بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے گجرات سے سبق

گجرات کے انتخابی نتائج نے سبھی کو سیکھ دی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) خوش ہے کہ اس کی سرکار بن گئی اور کانگریس کو صرف 80 سیٹیںآئیں۔ کانگریس خوش ہے کہ اس کے پاس 47 اراکین اسمبلی تھے، اب 80 آگئے ہیں ، یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کسے،کس طرح کی اور کیا سیکھ لینی چاہیے؟ ہم سب سے پہلے بی جے پی کی بات کرتے ہیں۔ بی جے پی نے گجرات میںمرکزی کابینہ کے ارکان کی پوری فوج لگادی۔ بی جے پی نے تقریباً سبھی وزرائے اعلیٰ ، جن میںاترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 32 سبھائیںکیں، سبھی اراکین پارلیمنٹ، ریاستوںکے اہم لیڈران اور پارٹی کے سبھی سینئر عہدے داروں کو الیکشن میں لگادیا۔الیکشن کے بعد جب نتائج آئے تو امت شاہ کی پریس کانفرنس میںایک صحافی نے سوال پوچھا کہ بی جے پی کے پاس پہلے کتنی سیٹیںتھیںتو انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس 117 سیٹیںتھیں۔ اس نے پوچھا اب کتنی ہیں؟ جواب ملا کہ 99 ہیں۔ اس نے جب یہ پوچھا کہ کانگریس کے پاس کتنی سیٹیںتھیں؟ تو کہا کہ 47 تھیں ۔ اب کتنی ہیں؟ تو امت شاہ نے جواب دیا کہ اب 80 ہیں۔ کچھ صحافیوں نے کہا، تب پھراس کا تجزیہ کیا کرنا چاہیے؟ امت شاہ کو یہ سوال پسند نہیںآیا۔ان کاموڈ خراب ہوگیا۔
لیکن سچائی تو یہی ہے ۔ وزیر اعظم کی تقریباً 40 سبھائیں، اتنے سارے مرکزی وزرائ، وزرائے اعلیٰ، اراکین پارلیمنٹ کے لگنے کے بعد بھی بی جے پی صرف 99 سیٹیںجیت سکی۔ بی جے پی کو جو سیٹیںملیں، ان کا تجزیہ بھی بہت مزے دار ہے۔ گجرات سرکار میںبی جے پی کے پانچ وزیر ہارے۔ ان میںدو کیبنٹ وزیر آتما رام پرمار اور چیمن بھائی سپریا کے علاوہ تین وزیر مملکت ہری شنکرچودھری، کیسر جی چوہان اور شبد شرن تنڈویر الیکشن ہار گئے۔ بی جے پی کی جیت میںچار شہروںنے سب سے زیادہ رول ادا کیا۔ احمدآباد، سورت، راجکوٹ اوروڑودرا کی 55 سیٹوں میںبی جے پی کے امیدوار 46 جگہوںپرجیتے۔ 99 امیدواروں میں46 صرف ان چار شہروںمیںجیتے جبکہ باقی گجرات کی 127 سیٹوں میںاسے صرف 53 سیٹیں ملیں۔ دوسری طرف کانگریس کے کھاتے میں70 سیٹیںآئیں۔ اس کا مطلب ان بڑے شہروںمیںکانگریس کو زبردست ہار ملی لیکن دیہی علاقوںمیںکانگریس بہت زیادہ سیٹیںجیت پائی۔

 

 

 

 

 

 

ایک اور دلچسپ حقیقت ہے۔ گجرات کے سات ضلعوں میںبی جے پی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ آٹھ ضلعوںمیںاسے صرف ایک ایک سیٹ پرجیت ملی۔ تقریباً 16 سیٹوںپر وہ بی ایس پی امیدواروںکی وجہ سے جیتی اور یہ بہت دھیان دینے کے لائق ہے۔ تقریباً 16 سیٹوں پر اگر بی ایس پی امیدوار نہیںہوتے تو بی جے پی 16 سیٹیں ہار جاتی۔ ایک درجن سے زیادہ سیٹوںپر بی جے پی معمولی فرق 2000 سے کم ووٹوںسے جیتی۔ اتنا ہی نہیں، کانگریس سے آئے چار باغیوںکو بی جے پی نے ٹکٹ دیے، ان میںسے تین ہار گئے، صرف ایک جیتا۔ وزیر اعظم مودی کے گھر بڈنگر کی 49 سیٹ سے بھی بی جے پی کو ہار ملی۔
اب ان سیٹوں کا تجزیہ کریں تو پائیںگے کہ بی جے پی کو اس بار گجرات کے دیہی علاقوں میںلوگوںکے غصے کا سامنا کرنا پڑا اور وہاں لوگوںنے اسے مسترد کردیا۔ اس کا کیا نتیجہ نکالا جائے؟ کیا اس کا یہ مطلب نکالا جائے کہ ترقی کی دھارا گجرات کے دیہی علاقوں تک نہیںپہنچی ہے؟ کیا اس کا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت نہیںملنے سے زبردست غصہ تھا۔ کیا اس کا یہ نتیجہ نکالیںکہ کھاد، بیج اور پانی ، ان سب کی عدم دستیابی نے کسانوںکو پریشان کیا۔ ان کے بچوں کے لیے پڑھائی، ان کے خاندان کے لیے صحت جیسے سوال کسانوں کو پریشان کرتے رہے یا پھر یہ نتیجہ نکالیںکہ جیسا ہاردک پٹیل نے کہا تھا کہ گجرات کے دیہی علاقوں میںکسانوں نے کافی خود کشی کی ہیں لیکن ان کی خبر ملک کی سطح پر نہیںآپائی ہیں۔ ا س کا غصہ گجرات کے دیہی علاقوں کے کسانوںمیںتھایاملک کی اقتصادی پالیسیوں کا خراب نتیجہ دیہی علاقوں میں غصے کے روپ میںبی جے پی کو جھیلنا پڑا۔ وجہ چاہے جو بھی رہی ہو، لیکن یہ نتائج بتاتے ہیںکہ اگر بی جے پی سے تھوڑی سی بھی چوک ان چار شہروں میںہوئی ہوتی تو شاید اس کی سرکار گجرات میںنہیں بنتی۔
182کے گجرات اسمبلی الیکشن میںصرف 13 خواتین امیدوار جیت سکیں۔ پچھلی بار ان کی تعداد 16 تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گجرات اسمبلی میںخواتین کی نمائندگی کم ہوئی۔ دوسری اہم وجہ نوٹا یعنی مجھے نہ کانگریس پسند ہے اور نہ ہی بی جے پی پسند ہے۔ جنھوںنے نوٹا کے بٹن کو دبایا، ان کی تعداد 5.51 لاکھ تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تعداد عام آدمی پارٹی اور راشٹریہ کانگریس پار ٹی یعنی شرد پوار کی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کے ملے ووٹوںسے زیادہ ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سبھی 29 امیدواروں کی ضمانتیںضبط ہوئیں۔ 16 امیدواروں کو تو 500 سے بھی کم ووٹ ملے۔ گجرات اس الیکشن سے دو پارٹی سسٹم کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔
اب اگر بی جے پی سیکھ لے تو اسے فوراً گجرات میںاپنی ترقی کے دعووں کو ٹٹولنا چاہیے۔ پورے گجرات کے دیہی علاقوں میں، ان چار شہروں کوچھوڑ کر کیوںلوگوں نے اسے ووٹ نہیںدیا، اس کی وجہ تلاش کرنی چاہیے۔ اگر اس کی تلاش اقتصادی پالیسیوں کے تئیں غصہ ہے تو اقتصادی پالیسیاںسدھارنی چاہئیں۔ موٹے طور پر یہ مانا جارہا تھا کہ گجرات کا الیکشن، اسمبلی کا الیکشن نہیںہے بلکہ ملک کا الیکشن ہے۔ وہاں گجرات کی ترقی یا گجرات میںہوئے کام سے مدعے نہیںابھرے بلکہ قومی اور بین الاقوامی مدعے ابھرے۔ اگر وزیر اعظم مودی نے تابڑ توڑ حملے نہیںکیے ہوتے، تب بھی شاید بی جے پی کی سیٹیںکم ہوسکتی تھیں۔ اور بھی نتیجے نکل سکتے ہیں جیسے گجرات میںالیکشن پولرائز نہیںہوپایا۔ دوسرا یہ بھی ہے کہ شاید مسلمانوں نے بڑی تعداد میںبی جے پی کو وو ٹ دیا۔ اگر یہ ٹرینڈ ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے کیونکہ روایتی طور پر مسلمان بی جے پی کے مخالف رہے ہیں۔ بی جے پی کو لمبے لمبے دعووں کے بارے میںبھی سوچنا چاہیے کہ وہ جن باتوںکا دعویٰ کرتیہے،لوگ انھیںاپنے آس پاس دیکھنا چاہتے ہیں۔ شاید گجرات کا الیکشن نتیجہ بی جے پی کو یہ ساری سیکھ ضرور دے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ پوری بی جے پی جیت کو لے کر خوشی منارہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ خود امت شاہ اور وزیر اعظم مودی 117 سے 99 تک گرنے کی وجوہا ت کو تلاش کریں کیونکہ ان کے سامنے ابھی لوک سبھا کا الیکشن ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

کانگریس کو اس سے سیکھ لینی چاہیے لیکن کانگریس سیکھ لینے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہاردک پٹیل، الپیش ٹھاکور اور جگنیش میوانی کانگریس کے ساتھ نہیںہوتے تو کیا کانگریس کے پاس اتنی سیٹیںآسکتی تھیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گجرات میں کانگریس کی تنظیم تتر بتر ہے۔ پچھلے 15-20 سال میںکانگریس نے گجرات میںتنظیم کو مضبوط کرنے کی کوشش ہی نہیںکی۔ خود راہل گاندھی کا بیان ہے کہ ہم نے تین مہینے ہی گجرات میںمحنت کی اور جو نتائج آئے،ان سے میںمطمئن ہوں۔ اب تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب آپ کو معلو م تھا کہ گجرات الیکشن آنے والا ہے تو آپ نے سال بھر پہلے سے محنت کیوں نہیںکی؟ الیکشن کے وقت ہی آپ کیوںمحنت کرتے ہیں؟ تنظیم کو کیسے فعال کرنا ہے، تنظیم میں کسے آگے رکھنا ہے، کسے کیا کردار دینا ہے، کسے کیا عہدہ دیناہے، اس کا فیصلہ تو کانگریس کے سینئر لیڈر کر ہی سکتے تھے۔ راہل گاندھی نے یہ قبول کیا کہ انھوںنے تین مہینے ہی گجرات میںدیے اور اس سے جو نتائج آئے، اس سے وہ مطمئن ہیں۔ وہ مطمئن ہوسکتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ اس سے مطمئن نہیںہوتے، تو زیادہ اچھا ہوتا۔
کانگریس کے ارجن موڈواڈیا اور شکتی سنگھ گوہل الیکشن ہار گئے۔ کانگریس کے صدر بھرت سنگھ سولنکی الیکشن لڑے ہی نہیں۔ کانگریس اپنے بیچ سے ناراض ہوکر جانے والوںکو اگر روک بھی لیتی تو بھی شاید کانگریس کے حق میںنتیجہ بہت اچھا آتا، جیسے شنکر سنگھ واگھیلا۔ شنکر سنگھ واگھیلا کے اوپر دو الزام ہیں۔ ایک تو وہ کانگریس کو ہراکر بی جے پی کی سرکار بنانا چاہتے تھے لیکن شنکر سنگھ واگھیلا کا یہ کہناہے کہ میںگزشتہ دو سال سے لگاتار کانگریس قیادت سے کہتا رہا کہ الیکشن آنے والے ہیں۔ گجرات میںکانگریس جیت سکتی ہے۔ کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنا چاہیے اور ایک لیڈر کو کمان دینی چاہیے۔ شنکر سنگھ واگھیلا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی بات قیادت نے نہیںسنی،اس لیے انھوںنے کانگریس سے استعفیٰ دینا ہی بہتر سمجھا ، بجائے اس کے کہ ہار کا ٹھیکرا اپنے سر پھوڑا جائے۔ کانگریس گجرات سے ایک ہی سیکھ لے سکتی ہے کہ ابھی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے الیکشن ہونے والے ہیں۔ کرناٹک ہے، پھر راجستھان ہے، تقریباً آٹھ ریاستوںکے الیکشن اگلے سال ہیں ۔ ان ریاستوںکی تنظیم کیسے چست درست ہو اور ووٹر کو کیسے پولنگ بوتھ تک لیکر آیا جائے۔ اگر اس چیلنج کو کانگریس کے نئے صدر راہل گاندھی قبول نہیںکرتے ہیں تو پھر یہ نہیںکہا جاسکتا کہ انتخابی نتائج کانگریس کے حق میںآئیںگے۔ دوسرا کانگریس کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ گجرات میںاس کی تنظیم کی وجہ سے ووٹ نہیں ملے،بلکہ اگرتینوںنوجوان لیڈر ہاردک پٹیل، جگنیش میوانی اور الپیش ٹھاکور اس کے ساتھ نہیںہوتے تو شاید کانگریس بری حالت میں بھی رہ سکتی تھی۔ جس طرح بی جے پی کو مستقبل کی ممکنہ ہار کا مقابلہ کرنے کے لیے سچ مچ کام کرنا انتہائی ضروری ہے، اسی طرح کانگریس کو ممکنہ جیت سے دور لے جانے والے راستے کو اگر چھوٹا کرنا ہے تو اسے بھی اپنے بیچ کے سارے اختلافات کو بھول کر پارٹی کو متحد کرنا ہوگا۔ گراؤنڈ لیول اور بوتھ لیول آرگنائزیشن کو فعال کرنا ہوگا یا نئے سرے سے تیار کرنا ہوگا۔ورنہ آنے والے الیکشن میں جن آٹھ ریاستوںمیںاسے چیلنج ملنے والا ہے، وہاںوہ کچھ بہتر نہیںکرپائے گی۔
کانگریس گٹھ بندھن نہیںبنا پائی۔ اگر کانگریس بی جے پی کے خلاف جتنی بھی پارٹیاں تھیں،اگران کو ساتھ لیتی اور کسی کو دو، کسی کو تین اور کسی کو چار سیٹیںدیتی تو شاید کانگریس کو زیادہ سیٹیںملتیں۔ نتیش نے بہار میںجیسا گٹھ بندھن بنایا تھا، ویسا گٹھ بندھن اگر گجرات میںبن جاتا تو کانگریس صدر راہل گاندھی کو ملک کے پیمانے پر ایک نئی پہچان ملتی۔ اس میںبھی کوئی دو رائے نہیںکہ گجرات الیکشن نے راہل گاندھی کی کایا کلپ کی ہے اور انھیںملک میںایک لیڈر کے طور پر بحال کیا ہے۔ بی جے پی انھیںپپو کہنا بھول چکی ہے اور راہل گاندھی کے اوپر حملے بھی بہت تیکھے ڈھنگ سے نہیںکرپارہی ہے۔
گجرات الیکشن کی سیکھ بی جے پی کے لیے اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ اقتدار میںبنی رہ سکے اور کانگریس کے لیے اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ بی جے پی سے اقتدار چھین سکے اور اپنے پرانے فخر کو حاصل کرسکے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *