میڈیکل کمیشن بل اور نیشنل ہیلتھ پالیسی رائٹ ٹو ہیلتھ کیوں نہیں ؟

نیم حکیم خطرہ جان۔یہ کہاوت آپ نے سنی ہی ہوگی۔ مرکزی سرکار ایک ایسا قانون پا س کرنے جا رہی ہے جو ملک میں نیم حکیموں کو عوام کے ہیلتھ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی قانونی چھوٹ دے دے گا۔ یہی نہیں، اس قانون کے پاس ہو جانے کے بعد پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کا سیلاب آجائے گا جو اپنی مرضی سے ایم بی بی ایس کی سیٹیں بڑھا سکیں گے اور من مانی فیس کی وصولی کر سکیں گے۔ملک کے طلباء کو اپنی پڑھائی پوری کرنے کے بعد پریکٹس لائسنس حاصل کرنے کے لئے روس جیسے ملکوں سے میڈیکل کی پڑھائی کر کے لوٹے ڈاکٹروں کے ساتھ ایگزٹ ایگزام میں بیٹھنا پڑے گا۔ اس قانون کے پاس ہونے کے بعد میڈیکل کی پڑھائی مہنگی تو ہوگی ہی، اس کے نتیجے میں عوام کے لئے ہیلتھ سروسز بھی مہنگی ہو جائیںگی۔یہ مجوزہ قانون ہے ’راشٹریہ میڈیکل آیوگ بل 2017‘ ۔ساتھ ہی اس اہم اسٹوری میں ہم نے ملک کی ہیلتھ پالیسی اور پرائمری سینٹروں کی بھی تصویر آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ ملک کی موجودہ اور مستقبل کی عوامی ہیلتھ سروسز کی تصویر قارئین کے سامنے آسکے۔

پچھلے سال اگست مہینے میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت والے گروپ آف کابینی وزراء (جی او ایم ) نے بدلائو کے کچھ سجھائو کے ساتھ’ راشٹریہ میڈیکل آیوگ بل 2017 ‘کو اپنی منظوری دے دی تھی۔ اس کے بعد 29 دسمبر 2017کو میڈیکل اینڈ فیملی ویلفیئر منسٹر جے پی نڈا نے اس بل کو لوک سبھا میں پیش کیا۔ لیکن انڈین میڈیکل کونسل کی ناراضگی اور ڈاکٹروں کی ہڑتال پر جانے کی دھمکی کے بعد اس بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی (ہیلتھ ) کے زیر غور بھیج دیا گیا ۔ کمیٹی اپنی رپورٹ بجٹ سیشن سے پہلے سرکار کو دے سکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ 2016 میں نیتی آیوگ کے اس وقت کے وائس چیئر مین اروند پن گڑھیا کی صدارت میںبنی چار رکنی کمیٹی نے راشٹریہ میڈیکل آیوگ ( این ایم سی ) بل کا مسودہ تیار کیا، جسے عوامی کرکے عام لوگوں اور میڈیکل سسٹم سے جڑے الگ الگ افراد سے سجھائو مانگے گئے ۔اس وقت بھی بل کے پروویژن کو لے کر میڈیکل سسٹم سے جڑے لوگوں نے اپنا اعتراض درج کرایا تھا۔
بل کے پروویژن
بہر حال پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد’ راشٹریہ میڈیکل آیوگ‘سال 1956 میں بنے میڈیکل کونسل آف انڈیا ایکٹ کی جگہ لے لے گا۔ فی الحال یہ بل پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس ہے۔ کمیٹی کے سجھائو کے بعد ایک بار پھر اس بل کو پاس کروانے کی از سر نو کوشش کی جائے گی۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی اپنی رپورٹ میں اصل بل میں کون کون سے سجھائو پیش کرتی ہے۔ لیکن یہاں بل کے کچھ پروویژن پر ایک نظر ڈال لینا مناسب ہوگا۔ اس بل میں میڈیکل ایگزام اور اعلیٰ مہارت والے ڈاکٹر مہیا کرانے، جدید آلات کو اپنے کام میں شامل کرنے اور میڈیکل اداروں کا وقت بوقت جائزہ لینے سے متعلق کئی تجاویز رکھے گئے ہیں۔ بل میں ایم بی بی ایس گریجویٹس کو ڈاکٹری کی پریکٹس کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے ایک ایگزٹ ایگزام پاس کرنے کا پروویژن رکھا گیا ہے۔یہ ایگزام پوسٹ گریجویٹ کورسیز میں داخلے کے لئے نیشنل ایلی جبلیٹی ٹیسٹ (نیٹ ) کا بھی کام کرے گا۔ اس کے علاوہ بل میں چار خود مختار بورڈ تشکیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ایجوکیشن کے آپریشن ، میڈیکل اداروں کی ریٹنگ اور جانچ ، ڈاکٹروں کا رجسٹریشن اور میڈیکل ایتھکس کو لاگو کرنا ، اس بورڈ کی ذمہ داری ہوگی۔ ممبروں کو نامزد کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس پر ملک کے الگ الگ حصوں کے ڈاکٹروں نے اعتراض کیا تھا۔ اس کے بعد جی او ایم نے اس پروویژن میں بدلائو کرتے ہوئے اس میں کچھ منتخب ممبروں کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔
ڈاکٹروں کی کمی کی بھرپائی نیم حکمیوں سے
اس بل کو لے کر سب سے پہلی قابل اعتراض بات یہ ہے کہ آیوش (آیورویدک ، یونانی وغیرہ ) کے ڈاکٹر ایک بریج کورس پاس کر لینے کے بعد ایلوپتھک دوائیں دینے کے مستحق ہو جائیںگے۔ اس طرح کا ایک قانون مدھیہ پردیش میں لاگو ہے جہاں تین مہینے کی کلاس کے بعد روایتی میڈیکل اہلکاروں کو 72 ایلوپیتھک دوائیں دینے کا لائسنس دے دیا جاتا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن ( آئی ایم اے ) کا ماننا ہے کہ اس پروویژن کی وجہ سے ملک میں جھولا چھاپ نیم حکیموں کا سیلاب آجائے گا۔ظاہر ہے روایتی میڈیکل کا ایک اپنا مقام ہے۔ کئی معاملوں میں آیوروید ،یونانی اور دوسری متبادل پیتھی کارگر ثابت ہوتی ہے اور مریض بھی اس علاج کو ترجیح دیتے ہیں لیکن محض کچھ مہینوں کی ٹریننگ کے بعد ایلو پیتھک طریقہ کار کی پریکٹس کی اجازت دے دینا غریب عوام کی زندگی سے کھلواڑ کرنے کے برابرہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 

ہیلتھ سروسز کی مارکیٹنگ
اس بل کے پاس ہو جانے کے بعدملک میں میڈیکل ایجوکیشن پر دور رس اثرات پڑنا تو لازمی ہے لیکن اس میں ہیلتھ سروسز میں کسی خاص بدلائو کی گنجائش نظر نہیں آرہی ۔ صرف یہ کہہ دینے سے کہ ہیلتھ سیکٹر کے پرائیوٹائزیشن سے اعلیٰ خوبیوں والی طبی سہولت دستیاب ہو جائے گی ،دور کی کوڑی لگتی ہے۔ کمرشیلائزیشن نے علاج اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ غریب آدمی کسی پرائیویٹ اسپتال میںعلاج کروانے کی سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں غریبوں کے لئے مفت علاج کا جو پروویژن ہے ،اسے بھی اسپتال مینجمنٹ نے پیسے کمانے کے لالچ میں چھین لیا ہے۔ اس کام میں ملک کے بڑے بڑے اور مشہور اسپتال شامل ہیں۔ اسپتالوں کے ذریعہ علاج سے انکار کی خبریں یا علاج میں لاپرواہی یا صرف پیسے اینٹھنے کے لئے غیر ضروری علاج کے معاملے اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں۔ایسے معاملوں کو لے کر یہ بل خاموش ہے۔ ایتھکس کی بات صرف تعلیم کی سطح پر ہے۔
پہلے سے ہی ملک کے پرائیویٹ میڈیکل کالج فائدہ کمانے والے ادارے بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایڈمیشن سیشن کے وقت، ان کالجوں کی فیس کے نام پر کروڑوں روپے کی کمائی کی خبروں سے اخبار بھرے رہتے ہیں۔ اس بل میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اعلیٰ خوبیوں والے ڈاکٹر مہیا کرانے اور جدید تحقیق کو اپنے کام میں شامل کرنے کے لئے فار پرافٹ میڈیکل کالج کھولنے کا بھی پروویژن رکھا گیاہے۔یہ کالج ضرورت پڑنے پر سیٹیں بڑھا اور گھٹا سکتے ہیں۔ وہیں نیشنل میڈیکل کمیشن ، پرائیویٹ کالجوں کے 40فیصد سیٹوں کی فیس کو کنٹرول کریں گے۔ اس کے لئے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ اگر این ایم سی نے فیس کنٹرول کیا تو پرائیویٹ سرمایا کار کالج کھولنے میں اپنا پیسہ لگانے سے گھبرائیں گے اور ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کی توسیع کا ہدف ناکام ہو جائے گا۔
پھر کون بنے گا ڈاکٹر؟
ایسے میں جب فی الحال ملک میں فار پرافٹ میڈیکل کالج کھولنے کا پروویژن نہیں ہے، تب یہاں کالجوں کے ذریعہ فیس کے نام پر کروڑوں روپے اینٹھے جارہے ہیں۔ من مانی فیس وصول کرنے کی اجازت ملنے کے بعد کیا حالت ہوگی۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ویاپم جیسے ایڈمیشن کے دلالوں کا جو بازار گرم ہوگا ، سو الگ ۔ ظاہر ہے میڈیکل ایجوکیشن کا خرچ بڑھنے سے ہیلتھ سروسز اور مزید مہنگا اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہو جائے گا۔ سب سے اہم یہ کہ جب کالجوں کی فیس کروڑوں روپے ہوگی تو کم آمدنی والے طبقہ کی80فیصد سے زیادہ آبادی کے لئے تعلیم کی یہ توسیع بے معنی ہو جائے گی۔ پسماندہ ،شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائبس کے لوگ اس فیس کا بوجھ برداشت نہیں کر پائیںگے۔
جب رہی بات خوبیوں کی، تو اس سلسلے میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری کے بعد میڈیکل ایجوکیشن کی خوبیوں میں سدھار آئے گا۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جب پرائیویٹ کالج کھولنے کی بات چل رہی تھی ،اس وقت بھی یہی دلیل دی جارہی تھی کہ ایسا کرنے سے ایجوکیشن کی خوبیوں میں سدھار ہوگا۔ لیکن ان پرائیویٹ کالجوں کے سلسلے میں جو رپورٹیں آرہی ہیں ،وہ کسی بھی طرح حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق پرائیویٹ کالجوں سے پاس ہونے والے 80 فیصد انجینئر کسی کام کے نہیں ہیں۔ موجودہ بل میں اس حقیقت کا ایک حل یہ نکالا گیا ہے کہ ایم بی بی ایس پاس کرنے والے ہر طالب علم کو پریکٹس لائسنس حاصل کرنے کے لئے ایک آل انڈیا ایگزٹ ایگزام میں بیٹھنا ہوگا۔
پڑھائی سے زیادہ ایگزٹ ایگزام پر بھروسہ
ایگزٹ ایگزام کے سلسلہ میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ اس سے منا بھائی ٹائپ کے ڈاکٹروں پرروک لگ سکے گی اور ملک کی ہیلتھ سروسز میں سدھار ہو سکے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی طالب علم نے ایگزام پاس کر لیا تو اسی طرح کے ایگزام سے گزرنے کا کیا جواز ہے؟ایسے میڈیکل کالج ہی کیوں کھلنے دیئے جائیں، جہاں تعلیم کی خوبیوں میںشک کی گنجائش ہو؟ظاہر ہے سرکار یہ مان کر چل رہی ہے کہ میڈیکل کالج چاہے جو پڑھائے، ہم ایک ایگزام کے ذریعہ ڈاکٹر کی صلاحیت جانچ لیں گے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکار یہ یقینی نہیں کرے گی کہ کوئی میڈیکل کالج کروڑوں روپے لے کر کس سطح کا میڈیکل ایجوکیشن دے گا۔ اس کا ایک اور پہلو ہے کہ میڈیکل میں داخلے کے لئے پیرنٹس و بچوں کی کوچنگ پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اب اس امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایم بی بی ایس کی پڑھائی میں لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد اس ٹیسٹ کو پاس کرنے کے لئے بھی کوچنگ کا کاروبار شروع ہو جائے گا۔ دوسری چیز یہ ہے کہ کہیں یہ ایگزام اس لئے تو نہیں لیا جارہا ہے کہ کمزور طبقہ کو دیئے جانے والے ریزرویشن پر سوالیہ نشان لگایا جاسکے؟کیونکہ ریزرویشن کی مخالفت کرنے والے اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ریزرویشن کا فائدہ لے کر ایم بی بی ایم پاس کرنے والے ڈاکٹر کسی کام کے نہیں ہوتے اور بل میں ریزرویشن لفظ کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا گیاہے۔ ملک کے میڈیکل گریجویٹ کے ساتھ جو دوسری ناانصافی ہو رہی ہے ، وہ یہ ہے کہ انہیں بھی بیرون ملک سے میڈیکل کی پڑھائی کرکے واپس آئے گریجویٹ کے ساتھ اس ایگزام میں بیٹھنا پڑے گا۔
کل ملا کر دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس بل سے ہیلتھ سروسز میں سدھار ہو یا نہ ہو، سطحی میڈیکل کالجوں کا سیلاب آجانے اور جھولا چھاپ ڈاکٹروں کی فوج تیار کرنے کی پوری گنجائش ہے۔نتیجتاً میڈیکل جیسی اعلیٰ تعلیم غریب اور محروم طبقہ کے طلباء کی پہنچ سے دور ہو جائے گی ،دوسری طرف غریب مریض علاج کے بغیر مرتے رہیں گے۔
نیشنل ہیلتھ پالیسی
گورکھپور کا واقعہ بھول جائیے ،اگر بھول سکتے ہیں۔دہلی آئیے ملک کی راجدھانی ۔یہاںپانچ ستارہ اسپتال ہے۔ جہاں زندہ بچے کو مردہ بتا دیا جاتاہے کیونکہ خاندان کے لوگ لاکھوں روپے دینے میںنااہل رہے۔دہلی کے پاس ہی آئی ٹی ہب ہے گرو گرام۔یہاں کے فورٹس اسپتال میں ایک بچی ڈینگو جیسی بیماری سے مر جاتی ہے اور بل آتا ہے 27لاکھ روپے کا۔ پریوار کا بیمہ دس لاکھ کا تھا۔باقی کا پیسہ اس پریوار نے کیسے چکایا ہوگا، پریوار ہی جانے ۔ 2015 میں ہندوستان میں ہرایک دن 321 بچوں کی موت ڈائریا سے ہوئی۔ یہ رپورٹ عالمی ہیلتھ آرگنائزیشن کی ہے۔ ہندوستان میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوںکی موت کا دوسرا سب سے بڑا سبب ہے ۔غور طلب ہے کہ ڈائریا گندے پانی پینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ نتیجتاً یہ اعدادو ثابت کرتے ہیں کہ ہندوستان میں صاف صفائی اور پینے کے پانی کی کیا صورت حال ہے۔ 2015-16 میں آدھے کے قریب بچوں کو ہی او آر ایس کی سپلائی کی جاسکی تھی،جس سے ہندوستان کے ہیلتھ سسٹم کی حالت کا پتہ چلتا ہے ۔ہندوستان کے مقابلے 2015 میں پاکستان ،کینیا، میانمار جیسے ملکوں میں ڈائریا سے کم موتیں ہوئیں۔ ڈائریا کی روک تھام کے لئے روٹا وائرس کا ٹیکا لگایا جاتاہے لیکن یہ ٹیکا سرکار کے مشن میں شامل نہیں ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں سے یہ ٹیکا کافی مہنگا ملتا ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں ہندوستان سب سے زیادہ ٹی بی پھیلائو میں ملوث ہے۔ 2015 میں ہندوستان میں تقریبا 28 لاکھ ٹی بی کے مریض تھے۔ ہندوستان میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد اندازہ سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ مشہور میڈیکل میگزن ’لیسنٹ‘نے سال 2014 میں کئے سروے میں پایا کہ ہندوستان میں پرائیویٹ سیکٹر میں تقریبا 19لاکھ سے لے کر 53 لاکھ تک مریضوں کا علاج کیا جارہاہے جو سرکاری اسپتالوں میں علاج کروا رہے مریضوں کی تعداد سے دوگنی ہے۔ ہندوستان میں ٹی بی کے کل معاملوں میں سے 10 فیصد بچوں میں ہوتے ہیں۔لیکن صرف چھ فیصد کا ہی پتہ چل پاتاہے۔
ایک سب سے خطرناک رجحان ڈائبٹیز کو لے کر ہے۔دنیا میں 35 کروڑ لوگ ڈائبٹیز کے شکار ہیں۔ ہندوستان میں ہی صرف 6.3 کروڑ ڈائبٹیز کے مریض ہیں۔ عالمی ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2030 تک ڈائبٹیز لوگوں کی موت کا ساتواں سب سے بڑا سبب ہوگا۔ خطرناک رجحان یہ ہے کہ ڈائبٹیز آج غریبوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چین کے بعد ہندوستان میں سب سے زیادہ ڈائبٹیز کے مریض ہیں۔ یہ ظاہری طو رپر طریقہ زندگی اور کھانے کی وجہ سے ہے۔ ہندوستان کو دنیا کی ذیابطیس کی راجدھانی کی شکل میں جانا جا رہاہے اور 2025 تک یہاں 5سے 7 کروڑ ذیابطیس مریض ہونے کا امکان ہے۔ ہندوستان سرکار نے 2008 میں طبی سینٹر کھولے تھے۔ مودی سرکار نے اسے ’’پردھان منتری جن اوشدھی یوجنا ‘‘ کا نام دیا اور اس کی توسیع کر رہی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ راجستھان، اترا کھنڈ ، آندھر اپردیش اور مغربی بنگال میں میڈیکل سینٹر بند ہو چکے ہیں۔ 2014 تک 178 عوامی میڈیکل سینٹر 16ریاستوں اور مرکز کے تحت ریاستوں میں کھولے گئے تھے۔ جس میں صرف 98 ہی کام کررہے ہیں۔ ایک طرف فارمیسی کمپنیاں 80ہزار کروڑ روپے سے زیادہ گھریلو بازار میں دوائوں کی فروخت کررہی ہیں۔وہیں جینرک دوائیں دو کروڑ کے آس پاس ہی فروخت ہوپارہی ہیں۔ دراصل براندیڈ دوا کمپنیوں کے میڈیکل نمائندے شہر کے ڈاکٹروں کو دوائوں کے سمپل کے ساتھ ساتھ مہنگے تحائف بھی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر دوا کمپنیوںکو فائدہ پہنچانے کے لئے مریضوںکو براندیڈ کمپنیوںکی دوا خریدنے کو کہتے ہیں۔ دوسری طرف جنریک دوا کمپنیاں ایسا نہیں کرپاتی۔ اس لئے غریبوں کو سستے ریٹ پر دوا تک نہیں مل پاتی ۔
رائٹ ٹو ہیلتھ کیوں نہیں؟
اس کے علاوہ ،ملک کے دیگر ترقی انڈیکس کی بات کریں تو بچوں کی قلت غذائیت،عورتوں میں انیمیا یعنی خون کی کمی کے واقعات عام ہیں۔ بچوں کی موت کا اوسط،ڈلیوری کے دوران خواتین کی موت میں جو کمی آنی چاہئے وہ اب تک حاصل نہیں کی جاسکی ہے۔ایسے میں جب 2017 میں مرکزی کابینہ نے ’راشٹریہ سواستھ نیتی 2017‘ کو ہری جھنڈی دکھائی تو ایک امید جاگی لیکن ملک میں جس طریقے سے سرکاری ہیلتھ سروس کو برباد کیا گیا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر مہنگے ہیں،اسے دیکھتے ہوئے نیشنل ہیلتھ پالیسی کے ہدف کے پورا ہونے کے امکانات پر شک پیدا ہوتاہے۔ یہ صورت تب ہے جب ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والی معیشت ہے۔ نئی ہیلتھ پالیسی میں سب کے لئے ہیلتھ کے اصول پر کام کرتے ہوئے کمزور طبقہ کے لوگوں کو مفت دوا اور علاج کی سہولت فراہم کرانا ہے ۔ ساتھ ہی ہیلتھ سیکٹر میں بجٹ کو بڑھا کر جی ڈی پی کے 2.5 فیصد کی سطح تک لانا جو ابھی 1.5 فیصد ہے ۔ اس کے علاوہ بیماریوں، بچوں کی اموات کا اوسط اور خواتین کی اموات کے اوسط میں کمی لانے کے ساتھ زندگی کی توقعات کو بڑھانے کا بھی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔نئی پالیسی میںسرکار کا دھیان پرائمری ہیلتھ پر مرکوز کرنے کی بات کہی ہے ۔بڑی بیماریوں کے علاج کے لئے پرائیویٹ سیکٹر پر بھی منحصر ہونے کی بات کی گئی ہے ،یعنی اس کے لئے پرائیویٹ اسپتالوں کا تعاون لیا جائے گا لیکن پرائیویٹ اسپتالوں سے جڑے واقعات کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔اس پالیسی میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی اس سے جوڑ دیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ بڑے پرائیویٹ اسپتالوں میں مالی اعتبار سے کمزور طبقہ کے لوگوں کے لئے مفت علاج کا بندوبست ہے لیکن زمینی سچائی یہ ہے کہ دہلی جیسے شہر میںبھی اس ہدایت کی تعمیل نہیں ہوتی۔ غور طلب ہے کہ جب 2015 میں ’راشٹریہ سواستھ کا ڈرافٹ جاری کیا جارہا تھا،تب اس میں ہیلتھ کو حق بنانے کا پرویژن تھا لیکن بعد میں اسے ہٹادیا گیا۔
کہاں ہے دھرتی کے بھگوان
اگست 2017 میں انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق ہندوستان کے 1.3 ارب لوگوں کا علاج کرنے کے لئے ہندوستان میں صرف 10لاکھ ایلوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ ان میں سے 1.1 لاکھ ڈاکٹر عوامی ہیلتھ سیکٹر میںکام کرتے ہیں۔ اس لئے دیہی علاقوں میں قریب 90 کروڑ آبادی صحت کی دیکھ بھال کے لئے ان تھوڑے سے ڈاکٹروں پر ہی منحصر ہیں۔ آئی ایم اے یہ مانتا ہے کہ ڈاکٹروں اور مریضوں کے تناسب میں اس فرق کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں ایک بیڈ پر دو مریضوں تک کو رکھنا پڑتا ہے ۔سرکاری ڈاکٹر بھی کام کے دبائو سے پریشان ہیں۔ اس وجہ سے بھی عوامی ہیلتھ سروس کی خوبیوں پر کافی برا اثر پڑتا ہے اور لوگ مجبوری میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف جاتے ہیں۔
عوامی ہیلتھ سروس
جب سے ہیلتھ انڈسٹری کا تبادلہ میڈیکل ٹورزم کی شکل میں ہوا ہے تب سے سرکار نے عوامی ہیلتھ کے سیکٹر سے پلہ جھاڑ لیا ہے۔ عوامی ہیلتھ سیکٹر منافع کا دھندہ بنتا گیا اور سرکار بے فکر بنی رہی لیکن اب سرکار کی چھپی منشا صاف نظر آنے لگی ہے۔ کرناٹک نے’ آروگیہ بندھو یوجنا ‘کے تحت ہیلتھ سینٹروں کو پی پی پی ماڈل کے حوالے کرنے کی شروعات کی تھی۔ لیکن جلد ہی سرکار کو یہ احساس ہو گیا کہ عوامی ہیلتھ کو پرائیویٹ اسپتالوں کے بھروسے نہیں چھوڑا جاسکتاہے۔ کرناٹک سرکار وقت رہتے اس اسکیم سے پیچھے ہٹ گئی لیکن تبھی راجستھان سرکار کو یہ اسکیم بھا گئی۔ راجستھان سرکار نے 2015 میں ہی پی ایچ سی کو پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھوں سونپنے کا فیصلہ کرلیا۔ راجستھان سرکا ر نے 299 پرائمری ہیلتھ سینٹرس ، پی ایچ سی کو پرائیویٹ ہاتھوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ مرکزی پرائیویٹ حصہ داری کو بڑھاوا دینے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یعنی پی پی پی ماڈل پر چلائے گی ۔دیہی علاقوں میں جہاں سرکاری میڈیکل سروسز ندارد ہیں، وہاں پی ایچ سی ہی غریب کے لئے بیماری کا اکلوتا سینٹر ہے ۔ اگر پی ایچ سی پرائیویٹ ہاتھوں میں چلے گئے تو پھر دیہی پھر جھولا چھاپ ڈاکٹروں کے چنگل میں پھنس جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کوئی بھی پرائیویٹ ادارہ صرف چیریٹی کے لئے پی ایچ سی میں انوسٹ کیوں کرے گی؟ایسے میں اگر پی ایچ سی بھی پیسے کمانے کا ذریعہ بن گئے تو پھر تعلیم کی طرح ہی ہیلتھ سروسز بھی غریبوںکی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔ فی الحال راجستھان میں 2082 پرائمری ہیلتھ سینٹرس ہیں،جنہیں دھیرے دھیرے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا جائے گا۔
ریاستی سرکار کا کہنا ہے کہ یہ پی ایچ سی دور دراز سیکٹروں اور آدیواسی اکثریتی علاقوں میں ہیں۔ ان پی ایچ سی کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دیئے جانے سے لوگوں کو بہتر ہیلتھ سروسز مل سکیںگی۔ لیکن سرکاری دوائوں سے الگ، ان میں سے زیادہ تر پی ایچ سی شہری علاقوں یا اس کے نزدیک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں دیہی کی بہتر طبی سہولت کے لئے کوئی پرائیویٹ سیکٹر بھلا آگے کیوں آئے گا؟جب سرکار جو سب کو تعلیم، سب کو میڈیکل کا دعویٰ کرتی ہو، خود قدم پیچھے کھینچ رہی ہو۔ دیہی علاقوں کی صورت حال تو اتنی خوفناک ہے کہ یہاں سرکار کے تمام وعدوںکے باوجود کوئی ڈاکٹر جانا نہیں چاہتا ہے۔ پھر اچانک اس کے پیچھے پرائیویٹ سیکٹر کا مقصد صرف اور صرف منافع کمانا ہی ہے ۔تبھی تو جب سرکار نے 299 پی ایچ سی کے لئے ٹیندر مانگے تو آناً فاناً میں 43 پی ایچ سی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ قرار ہو گیا۔قرار کے تحت ریاستی سرکا ر ایسے سبھی پی ایچ سی چلانے کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کو فی پی ایچ سی یکمشت 30 لاکھ روپے دے گی۔ اس کے علاوہ پی ایچ سی کی عمارت، فرنیچر اور طبی آلات کے استعمال کی بھی چھوٹ ہوگی۔
سوال یہ ہے کہ جب مرکزی سرکار نے اس اسکیم پر اعتراض کیا تھا ،اس کے باوجود ریاستی سرکار پی ایچ سی پرائیویٹ سیکٹر کو دینے کے لئے اتنی ہڑبڑی میںکیوں ہے؟مرکزی ہیلتھ منسٹری کے ایک سینئر آفیسر نے اس اسکیم کو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر چھوٹے سے علاقے میں چلانے کی صلاح دی تھی لیکن مرکز کی اس اعترض کو درکنار کرکے ریاستی سرکار نے یہ فیصلہ لیا ہے۔کچھ لوگ یہ اعترض کرتے ہیں کہ شہروں میں بڑے بڑے اسپتال چلانے والے یہ منافع خور یہاں سے مریضوں کو اپنے اسپتال میں ریفر کر کے غریبوں سے بھی جم کر کمائی کریں گے۔یہ حالت تب ہے جب 2014-15 میں نیشنل ہیلتھ اکائونٹ نے بتایا کہ راجستھان ان ریاستوں میں شامل ہیں،جہاں سرکاری سطح پر فی آدمی خرچ بہت کم کیا جاتاہے۔
پی ایچ سی کا پی پی پی ماڈل
کرناٹک میں 1997میں پی پی پی ماڈل پر راجیو گاندھی سپر اسپیسلیٹی ہسپتال شروع کیا گیا تھا۔ لیکن دیکھا گیا کہ ہر سال یہاں علاج کرانے والوںمیں غریب مریضوںکی تعداد گھٹی چلی گئی ہے۔ اترا کھنڈ سرکار نے بھی کئی کمیونیٹی اسپتالوں کو پی پی پی ماڈل کے حوالے کر دیا تھا۔ اب وہاں کئی جگہ پی ایچ سی کو پی پی پی ماڈل سے ہٹانے کے لئے آندولن ہو رہے ہیں۔ چمپاوٹ کے لوہا گھاٹ میں مقامی باشندوں کی مخالفت کے بعد اسپتال کو پی پی پی موڈ سے ہٹانا پڑا ہے۔ نیتی آیوگ ضلع اسپتالوں کی زمین اور بلڈنگ بھی پرائیویٹ اسپتالوں کو لیز پر دینے کے لئے غور کر رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں، سرکاری اسپتالوںکی بلڈبینک اور ایمولینس سروس کا بھی پرائیویٹ اسپتال استعمال کر سکیںگے۔ بلڈ بینک کی صلاح پر ہی ضلع اسپتالوں کی زمین پر پرائیویٹ اسپتال کھولے جارہے ہیں، جبکہ ہیلتھ منسٹر جے پی نڈا بتاتے ہیںکہ جن علاقوںتک سرکاری سہولت نہیں پہنچ پاتی ہیں، وہاں تک ہیلتھ سروسز کو پہنچانے کے لئے پرائیویٹ سیکٹر کی مددلی جارہی ہے۔ کیا پرائیویٹ سیکٹر بغیر اپنا فائدہ دیکھے ان سیکٹروں میں سرمایہ کاری کریںگے۔ جب سرکار پرائمری میڈیکل کو بوجھ سمجھ رہی ہے تو پھر پورائیویٹ سیکٹر چیریٹی کے لئے کیوں آگے آئیںگے؟اس سے پہلے بھی پرائیویٹ اسپتالوں پر ایک روپے لیز پر شہروںکی مہنگی زمین دستیاب کرائی گئی تھی لیکن وہاں عالم یہ ہے کہ غریبوں کو علاج کے لئے جدو جہد کرنا پڑ رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہیلتھ سروسز کی پول کھولتی کیگ رپورٹ
سی اے جی نے 2011 سے 2016 کے دوران’ راشٹریہ گرامن سواستھ مشن‘ کی سرگرمی اور خرچوں کا بیورا 2017 میں دیا تھا۔ اس رپورٹ میں جو چونکانے والی بات ہے وہ یہ کہ 27ریاستوں نے اس اسکیم کے مد میں دیئے گئے پیسے کو خرچ ہی نہیں کیا۔ غور طلب ہے کہ دیہی علاقوں میں لوگوں کی ہیلتھ سروسز کو دھیان میں رکھتے ہوئے’ راشٹریہ گرامن سواستھ اسکیم ‘ بہت اہم اسکیم ہے۔ اس اسکیم کے مد میں 2011-12 میں 7375 کروڑ اور 2015-16 میں 9509 کروڑ کی رقم دی گئی تھی۔ جو خرچ ہی نہیں ہو سکی۔ سی اے جی نے تو اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ملک کے 20ریاستوں میں ہیلتھ سینٹر سے جڑے 1285 پروجیکٹ کاغذوں پر چل رہے ہیں۔ان کے نام پر پیسوں کی اگاہی ہو رہی ہے لیکن وہ زمین پر ہیں ہی نہیں۔
سی اے جی رپورٹ کا یہ خلاصہ تو اور بھی تشویش کا باعث ہے کہ 27ریاستوں کے لگ بھگ ہر ہیلتھ سینٹر میں 77سے 87 فیصد ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 13ریاستوں کے 67 ہیلتھ سینٹروں میں کوئی ڈاکٹر ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر اور اسٹاف کی کمی کی وجہ سے طبی آلات بھی بیکار ہو رہے ہیںاور مریضوں کو ان کا فائدہ بھی نہیں مل رہا ۔ سی اے جی کی رپورٹ کہتی ہے کہ 17ریاستوں میں 30 کروڑ کی لاگت والے الٹرا سائونڈ مشین، ایکسرے مشین، ای سی جی مشین جیسے کئی آلات کا استعمال نہیں ہو پارہا ،کیونکہ انہیں آپریٹ کرنے والے میڈیکل اسٹاف نہیں ہیں۔ ساتھ ہی زیادہ تر اسپتالوں میں انہیں رکھنے کے لئے مناسب جگہ بھی نہیں ہے۔ اس کے سبب یہ بیکار پڑے ہوئے خراب ہو رہے ہیں۔ سی اے جی نے اپنی رپور ٹ میں کئی اسپتالوں کا ذکر بھی کیا ہے۔
راشٹریہ سواستھ نیتی 2017 کا ہدف
٭2015 تک پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں موت کا اوسط کم کرکے 23تک لانا۔
٭زندگی کی توقع کو 5سے بڑھا کر 2025تک 70سال کرنا ۔
٭نومولود بچوں کے موت کے اوسط کو کم کرکے 16کرنا اور مردہ پیدا ہونے والے بچوں کا اوسط کو 2025 تک گھٹا کر ایک عدد میں لانا ۔
٭2018 تک لپریسی روگ، 2017 تک کالا زار کا خاتمہ کرنا
٭ٹی بی کے نئے مریضوں میں 85فیصد سے زیادہ کو نجات دلانا اور نئے معاملوں کے ہونے میں کمی لانا تاکہ 2025 تک اس کا خاتمہ کیا جاسکے ۔
٭2025 تک اندھے پن کے معاملوںکو موجودہ سطح سے گھٹا کر ایک تہائی کرنا،امراض قلب ،کینسر ،ڈائبٹیز یا سانس کے پرانے امراض سے ہونے والی اموات کو 2025 تک کم کرکے 25فیصد تک کرنا ۔
پی ایچ سی کے ذریعہ باناجا رہا ہے زہر :’چوتھی دنیا‘ نے کیا تھا خلاصہ
8سے 14 جنوری کے ’چوتھی دنیا ‘کے شماری کے کور اسٹوری ’’ مودی سرکار کا خطرناک نسبندی مشن ‘‘ یہ خلاصہ کرتا ہے کہ کیسے ضلع ہیلتھ سینٹروں سے لے کر کمیونیٹی ہیلتھ سینٹروں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں کے ذریعہ’ انترا ‘کے نام سے ڈی ایم پی اے دوا کا انجیکشن عورتوں میں ٹھوکا جارہا ہے۔ آبادی میں اضافہ کو روکنے کے لئے مرکزی سرکار ملک کی مائوں کو بانجھ بنانے کی دوا چھو رہی ہے۔ مودی سرکار کی ہیلتھ منسٹری بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کے ساتھ مل کر عورتوں میں وہ زہر انجیکٹ کررہا ہے جو خونخوار جنسی مجرموں کو کیمیکل کسٹریشن کی سزا کے تحت لگایا جاتاہے۔ عصمت دری کرنے والوں اور جنسی مجرموں کی جنسی طاقت کو ختم کرنے کے لئے دی جانے والی دوا ’مشن پریوار وکاس‘ کے نام پر عورتوں میں غیر مناسب طریقے سے انجیکٹ کی جارہی ہے۔ تاکہ ملک کی آبادی کم کی جاسکے۔یہ مشن ’پریوار ویناش ابھیان ‘ہے جو غیر ملکی چکر اور پیسہ کے کندھے پر چڑھ کر ہندوستان کی سات ریاستوں کے 145 اضلاع میں داخل ہوچکا ہے ۔ضلع ہیلتھ سینٹروں ، کمیونیٹی ہیلتھ سینٹروں اور پرائمری ہیلتھ سینٹروں تک کون سی عورتیں جاتی ہیں اور وہ کس طبقہ سے آتی ہیں، اس کے بارے میں سب کو پتہ ہے۔ ہیلتھ سینٹروں کو زیادہ سے زیادہ انجیکشن لگانے کا ہدف دیا گیاہے ۔ اس ہیلتھ سینٹروں پر تعینات ڈاکٹروں کو یہ بھی نہیں کہا گیا ہے کہ انجیکشن دینے کے پہلے یہ متعلقہ عورت کا ہارمون اسسمنٹ کریں، اسے ڈی ایم پی اے انجیکشن کے خطروں کے تئیں آگاہ کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *