اب ’اسمارٹ لاک‘ عصمت دری کو روکے گا

seenu-made-painty
خواتین کے تئیں تمام ترحفاظتی بندوبست کرنے کے باوجودپوری دنیامیں عصمت دری کا واقعہ رکنے کا نام نہیں لے رہاہے۔ایساہی معاملہ ہندوستان میں بھی ہے۔یہاں بھی آئے دن کہیں نہ کہیں ریپ کے واقعات سامنے آتے رہے ہتے ہیں۔کہیں ریپ کرکے متاثرہ کو چھوڑدیاجاتاہے ،توکہیں ریپ کرنے کے بعدمتاثرہ لڑکی کوجان سے ماردیاجاتاہے۔ریپ کی شکاربچی سے لیکرعمردرازخواتین تک ہوتی رہتی ہیں۔لیکن اب ریپ کو روکنے کیلئے لڑکیوں کی سیفٹی یعنی تحفظ کیلئے سینونام کی طالبہ نے کمال کی چیزتیار کی ہے۔19سالہ سینوکماری نے ایک ماڈل تیارکیاہے جوریپ اورزبردستی جیسے معاملوں سے خواتین اوربچیوں کوبچاسکتی ہیں۔
دراصل ،سات سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری اورپھرقتل کرنے دینے کے بعدبی ایس سی کی طالبہ سینوکوجھنجھورکررکھ دیاتھا۔جس کے بعدانہوں نے عہدکیاکہ وہ خواتین اوربچیوں کے لئے کچھ ایساکریں گی جس کے بعدمستقبل میں ریپ اورزبردستی جیسے واقعہ نہ ہو۔اسی جذبے کے ساتھ سینونے ریپ پروف پینٹی تیارکی ہے۔
آپ سوچ رہے ہیں کہ بھلایہ ریپ پروف پینٹی کیسے ریپ جیسے معاملوں کوروک سکتی ہیں۔دراصل یہ کوئی عام پینٹی نہیں ہے،بلکہ جدیدالیکٹروانک تکنیک سے لیس پینٹی ہے، جس میں اسمارٹ لاک لگاہے، جوپاسورڈ سے ہی کھل سکتاہے۔جگہ کی صحیح جانکاری بتانے کیلئے اس میں جی پی آرایس سسٹم ہے اورموقع واردات کی بات چیت ریکارڈ کرنے کیلئے ریکارڈربھی لگاہے۔
آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق جب سینٹرل چائلڈ اینڈوویمن ڈپولپمنٹ وزیرمینکاگاندھی تک بات پہنچی تو، انہوں نے سینوکے اس ماڈل کی تعریف کی اورانہیں مستقبل میں اسے مکمل کرنے کیلئے مبارکباددیں۔
سینوبی ایس سی سال سوم کی طالبہ ہیں اوراس طرح کے کئی ماڈل بناتی رہتی ہے۔سینوبتاتی ہیں کہ ایک دن سات سال کی بچی کے ریپ اورپھرگلاگھونٹ کراس کاقتل کرنے کی خبرپڑھ کرمیں اندرتک ہل گئی تھی۔جس کے بعدانہوں نے ریپ سے بچانے والا ماڈل تیارکیا۔
خاص بات یہ ہے کہ اس پینٹی میں ایک اسمارٹ لاک ہے، جوپاسورڈ کے بغیرنہیں کھل سکتا۔یہ پینٹی بلیٹ بروف کپڑے سے بنی ہے، جسے چاقو یاکسی بھی دھاردارہتھیارسے کاٹانہیں جاسکتا اورنہ ہی جلایاجاسکتاہے۔ا س میں ایک بٹن لگاہے، جسے دبانے پر100یا1090نمبرپرآٹومیٹکلی کال چلاجائے گا اورجی پی آرایس سسٹم کی مددسے پولس موقع واردات پرپہنچ جائے گی۔پینٹی میں ریکارڈربھی لگاہے، جس میں موقع واردات کی ساری باتیں ریکارڈ ہوجائیں گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *