فلسطین کو امریکی امداد بند اثرات مثبت یا منفی ؟

فلسطین کی امداد کو امریکہ نے بند کردیا ہے ۔ امریکہ نے فلسطین میں فلاحی منصوبوں کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے دی جانے والی ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔دراصل امریکہ کو اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد دینا تھا لیکن اب امریکہ صرف چھ کروڑ ڈالر دے گا۔اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کے مجموعی فنڈ میں سے 30 فیصد امریکی امداد پر مشتمل ہے۔یہ امداد فلسطین میں تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے۔ گذشتہ سال امریکہ نے اقوام متحدہ کی فلاحی ایجنسی کو 37 کروڑ ڈالر دے تھے۔ جبکہ یوروپی یونین نے امریکی امداد کے مقابلے میں نصف رقم دی تھی۔ ظاہر ہے امریکہ سے ملنے والی رقم خطیر ہے اور اس کے بند ہونے سے فلسطین کے فلاحی کام متاثر ہوںگے ۔
حالانکہ رقم کا بند ہونا اسی ووٹنگ کا نتیجہ ہے جو اسرائیلی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کئے جانے کا مسئلہ ہے مگر امریکہ اس کے لئے حیلے بہانے تلاش کررہا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ اس کٹوتی کا مقصد فلسطین کوسزا دینا نہیں ہے بلکہ امریکہ فلاحی ایجنسی میں اصلاحات چاہتا ہے اور مزید بات چیت مکمل ہوجانے کے بعد وہ اس امداد کودوبارہ لاگو کردیں گے۔
امریکی امداد کی افادیت
اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا امریکہ کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند کرنا نقصان دہ ہوگا؟ ماہرین کا خیال ہے کہ نہیں۔ امریکیوں کی طرف سے امداد کی بندش فلسطینیوں کے لیے مفید ثابت ہوگی اور اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ اگرچہ وقتی طور پر فلسطینی قوم کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر امریکی حکومت کا ایسا کوئی بھی اقدام فلسطینیوں کو خودکفالت کی طرف جانے کا موقع فراہم کرے گا۔ اسی طرح اسرائیل کے امریکی امداد صہیونی ریاست کے لیے بالواسطہ اور براہ راست دونوں طرح سے مفید ہوں گی۔ امریکہ نے امداد کے ذریعے فلسطینیوں میں ہمیشہ پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی مگر صہیونی ریاست کی یہ پالیسی زیادہ عرصہ نہیں چلے گی۔ اس طرح فلسطینی اتھارٹی کی امداد کی بندش مضر نہیں بلکہ مفید ثابت ہوگی۔
امریکی کانگریس کی دستاویزات کے مطابق فلسطینیوں کے لیے امریکی امداد کا مقصد اسرائیل کے خلاف ’دہشت گردی‘ کی روک تھام ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے تحفظ کے لیے امداد دے رہا ہے۔ کیا اس امداد کو ہم فلسطینیوں کی امداد قرار دیں یا اسرائیل کی امداد سمجھیں؟گویا امریکہ کی اصل پالیسی سب سے پہلے اسرائیل کی سلامتی ہے۔ امریکا فلسطینی سیکورٹی اداروں کو اس لیے امداد دیتا ہے تاکہ وہ صہیونی ریاست کی سلامتی کے لیے کام کریں اور اسرائیل کی خاطر فلسطینیوں کی تذلیل اور توہین کریں۔ اسرائیل کے آباد کاروں کو تحفظ دیں اور یہودی توسیع پسندی کی کارروائیوں میں صہیونیوں کی مدد کریں۔ یہ امداد اسرائیل کی اقتصادی ترقی اس کی کمپنیوں کے فروغ فلسطینی معیشت کو گدھوں کی طرح نوچنے والی اسرائیلی کمپنیوں کو مستحکم کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی پر اقتصادی وسائل کی لوٹ مار کے لیے اسرائیلی کمپنیوں اور اداورں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

امداد کا مصرف؟
قابل ذکر ہے کہ امریکا کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد کا 72 فی صد سیکورٹی اداروں کو ادا کیا جاتا ہے مگر یہ امداد بھی اسرائیل کے مفاد میں دی جاتی ہے۔ امریکا کی طرف سے دی جانے والی امداد فلسطینیوں میں انتشار، پھوٹ، نا اتفاقی اور باہمی لڑائی جھگڑے کا موجب بنتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران امریکا نے امداد کے ذریعے فلسطینیوں کو آپس میں دست وگریباں رکھنے کی کوشش کی۔ فلسطینی اتھارٹی کے سیکورٹی ادارے امریکی امداد پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔ یوں امریکی امداد فلسطینی قوم کی بہبود اور مدد کے لیے نہیں بلکہ صہیونی ریاست کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دی جاتی ہے۔
فلسطینیوں کو دی جانے والی امداد دو اہم ذرائع سے ادا کی جاتی رہی ہے۔ ایک ذریعہ امریکی ترقیاتی ادارہ’USD‘ ہے اور دوسرا ذریعہ امریکی سیکورٹی رابطہ کار جسے ڈایٹون ٹیم کا نام بھی دیاجاتا ہے۔ یہ دونوں ادارے نہ صرف بین الاقوامی امداد کے اصولوں کو پامال کرتے ہیں بلکہ فلسطین میں اسرائیل کے استعماری اور جابرانہ نظام کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ گزشتہ پچیس سال کے دوران امریکا نے فلسطینیوں کو جو بھی امداد فراہم کی وہ اسرائیل کے مفادات کے لیے تھی نہ کہ فلسطینیوں کے مفاد کے لیے۔ اس طرح 3 یا 4 کروڑ ڈالر کی رقم بند ہونے سے فلسطینی اتھارٹی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ امریکیوں کی طرف فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند ہونے سے فلسطینی قوم پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑے گا۔ فلسطینیوں کو امریکی امداد کے بند ہونے کی پرواہ بھی نہیں ہونی چاہیے۔ فلسطینی قوم کو اپنے بنیادی اور اساسی حقوق کی فکر دامن گیررہنی چاہیے۔ امریکہ، یوروپ یا کوئی عرب ملک فلسطینیوں کی امداد بند کرتا ہے تو فلسطینی قوم کو اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ فلسطینی قوم کو دی جانے والی امداد فلسطینیوں کو نہیں بلکہ دراصل اسرائیلیوں کو دی جاتی ہے۔ یہ امداد فلسطینی قوم کے مسائل میں اضافہ ہی کرتی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی فلسطینیوں کی امداد کی بندش کی دھمکی فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک نیا موقع ہے۔ فلسطینی اتھارٹی بلیک میل کرنے والے ممالک کی امداد پر انحصار کے بجائے قوم کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدو جہد شروع کرے۔

 

 

 

 

 

 

امریکی امداد بند ہونے کے سنگین نتائج
ایک عرب تجزیہ کار علاء ترتیر امریکی امداد بند ہونے کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند کیے جانے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ امداد کی بندش سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی امداد کی بندش القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان سے زیادہ خطرناک امر ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ’ٹویٹر‘ پر اپنے متعدد پوسٹوں میں لکھا کہ ’ہم فلسطینیوں کو ہر سال کروڑوں ڈالر کی امداد دیتے ہیں مگر اس کے بدلے میں ہمیں کوئی احترام نہیں ملتا۔ فلسطینی مذاکرات بھی نہیں کرتے۔ اسرائیل کے ساتھ امن بات چیت کو مسلسل التوا میں ڈالا جا رہا ہے‘۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد صحافتی حلقوں میں شدت کے ساتھ یہ بحث جاری ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کا مستقبل کیا ہوگا؟ صحافتی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہاہے کہ کیا ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد فلسطینی اتھارٹی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
ٹرمپ نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’فلسطینی امن نہیں چاہتے۔ ہم انہیں امداد کیوں دیں۔ فلسطینیوں کو مستقبل میں بھاری رقم دینے کی کوئی ضرورت نہیں‘۔ مگر سچ پوچھیں تو ٹرمپ کا یہ بیان حیران کن نہیں۔ یہ بیان امریکہ کی فلسطینیوں کے خلاف پالیسی کا عکاس اور غماز ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ مالی امداد کو اپنے سیاسی آلے کے طورپراستعمال کیا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے امداد کو اذیت ناک شرائط سے مشروط کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے امداد کے بدلے میں پیش کی جانے والی شرائط فلسطینی قوم کے مفادات اور ان کے قومی پروگرام کے خلاف رہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *