انور جلال پوری کے انتقال پرادبی دنیاسوگوار

anwar-jalalpuri
اردو ادب کی ممتاز شخصیت ومشاعروں کی معیاری نظامت کے لئے مشہور عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر انور جلالپوری کی آج 70؍ برس کی عمر میں لکھنؤ میں انتقال کی خبر سے ادبی حلقوں کی فضامغموم ہوگئی ہے۔ اس بابت نامور شعراء و ادباء نے زبان و ادب کی نامور شخصیت انور جلالپوری کے وصال کو اردو دنیا کے عظیم سانحہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم کی گوناں گو شخصیت کی اردو ادب کی خدمات آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائیگا۔ آل انڈیا ملی اقتصادی کونسل کے چیئر مین مولانا حسیب صدیقی نے اپنے تعزیتی پیغام میں انور جلالپوری کے انتقال کو اردو ادب کا زبردست نقصان قراردیا اور کہا کہ وہ درحقیقت علم و ادب اور تہذیبی وراثت کے علمبردار تھے اور مشاعروں کی نظامت کو انہوں باقاعدہ فن کی شکل میں ڈھالا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے اردو ادب کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہوگیا ہے ، انکی گرانقدر خدمات تاریخ کا روشن باب ہے اور اردو دنیا انہیں دیر تک یاد رکھے گی۔
عالمی شہرت یافتہ شاعرڈاکٹر نواز دیوبندی نے انور جلالپوری کے سانحہ ارتحال کو ادبی و علمی حلقوں کاناقابل تلافی نقصان قراردیتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک عہدہ کے خاتمہ سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہاکہ انور جلالپوری کا علمی و ادبی حلقوں میں وہی مقام تھا جو ایک مذہبی عالم دین کا ہوتاہے۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم کی نظامت اور شاعری سے مشاعروں کا معیاربلند ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مرحوم کی خدمات کو صرف مشاعروں اور شاعری تک محدود نہیں کیاجاسکتاہے بلکہ علمی میدان میں بھی آپ نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ مرحوم کاانتقال علمی اورادبی دنیا کا عظیم خسارہ ہے اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرما کر درجات بلند فرمائے۔ممتاز شاعر ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے انور جلالپور کے انتقال پر قلبی رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ آج ایک عظیم شخصیت ،مشاعروں کی نظامت کا تاج محل ،بہترین شاعر، بہترین ادیب،بہترین مفکر اس دنیا سے رخصت ہوگیا ہے جو اردو ادب کے لئے عظیم سانحہ ہے ۔ انہوں نے مرحوم کی شخصیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مرحوم نے آخری لمحات تک اردو زبان وادب کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں او ر کبھی مشاعروں کی آبرو کو پامال نہ ہونے دیا۔لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے جو اس دنیا میں آیا اسے لوٹنا اور آج انور جلالپوری مرحوم اردو دنیا کو مغمو م کرکے آخری سفر پر روانہ ہوگئے ،اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرما کر درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے۔ممتاز قلمکار و ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولاناندیم الواجدی نے کہاکہ انور جلالپوری شخص نہیں بلکہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے نوجوانوں اور اردو سے محبت کرنے والوں کی ایسی تربیت کی جسے زندگی کاخوبصورت لمحہ قرار دیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم نے اردو زبان و ادب کی ترویج میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کے سانحہ ارتحال کو اردو دنیا کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہ کہاکہ وہ نہ صرف معیاری ناظم مشاعرہ تھے بلکہ جدید لب و لہجہ کے منفرو و ممتاز شاعر تھے، اہل اردو ہمیشہ ان کی کمی کو شدت سے محسوس کرینگے۔ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے۔
ممتاز ادیب ونامور قلمکار مولانانسیم اختر شاہ قیصرنے انور جلالپوری کے انتقال پر گہرے رنج وغم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ انور جلالپوری کاانتقال ایک شخص کا نہیں بلکہ شخصیت کا انتقال ہے ،وہ ایک شاعر،دانشور ،مفکر اور عالمی شہرتوں کے حامل ناظم مشاعرہ تھے،جنہوں نے چالیس برس تک اردو کی زبان وادب کی خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے ساری عمر مشاعروں کے اسٹیج کو اردو کی روایت اور حمایت کااسٹیج بنا کر رکھا،ان کاتعلق اردو زبان سے جذباتی تھا اور ہمیشہ زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے متفکر رہتے تھے۔مرحوم کاانتقال پوری اردو دنیا کے لئے صدمہ کاباعث ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور تمام متعلقین کی صبر جمیل عطا فرمائے۔
معروف ادیب عبداللہ عثمانی نے انور جلالپوری کے انتقال کو اردو دنیا باالخصوص نوجوان شعراء کے لئے بڑا خسارہ بتاتے ہوئے کہاکہ مرحوم نہ صرف بلند کردار شخصیت کے حامل تھے بلکہ چھوٹوں کے ساتھ ان کا جو مشفقانہ رویہ ہوتا تھا وہ بہت کم دیکھنے کو ملتاہے۔ مرحوم بلند افکارو خیالات اور معتبر لب ولہجہ کے ممتاز شاعر ہونے کے ساتھ ایک ایسے ناظم مشاعرہ ہوئے ہیں جنہوں نے مشاعرہ کی نظامت کو نئی سمت عطاء کی ہے ،اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر کی توفیق دے۔نامور کالم نگار سید وجاہت شاہ نے کہاکہ مرحوم اردو ادب کاسرمایہ اور بڑی وجیہہ شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے مشاعروں کی نظامت کو باقاعدہ ایک فن کی شکل میں ڈھالا ،ان کی مسحور کن آواز ہمیشہ چالیس برس کے نوجوان کی یاد تازہ کرتی رہی ہے اور آج تک وہی جوش و ولولہ باقی رہا ،انہوں نے مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج والم کااظہارکرتے ہوئے ہوئے اسے اردو دنیا کاناقابل تلافی نقصان قرا ر دیا۔آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے انور جلالپوری کے انتقال کو اردو دنیا کاعظیم خسارہ تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم عظیم شاعراور منفرد ناظم مشاعرہ ہی نہیں بلکہ معتبر اور عزت کی نگاہوں سے دیکھی جانے والی شخصیت تھے،اپنے چھوٹوں کے ساتھ سنجیدگی اور شفقت کے ساتھ پیش آنا ان کے مزاج کا اہم حصہ تھا۔انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کے ساتھ متعلقین کے لئے صبرجمیل کی دعاء کی ۔
نوجوان شاعر ڈاکٹر ندیم شاددیوبندی نے انور جلالپوری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کاکہ مرحوم انور جلالپوری جیسی شخصیات بہت کم میسر ہوتی ہیں جو تمام علوم و فنون مہارت رکھتے ہوں،ان کی کمی کو پورا نہیں کیاجاسکتا۔ وہ بہترین شاعر و ناظم مشاعرہ ہونے کے ساتھ معتبر افکار کے حامل دانشور تھے جن کی پوری زندگی زبان و ادب کے تحفظ میں گزری ہے اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرماکر درجات بلند فرمائے۔ علاوہ ازیں معروف انشاء پرداز حکیم حامد تحسین، ڈاکٹر شمیم دیوبندی،ماسٹر شمیم کرتپوری،عبداللہ راہی،تنویر اجمل دیوبندی، مہتاب آزاد وغیرہ نے بھی انور جلالپوری کے انتقال پر گہرے رنج و غم کااظہا رکرتے ہوئے مغفرت کی دعاء کی ۔
مظفرنگر : گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار شخصیت ڈاکٹر پروفیسر انور جلال پوری کی رحلت اُن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نہایت رنج وغم کا اظہار کیاگیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ضلع صدر کلیم تیاگی نے ایک تعزیتی پروگرام میں کہا آج ہم اپنے آپ کو تنہا سا محسوس کر رہے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر انور جلال پوری سے ہمارا سیدھا تعلق نہیں تھا مگر اردو کے حوالے سے ان سے ایک جذباتی اور روحانی تعلق تھا۔علاوہ ازیں حرف زار لٹرریری سوسائٹی کے جنرل سکریٹری اور مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر مجیب شہزر، برنی فاؤنڈیشن کے صدر شہزاد عالم برنی ،نگر نگم کونسلر اور معروف شاعر مشرف حسین محضر ،پروفیسر مولیٰ بخش ،ڈاکٹر حامد رضا صدیقی، ڈاکٹر افشاں ملک، غیاث الدین ملک، حاجی اسلم ، اردو شاعر شاہد غازی ، سالم شجا ع انصاری، خالد فریدی، شریف خاں سامر، مولانا زبیر احمد صدیقی ، ڈاکٹر رضی امروہوی وغیرہ نے بھی خراج عقیدت پیش کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *