حجۃ الاسلام اکیڈمی اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اشتراک سے محاضرہ منعقد

waqar-anwar
دارالعلوم وقف دیوبند کے شعبہ بحث و تحقیق حجۃ الاسلام اکیڈمی اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اشتراک سے قاعۃ الامام شاہ ولی اللہ الدہلویؒ (سیمینار ہال) میں ’’جدید معاشیات مروجہ کرنسی، تمویل اور تجارت کے طریقے: تعارف و تجزیہ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم علمی محاضرہ کا انعقاد کیا گیا، جس میں دہلی سے ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار انور نے مذکورہ عنوان پر تفصیلی وپُرمغز علمی محاضرہ پیش کیا۔ محاضرہ کی یہ مجلس تین نشستوں میں منعقد ہوئی۔ پہلی نشست میں ’’جدید معاشیات: تعارف و تجزیہ‘‘ کے عنوان سے گفتگو کی گئی، جس میں محاضر محترم نے معیشت کی تاریخ اور تعارف کے ساتھ موجودہ احوال میں ان کا تجزیہ کرتے ہوئے معیشت کے عاملین، فقہ المعاملات المالیہ اور پھر مخصوص حالات میں ان سے پیدا شدہ رویہ، پیداوار کے عوامل اور ان کی ادائیگی، افراط اور اقدار کے سلسلے میں معاشیات، مفاد کے ٹکراؤ کی صورت میں معاشیات جیسے مباحث پر تفصیل سے گفتگو فرمائی۔
دوسری نشست کا عنوان ’’مروجہ کرنسی اور تمویل کے طریقے: تعارف و تجزیہ‘‘ تھا، جس میں انہوں نے کرنسی کی تاریخ ترویج اور ارتقاء پر گفتگو کرتے ہوئے مروجہ نظام کرنسی کو بوضاحت بیان کیا۔ ساتھ ہی جوائن اسٹاک کمپنی، سرمایہ بصورت شراکت و مضاربت اور تجارتی منافع کی صورتوں پر تفصیل سے گفتگو فرمائی جب کہ تیسری نشست کا عنوان ’’مروجہ تجارت کے طریقے: تعارف و تجزیہ‘‘ تھا، جس میں محاضر محترم نے تجارت کی جملہ صورتوں مجملاً بیان کرتے ہوئے تجارت کی جملہ جدید اصطلاحات کے ساتھ تجارت کی جدید شکلوں سے بھی طلبہ کو متعارف کرایا۔ رئیل ایکنومی اور پروڈکشن ایکنومی، کاروبار میں قرض کا حصہ وغیرہ مباحث پر گفتگو کی ۔ نظام تجارت، فقہ المعاملات المالیہ کو مروجہ تجارتی صورتوں سے تطبیق دیتے ہوئے تفصیلی شکل میں طلبہ کے سامنے پیش کیا۔
بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے انسانی زندگی کے ہر طبقے اور گوشے میں رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ یہ ایک عالمی اور آفاقی اور دائمی مذہب ہے، جس میں انسانوں کو قیامت تک پیش آنے والے جملہ مسائل کا حل موجود ہے۔ تغیر زمان و مکان اور تغیر احوال کی بنیاد پر انسان خود کو ان تعلیمات سے ناآشنا محسوس کرتا ہے اور وہ صحیح تعلیمات اور صراطِ مستقیم تک رسائی سے محروم رہتا ہے اور بسا اوقات احکاماتِ اسلامیہ سے واقفیت کے باوجود جدید اصطلاحات سے ناآشنائی کی بنا پر بھی انسان پیش آمدہ مسئلہ کا حل نہیں پیش کرپاتا۔ ایسے میں جہاں ایک طرف اس بات کی ضرورت شدید ہوجاتی ہے کہ جہاں ایک طرف علوم اسلامیہ اور احکامات دینیہ پر ہماری گہری نظر ہو وہیں بدلتے نظام معیشت اور تبدیل ہوتے تجارتی طریقۂ کار کو سمجھ کر امت کی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیں۔ موجودہ گلوبلائزیشن کے دور میں فاصلے سمٹ گئے ہیں، دوریاں ختم ہوگئی ہیں اور پھر جدید سائنس و ٹیکنالوجی نے بہت سے مسائل پیدا کردئیے ہیں، جن کی بنیاد پر نت نئی تجارتی شکلیں اور بہت سے ناآشنا اصطلاحات سامنے آئی ہیں، ان میں بہت سی صورتیں جواز کی ہیں جب کہ بہت سی صورتیں عدم جواز کی بھی ہیں ، عدم واقفیت اور صحیح رہنمائی نہ ہونے کی بنا پر انسان بسا اوقات ان صورتوں کو اختیار کرلیتا ہے جن میں جواز کی کوئی صورت نہیں ہوتی جب کہ بہت سی تجارتی صورتوں کو اختیار کرنا قانونی و ملکی مجبوری ہوتی ہے، ایسے میں شریعت ہماری کیا رہنمائی کرتی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اور آپ کو یہ سمجھنا ہوگا، بعد ازاں امت کی صحیح قیادت کرتے ہوئے راہ صواب کی جانب ان کی رہنمائی کرنی ہوگی۔ یہ آپ کا فریضہ ہے، اس کے لئے آپ کو تیار ہونا ہوگا اور میدان عمل میں آنا ہوگا۔ ہر نشست کے آخرمیں علمی مناقشات کا سلسلہ رہا، جس میں محاضر محترم نے طلبہ کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دئیے۔ اس موقع پر اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا سے تشریف لائے مولانا امتیاز قاسمی کے علاوہ حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند کے اساتذہ موجود رہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *