مدرسہ موضوع بحث بنا بی جے پی کے مسلم رہنما دو حصوں میں تقسیم

مدرسہ بورڈ اس وقت ملک کی کئی ریاستوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔کہیں اس کے وجود پرسوال کھڑا کیا جارہا ہے تو کہیں اس کے سرٹیفکیٹ کو ناکارہ قرار دیا جارہا ہے ۔ریاست اتراکھنڈ کے سرکاری افسروں نے اس کے سرٹیفکیٹ کو ماننے سے انکار کردیا ہے توریاست اترپردیش میںاس کے نظام تعلیم کو دہشت گردی کا محرک بتایا جارہا ہے ۔ اس بحث میں جہاں ایک طرف علماء کی بڑی جماعت مدارس کی اہمیت کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہے تودوسری طرف برسر اقتدار بی جے پی کے رہنمائوں میں باہمی ٹھنی ہوئی ہے۔ ایک طرف شیعہ وقف بورڈکے چیئر مین وسیم رضوی اور ان کے کچھ ہمنوا ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ان مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے لہٰذا اسے ختم کردینا چاہئے تو دوسری طرف بی جے پی کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان شاہ نواز حسین اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی ہیں جو اس کی اہمیت کے حامی ہیں۔مختار عباس نقوی نے تو یہاں تک کہہد یا کہ اگر مدرسہ دہشت گردوں کو تیار کرتا ہے تو میں بھی ایک دہشت گرد ہوں کیونکہ میری تعلیم بھی مدرسہ میں ہوئی ہے۔
آل انڈیا مسلم کانفرنس کے صدر اور بہار کے سابق وزیر شمائل نبی کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ مدرسوں کو ختم کرکے اسکول بنادینے کی بات کرتے ہیں۔یہ بالکل غلط ہے مدرسوں سے ہی ہماری زبان اور تہذیب زندہ ہے اور مدارس ہی ہمیں اسلام کے قریب کرتے ہیں اور اگر یہ ختم کردیئے گئے تو صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔جو لوگ مدارس کے نصاب کی مخالفت کررہے ہیں ،انہیں زمینی حقائق کا اندازہ نہیں ہے۔
اترپردیش کے مدارس
مدرسہ کا موضوع بحث بننا کوئی نیا نہیں ہے۔خاص طور پر اترپردیش میں جب سے یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت آئی ہے ۔نت نئے طریقوںسے مدارس کو خوفزدہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔ سب سے پہلے مدارس میں جھنڈا لہرانے، قومی گیت گانے اور ان سب کا ویڈیو تیار کرنے کا سرکاری فرمان جاری کیا گیاجس سے ریاست کے تمام مدارس میں بے چینی پیدا ہوئی۔
یہ معاملہ تھوڑا ٹھنڈا ہوہی رہا تھا کہ پھر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔دراصل حکومت نے مدرسوں کو ایک کلینڈر جاری کیا ہے اس میں مہاویر جنینی، بدھایورنیما، رکھشا بندھن، مہانومی، دیوالی اور کرسمس کی چھٹیاں بھی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ مدرسے ہولی، امبیڈ کرجینتی پر پہلے ہی چھٹیاں کرتے ہیں۔ کیلنڈر ایئر میں سات نئی چھٹیوں کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مدارس کو مسلم تہواروں جیسے عیدالاضحی اور محرم الحرام پر ملنے والی 10صوابدیدی چھٹیاں کم کرکے 4 کردی گئی ہیں۔حکومت کے اس کیلنڈر پر اسلامک مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ مدارس مذہبی ادارے ہوتے ہیں، ان کی چھٹیاں اقلیتوں کے مذہبی تہوار کی مناسبت سے ہوتی ہیں، دیگر مذاہب کے تہواروں پر چھٹیوں میں اضافے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ بالکل غلط ہے کہ 10صوابدیدی چھٹیوں میں کمی کی جائے۔

 

 

 

 

 

 

 

اتر کھنڈ کے مدارس
ابھی اس بحث کا شعلہ ٹھنڈا نہیں ہواتھا کہ اتراکھنڈ سے ایک نئی خبر آگئی، وہ خبر ہے رجسٹرڈ مدرسوں کو مستند تعلیمی ادارہ تسلیم نہ کرنا ۔یہاں کی پاسپورٹ آفس نے دہرادون کے ایک نوجوان کے سرٹیفکیٹ کو جس نے رجسٹرڈ مدرسہ سے سند حاصل کیا تھا ،کو ای سی آر کیٹیگری میں ڈال کر اترا کھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی اہمیت پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ دہرادون کا رہنے والا 21 سالہ محمد ارشد غیر ملک جانا چاہتا تھا۔ اس نے پاسپورٹ بنوانے کے لئے فارم بھرا۔ فارم بھرتے وقت اس نے اپنی تعلیمی لیاقت دسویں بتائی اور ثبوت کے طور پر رجسٹرڈ مدرسہ کا سرٹیفکیٹ منسلک کیا۔ ارشد کے مطابق جس وقت وہ فارم بھر رہا تھا تو ایک آفیسر نے اس سے کہا کہ رجسٹرڈ مدرسہ بورڈ کی کوئی ولیڈیٹی نہیں ہے اس لئے اس کے سرٹیفکیت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔چونکہ وہ اپنی تعلیمی بنیاد پر ریاستی حکومت سے ای سی این آر پاسپورٹ چاہتاتھا جو کہ کسی تعلیم یافتہ شخص کو ہی دیا جاتا ہے لہٰذا اس نے فارم کے ساتھ اپنا سرٹیفکیٹ منسلک کردیا ۔ لیکن اسے حیرت تب ہوئی جب اس سرٹیفکیٹ کے منسلک ہونے کے باوجود اسے ای سی این آر کے بجائے ای سی اڑ کیٹگری کا پاسپورٹ دیا گیا،ساتھ ہی یہ ریمارکس بھی تھا کہ’ کنڈیڈیٹ نے جو سرٹیفکیٹ منسلک کیا ہے وہ ولیڈ نہیں ہے لہٰذا ای سی این آر پاسپورٹ ایشو نہیں کیا جاسکتا‘۔اس ریمارکس کا صاف مطلب ہے کہ حکومت نے رجسٹرڈ مدرسہ کے سرٹیفکیٹ کو تسلیم نہیں کیا ۔ اسی طرح رڑکی کی رہنے والی ایک لڑکی جسے ’یوپی پراویدھک شکشا پریشد ‘میں گروپ سی ایگزامنشین کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن جب اس نے اپنا سرٹیفکیٹ جو کہ رجسٹرڈ مدرسہ سے حاصل کیا تھا پیش کیا تو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ یہ ولیڈ نہیں ہے۔اس نے اسٹیٹ گورمنٹ کو خط لکھا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔
طلباء مستقبل کے تئیں خوفزدہ
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست اتر کھنڈ میں اس وقت تقریباً 297 رجسٹر ڈ مدارس ہیںجن سے 22469طلباء نے دسویں کا امتحانات دیا ہے ۔اگر ان کے سرٹیفکیٹ کو رد کردیا گیا تو ان سب کا مستقبل اندھیرے میں چلا جائے گا ۔ یہ طلباء کسی بھی سرکاری ادارے میں نوکری کے لئے اہل نہیں ہوں گے۔جبکہ 2012 کے اوائل میں ہی اتراکھنڈ کے ان مدرسوں کو رجسٹر کیا گیا تھا اور ان کے سرٹیفکیٹ کو اسٹیٹ بورڈ سرٹیفکیٹ کے مساوی قرار دیا گیا تھا اور تب سے یہ قانونی تھا مگر ارشد کے واقعہ کے بعد فارغ ہونے والے طلباء اپنے مستقبل کے تئیں فکر مند ہیں۔ اترکھنڈ مدرسہ ویلفیئر سوسائٹی کے چیر مین سبط نبی کہتے ہیں کہ حکومت کی اس سرد مہری کی وجہ سے تقریباً 20ہزار طلباء کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے۔
اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کو سرکاری فرمان
قابل ذکر ہے کہ مدارس کو پریشا ن کرنے کا سلسلہ ریاست میں کوئی نیا نہیں ہے ۔اس سے پہلے بھی ایک فرمان جاری کرکے اہل مدارس سے کہاگیا تھا کہ وہ اپنے مدارس میں وزیراعظم مودی کی تصویر لگائیں ۔یہی نہیں خلاف ورزی کرنے والوں کے بارے میں ریاستی کابینہ وزیر اور ریاستی حکومت کے ترجمان مدن کوشک کی طرف سے کہا گیا تھا کہ نہ ماننے والے مدارس پر کارروائی کی جائے گی۔اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کے ڈپٹی ڈائرکٹر حاجی محمد اخلاق اانصاری کہتے ہیں کہ اترا کھنڈ میں 297 مدارس منظور شدہ ہیں جنہیں متعلقہ سرکولر جاری کردیا گیاہے جبکہ جو مدارس غیر منظور شدہ ہیںوہ مدرسہ بورڈ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، ان کے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جاسکتاہے ۔حکومت کے اس فیصلے پر مسلم طبقہ میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جاندار چیز کی تصویر لگانا مذہب میں ممنوع ہے تو پھر وزیراعظم مودی کی تصویر کیسے لگائی جاسکتی ہے ۔
اتراکھنڈ میںپھر ایک نیا فرمان جاری ہواہے۔فرمان یہ ہے کہ مدارس میںیوگا پڑھایا جائے گا۔ اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کے ڈپٹی رجسٹرار اخلاق احمد کے مطابق جن تجاویز کو بورڈ ممبران نے منظوری دی ہے ، ان میں مدارس میں فزیکل ایجوکیشن کے طور پر یوگا کو آپشنل سبجیکٹ کے طور پر شامل کرنا بھی ایک ہے۔اگر چہ اس پر مدرسہ کے کسی ذمہ دار کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یوگا کو لے کر جس طرح سے ملک میں ماحول بنا ہے اور جس طرح سے مرکز کی بی جے پی حکومت نے ایجنڈہ کے تحت یوگا کو وزارت آیوش میں شامل کیا ہے ، اس سے تو یہ صاف ہے کہ یوگا کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں۔ مگر اتراکھنڈ کے مدارس میں جسمانی تعلیم کے نام پر یوگا کو شامل کرنے سے ایک نیا تنازع کھڑا ہونا تقریباً طے مانا جارہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

بہار کا مدرسہ بورڈ
مدرسہ بورڈ کے تعلق سے بہار کی حالت بھی بہت اچھی نہیں ہے۔اگرچہ یہاں یو پی اور اتراکھنڈ کی طرح جذباتی چوٹ نہیں پہنچائی گئی ہے مگر اقتصادی اعتبار سے مدارس کے متعلقین کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔ریاستی حکومت نے گزشتہ 31اگست 2003 سے سالانہ انگریمنٹ پر بلا کسی وجہ کے روک لگا رکھی ہے۔ بہار کے تمام ضلعوںکے ملازمین کے لئے ساتواں پے کمیشن تنخواہ کا حکم نامہ جاری کردیا گیامگر مدارس کے اساتذہ و ملازمین کو اس سے محروم رکھا گیا۔ ملک کی تمام ریاستوں میں وہاں کی حکومت مدرسہ کے اساتذہ و ملازمین کو پنشن کی سہولت نہیںدے رہی ہے ۔بار بار میمورنڈم دینے اور وزراء سے وفد کی شکل میں ملاقات کے بعد بھی ریاستی حکومت کے کان میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ غرضیکہ اتراکھنڈ ہی نہیں بلکہ ملک کی کئی ریاستوں کے مدرسہ بورڈ کا ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے جس سے طلباء اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہیں۔
ریاستی سطح پر مدرسہ بورڈ
ملک کے اندر سرکاری طور پر جو مدارس رجسٹرڈ یا ملحق ہیں، ان کی تعداد الگ الگ ریاستوں میں الگ الگ ہیں۔ ایک جائزہ کے مطابق ریاست بہار میں3700سے زیادہ مدرسے بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں۔یہاں مدرسوں میں دینی نصاب کے ساتھ ساتھ اسکولوں کا نصاب بھی پڑھایا جاتاہے اور مدرسوں کی سندوں کو سرکاری طور پر تسلیم بھی کیا جاتاہے۔ان مدارس کو مدرسہ عالیہ کہا جاتا ہے جبکہ دیگر مدارس جو سرکاری امداد نہیں لیتے ہیں، ایسے مدارس بھی بڑی تعداد میں ہیں اور انہیں مدرسہ نظامیہ کہا جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں 7000کے قریب مدرسے ہیں جن میں سے لگ بھگ 1500سرکاری منظوری پاچکے ہیں اور انھیں گرانٹ ملتا ہے۔ ان مدرسوں کے امتحانات کی نگرانی سرکار کی طرف سے کی جاتی ہے۔مغربی بنگال میں غیرسرکاری مدرسوں کی کثرت ہے مگر 600مدرسے سرکاری ہیں۔ ممتابنرجی سرکار اس معاملے میں کچھ سنجیدہ قدم اٹھا رہی ہے۔ اس نے انگلش میڈیم مدرسہ کا تجربہ کیا ہے اور 500کروڑروپئے مدرسہ ایجوکیشن کے لئے بجٹ میں مخصوص کیا ہے۔گجرات میں 150منظور شدہ مدرسے ہیں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔یہاں بڑی تعداد چھوٹے مدرسوں کی بھی ہے جو سرکاری امداد کے بغیر چلتے ہیں۔کیرل میں 12,000کے لگ بھگ مدرسے ہیں جو مختلف تنظیموں کے تحت چلتے ہیں اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دیتے ہیں۔یہاں مدرسوں میں سی بی ایس سی بورڈ کا نصاب بھی چلتا ہے۔آسام میں 707دینی مدرسے ہیں جو الگ الگ سطح پر سرکاری منظوری رکھتے ہیں۔یہاں کے مدرسوں کے نصاب میں تمام عصری علوم شامل ہیں۔علاوہ ازیں سینکڑوں غیرسرکاری مدرسے بھی یہاں چلتے ہیں۔تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں لگ بھگ 6000مدرسے ہیں۔ان میں 1200مدرسے دینی مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں۔ریاست جموں وکشمیر میں تقریباً 700مدرسے ہیں اور ان کے امتحانات کا اہتمام بھی حکومت کی طرف سے منعقد کئے جاتے ہیں۔ اترپردیش میں کل مدارس کی تعداد تقریباً19 ہزار ہے ۔ان میں حکومت سے تسلیم شدہ مدرسوں کی تعداد 7000سے تجاوز کر چکی ہے اور 466 مدرسے سرکاری گرانٹ کی فہرست میں شامل ہیں۔ یعنی ان مدرسوں کے ٹیچروں کی تنخواہ حکومت دیتی ہے ۔اس کے علاوہ بڑی تعداد میںایسے مدارس ہیں جو سرکاری امداد کے بغیر دارالعلوم دیوبند یا ندوۃالعلماء سے ملحق ہیں ۔
مدارس کو سرکاری امداد
ملک کی ریاستوں میں جو مدارس ہیں ان کے اہلکار کے ساتھ ایک ستم ظریقی یہ بھی ہے کہ انہیں وقت پر تنخواہیں نہیں ملتی ہیں۔جبکہ مرکزی حکومت نے مدارس میں اچھی تعلیم مہیا کرانے کے مقصد سے 2008-09 میں خصوصی اسکیم بنائی تھی۔ اس اسکیم کے تحت اساتذہ کی تنخواہ کو اہم حصہ مرکز کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت گریجویٹ اساتذہ کو 6 ہزار روپے اور پوسٹ گریجویٹ اساتذہ کو 12 ہزار روپے کی ادائیگی مرکزی حکومت کی جانب سے کی جاتی ہے۔ یہ رقم ان کی مجموعی تنخواہ کا بالترتیب 75 اور 80 فیصد ہے۔ باقی ماندہ رقم کی ادائیگی متعلقہ ریاستی حکومتیں کرتی ہیں۔غرضیکہ بی جے پی کے دور میں مدارس سخت آزمائش کے دور سے گزررہے ہیں۔کہیں تنخواہوں کا نہ ملنا تو کہیں اس کے وجود پر سوالیہ نشان لگنا اور کہیں دہشت گردی کی تعلیم کا شوشہ چھوڑکر ہراساں کیا جانا ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مدارس کے خلاف زیادہ تر وہی لوگ بول رہے ہیں جن کے بچے مدارس میں نہیں پڑھتے ہیں یا خود انہوں نے کبھی مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کی ہیں ۔البتہ جو لوگ اپنے بچوں کو مدارس میں پڑھا رہے ہیں ،وہ وہاں کے نظام اور طرز تعلیم سے پوری طرح مطمئن ہے۔ظاہر ہے اس سے یہی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ مدارس پر انگلیاں اٹھانے والے سیاسی روٹی سینک رہے ہیں۔غالباً ایسے لوگوں کی نقطہ چینیوں سے بچنے کے لئے ہی گزشتہ سال مالیگاؤں کے ارباب مدارس اسلامیہ اورسرکردہ علماء نے متفقہ طورپریہ فیصلہ کیاتھا کہ وہ مدارس کو حکومت کی دسترس سے آزادرکھنے کے لیے کسی طرح کی حکومتی امدادنہیں لیں گے اورصرف اورصرف اہل خیرکے تعاون سے مدرسہ کے اخراجات کوپوراکریں گے۔مگر یہ خبر زیادہ سرخیوں میں نہیں آسکی کیونکہ سرکاری امداد ہمارا آئینی حق ہے لہٰذا خوفزدہ ہوکر سرکاری امداد سے ہمیں گریز نہیں کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *