آسکرفاتح دلیپ کمارسے اے آررحمان کیسے بنے، جانئے

A-R-Rahman
دوبارکے آسکرفاتح اورپانچ بارنامزدہوئے ہندوستان معروف ومشہوراورقبول عام گلوکارا ومیوزک ڈائریکٹراے آرحمان آج 51سال کے ہوگئے ہیں۔تمل ناڈوکے راجدھانی چینئی میں 6جنوری 1966کوپیداہوئے اللہ رکھارحمان(اے آررحمان)نے کم عمرمیں ہی سنگنگ شروع کردی تھی۔پورٹل ویب سائٹ این ڈی ٹی وی میں شائع آرٹیکل میں بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق بتاتے ہیں کہ اے آررحمان نے تقریباً 150ملین میوزک کاپیاں فروخت کرچکے ہیں۔اتناہی نہیں انہوں نے 6زبانوں میں 100سے زائدفلموں میں ساؤنڈٹریک اورالبم لانچ کیاہے۔آئیے جانتے ہیں مزیدان کی زندگی کے بارے میں اہم باتیں :اللہ رکھا رحمان جنہیں عام طور پر اے آر رحمان کے طور پر جانا جاتا ہے ہندوستان کے ایک معروف موسیقار و گلوکار ہیں۔
جنوبی ہندستان کے شہر چینئی میں 6 جنوری 1966کو ایک متوسط ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے اے ایس دلیپ کمار کی ماں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر اس طرح ان کا اور ان کے وطن کا نام روشن کرے گا۔رحمان کے والد آر کے شنکر کیرلہ فلم انڈسٹری میں تمل اور دیگر زبان کی فلموں میں موسیقار تھے۔ دلیپ اس وقت نو سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے اپنے شوہر کے موسیقی کے آّلات کو کرایہ پر دے کر گزر بسر شروع کی۔ باپ کے انتقال کے بعد سے ہی منتوں مرادوں والے بیٹے دلیپ کمار کی طبیعت جب خراب رہنے لگی تو ماں نے لوگوں کے کہنے پر ایک پیر کی مزار پر حاضری دی اور منت مانگی جس کے بعد دلیپ کی طبیعت ٹھیک اور ماں کا عقیدہ پختہ ہوگیا اور وہ اپنے پورے گھر کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوگئیں اور دلیپ کا نام اللہ رکھا رحمان رکھا گیا۔
مشکلات
گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رحمان نے کم عمری میں ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ کی بورڈ پلیئر بنے لیکن انہیں پتہ تھا ان کی منزل یہ نہیں ہے اس لیے انہوں نے پہلے پیانو اور پھرگٹار بجانا سیکھا۔ اس دوران چنئی کے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر انہوں نے اپنا ایک مقامی بینڈ ’نمیسیس ایونیو‘ بنایا۔رحمان کی زندگی کا سفر آسان نہیں تھا گھر کی ذمہ داری اور ساتھ میں موسیقی سیکھنے کا جنون۔ انہیں تیلگو میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جانے کا موقع ملا۔یہاں ان کا فن دنیا کے سامنے آیا اور پھر انہیں آکسفورڈ کی ٹرینیٹی کالج کی سکالر شپ ملی جس نے رحمان کی موسیقی کی تشنگی کو پورا کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا اور انہوں نے موسیقی میں گریجویشن کیا۔
روجا
رحمان نے بھی ہزارہا موسیقاروں کی طرح اشتہارات کے لیے موسیقی سے شروعات کی۔ یہ دور ان کے لیے جدوجہد کا دور تھا۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے فلمساز منی رتنم نے ان کے ہنر کو پہچانا اور اپنی فلم ’روجا‘ میں رحمان کو موسیقی دینے کا موقع دیا۔ رحمان کی موسیقی نے پہلی ہی فلم میں وہ جادو دکھایا کہ انہیں اپنی اس فلم کے لیے نیشنل ایوارڈ ملا۔
شہرت
اس کے بعد رحمان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بالی وڈ فلموں کی لائن لگ گئی لیکن رحمان نے ہر فلم میں کام کرنا منظور نہیں کیا۔ ان کی فلم ’دل سے‘ کے گیتوں نے ہنگامہ مچا دیا اور گلزار کے ساتھ ان کی جوڑی جم گئی۔رنگیلا ، تال، سودیس ، رنگ دے بسنتی ، گرو اور جودھا اکبر وہ چند فلمیں ہیں جن کی موسیقی نے رحمان کو بالی وڈ میں بلندیوں پر پہنچا دیا۔رحمان نے صرف بالی وڈ میں موسیقی دینے پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے ہالی وڈ فلم ’لارڈز آف دی رنگز‘ اور پھر براڈ وے سٹیج ڈراما ’بامبے ڈریمز‘ کا میوزک دیا۔رحمان نے سنہ دو ہزار پانچ میں اپنا جدید آلات سے لیس سٹوڈیو بنایا جو اس وقت ایشیاء4 کا سب سے بڑا سٹوڈیو مانا جاتا ہے۔ رحمان کی موسیقی میں کبھی مغربی دھن سنائی دیتی ہے تو کبھی آپ کو بہتے جھرنے کی صدا اور کلاسیکی میوزک۔کبھی صوفی سنگیت تو کبھی جاز۔
صوفی ازم
رحمن صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں اور اسی لیے پیروں اور ولیوں کے مزاروں پر حاضری دینا نہیں بھولتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی موسیقی میں روحانیت ولیوں کی دین ہے۔ وہ پاکستانی موسیقار اور قوال نصرت فتح علی خان کے مرید ہیں۔رحمان کا ایک البم ’وندے ماترم‘ بہت مقبول ہوا تھا۔ آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر رحمان نے یہ البم بنایا تھا جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ رحمان نے ابھی حال ہی میں اپنا ایک البم ’ کنکشنز‘ بارہ دسمبر کو جاری کیا۔
اعزازات
رحمان کی موسیقی کسی ایوارڈ کی محتاج نہیں لیکن انہیں جتنے ایوارڈز ملے ہیں وہ شاید کسی بھی ہندستانی موسیقار کو آج تک نہیں مل سکے۔ اے آر رحمان کو بافٹا،گولڈن گلوب، سیٹیلائٹ اور کرٹکس چوائس ایوارڈز مل چکے ہیں جبکہ ملکی سطح پر انہیں چار نیشنل ایوارڈز اور سات فلم فیئر ایوارڈز ملے ہیں۔ تامل فلموں میں بھی رحمان کی موسیقی بہت مقبول ہے اور اس انڈسٹری نے انہیں ایک دو نہیں بارہ ایوارڈز سے نوازا ہے۔ 2009 میں ان کو سلم ڈاگ فلم کے لیے بہترین موسیقی دینے پر اکیڈیمی ایوارڈز یا آسکر سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *