مسلم نوجوانوں کا سوشل میڈیا اور دنیا وی وسائل میں وقت ضائع کرنا افسوسناک:مولانا محمد رحمانی مدنی

تنہائی میں گناہوں کو انجام دینے والے لوگوں کی نگاہوں سے تو بچ جاتے ہیں لیکن اللہ تعالی انہیں دیکھ رہا ہے، یہ لوگ راتوں میں آپس میں وہ گفتگو کرتے ہیں جسے اللہ رب العالمین ناپسند کرتا ہے اور اللہ رب العالمین ہر چیز سے واقف ہے۔اللہ رب العالمین ہم سے غیب میں اللہ کی خشیت اور تقوی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور ہمیں ظلم وجور اور سیاہ کاریوں سے دور رہنے کی تلقین کرتاہے کیوں کہ تنہائی میں گناہوں کو انجام دینا اور دنیا کے سامنے شرافت کا اظہار کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔
اللہ رب العالمین نے ہمیں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے اور سچا مسلمان بننے کا حکم دیا ہے نیز ہم سے وقت کے صحیح استعمال اور اپنے تمام اعضاء وجوارح کے صحیح استعمال کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ آخرت میں زبانیں گنگ ہوجائیں گی اور اعضاء وجوارح برائیوں کی گواہی دیں گے۔لیکن بدقسمتی یہ ہے ہم نے اسلامی تعلیمات کی ساری حدیں پار کردیں اور اسلامی تعلیمات کا مذاق بنا ڈالا، حلال وحرام کی تمیز چھوڑدی، ہماری خواتین بے پردہ ہوگئیں، ہم نے جھوٹ اور دھوکہ کو اپنا وطیرہ بنا لیا، لوگوں کے ساتھ غلط سلوک، بے راہ روی اور سیاہ کاریوں کو اپنانا ہماری عادت بن گئی، اس کے باوجود ہم جب پریشان ہوتے ہیں تو اللہ سے مدد کی توقع کرتے ہیں ۔
ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر جناب مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکر صدیق، جوگابائی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا۔مولانا نے دنیا کی حقیقت اور مسلم نوجوانوں کا اس میں مگن ہوکر آخرت سے غافل ہوجانا کے موضوع پر خطاب فرمارہے تھے۔خطیب محترم نے فرمایا کہ دنیا دھوکہ کا سودا اور آخرت کی کھیتی ہے، یہاں ہمیں چند دنوں تک رہنا ہے، اصل اور ہمیشگی کی زندگی آخرت کی زندگی ہے، اس وجہ سے ہمیں اس کے لئے تیاری کرنی چاہئے اور قرآن وسنت پر بھرپور عمل کرکے سچا مسلمان بننا چاہئے۔
موصوف نے مزید فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ہمیں ہر ہر جگہ اور تمام مقامات پر اللہ کا تقوی اختیار کرنا چاہئے اور دنیاوی زندگی جسے کھیل کود سے زیادہ کچھ نہیں کہا گیا ہے اسے اسلامی اصولوں پر گزارنا چاہئے، اس دنیا کی مثال آخرت کے مقابلہ میں ویسے ہی ہے جیسے سمندر میں انگلی ڈال کر اسے نکالا جائے تو کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ ہمیں دنیا میں کفار ومشرکین کے عیش وعشرت اورعمدہ زندگی گزارنے سے مرعوب نہبں ہونا چاہئے بلکہ اس دنیا کو کچھ بھی اہمیت نہ دے کر اسے صرف آخرت کی تیاری کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔
خطیب محترم نے فرمایا کہ آج نئی نسلیں بالخصوص مسلم نوجوان اپنی عمر کا اکثر حصہ فضول چیزوں میں برباد رکردیتا ہے۔غیر ضروری چیزوں کے استعمال کے لئے شوشل میڈیا کا استعمال ہمارا مشغلہ بن گیا ہے اور ہم اپنے قیمتی اوقات کو ان فضولیات میں برباد رکررہے ہیں جبکہ ان کا بے جااستعمال شرعا حرام ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم تعلیمی میدان میں بھی پیچھے نظر آتے ہیں اور اخلاقیات میں بھی ۔ ہمیں اللہ تعالی کا خوف اختیار کرنا چاہئے اور اس کے عذاب سے چوکنا رہنا چاہئے۔اللہ تعالی نے قوم عاد کو پتھروں کی بارش،قوم ثمود کو تیز اور شدید آواز، قارون کو زمین میں دھنسادینے کے عذاب اور فرعون کو ڈبودینے کے عذاب کے ذریعہ تباہ وبرباد کردیاتو وہ آج بھی ہمارے کرتوتوں کے نتیجہ میں ہمیں تباہ وبربادکرنے پر قادر ہے اور اس کے غضب سے محفوظ رہنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم دین کی جانب رجوع کریں اور اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کریں اور قرآن وسنت ہی کودل وجان سے اپنا لیں۔اسی میں ہماری دنیا اورآخرت کی کامیابی ہے ورنہ ہمیں اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔اخیر میں دعائیہ کلمات اور دین کی جانب رجوع کرنے کی اپیل پر خطبہ ختم ہوا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *