اترپردیش میں رنگوں کی سیاست محض یوگی کی پسند یا منصوبہ بند؟

رنگوں کی سیاست اترپردیش میں سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔اسکول بیگ، بک لیٹ، بسیں،اسپتالوں کے بید شیٹ،تولئے، پولیس اسٹیشن یہاں تک کہ مذہبی عمارت حج ہائوس کو کیسریا رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔خبر کے مطابق دسمبر مہینے میں پیلی بھیت کے 100 سے بھی زائد پرائمری اسکولوں کو اسی رنگ کا جامہ پہنایا گیا تھا جس کی وہاں کے اساتذہ نے بھی مخالفت کی تھی لیکن کسی کی نہیں چلی ۔ لکھنو کا حج ہائوس جس کی دیواریں سبزوسفید رنگ کی تھیں، اس پر کیسریا رنگ چڑھا دیا گیا ۔ہنگامہ مچا تو پھر اسے کریم رنگ میں بدل دیا گیا۔ قیصر باغ پولیس اسٹیشن ایک تاریخی اسٹیشن ہے ۔ اس کی بنیاد 1939 میں رکھی گئی تھی ۔تب سے اس کی دیواریں لال اور پیلے رنگ میں ہی رنگی جاتی رہی ہیں ۔مگر یوگی حکومت کے دور میں بھگوا رنگ کا ایسا نشاں چڑھا کہ اس قدیم اپولیس سٹیشن پر بھی بھگوا رنگ چڑھا دیا گیا۔انسپکٹر ڈی کے اپادھیائے کہتے ہیں کہ تزئین و آرائش کے نام پر تھانہ کا رنگ بدلا گیا ہے ۔اسی طرح بجنورکے افضل گڑھ تھانے کوپوری طرح سے بھگوارنگ سے رنگ دیاگیاہے۔لال بہادر شاستری بھون جہاں وزیر اعلیٰ کی آفس ہے، کو اکتوبر 2017 میں پرانے رنگ کی جگہ کیسریا رنگ چڑھا دیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

یوگی کی پسند
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ رنگ بہت پسند ہے ۔وہ اپنی کرسی، تولیہ ،آفس کو اسی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے نہ صرف آفس بلکہ ایسی 50 سرکاری بسیں جنہیں روڈ پر اتارنے کے لئے ہری جھنڈی دکھانا تھا، کو سیفروں رنگوں میں رنگ دیا گیا تھا۔اس طرح دیکھا جائے تو یوگی آدتیہ ناتھ کے دور حکومت میں اترپردیش کی شناخت بھگوا رنگ میں بدلتی جارہی ہے ۔
تزئین و آرائش کے نام پر جن سرکاری عمارتوں کا رنگ بدلا گیا، اس پر کسی نے بولنے کی جرات نہیں کی۔کوئی بھی یوگی حکومت سے دشمنی مول لینا نہیں چاہتا۔مگر انتہا اس وقت ہوگئی جب لکھنو میں واقع حج ہائوس کا رنگ بدل کر اس پر بھی سیفرون رنگ چڑھا دیا گیا۔دراصل وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بنارس سے واپسی پر حج ہائوس کا افتتاح کرنا تھا۔اس موقع پر افسران کے علاوہ عوام کی بھی خاصی تعداد موجود تھی۔جب رونمائی ہوئی تو لوگوں نے جو نئی چیز دیکھی ،اس سے سب حیران رہ گئے ۔دراصل حج ہائوس کی باہری دیوار کو بھگوا رنگ سے رنگ دیا گیا تھا جبکہ پہلے سے اس پر سفیداور سبز رنگ تھا۔
ظاہر ہے یہ ایک مذہبی عمارت ہے اور یہاں رنگوں کی سیاست ناقابل برداشت ہے ۔ لہٰذا اس معاملے نے طول پکڑ لیا۔مسلمانوں کی طرف سے سخت احتجاج کیا گیا۔معاملہ کو طول پکڑنے کے بعد اب ریاستی حکومت بیک فٹ پر آگئی اور اس پر صفائی پیش کرنا شروع کردیا کہ یہ سب قصداً نہیں ہوا ہے ۔اقلیتی اور حج سے متعلق امور کی سکریٹری مونیکا گرگ کہتی ہیں کہ ریاستی حج ہاوس کی درخواست پر رنگنے کا کام کیا گیا تھا۔رنگنے والے ٹھیکہ دار نے مطلوبہ رنگ کے برعکس گاڑھے کریم رنگ کا استعمال کیا تھا جس کی جانچ چل رہی ہے اور اس پر کارروائی کی جائے گی۔اس سلسلہ میں اپوزیشن ، مسلم تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر ایک مخصوص مذہب کے جذبات کو بھڑکارہی ہے۔
حکومت کہتی ہے کہ یہ سب قصداً نہیں ہوا ہے اور دیگر سیاسی پارٹیاں اور مسلم قائدین کہتے ہیں کہ یہ سب منصوبہ بند ہیں۔ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اگر یہ عمل جان بوجھ کرانجام نہیں دیا گیا ہے اور ٹھیکہ دار کی غلطی سے ایسا ہوا ہے توپھر حکومت کے دوسرے وزراء اس کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں۔ریاست کے واحد مسلم وزیر محسن رضاسے بات کی گئی تو انہوں نے یہ جواز پیش کیا کہ ’’ یہ ایک خو شنما رنگ ہے جو آنکھوں کو اچھا لگتا ہے ،انرجی کو بڑھاتا ہے اور روشنی کی علامت ہے اس لئے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے‘‘۔انہوں نے یہبھی کہا کہ ’’تمام رنگ اللہ کی طرف سے ہیں خواہ وہ سبز ہو یا زعفرانی، اس لئے کسی مخصوص رنگ کو کسی پارٹی یا مذہب سے نہیں جوڑنا چاہئے ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رنگ تو ہمارے ترنگے پرچم میں بھی ہے اور وہ بھی سب سے اوپر تو کیاقومی پرچم کا رنگ بھی تبدیل کردیا جائے ؟۔

 

 

 

 

 

 

 

 

حج ہائوس کا معاملہ
حج ہائوس پر رنگ کو لے کر پارٹی کے اندر سے ہی متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ایک طرف ریاستی وزیر اس رنگ کے جواز پر دلیل دے رہے ہیں تو دوسری طرف پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آس پاس کی تمام عمارتوں میں یکسانیت نظر آئے۔پارٹی کے ریاستی میڈیا انچارج ہریش چندر سریواستو کہتے ہیں کہ حج آفس کو سیفرون رنگ سے رنگے جانے کے بعد ہم نے متعلقہ آفیسر سے معلومات لی تو بتایا گیا کہ یہ کام کسی کی ہدایت پر نہیں کیا گیا ہے۔ سکریٹریت کے رنگ کو دیکھتے ہوئے اس رنگ میں رنگا گیاہے۔
یہ منطق بڑی عجیب لگتی ہے کیونکہ اب تک سرکاری عمارتیں روایتی رنگ میں ہی رنگی جاتی ہیں ۔مثلا ً عام طور پر اسپتالوں کو پیلے رنگ سے رنگا جاتا ہے۔ پولیس اسٹیشنوں کو لال اور پیلے رنگ سے رنگا جاتا ہے ۔مسلم مذہبی عمارتوںکو سبز اور سفید سے رنگا جاتا رہا ہے۔ اب اگر وہ تمام عمارتوں کو ایک ہی رنگ میں رنگیںگے تو اس سے تو صاف ہوجاتا ہے کہ ان کی منشا پوری ریاست کو بھگوا رنگ میں رنگنا ہے جس کے پیچھے کا ارادہ بالکل واضح ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ریاست میں تقریباً 90فیصد سرکاری عمارتوں پر بھگوا رنگ کیا جا چکا ہے۔
اس سلسلے میں سینئر کانگریس لیڈر سراج مہدی کا کہنا ہے کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا جارہا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ اس میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے ۔ اس پارٹی کی آئیڈیالوجی ہی کچھ ایسی ہے کہ ایسے اقدام ہمیشہ متوقع ہیں۔رنگ و روغن کرا کر یہ حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ،یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ علماء کونسل کے صدر مولانا عامر رشادی کہتے ہیں کہ یوگی اپنی بلیک میلنگ پاور بڑھانا چاہتے ہیں۔اس طرح کے کام سے ایک مخصوص طبقہ کے لیڈر کے طور پر اپنی شناخت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ 2019 انتخابات کے بعد اگر ان کی چھٹی کی حکمت عملی پر آر ایس ایس اور بی جے پی عمل کرنا چاہے تو وہ انہیںبلیک میل کرسکیں۔سماج وادی پارٹی کے چیف ترجمان راجندر چودھری کا کہنا ہے کہ آج ریاست میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ ترقیاتی کام ٹھپ ہیں۔غریبوںکی فکر کسی کو نہیں ۔بس رنگ و روغن کرکے اصل مسئلے سے نظر ہٹانے کا کام کیاجارہا ہے۔
بعض بی جے پی کارکنوں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ رنگ کوئی معنی نہیں رکھتا اور اگر حج ہائوس پر بھگوا رنگ ہی چڑھا دیا گیا تو اس پر وا ویلا مچانے کی کیا ضرورت ہے۔اس سلسلہ میں دیوبند سے تعلق رکھنے والے مولانا ندیم المجیدی نے ناراضگی کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی ظاہر کی اور کہا کہ ریاستی حکومت کسی خاص مذہب کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کس طرح کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے کیونکہ بھگوا رنگ کسی خاص مذہب کی پہچان ہے جب کہ حج ہائو س کا تعلق مذہب اسلام سے ہے۔ اس لیے حکومت کو ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے مسلم طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔‘‘ مولانا ندیم المجیدی نے مزید کہا کہ موجودہ اتر پردیش حکومت ہندو اور مسلم دونوں کی مشترکہ کوششوں سے بنی ہے اس لیے اس کو دونوں ہی مذاہب کے جذبات اور مفاد کا خیال رکھنا چاہیے‘‘۔
اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر رنگ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے تو پھر سبز اور سفید رنگوںکو کیوں ہٹایا گیا اور اگر تمام عمارتوں کو یکساں کرنا تھا تو پھر پنک شہر کی طرح یہاں کی بھی تمام سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوںکو ایک ہی رنگ میں ہونا چاہئے ۔ حج ہائوس سے دورنگوں کو ہٹاکر ایک بھگوا رنگ کو منتخب کرنا بتاتا ہے کہ اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ مقصد چھپا ہوا ہے اور یہ مقصد جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *