اس ملک میں انقلابی بدلائو سے کچھ نہیں ہوگا

مئی 2014 میں نریندر مودی وزیراعظم بنے۔ انہوں نے لوگوں کی توقعات اور امیدیں بڑھا دی ۔ الیکشن میں کچھ مبالغہ آرائیاں ہوتی ہیں۔انہوں نے کچھ زیادہ ہی کردی۔بہر حال مودی حامی اب بہت مایوس ہیں۔ ڈھائی سال تک ان کی سرکار ٹھیک ڈھنگ سے چلی۔ 26جنوری 1950 کو آئین لاگو ہوا۔ ملک کو ایک عملی جامہ پہنایا گیا کہ ہم کیا کریں گے،کیسے کریں گے، سرکاریں ہوںگی ،کورٹ ہوں گے، اخبار ہوں گے۔مشہور تھا کہ بی جے پی ٹریڈرس کی پارٹی ہے اور ان کو کبھی اعتراض نہیں ہوا ٹریڈرس کا سائڈ لینے میں۔یہ الیکشن جو جیتے ہیں یہ بھی اپنی لیک سے الگ ہٹ کر جیتے ہیں۔ 18فیصد ہندو ان کے ساتھ ہیں۔یہ ہندوئوں کی پارٹی نہیں ہے۔ہندو ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ 18 فیصد ہندو ان کے ساتھ ہیں۔ ڈھائی سال تک انہوں نے جیسے سرکار چلائی، لوگ مذاق اڑانے لگے تھے کہ یو پی اے 1، یو پی اے 2 کے بعد یو پی اے 3چل رہی ہے۔ صحیح بات ہے ۔اس ملک میں آپ بہت کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ جادوگر نہیں ہیں آپ لیکن جب سرکار نے بغیر سوچے اور صلاح لئے نوٹ بندی کر دیا تو ا س سے مودی سرکار کا وقار و احترام اورمودی جی کے خود کے وقار میں کمی آ گئی۔
18 مہینے بعد عام انتخابات ہیں۔ آج ہندوستان کی ترقیاتی شرح 6.5 فیصد ہے۔ اچھی شرح ہے۔لیکن منموہن سنگھ کے وقت سے کم ہے۔ فصل کے ایم ایس پی (مینمم سپورٹ پرائس ) کو لے کر شاید بجٹ میں کچھ اعلان ہو، حالانکہ یہ بجٹ کا کام نہیں ہے۔ لیکن سرکار نے کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ آمدنی دوگنی کر دیں گے۔یہ کسانوں کے ساتھ مذاق ہے۔ دوگنی آمدنی تو ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن ان کو راحت دی جاسکتی ہے۔چھوٹے صنعتکاروں کی مدد کرنی چاہئے۔ سرکار کو پہلے جی ایس ٹی کی مصیبتیں ہٹانی چاہئے، حالانکہ اس میں کچھ اصلاحات کی گئی ہیں۔اس ملک میں انقلابی بدلائو سے کچھ نہیں ہوگا، جو کرنا ہے دھیرے دھیرے کیجئے اور سب کو بھروسہ میں لے کر آگے چلئے۔آپ کے پہلے ڈھائی سال کے دور کار میں سرکار کا کام تو ٹھیک چل رہا تھا، لیکن ایک غلطی تھی، آپ پارلیمنٹ کو ٹھیک سے نہیں چلا رہے تھے۔ آپ نہ تو چرچا کے لئے اپوزیشن پارٹی کو بلاتے تھے اور نہ ہی اسپیکر کے چیمبر میں کل جماعتی میٹنگ ہوتی تھی۔ یہ جمہوریت کے لئے اچھی بات نہیں ہے ۔ آپ کے بعد بھی کوئی وزیراعظم آئے گا۔اس لئے ایسی روایت چھوڑ کر صحت مند روایت اپنائیے۔

 

 

 

 

 

 

آج کے جو وزیر خزانہ ہیں، آفیسرس ان کی نہیں سنتے۔ سیدھے پی ایم او سے ہدایت لیتے ہیں۔ نوٹ بندی پر بھی صرف مودی جی اور ہس مکھ ادھیا کو ہی جانکاری رہی ہوگی۔ وزیرخزانہ کو معلوم نہیں تھا۔ ریزرو بینک کا سوال ہی نہیں ہے۔ یعنی سرکار نے سسٹم کو توڑ مروڑ دیا ہے۔یہ اچھی بات نہیں ہے۔ بی جے پی ،آر ایس ایس کشمیر میں کچھ کر ہی نہیں پائے گی۔ کیونکہ وہ تو شروع سے کہہ رہی ہے کہ کشمیر سے 370 ہٹا دیجئے ۔اتنی ہارڈ لائن لے رکھی ہے کہ کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ ان سے دنیشور شرما نے بیان دیا وہاں کہ میں آیاہوں اسٹڈی کرنے ۔کشمیر کے سینئر صحافی ہیں،انہوں نے کہا کہ 70سال بعد ایک آدمی آرہا ہے اسٹڈی کرنے کی پرابلم کیا ہے۔ پرابلم ہی نہیں پتہ ہے تو حل کیسے ہوگا؟اٹل جی اور مشرف بالکل حل کے قریب آگئے تھے لیکن آر ایس ایس نے حل نہیں ہونے دیا۔ کیوں؟ان سے پوچھئے۔
سماجی تعصب بڑھ رہا ہے ۔یہ بے وجہ نہیں ہے۔ سنگھ پریوار منوسمرتی میں یقین رکھتا ہے۔ کیریکٹر ارینجمنٹ میں یقین رکھتا ہے۔ آر ایس ایس نے امبیڈکر کا نام لینا شروع کر دیا۔ ان کا امبیڈکر سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں ہے اور میں اس بات کو بھی غلط سمجھتا ہوں کہ آپ مسلمان اور دلت کو ملا دیجئے۔ اس سے بھی ملک کا کوئی بھلا نہیں ہونا ہے۔ بی جے پی والے کہتے ہیں کہ کانگریس نے مسلم پولرائزیشن کیا۔ مسلمان کی آبادی 15فیصد ہے۔ ملک میں کتنے فیصد آئی اے ایس مسلمان ہیں؟کیا پولرائزیشن ہوا؟ملک میں 2-4 مسلمان صنعتکار ہیں۔ تو پولرائزیشن کہاں ہے؟ان کا یہ کہنا ٹھیک ہے کہ کانگریس استعمال کررہی ہے ان کو ووٹ کے لئے۔جیسے آر ایس ایس استعمال کررہی ہے ہندوئوں کوووٹ کے لئے۔ ہندو دھرم سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ ہندوئوں کو مسلمان کا ڈر دکھا کر اپنے پاس رکھتی ہے۔ صرف 18 فیصد ہندو اس بات سے متاثر ہوتے ہیں جو ڈرے ہوئے ہیں۔ہندو ہونا اور سیکولر ہونا مترادف لفظ ہیں،متضاد لفظ نہیں ہے۔ ہمارا جو ہندو درشن ہے ،وہ کہتا ہے کہ وسودھو کٹمبکم ،پوری دنیا ایک ہے۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ سات سو کروڑ دنیا ہمارا پریوار ہے۔ گجرات کے عوام کو میں سلام کروں گا کہ انہوں نے بی جے پی کو اس کی حدوں کا اندازہ کرا دیا کہ آپ ملک کے راجا نہیں ہیں۔ ملک آپ کا ہو گیا ایک انتخاب جیتنے سے ،ایسا نہیں ہے۔ بلکہ گجرات جس میں آپ کی 115سیٹ تھی، اب گھٹ کر 99 پر آگئی۔ آپ کی سرکار چل رہی ہے، چلئے لیکن ساتھ میں لوگوں کو لے کر چلنا پڑے گا۔وزیر اعلیٰ ان کو پٹیل طبقہ سے بنانا چاہئے تھا۔ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس میں مجھے بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ایک اہم ایشو ہے غیر ملکی سرمایہ کاری کا ۔پہلے یہ پتہ کرنا ہے کہ کیا ایف ڈی آئی یعنی فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کامیابی ہے ؟کیا ہمارے ملک کو یہ ضرورت ہے کہ باہر سے بہت روپیہ آئے؟1991 کے بعد منموہن سنگھ جب وزیر خزانہ تھے، ہندوستان کی معیشت بہت چرمراگئی تھی۔اس کا فائدہ اٹھا کر ساری پالیسیاں الٹ دی گئیں۔ 1991 سے آج 27 سال ہو گئے۔ اتنے دنوں میں کیا 27 لاکھ بھی نئے جاب کریٹ ہوئے ہیں؟تو آپ ساری صورت حال پلٹنے کے بعد بھی 27 لاکھ جاب بھی کریٹ نہیں کر سکے تو سوال تو اٹھے گا ہی۔1991 کے بعد سرمایہ داروں کا راج ہے۔ ایف ڈی آئی سے کیا فائدہ ہے؟کس سیکٹر میں ایف ڈی آئی آرہی ہے؟نوکریاں کریٹ کر رہی ہے کیا۔ جب نوکریاں کریٹ نہیں کرے گی تو ایف ڈی آئی کا ہم کیا کریں گے؟کابینہ نے ریٹیل سیکٹر کھول دیئے ایف ڈی آئی کے لئے۔سرکار یہ نہیں بتا رہی ہے کہ اس سے ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ غیر ملکی کیپٹل چریٹی نہیں ہے۔ ہر سرمایہ کاری کا کچھ ہدف ہوتا ہے۔ اس سب کا دور رس نتیجہ یہ ہے کہ اب ہم امریکن غلام ہو جائیںگے جیسے پاکستان ہے۔ غیر ملکی پالیسی کی بات کریں تو وہ بالکل ٹھیک تھی۔ چین سے ہمارا بہت پرانا تنازع چل رہاہے۔ چین سے کوئی امید نہیں کرنی چاہئے۔ وہ اپنے مفاد میں کام کرے گا۔ نیپال کے اپنے اندرونی مسائل ہیں۔ مدھیشی کو اکسا کر ہم نے اسے ناراض کر دیا۔ پھر اس کا جھکائو چین کی طرف ہو گیا۔ مالدیپ تو بالکل ہندوستان کے ساتھ تھا۔ اب انہوں نے معاہدہ پر دستخط کرلیا ہے چین کے ساتھ۔ ہندوستان کے ذریعہ آنکھ دکھانے کی وجہ سے۔ پہلے ہماری غیر ملکی پالیسی بہت اچھی تھی، کیونکہ ہم کسی کیمپ میں نہیں تھے۔ مودی جی کی ذمہ داری ہے کہ وہ تھوڑے ہمبل بن جائیں۔

 

 

 

 

 

 

 

مودی سرکار کسانوں کی خود کشی کا کوئی نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ یہ سرکار جو بات کہتی ہے ،اس کے برعکس کام کرتی ہے۔ ان کے قول و عمل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہ سرکار آیوش، یونانی اور آیورویدک کی بات کرتی ہے اور ہمارے وزیر اعظم امبانی صاحب کے اسپتال کا افتتاح کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات کرتے ہیں آرگینک کی اور کیمیکل فرٹیلائزر امپورٹ کرتے ہیں، اس کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ہمارا ادارہ’’ مرارکا فائونڈیشن ‘‘ نے راجستھان میں آرگینک کھیتی کو لے کر جو کام کیا، وہ وہاں کی صورت حال کے حساب سے ہے۔ وہاں اتنی غریبی ہے کہ کوئی کیمیکل فرٹیلائزر یوز ہی نہیں کرتا تھا،وہ گوبر کا استعمال کرتے تھے، اس لئے ان کو سمجھانا آسان تھا کہ گوبر سے کرمی کلچر بہتر ہے۔ انہوں نے اسے اپنالیا اور آج فائدے میں ہیں۔
بنیادی کام کو بھلا کر ہماری سرکار نے فزیکل ڈیفیسٹ ،این پی اے جیسے جملے پکڑ لئے ہیں۔ اب یہ ایک نیا دیوالیہ قانون بنائیںگے۔ اس کے لئے ریزرو بینک نے 12 کمپنیوں کی لسٹ نکال دی۔ ایک آدمی جو پچھلے پچاس سال سے کوئی کمپنی چلا رہاہے،وہ کسی وجہ سے پریشانی میں پھنس گیا، اب آپ اس کی کمپنی کو کسی نئے آدمی کو دیںگے تو کیا ٹھیک ہے کہ وہ نیا آدمی پرانے والے سے بہتر ہی ہو؟دوسری بات یہ ہے کہ جس نئے آدمی کو کمپنی دیںگے تو اسے ہیئر کٹ دے دیں گے۔یعنی کمپنی پر پہلے سے جو قرض ہے، اس میں سے آدھا معاف کر دیں گے ۔جب ایسا ہی کرنا ہے تو پھر اسی کا قرض کیوں نہیں معاف کر دیتے، جس کے پاس آج وہ کمپنی ہے۔ آج ایئر انڈیا ہے گھاٹے میں ، تو اس کا آدھا قرض سرکار کیوں نہیں معاف کر رہی ہے؟اسٹارٹ اپ انڈیا کو لے کر آج وزیراعظم تقریر کرتے ہیں کہ ہم نے اتنے لوگوں کو بغیر گارنٹی کے قرض دیا۔یہ اچھی بات ہے۔لیکن جن لوگوں کو پچاس سال پہلے گارنٹی دے کر لون لئے ہیں، ان کا گھر آج نیلام ہو رہا ہے۔ان کی بیوی کے زیور گروی رکھے ہوئے ہیں، سرکار ان پر مہربانی کیوں نہیں کرتی ؟غریب آدمی جو اپنا پیسہ اسٹیٹ بینک میں جمع کرتاہے، اسے سرکار پر بھروسہ ہے۔ غریب شہریوںکو سرکار پر بھروسہ ہے،لیکن سرکار کا سرکار پر سے بھروسہ اٹھ گیاہے۔ ہماری سرکار کو امریکن سرکار پر بھروسہ ہے۔ اب آپ ریٹیل ایف ڈی آئی پر ان کا رویہ دیکھئے۔ ان کا مقصد ہی یہی ہے کہ ڈی مارٹ، والمارٹ امریکہ سے آکر یہاں مال کھول دیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ امریکہ میں وٹامن ڈی کا جو دودھ سپر اسٹور میں ملتا ہے، وہ گائے سے کب نکلا، کسے پتہ ہے؟ہمارے یہاں ویسٹ کی پوجا کرنے کی روایت شروع ہو گئی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ افسوس ان لوگوں پر ہے جو ہندو کی بات کرتے ہیں،ہندو راشٹر کی بات کرتے ہیں اور تمام ہندو اصول چھوڑتے جارہے ہیں۔
گجرات الیکشن کے بعد ہوا بدل گئی ہے۔وہ 56انچ کا سینہ اب 28 کا ہو گیا ہے۔یہ پہلے بات کر رہے تھے ،مرکز اور ریاستوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی لیکن اب کہیں چرچا نہیں۔ انہیں لگ رہا تھاکہ مرکز کے ساتھ ریاستوں کا الیکشن ہونے سے مودی کے اثر کی وجہ سے یہ ان ریاستوں میں بھی جیت جائیںگے، جہاں ان کی سرکار ہے اور اینٹی انکمبنسی کا ڈر ہے لیکن یہ بات ان کے لئے الٹی پڑ گئی۔ آر ایس ایس نے ان کو سمجھایا کہ ایک ساتھ انتخابات کرانے سے ریاستوں میں جو تھوڑی بہت گڈول ہے، وہ بھی مرکزی سرکار کے سائڈ افیکٹ سے خراب ہو جائے گی۔ سیاست ڈائنامک ہوتی ہے۔ یہاں چیزیں ہر روز بدلتی ہیں۔ہر طریقے کی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ ملٹی باڈی ڈیموکریسی کا ہی مزہ ہے۔ یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا کوئی ایسی پارٹی ہے جو الگ لائن پر جا سکتی ہے۔مجھے پتہ نہیں ہے لیکن عام آدمی پارٹی ہو سکتی ہے۔ وہ دہلی کی سرکار میں آئی، تو انہوں نے وہاں گورنر بیٹھا کر ان کا پائوں کاٹ دیا۔ گورنر انہیں کوئی کام نہیں کرنے دیتا ہے۔ محلہ کلینک کی شکل میں انہوں نے جیسا کام کیا، وہ غریب لوگوں کے فائدے کا ہے۔ حالانکہ این پی اے جیسے ایشو پر عام آدمی پارٹی کی کیا رائے ہے ،مجھے نہیں معلوم ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *