصویر لگیہوئی ہے جس سے ان کی بیدار مغزی اور ذہنی رجحان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ان کے وہائٹس ایپ اسٹیٹس پر ’آئی سپورٹ روہنگیا ‘ لکھا ہوا ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ میںدلتوں پر ہورہے مظالم کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتی ہوں۔ میں ان کے لئے آواز اٹھانا چاہتی ہوں اور اس معاملے میں مجھے اندرا گاندھی، عائشہ قذافی ، کونڈو لیزا رائیس کا مکسر بننا ہے ‘‘۔ کالم نویس آس محمد کیف کہتے ہیں کہ ایک اردو ویب سائٹ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ میرے اندر کی یہ طاقت میری ماں کی عطا کردہ ہے‘‘۔

 

 

 

 

 

 

نباء نسیم اعظم گڑھ میں پیدا ہوئی اور لکھنو میں پلی بڑھی اور اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے عبد اللہ گرلز کالج کو زینت بخش رہی ہیں۔اے ایم یو میں طالبات کے درمیان واقعی اسی طرح کی سوچ کی ضرورت تھی۔ توقع ہے کہ نباء نسیم کے طالبات کی یونین کی صدر بننے سے جہاں بچیوں کی تعلیم گاہ اور ان کے ہاسٹل نیز کیچن و دیگر انتظامات پر فرق پرے گا ،وہیں دیگر طالبات میں بھی انقلابی تبدیلی آئے گی اور وہ قوم و ملت کے لئے مزید مفید و معاون ثابت ہو سکیں گی۔
اے ایم یو میں عبد اللہ گرلز کالج کی طالبات یونین کا صدر ہونا اس لحاظ سے بڑا اہم ہے کہ یہ پورے ملک میں بچیوں کی تعلیم کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہاں اٹھی ہوئی کوئی تحریک پورے ملک کی بچیوں پر اپنے دوررس اثرات مرتب کرتی ہے۔نئی اور انقلابی سوچ جو کہ مثبت اور معروضی ہے اور جب یہ نومنتخب صدر طالبات یونین میں موجود ہے تو اس کا اثر تو تمام طالبات پر پڑے گا ہی۔
عیاں رہے کہ اے ایم یو کے بانی سرسید کے ذہن میں بچیوں کی تعلیم کا کوئی واضح نقشہ نہیں تھا۔ یہ تو وادی کشمیر کے ٹھاکر داس جو کہ بعد میں اسلام قبول کرنے کے بعد شیخ عبداللہ بن گئے، کی تعلیم نسواں میں بے حد دلچسپی تھی جس کے سبب وہ 1902 میںمسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی خواتین سیکشن کے سکریٹری بنائے گئے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں سب سے پہلے 1904 مین خواتین کا ایک ماہانہ رسالہ ’’خاتون ‘‘ نکالا، پھر دو برس بعد 1906 میں ایک گرلز اسکول علی گڑھ کے اپّر کورٹ میں کھولا جو کہ 1921 میں ہائی اسکول اور 1922 میں انٹر کالج بنا۔ یہی ادارہ 1937 میں اے ایم یو سے ملحق ہوگیا مگر اس کی تعلیم کا نظم علاحدہ رہا اور اب تک ہے۔یہاں سے کئی لاکھ خواتین فارغ ہوکر نکلی ہیں اور ملک و بیرون ملک مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔دراصل یہ تعلیمی ادارہ انہی شیخ عبد اللہ کے نام سے منسوب ہوکر عبد اللہ گرلز کالج کہلاتا ہے اور یہاں کے ہاسٹل بھی عبد اللہ ہاسٹل کہلاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہاں کے چپے چپے پر شیخ عبداللہ کا عکس موجود ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *