پی ایم مودی کا دورہ فلسطین بیلنسگ ایکٹ یا کچھ اور؟

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو اپنے اولین 6 روزہ دورہ ہند سے گزشتہ 19جنوری کو وطن واپس لوٹ گئے۔ اپنے دورہ ہند کے دوران انہوں نے 7اہم شعبوں میں ہندوستان سے معاہدے کئے۔ نتین یاہو کا ہندوستان کا دورہ صرف حکومتی سطح پر ہی اہم نہیں گردانا گیا بلکہ فکری و نظریاتی طور پر بھی موضوع بحث رہا۔ اتنا ہی نہیں، یہ دورہ دونوں ملکوں کے وزراء اعظم میں سے ہر ایک کے لئے ٓذاتی اور جذباتی بھی بنارہا۔ یہاں کے پی ایم نے کہا، نتین یاہو غیر معمولی لیڈر ہیں،وہاں کے پی ایم بولے ،ہندوستانی وزیراعظم انقلابی لیڈر ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ خبر بھی سننے کو ملی کہ ہندوستانی پی ایم نریندر مودی آئندہ 10فروری کو فلسطین و دیگر مغربی ایشیائی ممالک کا بھی دورہ کریں گے۔ ان کے اس دورہ کو بیلنسنگ ایکٹ یعنی توازن پیدا کرنے والا ٹیکٹیکل قدم بتایا گیامگر دریں اثناء اسرائیلی پی ایم کے ہندوستان رہتے ہوئے روزنامہ ’بزنس اسٹینڈرڈ‘کے انٹر نیٹ ایڈیشن پر آئی ایک خبر نے سبھوں کو چونکا دیا۔ وہ خبر یہ تھی کہ پی ایم مودی کے مغربی ایشیا کے دورے کا اسرائیلی پی ایم کے پرجوش دورہ ہند کے بعد اصل مقصد اس خطہ سے 75 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے۔
مذکورہ روزنامہ سے وابستہ سینئر صحافی آر چیزموہن جو کہ معروف سوشلسٹ لیڈر آنجہانی سریندر موہن کے صاحبزادے ہیں، نے ’چوتھی دنیا ‘ کو بتایا کہ ’یہ سب انوسٹمنٹ کرانے کی کوشش ہے تاکہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے ہندوستان کے انفراسٹرکچر سیکٹر میں 75 بلین ڈالر کے انوسٹمنٹ کا اس کا وعدہ پورا ہو۔ عیاں رہے کہ پی ایم مودی 10فروری کو رملہ میں ہوں گے جو کہ فلسطین اتھارٹی کا ڈیفیکٹو مرکز ہے۔ بعد ازاں یہ متحدہ عرب امارات اور عمان بھی جائیںگے۔ دوبئی میں پی ایم مودی چھٹی عالمی چوٹی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس موقع پر پی ایم مودی کے فلسطین سمیت مغربی ایشیا کے دورہ سے اس تاثر کو بھی ڈائیلیوٹ کرنے کا موقع ملے گا جو کہ جولائی 2017میں پہلی مرتبہ کسی ہندوستانی وزیر اعظم یعنی نریندر مودی کے دورہ اسرائیل اور اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کے حالیہ دورہ ہند سے پیدا ہوا ہے۔ عیاںرہے کہ نتین یاہو تقریباً 15 برس قبل اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون کے دورہ کے بعد اب پی ایم مودی کے دورہ کے جواب میں آئے تھے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ شیرون 2003 میں جب ہندوستان آئے تھے تب یہاں اٹل بہاری واجپئی کی سربراہی میں بی جے پی قیادت والے این ڈی اے محاذ کی حکومت تھی۔
آرچیز موہن کی یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ہندوستان چاہے اسرائیل سے سیکورٹی و دیگر ایشوز کے تعلق سے جو بھی معاہدہ کرے، وہ مغربی ایشیائی ممالک میں فی الحال رہ رہے اور کام کررہے 7سے 8ملین ہندوستانیوں کو نظر انداز نہیں کرسکتا ہے جن سے فارن ایکسچنج ہندوستان آرہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان 2016 میں دنیا کا سب سے بڑا ریمٹنس (Remittance)حاصل کرنے والا ملک بن گیااور اس کے اندر 62.7 بلین ڈالر کی رقم آئی جو کہ 2015 میں آئی 68.9 بلین ڈالر سے 8.9 فیصد کم تھی۔علاوہ ازیں ہندوستان کو ورلڈ بینک کی رپور ٹ کی روشنی میں توقع ہے کہ وہ 2017 میں اس سلسلے میں سرفہرست رہ کر 65 بلین ڈالر کا ریمٹنس حاصل کرے گا۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر ریمٹنس مغربی ایشیا میں کام کررہے ہندوستانیوں سے آرہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ یہ خطہ ہندوستان کی توانائی سیکورٹی کا ذریعہ ہے اور یہاں بڑی مقدار میں ہندوستان سے ایکسپورٹ ہوتا ہے ۔
جہاں تک متحدہ عرب امارات کے ذریعے ہندوستان کے انفراسٹرکچر سیکٹر میں 75 بلین ڈالر کی رقم کی سرمایہ کاری کا تعلق ہے، یہ پی ایم مودی کے وہاں 2015 میں دورہ کے دوران امارات نے وعدہ کیا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امارات کے حکام کو شکایت ہے کہ حکومت ہند، امارات سے فنڈ کوآپریٹ کرنے کے لئے ضروری کارروائی نہیں کرسکا۔ لہٰذا یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اب جبکہ ہندوستان کو اندرون ملک ملازمتوں کی کمی کا سامنا ہے اور وہ امارات سے سرمایہ کاری کراکے اس کمی کو دور کرنا چاہتاہے تو اسے امارات کی مذکورہ بالاشکایت پر توجہ دینا ہوگا اور توقع ہے کہ اس جانب وہ یقینا متوجہ ہوگا۔ اگر واقعی ایسا ہے تو امید کرنی چاہئے کہ 75 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی شروعات پی ایم مودی کے مغربی ایشیا کے دورے سے ہوسکے گی۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کی تجارت فی الوقت 53 بلین ڈالر کی ہوتی ہے۔ متحدہ عرب امارات ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑ اتجارتی پارٹنر ہے جبکہ ہندوستان امارات کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ 2016-17 میں امارات ہندوستان کو خام تیل (کروڈ آئل)سپلائی کرنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک تھا۔ پی ایم مودی نے گزشتہ بار اگست 2015 میں امارات کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ 1981 میں اندرا گاندھی کے دورہ کے بعد کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا۔
بہر حال اسرائیلی پی ایم نتین یاہو کے دورہ کے فوراً بعد ہندوستانی پی ایم مودی کے مغربی ایشیا بشمول فلسطین کے دورے کا اعلان اس لحاظ سے اہم ہے کہ ہندوستان اسرائیل کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا کو بھی ساتھ ساتھ لے کر چلنا چاہتاہے کیونکہ اس کا اس خطہ کے ساتھ تجارت اور بڑی سرمایہ کاری کا مفاد وابستہ ہے۔ ویسے دونوں سے تعلقات اور روابط میں واضح فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ اسرائیل میں یہ اپنا پیسہ لگا رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے ہندوستان میں پیسہ لگانے کی بات ہے۔ واضح رہے کہ نتین یاہو کے ہندوستان آنے سے کئی ہفتے قبل ہندوستان سے 500 ملین ڈالر کا میزائیل ڈیل رد ہوگیاتھا مگر اسرائیلی پی ایم کے دورہ ہند کے دوران اس ڈیل کو پھر سے کرلیا گیا اور اسرائیلی میڈیا میں یہ خبر آئی کہہندوستان اب اسرائیل کے اسپائیک اینٹی ٹینک گائڈیڈ میزائیلز خریدے گا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *