نس بندی کی مہم عوام پریشان، سرکار بے پرواہ

حمل روکنے کے لئے عورتوں کو ’ڈی پو میڈراکسی پروجسٹرون اسیٹیٹ ‘(ڈی ایم پی اے ) دوا انجیکٹ کی جارہی ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں خطرناک جنسی مجرموں کی جنسی غدود ختم کرنے کے لئے انہیں سزا کے بطور ڈی ایم پی اے دوا کا انجیکشن دیا جاتا ہے، جسے میڈیکو لیگل اصطلاح میں ’کیمیکل کسٹریشن ‘‘کہتے ہیں۔ یہ دوا مردوں اور عورتوں کے جسم کو خطرناک طریقے سے نقصان پہنچاتی ہے۔
’چوتھی دنیا ‘ کے پاس دنیا بھر کے طبی ماہرین کی صلاح اور رپورٹ، طبی تحقیقاتی اداروں کے تحقیقاتی کاغذات، عالمی سطح کے ہیلتھ اینڈ میڈیسن آرگنائزیشن کی رپورٹس، سماجی ماہرین کی آرائ، قومی و بین الاقوامی سماجی اکیڈمی فورم پر رکھے گئے ریسرچ پیپر اور دوا کمپنی کی تکنیکی پروڈکٹ رپورٹس ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی وزارت صحت کا وہ سرکاری ’فراڈ‘ بنیاد ہے ، جس نے ایسے غیر انسانی رویے کا پردہ فاش کرنے کا راستہ کھولا ہے اور’ مشن پریوار وکاس ‘ کے نام پر عورتوں کے جسم میں زہر چبھوئے جانے کا سرکاری سچ سامنے آسکا۔ کچھ اہم ویب میڈیا اداروں نے اس خبر کو ملک کے ضروری ایشو کی طرح اٹھایا۔ نیوز چینل ’نیوز 24‘ نے ’چوتھی دنیا ‘ کی پوری خبر دکھائی۔ اسے وائرل بھی بتایا اور آخر میں ایک ہی جھٹکے میں اسے جھوٹا کہہ دیا۔ ’چوتھی دنیا ‘ کی خبر کا تجزیہ کرتے ہوئے ’نیوز 24‘نے مرکزی وزیر مملکت برائے صحت اشوینی کمار چوبے اور دہلی کے گنگا رام اسپتال کی گائنوکولجسٹ ڈاکٹر مالا شریواستو سے ایک جھٹکے میں بیان لیا اور دوسرے جھٹکے میں خبر کو جھوٹا بتا کر پروگرام کا شٹر گرا دیا۔مرکزی وزیر مملکت برائے صحت اور گائنوکولجسٹ نے کیا کہا، اس کی ہم سلسلہ وار توضیح آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔
پربھات رنجن دین
’چوتھی دنیا ‘ نے اپنی پچھلی کُوَر اسٹوری (8سے 14جنوری 2017)میں سات اہم نکات سامنے رکھے تھے : (1) عورتوں میں انجیکٹ کی جارہی ہے جنسی مجرموں کو سزا میں دی جانے والی دوا۔(2)بل گیٹس فائونڈیشن سے سانٹھ گانٹھ کرکے وزارت صحت کررہی ہے گھنونی کرتوت ۔(3)آبادی کنٹرول کے نام پر یو پی ، بہار سمیت سات ریاستوں میں شروع ہوا یہ گندہ کھیل ۔ (4)ملک کا لوئیر کلاس، لوئیر مڈل کلاس مائوں کو بانجھ بنانے کی سازش ۔ (5)اعدادو شمار کا فراڈ کرکے وزارت صحت نے 145 اضلاع میں پہنچایا ڈی ایم پی اے زہر ۔ (6)ہیلتھ سینٹروں کو دیا گیا ٹارگٹ ، زیادہ سے زیادہ عورتوں کو دیں ڈمپا انجیکشن ۔ (7)’مشن پریوار ویناش ‘ ثابت ہو رہا ہے ہندوستانی سرکار کا ’مشن پریوار وکاس ‘۔
یہ سات نکات ’چوتھی دنیا‘ کی کور اسٹوری کے بنیادی حقائق ہیں۔نیوز چینل ’نیوز 24‘ نے ان حقائق کو دکھایا ضرور، لیکن اپنی نام نہاد چھان بین میں ان سات مرکزی حقائق پر دھیان مرکوز نہیں کیا۔ان نکات پر نہ اپنی کوئی جانکاری حاصل کی، نہ کوئی مطالعہ کیا اور نہ ہی کوئی ریسرچ کیا۔چینل نے محض دو لوگوں ( مرکزی وزیر صحت اور گائنوکولجسٹ ) سے فوری طور پر بیان لیا اور خبر کے بنیادی حقائق پر کوئی صحافیانہ سوال و جواب بھی نہیں کیا۔ انہوں نے جو کہا ،اسے ’ججمنٹ ‘ سمجھ لیا ۔مرکزی وزیر مملکت برائے صحت اشوینی کمار چوبے نے تو پھر بھی اقتدار کی شبیہ سے ذرا الگ ہٹ کر تھوڑی ایمانداری برتی ۔حالانکہ انہوں نے ایک سرکاری نمائندے کی طرح ہی بیان دیا اور سرکار کے کرتوت کو صحیح ٹھہرایا لیکن یہ بھی کہا کہ دوا کے سائڈ افیکٹ ہو سکتے ہیں، ہم اسے خارج نہیں کرتے۔
دہلی کے گنگا رام اسپتال کی گائنوکولجسٹ ڈاکٹر مالا شریواستو نے ڈی ایم پی اے دوا کے بارے میں بتانے کے بجائے اسے لگوانے کے طور طریقے بتانے شروع کر دیئے،پھر کہا کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن سے مائوں کے دودھ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ گائنوکولجسٹ نے مائوں کے جسم پر ہونے والے نقصان کی کوئی چرچا نہیں کی اور نہ ’نیوز 24‘ نے ان سے یہ سوال پوچھے۔ جانکاری رہتی تو سوال پوچھتے۔ ڈاکٹر نے دودھ پر ہی کہا اور چینل نے دودھ پر ہی پروگرام روک دیا۔
ڈی ایم پی اے انجیکشن مائوں کے جسم پر کیا کیا خطرناک نقصان کرتا ہے ،اس کی بہت تفصیل میں جانے سے پہلے ہم دودھ پر ہی بات کر لیں۔بھوپال گیس ٹریجڈی میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل شدہ اعلیٰ سطحی جانچ و صلاح کار کمیٹی کی ممبر رہی قومی و عالمی سطح کی معروف طبی پریکٹیشنر ڈاکٹر سی ستیہ مالا کہتی ہیں کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن عورتوں اور اس کی آنے والی جنین کے لئے بے حد خطرناک (ہیزارڈس ) ہے۔ اس کا ایک انجیکشن بھی لگوانا خطرناک ہے۔ یہ دودھ پلانے والی عورتوں کے لئے اور مستقبل میں خود صحت مند رہ کر صحت مند بچے کی ماں بننے کی چاہت رکھنے والی ماں کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر ستیہ مالا کا کہنا ہے کہ ڈی ایم پی اے کے اثر پر ریسرچ میں جو حقیقت حاصل ہوئی ،وہ اس دوا کے استعمال کو پوری طرح خارج کرتے ہیں۔ ڈیوڈ وارنر کی پریکٹیشنر کی مشہور کتاب ’’ ویہئر دیئر از نو ڈاکٹر ‘ میں ڈی ایم پی اے پر پانچ سال ریسرچ کرنے کے بعد تیار کیا گیا ڈاکٹر سی ستیہ مالا کا ریسرچ پیپر شائع (فوٹو ،(1.2)کیاگیا ہے، جس نے پوری دنیا کے طبی پریکٹیشنر وں اور سائنس دانوں کا دھیان کھینچا ہے۔ عالمی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلوی ایچ او )اور اس کا ایک ادارہ کونسل فار انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف میڈیکل سائنسز کی گائڈ لائنس 11 (فوٹو 3) تو اس سے آگے بڑھ کر کہتی ہے کہ دودھ پلانے والی عورتوں کو ڈی ایم پی اے انجیکشن دینا ہی نہیں چاہئے۔ ڈبلیو ایچ او کی گائڈ لائن کہتی ہے کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن کی وجہ سے ہڈی سے معدنی عناصر کشیدہ ہونے لگتے ہیں۔لہٰذا دودھ بننے کے عمل میں رکاوٹ ہوتی ہے اور ایسے میں عورتوں کو ڈی ایم پی اے انجیکشن دیا جاناسنگین نتیجہ ،منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ایسا کیا جانا عالمی قوانین اور اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔ دودھ پلانے والی عورتوں کے لئے ڈی ایم پی اے انجیکشن کو ٹھیک بتانے والی گنگا رام اسپتال کی گائناکولاجسٹ ڈاکٹر مالا شریواستو کو ’ انڈین جنرل آف میڈیکل اتھیکس ‘ میں شائع اس رپورٹ ( فوٹو 4) کو دھیان میں رکھنا ہی چاہئے جس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن سے پستان، کینسر، ریڑھ کی ہڈی کے کینسر جیسی تمام خطرناک بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔کیا ایسی پستان کا دودھ نومولود کو پلایا جانا چاہئے جس میں کینسر جیسی بیماری پل رہی ہو؟۔نیوز 24 کو گنگا رام اسپتال کی گائناکولجسٹ ڈاکٹر مالا شریواستو سے یہ سوال پوچھنا چاہئے تھا۔ انڈین جنرل آف میڈیکل ایتھکس ‘ میں شائع رپورٹ میں ہی آپ پائیں گے کہ 2001 میں سپریم کورٹ کے سامنے ہندوستانی سرکار نے یہ قبول کیا تھا کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن جیسی دوا کا بڑے پیمانے پر استعمال مناسب نہیں ہے۔ اس کا استعمال کسی بھی حالت میں عورتوں کے لئے خطرناک (فوٹو 4 ،لال گھیرے میں ) ہے۔ پھر ایسا کیا ہوگیا کہ 2017 میں ہندوستانی سرکار نے اسے آناً فاناً لاگو کر دیا ؟ہندوستانی سرکار نے کیا ہندوستان کے لوگوں کو خطرناک مادہ استعمال کرنے کے لئے ’گینی پگ ‘ سمجھ رکھاہے؟اس سوال کا جواب آپ کو ’انڈین جنرل آف میڈیکل ایتھکس ‘ میں شائع رپورٹ میں ہی مل جائے گا (فوٹو 4کا دوسرا لال گھیرا ) جس میں یہ کہا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں غریب عورتوں کو ڈی ایم پی اے انجیکشن دے کر ’ زندہ لیبارٹی ‘ بنا دیا جائے گا۔ مشہور ماہر سماجیات این بی سروجنی (فوٹو 5) اور ماہرامور خواتین مشہور صحافی لکشمی مورتی (فوٹو 6) کا کہنا ہے کہ آبادی کنٹرول کا ہدف پورا کرنے کے لئے ڈی ایم پی اے جیسی دوا کا استعمال ملک کی عورتوں اور آنے والی نسلوں کی صحت کو اتنا بھیانک نقصان پہنچائے گا کہ اس کی کبھی بھرپائی نہیں ہو سکتی۔ دوا بنانے والی کمپنی ’ فائزر ‘ کو ہندوستان میں فیز 3ٹرائل کا قانونی پروویژن پورا کئے بغیر اس کے استعمال کی اجازت دے دی گئی۔ کلینیکل ٹرائل کے ضروری ضوابط پورے کئے بغیر دوا کمپنی نے ’پوسٹ مارکیٹنگ سرویلانس سروے ‘ بھی کر لیا اور اس کی رپورٹ بھی عوامی نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں غلط حقائق کے بھرے جانے کا پورا اندیشہ ہے۔ ایسے مشتبہ سروے اور مشکوک اعدادو شمار کی بنیاد پر ڈی ایم پی اے کو ’سیف ‘ اعلان کر دیا جانا پوری طرح مضحکہ خیز ہے۔اسے دیکھتے ہوئے ہی ویمن آرگنائزیشن ، ہیلتھ آرگنائزیشن ، ہیومن آرگنائزیشن اور تمام ماہرین نے اس دوا پر مکمل پابندی لگانے کی مانگ کی تھی لیکن اس کی سنوائی نہیں ہوئی۔ این بی سروجنی اور لکشمی مورتی نے اس بارے میں ’انڈین جنرل آف میڈیکل ایتھکس ‘ میں وسیع پیمانے پر تحقیقی مضمون بھی لکھا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن ، حیدرآباد کی سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر وینا شتروگھن (فوٹو 7) کہتی ہیں کہ سرکار نے عورتوں پر جیسے نشانہ لگا رکھا ہے۔ کوئی یہ دھیان نہیں رکھتا کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن اسی عورت کو لگایا جا سکتاہے جو پوری طرح صحت مند ہو اور حاملہ بننا نہیں چاہتی ہو۔ عورتوں کی بیداری کی درست سطح اور اس کی سرکاری حمایت ضروری ہے، کیونکہ اس انجیکشن کے سائڈ افیکٹس بہت گہرے ہیں، جس کا خمیازہ تو عورت کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک کا ہیلتھ کیئر سسٹم اس کے سائڈ افیکٹس کو ہینڈل نہیں کر سکتا ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹاکسیکولاجی ریسرچ کے سابق ایسوسیئٹ پروفیسر اور پرنسپل ٹیکنیکل آفیسر اور ادارہ کے جینٹک ٹکسیکولاجی ڈپارٹمنٹ کے موجودہ صلاح کار ڈاکٹر ایک کے ایس چوہان (فوٹو 8) کہتے ہیں کہ مشہور سائنس جنرل کے مواد کو دیکھتے ہوئے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن بریسٹ کینسر اور جنسی منتقلی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ اس انجیکشن کے استعمال سے ایچ آئی وی کا بھی خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے،کیونکہ یہ دوا امراض سے لڑنے کی فطری صلاحیت کو ختم کردیتی ہے۔جب کسی آدمی کے جسم سے امیونیٹی ہی ختم ہو جائے گی تو وہ سردی زکام تک نہیں روک پائے گا،پھر اسے سنگین بیماریاں تو آسانی سے پکڑیںگی ہی۔ ایسی دوا کو کس سائنس اور تکنیکی بنیاد پر منظوری دی جاسکتی ہے؟ یہ اپنے آپ میں ہی بڑا سوال ہے۔ ڈی ایم پی اے انجیکشن سے ہونے والے ہموار خون بہائو سے آسٹیوپوروسیس جیسی خطرناک بیماریاں ہونے کا بھی اندیشہ رہتا ہے۔ ڈاکٹر چوہان کہتے ہیں کہ امریکہ کے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ‘ نے اس دوا کو صحت کے لئے خطرناک ہونے کااعلان کر رکھا ہے۔ امریکہ میں ڈی ایم پی اے انجیکشن کے پیکٹ پر باقاعدہ انتباہ چھپا رہتا ہے ۔ سینئر سائنس داں ڈاکٹر چوہان کہتے بھی ہیں کہ حمل روکنے کے جب دنیا میں کئی محفوظ بندوبست موجود ہوں تو پھر ایسی خطرناک دوا کے استعمال کی کوئی مناسب وجہ نہیں بنتی۔
ڈی ایم پی اے دوا بنانے والی کمپنی ’فائزر ‘ اس کے ممکنہ خطرے کے بارے میں اگاہ کرتی ہیں لیکن ہندوستانی سرکار کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ مرکزی ہیلتھ منسٹری جس’ انترا‘ (فوٹو 9) کے نام پر ڈمپا کا انجیکشن لگوا رہی ہے۔ اس کے پیکٹ پر ایسی کوئی وارننگ چھپی ہوئی نہیں ہے۔ جبکہ قانونی پروویژن ہے کہ ایسے کسی خطرے کے بارے میں دوا کے پیکٹ پر خصوصی طور پر انتباہ چھاپا جائے۔ ڈی ایم پی اے دوا بنانے والی کمپنی فائزر کی ٹیکنیکل پروڈکٹ رپورٹ (فوٹو 10) دیکھیں تو آپ کو حیرت ہوگی کہ جس دوا کے اتنے ڈھیر سارے خطرے خود دوا بنانے والی کمپنی بتا رہی ہو، اسے ہندوستانی سرکار نے کس طرح قبول کر لیا؟مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا ہوں یا وزیر مملکت برائے صحت اشوینی کمار چوبے، وہ کس بنیاد پر یہ اعلان کریں گے کہ دوا کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا؟اور کوئی نیوز چینل کس اخلاقی بنیاد پر’ چوتھی دنیا‘ میں شائع خبر کو جھوٹا بتا دے گا؟’فائزر‘ کی ٹیکنیکل پورٹ 2017 کی رپورٹ ہے جس کے خطروں کے بارے میں آپ چار الگ الگ لال رنگ کے باکس (فوٹو 1) میں تفصیل سے دیکھ سکتے ہیں۔ ان خطروں کے بارے میں’ انترا ‘کے پیکٹس پر انتباہ کیوں نہیں چھاپا گیا ؟اس کا جواب وزارت صحت کو دینا ہی چاہئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈمپا کے خطرناک کھیل کا نمبروار خلاصہ
(1)خواتین میں انجیکٹ کی جارہی ہے جنسی مجرموں کو سزا میں دی جانے والی دوا۔
اب ہم اس سنسی خیز معاملے کا نمبروار منظر دکھاتے ہیں۔ ’چوتھی دنیا ‘ نے اپنی کور اسٹوری میں لکھا ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں خطرناک جنسی مجرموں کو سزا (کیمیکل کسٹریشن ) کے بطور ڈی ایم پی اے دوا انجیکٹ کی جاتی ہے۔ دیگر ملکوں میں انسانی زندگی کا اتنا احترام ہے کہ خونخوار جنسی مجرموں کو کیمیکل کسٹریشن کی سزا میں بھی ڈی ایم پی اے جیسی خطرناک دوا انجیکٹ کئے جانے کی سماجی تنظیموں کے ذریعہ مخالفت کی جارہی ہے۔ جبکہ ہندوستان کی سرکار یہ دوا عورتوں میں دھڑلے سے انجیکٹ کررہی ہے اور اس زبردست سماجی جرم پر ملک خاموش ہے۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں جنسی مجرموں کو کیمیکل کسٹریشن کی سزا کے بطور ڈی ایم پی اے کا انجیکشن دیا جاتا ہے جبکہ ڈی ایم پی اے کے بھیانک اثر کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اسے بلیک باکس میں ڈال رکھا ہے۔ ’امریکن سول لبرٹیز یونین ‘جسم پر منفی اور بھیانک اثر ڈالنے والی ڈی ایم پی اے جیسی دوا کا جنسی مجرموں پر بھی استعمال کئے جانے کی مخالفت کررہی ہے۔ امریکہ کے علاوہ انگلینڈ،جرمنی اور اسرائیل جیسے ملکوں میں بھی کرانک جنسی مجرموں کو کیمیکل کسٹریشن کی سزا دینے کا پروویژن ہے۔ کیمیکل کسٹریشن میں ڈی ایم پی اے کے استعمال اور اس کے خطرناک اثر کا معاملہ ویکی پیڈیا (فوٹو 11) اور’ انڈین اکیڈمی آف فارنسک میڈیسن ‘ کے ’جنرل آف انڈین اکیڈمی آف فارنسک میڈیسن ‘(فوٹو 12) میں شائع ریسرچ پیپر سے بھی لیا جاسکتا ہے۔
(2)بل گیٹس فائونڈیشن سے سانٹھ گانٹھ کرکے وزارت صحت کی گھنونی کرتوت
ڈی ایم پی اے کا استعمال 1993-94 میں کچھ خاص پرائیویٹ سیکٹر میں ہو رہاتھا۔ کئی سماجی ادارے اس انجیکشن کے استعمال پر پابندی لگانے کی سپریم کورٹ سے مانگ کر رہے تھے۔ 1995 میں ڈرگس ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ ( ڈی ٹی اے بی ) اور سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن نے خاص طور پر ’راشٹریہ پریوار نیوجن ابھیان ‘ میں ڈی ایم پی اے کے استعمال کو ممنوع کر دیا تھا۔2001 میں کئی دوائیں ممنوع کی گئی لیکن ڈی ایم پی اے کو پروموٹ کرنے والی لابی اتنی طاقتور تھی کہ وہ پابندی قائم نہیں ہوئی، بس اسے پرائیویٹ سیکٹر میں محدود استعمال کی منظوری ملی۔ ڈی ایم پی اے انجیکشن کے استعمال کو لے کر ہو رہی قانونی اور کاروباری کھینچا تانی میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کے خود پڑنے سے ڈی ایم پی اے لابی مضبوط ہو گئی۔ فائونڈیشن نے 2012 میں برٹش سرکار کو منایا اور پھر دنیا کی ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں آبادی کنٹرول میں تعاون دینے کے بہانے اپنا راستہ صاف کر لیا۔ فائونڈیشن نے مودی سرکار کی وزارت صحت کو ہموار کیا۔ وزارت صحت نے’ محکمہ برائے خاندانی بہبود ‘ کے ذریعہ ڈرگس ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ ( ڈی ٹی اے بی ) کے پاس تجاویز بھجوایا کہ ڈی ایم پی اے انجیکشن کے استعمال پر لگی پابندی ہٹائی جائے۔ ڈی ٹی اے بی نے اس وقت اس تجویز کو ٹال دیا اور کہا کہ انجیکشن کا سائڈ افیکٹ اور گہرا گیاہے۔ ڈی ٹی اے بی نے ’محکمہ برائے خاندانی بہبود ‘ کو یہ صلاح دی کہ اس پر ماہرین سے رائے لی جائے اور اس کی گہری جانچ کرائی جائے۔ وزارت صحت نے اس صلاح پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔اس کے برعکس چاروں طرف سے دبائو بڑھا دیا اور متعلقہ محکموں پر سرکار کا گھیرا کس گیا۔ پھر منظر بدلتا چلا گیا۔پریوار کلیان محکمہ نے 24جولائی 2015 کو ایک سمینار بلایا اور ماہرین سے سجھائو لینے کا ڈرامہ کیا۔ ان اداروں ،ماہرین اور سماجی کارکنوں کو سمینار میںبلایا ہی نہیں گیا جو ڈی ایم پی اے کے استعمال پر لگاتار اعتراض درج کراتے رہے اور قانونی لڑائی لڑتے رہے۔ اس سمینار کے بہانے تغلقی طریقے سے یہ طے بھی کر لیا گیا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں ڈی ایم پی اے انجیکشن کا استعمال پہلے سے ہو رہاہے، اس لئے اس کی الگ سے جانچ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اب اسے عوامی سیکٹر میں بھی آزمانا چاہئے ۔جبکہ سب کو پتہ ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں ڈی ایم پی اے کے استعمال کے اعدادو شما انتہائی حیرت انگیز ہیں۔ دلچسپ موڑ تو یہ آیا کہ اب تک اعتراض درج کرتے آرہے ڈی ٹی اے بی نے ڈی ایم پی اے انجیکشن کا استعمال کئے جانے کی 18اگست 2015 کو منظوری بھی دے دی۔ اس طرح مودی سرکار نے مائوں کو بانجھ بنانے اور آئندہ نسل کو پنگو بنانے والی دوا کے غلط استعمال کا کردار مضبوط کردیا۔ ڈی ایم پی اے جیسی خطرناک دوا کے استعمال کی مخالفت کرنے والے لوگوں کا منہ بند کرا دیاگیا اور میڈیا کے منہ پر ڈھکن پہنا دیا گیا تاکہ کوئی شور نہ مچے،کوئی ہنگامہ نہ کھڑا ہو۔
مودی سرکار کے وزیر صحت جے پی نڈا نے جولائی 2017 میں ’مشن پریوار وکاس‘کی شروعات کی اور کہا کہ اس کے ذریعہ وہ 2025 تک ملک کی آبادی کو قابو میں لے آئیں گے ۔بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کی جوائنٹ صدر میلنڈا گیٹس نے کہا کہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے یہ کام کیا جارہا ہے۔ گیٹس فائونڈیشن کے فنڈ پر چلنے والے اس مشن کی مانیٹرنگ فائونڈیشن کا انڈیا ہیلتھ ایکشن ٹرسٹ کر رہا ہے۔ بل ٹیگس اور میلنڈا گیٹس ،مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا ، یو پی کے وزیر اعلیٰ یو گی آدتیہ ناتھ، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور دیگرمتعلقہ ریاستوں کے وزراء اعلیٰ سے لگاتار رابطہ میں ہیں۔ ان کی باہمی ملاقاتیں لگاتار ہورہی ہیں۔ مشن کی فنڈنگ کا بیورا کیا ہے، مشن کے آپریشن کا خرچ کہا ں سے آرہاہے۔ دوا کہاں سے آرہی ہے، اس کی قیمت کیا ہے۔ان سب کو راز بنا کر رکھا جارہا ہے ،کوئی شفافیت نہیں ہے۔بل اینڈ ملنڈا گیٹس فائونڈیشن کے آگے پیچھے سرکاریں ناچ رہی ہیں۔ فائونڈیشن کے آگے عالمی ہیلتھ آرگنائزیشن جیسے عالمی ادارے بھی جھکے رہتے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او )کو فائونڈیشن نے 40 ارب ڈالر کا فنڈ دے رکھا ہے۔ا س کے علاوہ بل اینڈ ملنڈنا گیٹس فائونڈیشن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو ہر سال تین ارب ڈالر دیتا ہے ،جو ڈبلیو ایچ او کے سالانہ بجٹ کا دس فیصد ہوتا ہے۔ پوری دنیا کے ہیلتھ، ایکانومی پر بل اینڈ ملنڈا گیٹس فائونڈیشن اور اسکے سنڈیکیٹ کا بول بالا ہے۔ پھر مودی سرکار، یوگی سرکار ،نتیش سرکار ،رگھوبیر سرکار ، سندھیا سرکار ، رمن سرکار ، شیو راج سرکار اور سونووال سرکار کیا بلا ہے؟ یہ سرکاریں بھی فائونڈیشن کی مٹھی میںہیں۔ اس کا ایک دائو دیکھیں ،پورا ماجرا سمجھ میں آجائے گا۔ ’مشن پریوار وکاس‘ کے نام پر چل رہے ڈی ایم پی اے انجیکشن ابھیان کو مانیٹر کررہا ہے بل اینڈ ملنڈا گیٹس فائونڈیشن کا انڈیا ہیلتھ ایکشن ٹرسٹ (فوٹو 13)۔گیٹس فائونڈیشن نے یو پی کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر وکاس گوٹھوال کو انڈیا ہیلتھ ایکشن ٹرسٹ کا چیف بنا رکھا ہے۔ گیٹس فائونڈیشن سے متاثر رہے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے گوٹھوال کو باقاعدہ چھٹی دے کر ٹرسٹ جوائن کرنے کی منظوری دی تھی۔ گوٹھوال کا دور کار 2014-15-16 کے لئے تھے۔ پھر یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلیٰ بنے اور انہوں نے گیٹس فائونڈیشن کے فوری اثر میں گوٹھوال کو اگلے تین سال کے لئے بھی ٹرسٹ میں بنے رہنے کی منظوری دے دی۔
-3آبادی کنٹرول کے نام پر سات ریاستوں میں شروع ہوا گندا کھیل اور -4 ملک کی لو اور لوور مڈل کلاس خواتین کو بانجھ بنانے کی سازش
پیدائش کی شرح کم کرنے کے لیے ’مشن پریوار وکاس‘ کے نام پر عورتوں کو ’انترا‘ کے نام سے دیا جانے والا انجکشن ’ڈپو میڈروکسی پروجیسٹیرون ایسیٹیٹ‘ (ڈی ایم پی اے) عورتوں کو سنگین بیماری کی سرنگ میںدھکیل رہا ہے۔ اس دوا کے استعمال کے کچھ عرصے بعد عورتیں پھر ماں بننے کے لائق نہیں رہ جاتیں۔ اگر بنتی بھی ہیں تو بچے اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ جلدی موت کا شکار ہوجاتے ہیں،جو بچ جاتے ہیں،وہ معذورہوکر رہ جاتے ہیں۔ فارماکولوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی ایم پی اے کے استعمال سے مستقل طور پر جسمانی تبدیلی ہوجاتی ہے اور ہڈیاں گلنے لگتی ہیں۔مردوں میں اس کا استعمال کرنے سے انھیں ہارٹ اٹیک اور اوسٹیوپوروسس کا خطرہ رہتا ہے۔ مردوں کی چھاتی عورتوںکی طرح پھولنے لگتی ہے۔اس کا استعمال کرنے والی عورتوں کی جسمانی ترتیب بدل جاتی ہے۔ ہڈی کی کثافت (بون ماس) گلنے اور سکڑنے لگتیہے۔ ہونٹوں کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔ بال جھڑنے لگتے ہیں اور پٹھوں کی کثافت بھی گلنے لگتی ہے۔ ڈی ایم پی اے انجکشن آسٹیوپوروسیس اور بریسٹ کینسر ہونے میں شراکت کرتا ہے اور اس کے استعمال سے وضع حمل مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ ایچ آئی وی کے انفیکشن کا آسان مددگار بن جاتا ہے۔ ڈی ایم پی اے انجکشن کا استعمال کرنے کے ایک سال کے اندر 55فیصد خواتین کی حیض میں غیر متوقع تبدیلی دیکھی گئی ہے اور دو سال کے اندر ا س غیر متوقع مہلک تبدیلی نے 68 فیصد خواتین کو اپنے گھیرے میںلے لیا۔ ڈی ایم پی اے انجکشن کا استعمال کرنے والی عورتیں بعد میں جب حمل وضع کرنا چاہتی ہیں تب پیدا ہونے والا ان کا بچہ انتہائی کم وزن کا ہوتا ہے اور زیادہ تر معاملوںمیں ایسے بچوںکی سال بھر کے اندر موت واقع ہوجاتی ہے۔ دوا کا استعمال کرنے والی عورتیںکے حمل وضع کرنے کے بعد ہونے والے بچوں کے جنسی طور پر متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ اس کا استعمال کرنے والی عورتوں کے دماغی نظام پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ اس دوا سے بریسٹ کینسر کے علاوہ سروائیکل (ریڑھ کی ہڈی) کا کینسر ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ 2006 کا ایک مطالعہ بتاتا ہے کہ دوا کے دو سال کے استعمال سے اوسٹیوپوروسیس ہونے کا امکان مضبوط ہوجاتا ہے۔ 2012 کے ایک مطالعہ میںیہ پتہ چلا کہ 12 مہینے یا اس سے زائد وقت تک ڈی ایم پی اے کے استعمال سے بریسٹ کینسر ہونے کے کئی کیس سامنے آئے۔ ڈی ایم پی انجکٹ کرنے سے پہلے متعلقہ خواتین کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر کی یہ ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ انجکشن لینے والی عورت کو ڈی ایم پی اے سے ہونے والے نقصان کے بارے میںپہلے ہی بتادے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے۔ ’انترا‘ کے پیکٹس پر بھی ہدایت یا جوکھم کا ذکر نہیں ہے یہاںتک کہ دوا ساز کمپنی کا نام بھی درج نہیں ہے۔ عام طور پر بچوں کو دیے جانے والے ٹیکے میںبھی چار ہدایتوںکے ساتھ ٹیکہ لگایا جاتا ہے لیکن ڈمپا انجکشن لگانے سے پہلے کوئی ہدایت نہیںدی جارہی ہے۔
مرکزی سرکار کی یہ مہم ملک کی لو کلاس، لوئر مڈل کلاس ،دیہی اور گاؤں پر مبنی ناخواندہ،نیم خواندہ قصباتی آبادی کو ٹارگیٹ کررہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ سینٹرز، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز اور پرائمری ہیلتھ سینٹرز میںکون عورتیںجاتی ہیں اور کس کلاس سے آتی ہیں، اس کے بارے میںسب کو پتہ ہے۔ ہیلتھ سینٹرز کو زیادہ انجکشن لگانے کا ہدف دیا گیا ہے۔ پرائمری ہیلتھ سینٹرز پر کوئی ڈاکٹر ہی دستیاب نہیں رہتا جو انجکشن دینے سے پہلے متعلقہ عورت کا ہارمونل اسیسمنٹ کرے اور اسے ڈی ایم پی اے انجکشن کے خطروں کے تئیںآگاہ کرے۔ انجکشن دینے سے قبل متعلقہ عورت سے رضامندی لینے کی رسم صرف کاغذ پر پوری کی جارہی ہے۔ جس کلاس سے عورتیں آتی ہیں، ان کی بیداری کی سطح انھیںاس قابل نہیںبناتی کہ وہ لگنے والے انجکشن کے خطروں اور جوکھم کے بارے میںکچھ جان پائیں۔ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن دوا بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی ’فائزر‘ اور چلڈرینس انوسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کئی غریب ملکوںمیںڈی ایم پی اے کو ہی ’سائنا پریس‘ نام سے بیچ رہا ہے۔ ڈی ایم پی اے انجکشن سیرنج کے ذریعہ دیا جاتا ہے جبکہ ’سائنا پریس‘ کے پاؤچ میں سوئی لگی ہوتی ہے۔ سوئی کو جسم میںچبھوکر پاؤچ کا سرا دبا دینے سے دوا جسم کے اندر انجکٹ ہوجاتی ہے۔ ہیلتھ منسٹری کے ذرائع بتاتے ہیںکہ ہندوستان میںبھی ’سائنا پریس‘ کو کسی دوسرے نام سے سیدھے عورتوں کو دینے کی تیاری چل رہی ہے۔
-5 اعداد وشمار کا فراڈ کرکے وزارت صحت نے 145 اضلاع میںپہنچایا ڈی ایم پی اے زہر اور -6 ہیلتھ سینٹرز کو دیا گیا ٹارگیٹ، زیادہ سے زیادہ عورتوں کو دیں ڈمپا انجکشن
’مشن پریوار وکاس‘ لانچ کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مہم کے ذریعہ 2025 تک ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ کو 2.1 پر لے آیا جائے گا جبکہ سچائی یہ ہے کہ ملک کا ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ 1015-16 کے سروے میںہی 2.1 درج کیا جاچکا ہے۔ واضح ہے کہ سرکاری اعداد وشمار کے فرضی واڑے میں مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی سیدھی ملی بھگت ہے۔ اعداد و شمار کا فرضی واڑہ کرنے کے لیے ہیلتھ منسٹری نے ’راشٹریہ پریوار سواستھ سرویکشن ‘ کا 2010-11 کا پرانا ڈاٹا اٹھا لیا اور نیشنل ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ 3.8 دکھاکر زیادہ سے زیادہ ضلعوں کو اپنی لپیٹ میںلینے کی سازش رچی۔ مرکزی اقتدار کے اس منظم فراڈ میںیو پی کا فرٹیلٹی ریٹ 5 دکھایا گیا اور اس بنیاد پر یوپی کے 57 ضلعوں میںدھندہ پھیلالیا گیا۔ راشٹریہ سواستھ سروے (این ایف ایچ ایس 4-) کے تازہ اعداد و شمار 2015-16 کے ہیں، جو یہ بتاتے ہیںکہ ملک کا ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ گھٹ کر 2.1 پر آچکا ہے۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق اترپردیش کا فرٹیلٹی ریٹ بھی 2.7 پر آچکا ہے۔
-7’ مشن پریوار وناش‘ثابت ہورہا ہے حکومت کا ’مشن پریوار وکاس‘
ؔ’مشن پریوار وکاس‘ تباہ کن اس لیے بھی ہے کیونکہ جن پرائیویٹ اسپتالوں اور نرسنگ ہوموں میںامیر لوگ علاج کرانے جاتے ہیں، وہاںکے ڈاکٹر امیر عورتوں کو ڈی ایم پی اے انجکشن پریسکرائب نہیںکرتے ۔ ’چوتھی دنیا‘ نے کئی پرائیویٹ اسپتالوں میںتحقیقات کی اورپرائیویٹ پریکٹس کرنے والے کئی ڈاکٹروں نے بھی پوچھ تاچھ میںکہا کہ وہ ڈی ایم پی اے انجکشن پریسکرائب نہیںکرتے ۔ زیادہ تر ڈاکٹروں نے کہا کہ عورتیں حمل وضع نہ کریں، اس کے لیے وہ شوہروں کو صلاح دیتے ہیںاور عورتوں کو بس مانع حمل گولی لینے کی صلاح دیتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ ڈی ایم پی اے کے سائڈ افیکٹ اتنے زیادہ ہیںکہ اسے سنبھال پانا مشکل ہے، اس سے کلینک یا اسپتال کی ساکھ خراب ہوگی اور کاروبار چوپٹ ہوجائے گا۔ ڈی ایم پی اے انجکشن کو منظوری دینے کے خلاف کئی سماجی تنظیموں نے مرکزی وزیر صحت کو خط لکھ کر انھیںایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ لیکن ان کی ایک نہیں سنی گئی۔ وزارت صحت کی اسکیم ملک کے لو اور مڈل خاندانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کیاسرکار سے اس کے ظلم کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا
انگریزی کا ایک فارمولہ ہے، where ignorance is bliss, it is folly to be wise یعنی جہاں جہالت پسند ہو، وہاں علم ہی بیوقوف ہے۔ میڈیا پبلک فورم ہے، ہم جو بولتے ہیں، لکھتے ہیں یا ردعمل دیتے ہیں، اس کی وائڈ آڈینس اور پڑھنے کی صلاحیت ہے۔ بغیر سوچے سمجھے ، بغیر کسی سماجی انسانی سروکار کے ، بغیر کچھ جانکاری حاصل کیے، بغیر کچھ پڑھے لکھے ہم کسی بھی سنگین مدعے پر ردعمل دیتے ہیں تو ہم یہ نہیںسمجھتے کہ ہماری ہی شخصیت کی مزاحیہ پتنگ سماجی افق پر اڑتی ہے اوریہ چاروں طرف قائم رہتی ہے کہ ہماری لاعلمی ہی ہمارا پرمانند ہے۔ اس پرمانند کے جذبے کے تئیں ہمیںمحتاط رہنا چاہیے۔
ابھی کا سیاق و سباق وہ خبر ہے جو ’چوتھی دنیا‘ میںشائع ہوئی اور جسے سوشل میڈیا کا بھی حصہ بنایا گیاتاکہ وہ او ر وسیع دائرے میںپھیلے اور سماج میںبڑی مثبت بحث کا راستہ ہموار کرسکے۔ ’چوتھی دنیا‘ میںشائع خبر انتہائی حساس ہے۔ اس خبر پر پچھلے پانچ مہینے سے اس وقت سے کام چل رہا تھا، جب مشن پریوار وکاس شروع کرنے کا اعلان ہوا تھا۔ محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے تب ہی کہا تھا کہ مرکز نے جس نیشنل فرٹیلٹی ریت کی بنیاد پر ملک کے 145 ضلعوںمیںیہ مشن شروع کیا ہے، وہ اعداد و شمار 2010-11 کے ہیں۔ یعنی مرکزی سرکار نے 2015-16 کا نیشنل فرٹیلٹی ریٹ چھپا لیا اور پچھلا والا زیادہ فرٹیلٹی ریٹ بتا کر زیادہ ضلعوںکو اس اسکیم کے دائرے میںلے لیا۔ آخر مرکزی سرکار نے جھوٹ کا سہارا کیوں لیا؟ کیا بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے ٹیبل کے نیچے سے ملنے والے دو تین سو کروڑ روپے کے لیے مرکزی وزیر صحت جھوٹ پروسیںگے؟ یہ سچ ہے کہ دنیا کی ہیلتھ اکانومی پر بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی اجارہ داری ہے۔ لیکن اس اسکیم کے پیچھے کیا صرف پیسہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی تباہی چھپی ہوئی ہے؟ ان سوالوں کی چھان بین کرنے کے سلسلے میںڈی ایم پی اے پر دھیان گیا، جسے ’انترا‘ کے نام سے عورتوںمیںانجکٹ کیا جارہا ہے۔ دوا کی خصوصیت کو لے کر جانچ پڑتال ہوئی اور جو نتیجہ سامنے آیا، اس نے ہلاکر رکھ دیا۔ پھر ڈی ایم پی اے کو لے کر دنیا کے کئی اہم میڈیکل جرنلس سے لے ڈاکٹروں، سائنسدانوں اورمیڈیکو لیگل ایکسپرٹس کے ریمارکس اور حوالے پڑھے گئے۔ ماہرین سے تفصیل سے بات کی گئی۔ اور تب یہ لگا کہ مرکزی سرکار کی اس اسکیم کے پیچھے صرف پیسہ کا لالچ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور ہی خطرناک ارادہ ہے۔وہ ارادہ کیا ہوسکتا ہے، اسی پر تو سماج میںبحث ہونی چاہیے اور جمہوری ذمہ داریوں کے تحت سرکار سے جواب مانگا جانا چاہیے۔
جو دوا خونخوار جنسی مجرموں کو سزا کے طور پر دی جاتی ہے، اسے ناخواندہ ، نیم خواندہ عورتوں میںانجکٹ کیا جارہا ہے، محض اس لیے کہ آبادی کم ہوسکے؟ یہ کیسی خوفناک بات ہے اور ایسی خوفناک حرکتوں پر اسی ملک کا کوئی شہری یہ بولے کہ ملک کی وسیع آبادی کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے یا میڈیا اقتدار کے سُر میں رینکے تو آپ سوچیںگے نہ کہ ہم کیسے دیش واسی ہیں۔ اس خبر کو نیوز چینل ’نیوز 24- ‘نے کہہ دیا کہ فرضی ہے تو دوسری طرف ایک سینئر ڈاکٹر نے بڑھتی آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ضروری بتا دیا ۔ پھر اپنی بات سدھارتے ہوئے کہا کہ ہر دوا کے تھوڑے سائڈ افیکٹ تو ہوتے ہیں ۔کچھ لوگوں نے اسے مسلم انسپائرڈ بتانے کا بھی دھرم نبھایا۔
ان بے معنی بحثوں میںالجھنے کے بجائے سرکار کے ظلم پر بحث ہونی چاہیے تھی۔ یہ مستند حقیقت ہے کہ ڈی ایم پی اے کا انجکشن لینے والی عورت اگر دو سال بعد ماں بننا چاہے تو اس کے وضع حمل میںتمام رکاوٹیںآئیںگی۔ ڈی ایم پی اے کی تاثیر ہے کہ وہ ہڈیاں گلائے گی، جسمانی ترتیب کو بدلے گی۔حیض میں رکاوٹ ڈالے گی، بریسٹ کینسر سے لے کر ریڑھ کی ہڈی میںکینسر کی بیماری بڑھائے گی، عورت کے جسم کو خطرناک جنسی امراض کے انفیکشن کا سامان بنا دے گی اور ایسی عورتوں سے جو نسل پیدا ہوگی، وہ معذور، دماغی طور پر سیمی ڈیولپڈ اور پنگو نکلے گی،۔ بحث اس بات پر ہونی چاہیے یا اس بات پر کہ آبادی روکنے کے لیے یہ ضروری قدم ہے؟ ملک کے جن 145 اضلاع کو اس کے لیے ٹارگیٹ بنایا گیا ہے، وہاں کا سماجی ڈھانچہ دیکھیںگے تو آپ کو رونا آئے گا۔ کوئی تعلیم نہیں، کوئی بیداری نہیں،انھیںکیا پتہ کہ ڈی ایم پی اے کا زہر ان کی نسل کو تباہ کرنے والا ہے۔ ایسی دواؤں کے استعمال کے لیے ایسے ہی پچھڑے علاقوں کو کیوں چنا جاتا ہے، جہاںبیداری کا گزر نہیں۔ ان بھولے بھالے دیہاتیوں کو کیا پتہ کہ جو دوا ان کے خاندان کی عورتوں کو انجکٹ کی جارہی ہے، اس دوا کا استعمال جنسی مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ تو کیا مرکزی سرکار سے یہ سوال نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ ملک کی عورتوں کی جنسی صلاحیت کیوںختم کی جارہی ہے؟ یا کہ اندھ بھکتوں کی جماعت میںشامل ہوکر جمہوریت کو اپنے پیروںتلے کچل دیں۔ کیا سرکا ر کو یہ بتانا ہماری جمہوری ذمہ داری نہیں کہ بڑ ھتی آبادی کو قابو میں کرنے کے اور بھی طریقے ہیں، انسانی سے لے کر انتظامی تک۔ آبادی کو نوکری سے لے کر سہولیات تک جوڑیں، لوگوںکو دماغی طور پر یہ سمجھائیںکہ آبادی بڑھانا اپنا ہی نقصان ہے۔ ایسا نہیںکرکے آبادی کم کرنے کے لیے سرکار قتل عام کرے گی؟ یہ ڈی ایم پی اے کا انجکشن کیمیائی قتل عام نہیںہے تو کیا ہے؟ کیاسرکار سے یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے ؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *