ظاہر وباطن کی تفریق سے اپنے آپ کو بچائیں مسلمان: مولانا محمد رحمانی مدنی

muhammad-rahmani

جہاں مسلمانوں کی خراب عادتوں میں سے شوشل میڈیا کا غلط استعمال اور وقت کاضائع کرنا ہے وہیں آج کے دور کی ایک بڑی خرابی ایک انسان کا کئی کئی چہرے رکھنا بھی ہے، آج مسلمان بھی جیسا دیس ویسا بھیس والی مثل کو اپنا کر اپنے ایمان واسلام کو تباہ کررہے ہیں،صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہاں کے مزاج کے حساب سے بات کرتے ہیں اور خود ہمارا نہ کوئی اصول ہے اور نہ ہم اسلامی تعلیمات کو اپنا کر اس کے لئے جرأت مندی اور ہمت کا ثبوت دیتے ہیں۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ظاہرا ورباطن کو یکساں بنائیں اور زندگی جن اصولوں پر گزاریں ان پر قائم ودائم رہیں ، ابن الوقتی اور نفاق کو خیرباد کہیں اور اپنی زندگی کو مضبوط اور باہمت بنائیں۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا نفاق کی علامتیں اور اس سے متعلق مسلمانوں کے حالات پر گفتگو فرمارہے تھے۔مولانا نے مزیدفرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ منافقین کی چار علامتیں ہیں:امانت میں خیانت کرنا،جھوٹ بولنا،وعدہ خلافی کرنا اور بحث وباحثہ میں گالی گلوچ پر اترآنا منافق کی علامتیں ہیں، اسی طرح بعض روایات میں ہے کہ بخیلی اور لالچ،بیہودہ بکنا اور فحش گوئی بھی منافق کی نشانیاں ہیں اگر چہ ان کو انجام دینے والا نمازو روزہ کا اہتمام کرتا ہو، حج اور عمرہ پرجاتا ہو لیکن اس کی یہ خصلتیں اس کے اسلام اور اس کی عبادات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور کبھی کبھار وہ اسلام سے خارج ہوکر نفاق میں داخل ہوجاتا ہے۔منافقین کے بارے میں اللہ رب العالمین نے فرمایا کہ منافقوں کو جہنم میں سب سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا۔
خطیب محترم نے مزید فرمایا کہ آج مسلمانوں کے ظاہر وباطن میں فرق پایا جاتا ہے، بہت سے تو تقیہ جیسی فاسد چیز کو اسلام کا حصہ سمجھتے ہیں جب کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے یہی منافق تھے، ان لوگوں نے ہمیشہ اسلام اور اسلامی تعلیمات سے متعلق دوگلی پالیسی اختیار کی اور مسلمانوں کو ہمیشہ دھوکہ دیا اور بظاہر مسلمان بن کر اسلام کو ہمیشہ نقصان پہنچاتے رہے۔آج مسلمانوں میں بہت سے لوگوں کی عادت یہ ہے کہ سامنے تعریف کرتے ہیں اور پیٹھ پیچھے برائیاں تلاش کرتے ہیں۔ایک مرتبہ بعض لوگوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ہم جب حکمرانوں کے پاس ہوتے ہیں تو ان کی تعریف کرتے ہیں لیکن جب وہاں سے نکل جاتے ہیں توان کی تنقید کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اس خصلت کو نفاق میں شمار کرتے تھے۔
خطیب محترم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندرایمان کی پختگی پیدا کریں، قرآن وسنت کی بنیاد پر جرأت مند بنیں اور اپنے اصولوں کے اظہار میں خوف محسوس نہ کریں، ہمارا اسلوب اور انداز بیان تو مختلف جگہوں پر کسی کی رعایت کرکے بدل سکتا ہے لیکن اظہار حق اور اپنے قرآن وسنت کے مشن کی وضاحت میں ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آنی چاہئے۔اخیر میں مسلمانوں سے اپنی زندگی میں مکمل اسلامی تعلیمات کی پاسداری کی اپیل اور دعائیہ کلمات پر خطبہ ختم ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *