نئی حج پالیسی رحمت یا زحمت؟

حج 2018 کا فارم بھرنے کا عمل 22 دسمبر 2017کو پورا ہوگیا ۔امسال حج 2018 کے لئے کل 3.7 عازمین نے فارم پُر کئے۔ ہندوستان سے کل ایک لاکھ 70 ہزار عازمین حج کے لئے سفر کریں گے جن میں سے ایک لاکھ 25ہزار بذریعہ حج کمیٹی آف انڈیا اور 45 ہزار پرائیویٹ ٹور سے جائیں گے۔حاجیوں کی روانگی 21 بڑے امبارکیشن جیسے ممبئی، دہلی ، کولکتاتہ کے علاوہ 11دیگر چھوٹے شہروں جیسے اورنگ آباد، اندور اور سری نگر سے ہوں گے۔اس سال سے نئے حج قانون کے مطابق 45 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے پاس اگر کوئی ایسا محرم نہیں ہے جس کے ساتھ حج پر جائیںتو وہ 4 خواتین کا گروپ بناکر بغیر محرم کے حج پر جاسکتی ہیں بشرطیکہ ان کا مسلک اس کی اجازت دیتا ہو۔اس قانون کو لے کر علماء نے سخت مخالفت کی لیکن خواتین کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اس کی اجازت دے گئی۔ایسی خواتین کی حج کمیٹی میں 1300درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے معذور افراد کو حج پرجانے کی اجازت نہیںدے دی گئی ہے ۔فی الحال یہ حکم 2018سے 2022 تک کے لئے نافذ کیا گیا ہے۔
حج درخواستوں میں زبردست کمی
گزشتہ سال کی بہ نسبت امسال 80 ہزار درخواستیں کم موصول ہوئی ہیں۔گزشتہ سال 2017 میں 4.5 لاکھ کے مقابلے حالیہ سال میں صرف 3.7 لاکھ عازمین نے ہی درخواستیں دیں۔ اس کے پیچھے کئی اسباب بتائے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ گزشتہ سال کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے کاروباریوں پر گہرا منفی اثر چھوڑا ہے۔ اس خسارے کی وجہ سے بہت سے لوگ حج کے ارادے کو اس وقت تک کے لئے منسوخ کردیا ہے جب تک کہ ان کی مالی حالت پھر سے بحال نہ ہوجائے۔لیکن اس کے پیچھے جو ایک بڑی وجہ بتائی جاتی ہے ،وہ یہ ہے ہوائی جہاز کے کرایہ میں بے تحاشہ اضافہ نے عازمین کے حوصلے پست کردیئے ۔
دراصل اب تک ہوائی کرایہ کا بڑا حصہ سبسڈی سے ادا کیاجاتا تھا مگر امسال یہ سرکاری سبسڈی ختم کردی گئی ہے ۔ لہٰذا ہوائی کرایہ کا زیادہ بوجھ عازمین کو خود برداشت کرنا ہوگا ۔ 2016 میں سبسڈی کی رقم 408 کروڑ تھی جو کہ 2017 میں کم کرکے 200کروڑ کردیا گیا اور امسال اس کو بالکل ختم کر پر دیا گیا ہے ۔ چونکہ یہ سبسڈی صرف ایئر لائن کو دی جاتی تھی ،جو کہ اس سال بہت ہی کم ہے۔لہٰذا بقیہ رقم حاجی کو اپنی جیب سے دینا ہوگا۔ حج کمیٹی آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دہلی سے جدہ تک کا کرایہ 73897 ہزار , ،کولکتانہ سے 83027اور ممبئی سے 58254،گوہاٹئی سے 115646 لکھنو سے 80966 ، اور وارانسی سے 92387رکھا گیا ہے ۔اس اضافی بوجھ کی وجہ سے بہت سے لوگ فارم بھرنے کی ہمت نہیں جٹا پائے اور اس طرح سے درخواست کنندہ کی تعداد کم ہوگئی۔
اگر عمومی کرائے کا موازنہ کرکے دیکھا جائے تو حاجیوں سے جو کرایہ وصول کیا جارہا ہے ،وہ یقینا بہت زیادہ ہے ۔کیونکہ جب ایک عام آدمی دہلی سے جدہ عمرہ کے لئے جدہ جاتا ہے تو اسے آمدو رفت پر صرف 36 ہزار روپے بطور کرایہ دینا پڑتا ہے ۔لیکن وہی آدمی جب حج کے لئے جاتا ہے تو اس سے دوگنا سے بھی زیادہ کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔ایک آدمی عمرہ پر جاتا ہے تو کھانا پینا، رہائش اور لوکل سفر یعنی کل پیکج زیادہ سے زیادہ 67ہزار کا ہوتا ہے جبکہ حاجیوں سے صرف کرایہ کے نام پر 73 ہزارروپے وصول کئے جاتے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے ۔
اس سلسلہ میں ایئر انڈیا کا کہنا ہے کہ عام پبلک کو ایئر لائن لے کر جاتا ہے تو وہ وہ جہاز واپسی میں بھی مسافروں کو لے کر واپس آتا ہے جس سے واپسی کے اخراجات پورے ہوجاتے ہیں جبکہ حاجیوں کو لے کر جانے والا جہاز اُدھر سے خالی واپس آتا ہے جس کا بوجھ ایئر لائنز پر پڑتا ہے۔ ظاہر ہے اس کی بھرپائی کرایہ میں اضافہ کرکے ہی پورا کیا جاسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عام مسافروں کی بہ نسبت حاجیوں سے کرایہ زیادہ وصول کیا جاتا ہے ۔اب یہ اضافی کرایہ چاہے حکومت سبسڈی کے نام پر دے جیسا کہ اب تک ہوتا آیا ہے یا پھر حاجی اپنی جیب سے ادا کریں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حکومت سے سوال
ایئر لائن کی دلیل کسی حد تک منطقی ہے لیکن اصل سوال حکومت سے ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا رہی ہے جس سے اس بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ یہ سچ ہے کہ سبسڈی کو حکومت جاری نہیں رکھ سکتی ہے کیونکہ سبسڈی کو بند کرنے کا حکم خود مسلم طبقہ کی طرف سے مانگ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے 2012 میں دیا تھا ۔ اس فیصلے کی رو سے 2022 تک سبسڈی کوبتدریج بند کرنے کا حکم تھا۔ اسے ہر سال تھوڑا تھوڑا کرکے بند کرنے کی تجویز تھی ۔سپریم کورٹ میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق 2012 سے پہلے سالانہ اوسطاً 650 کروڑ روپئے کے فنڈس حج سبسیڈی کے طور پر مختص کئے جاتے تھے لیکن سپریم کورٹ احکام کی روشنی میں سبسیڈی میں بتدریج کمی کے سبب گزشتہ سال 200 کروڑ روپئے کی کمی کے ساتھ 450 کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے۔جوں جوںسبسڈی کم ہوتی رہی، کرایہ کا بوجھ حاجیوں پر اسی رفتار سے بڑھتا جارہا ہے اور امسال اسے بالکل ختم کردیا گیا ہے جس سے حاجیوں پر کرایہ کا بڑا بوجھ پڑ گیا ہے ۔ لہٰذا حکومت اور حج کمیٹی کوچاہئے کہ حج کمیٹی کے ایکٹ میں بدلائو کرکے حاجیوںکو انڈین ایئر لائن سے سفر کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے کھلا ٹینڈر دے اور جو ایئر لائن کم قیمت پر حاجیوں کو لے جانے کی پیشکش کرے ،اسے ٹینڈر دے کر اس بوجھ کو کم کرے۔ مارکیٹ میں کئی ایئر لائن ہیں، مثال کے طور پر ترکی ایئر لائن جو عام ریٹ یعنی صرف 36 ہزار میں حاجیوں کو لے جانے کے لئے تیار ہے مگر اوپین ٹنڈر نہ ہونے کی وجہ سے اسے حاجیوں کو لے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔
فارم کم جمع ہونے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حج کمیٹی ایک قسط جمع ہونے کے بعد حج پر آنے والے کل اخراجات کا اعلان کرتی ہے ۔بہت سے لوگ اس خوف کی وجہ سے فارم بھرنے سے رہ جاتے ہیں کہ ایئر کرایہ میں اضافہ کے ساتھ ہی کہیں دیگر اخراجات میں بھی بے تحاشہ اضافہ نہ کردیا گیا ہو اور اس طرح سے حج پر جانا ان کی وسعت سے باہر کی بات ہو جائے۔ اگر کمیٹی پہلے ہی کل اخراجات کا اعلان کردے تو ہر آدمی اپنی گنجائش کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 1995 تک حاجیوں کی بڑی تعداد کو ایم وی اکبری جہاز کے ذریعہ ممبئی سے جدہ لے جایا جاتا تھا ۔مگر اکبری جہاز پرانا ہونے اور اس کی جگہ نئے جہاز کے نہ آنے کی وجہ سے یہ سروس بند کردی گئی۔چونکہ پانی جہاز کی بہ نسبت ہوائی جہاز کا کرایہ بہت زیادہ تھا جو کہ بہت سے عازمین کے بس سے باہر کی بات تھی لہٰذا حکومت نے ان کے لئے ایئر کرایہ میں سبسڈی کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن اب جبکہ سپریم کورٹ کے حکم پر سبسڈی بند ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں پانی جہاز کو چلانا چاہئے تھا کیونکہ پانی جہاز سے کرایہ تقریبا75-70ہزار تک ہوگا۔
بحری جہاز کا وعدہ
گزشتہ سال مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے حج کے اخراجات میں کمی لانے کے لئے سال 2018 سے بحری جہاز کا آغاز کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اور کہا تھا کہ یہ ماڈرن پانی جہاز ایک ساتھ چار سے پانچ ہزار عازمین کو لے کر جا سکے گا اور یہ ممبئی سے جدہ جو کہ بحر احمر اور بحر خلیج ہوتے ہوئے جس کی دوری تقریبا 2515 بحری میل ہے ، صرف تین سے چار دنوں میں پہنچا دے گا جبکہ اس سے پہلے یہ مسافت 10-12 دنوں میںطے ہوتی تھی۔چونکہ حاجیوں کو بحری سفر پر اضافی وقت دینا ہوگا اس لئے ان کے ویزہ کی مدت میں 21 دن کا اضافہ کیا جائے گا جبکہ موجودہ سفر 42سے45 دن کا ہوتا ہے ۔اس اعلان سے بڑی توقع تھی اور سمجھا جارہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی قسمت آزمانے کا موقع ملے گا مگر 2018 کے آتے ہی وزیر اقلیتی امور نے کہہ دیا کہ اب یہ سروس حالیہ برس سے شروع نہیں ہوگی۔ اس نئے اعلان کے بعد بہت سے عازمین جو پچھلے مرتبہ نہیں جاسکے ،وہ انتظار میں تھے کہ پانی جہاز سے وہ اپنا فریضہ ادا کریں گے لیکن اس اعلان کی وجہ سے محروم رہ گئے۔
وزارت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اب یہ سروس اگلے سال سے شروع کی جائے گی۔ اگر وااقعی اس پر عمل ہوجاتا ہے تو یہ ایک قابل ستائش شروعات ہوگی مگر حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ اس سروس کو صرف ممبئی سے شروع کرنے کی صورت میں دشواری یہ ہے کہ پورے ہندوستان سے عازمین کو ممبئی تک کا سفر کرنا ہوگا جو کہ ایک دشوار گزار مرحلہ ہوہے ۔اس لئے اگر اس کو مختلف سمندری بندرگاہوں سے جیسے کہ جنوبی ہند کے لئے کوچی سے، مشرق اور شمال مشرق والوں کے لئے کولکتا سے اور بقیہ ہندوستانیوں کے لئے ممبئی سے شروع کیا جائے تو اس میں تھوڑی راحت مل سکتی ہے ۔لیکن اہم یہ ہے کہ اس کا آغاز تو ہو۔

 

 

 

 

 

 

 

کرایہ میں اضافہ موضوع بحث
حج کمیٹی کی طرف سے اوپین ٹینڈر نہ ہونے کے سبب کرایہ میں اضافہ ایک موضوع بحث تو ہے ہی۔حج ایکٹ میں دیگر ترمیمات بھی موضوع بنے ہوئے ہیں۔یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ 45 سال سے زائد عمر کی چار خواتین کے گروپ کو حج پر جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔وزارت اقلیتی امور نے اس ضمن میںموصول ہونے والی تمام1300 درخواستوں کو قرعہ اندازی سے مستثنیٰ کرکے خصوصی زمرے میںشامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ لگاتار چارمرتبہ فارم بھرنے والے عازمین جن کا نمبر قرعہ میں نہیں آسکا ، ان کے ساتھ رعایتدینے کی سفارش کی گئی تھی لیکن انہیں کسی بھی طرح کی راحت دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 70سال سے زائد عمر کے عازمین میں اگر میاںبیوی دونوں شامل ہوں تو ان کے ساتھ 2 معاون کو جانے کی اجازت دی جائے گی،اب تک محض ایک معاون جایا کرتا تھا۔
ان 1300خواتین کو بغیر قرعہ کے بھیجنے کے بارے میں جب حج کمیٹی کے سی ای او مقصود احمد خاں سے پوچھا گیا کہ وہ یہ سیٹیں کہاں سے لائیںگے؟تو ان کا کہنا تھا کہ جن ریاستوں میں کوٹے بچ جاتے ہیں ،ان کو ان خواتین کے لئے استعمال کیا جائے گا۔تعجب کی بات یہ ہے کہ جو عازمین چار سال سے لگاتار درخواست دے رہے ہیں اور ان کا نام قرعہ میں نہیں آیا، اگر ان کے لئے بھی ان بچے ہوئے کوٹوں میں سے کچھ مختص کردیا جاتا تو ان کا بھی بھلاہوجاتا مگر حج کمیٹی نے ایسا نہ کرکے انہیں مایوس کیا ہے جبکہ خواتین کے بغیر محرم کے جانے پر اعتراضبھی کیا جارہا ہے اور احتجاج ہورہے ہیں مگر ان اعتراضات کا جواب نہ دے کر وزارت اقلیتی امور نے اس بحث کو یہ کہہ کر خارج کردیا کہ یہ لوگ خواتین مخالفت نفسیات کے مریض ہیں۔مودی سرکار خواتین کے امپاورمنٹ کے لئے یہ ا سب کررہی ہے ۔
حج کمیٹی کے اس فیصلے پر بھی بہت ہنگامہ ہوا کہ ذہنی اور جسمانی لوگوںکو حج پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔یہ معاملہ عدالت میں پہنچ گیاہے ۔دہلی ہائی کور ٹ میں داخل کی گئی دخواست میں نئی حج پالیسی کے کچھ دفعات پر اعتراض کیاگیا ہے اجس میں کسی بھی مذہب پر عمل کرنے اور آزادی سے متعلق آئین کی دفعہ 14/21/25 کی خلاف ورزی کا الزام لگایاگیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ سیدھے طورپر کسی بھی شخص کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے اور آئین ہند کسی بھی شخص کے بنیادی حق کی خلاف ورزی اور آئین ہند کسی بھی شخص کو یہ حقوق اور آزادی دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب سے منسلک تمام رسوم و رواج بغیر کسی مداخلت کے ادا کرے ۔ اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دہلیہائی کوٹ نے سرکار کی ا س پالیسی پر سوال اٹھایا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکار اس کا کیا جواب دیتی ہے اور عدالت کا اگلا قدم کیا ہوتا ہے۔
بہر کیف ان اشکا لات و اعتراضات کے درمیان حج 2018 کی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ممبئی کے لوک مانیہ تلک مارگ پر واقع حاجی سابو صدیق مسافر خانہ روڈ پر واقع مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی کے نوتعمیرشدہ دفتر کے افتتاح کردیا ہے ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حاجیوں کو عمدہ ترین سہولیات مہیا کرانا حکومت اور دیگر ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے تیاریاں بہت پہلے سے شروع کر دی گئی ہیں تاکہ حاجیوں کو سفر حج کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزارت اقلیتی امور اپنے اس وعدے پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *