انصاف صرف ہونا نہیں، دکھنا بھی چاہیے

سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے پہلی بار چیف جسٹس کو خط لکھا اور اس کو پریس کانفرنس بلاکر عام کردیا۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں غیر متوقع تو ہے ہی، ایک سنگین مسئلہ بھی ہے۔ عام طور پرسرکار نے آج کل جو ماحول پیدا کردیا ہے،وہ ٹھیک نہیں ہے۔ بی جے پی کے پیروکار،جو ان پڑھ جیسے ہیں، ججوں کو ٹرول کر رہے ہیں کہ ان چاروں کو پاکستان بھیج دو۔ پاکستان سے ان کا کیا تعلق ہے؟ یعنی جو آدمی مودی سے متفق نہیں، وہ پاکستان چلا جائے۔ یہ لوگ بہت خطرناک لفظ استعمال کررہے ہیں۔ ان چار ججوں نے چیف جسٹس کے طریق کار پر سوال اٹھایا ہے۔ اس کا مودی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سرکار سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مودی اور چیف جسٹس ایک ہی ہیں۔ یہ تو دیپک مشرا کے لیے شرمناک بات ہے۔ انھیں فورً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ کوئی اگر چیف جسٹس کو بول دے کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ ہیں،تو یہ اپنے آپ میں گالی ہے۔ اندرا گاندھی نے کوشش کی۔ موہن کمار منگلم ان کے وزیر تھے۔ انھوںنے اے این رے کو دو تین ججوں کے اوپر ترجیح دیتے ہوئے چیف جسٹس بنادیا۔ اس کے بعد تین لوگوں نے فوراً استعفیٰ دے دیا ۔ اندرا گاندھی نے فرنٹ ڈور سے عدلیہ پر جو وار کیا، وہ اب شاید بیک ڈور سے ہورہا ہے۔ سامنے سے جو وارہوا،اس کا نتیجہ ایمرجنسی رہا۔1977 میں الیکشن ہوا، عوام نے مسترد کردیا اور کہا کہ یہ سب نہیںچلے گا۔ آئین میںسیفٹی والو ہے کہ ہر پانچ سال میںالیکشن ہوتا ہے، غیر جانبدارانہ الیکشن ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں پاکستان کی طرح نہیں ہے۔ اب ان چار ججوں نے سوال اٹھایا۔ اگر دیپک مشرا کا ضمیر بیدار ہوتا تو اسی دن ان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا لیکن انھوں نے نہیں دیا۔ چیف جسٹس کا عہدہ کون چھوڑ نا چاہتا ہے۔ لیکن اگر اس عہدے پر رہنے کی قیمت یہ ہے کہ روز ان کی غیر جانبداری پر انگلی اٹھے کہ وہ سرکار کی سائڈ لے رہے ہیں، رام جنم بھومی پر وہ سرکار کے فیور میں ججمنٹ دینا چاہتے ہیں اور جسٹس لویا کے کیس کو رفع دفع کرنا چاہتے ہیں، تو یہ شرمناک سے بھی زیادہ شرمناک صورت حال ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

کل ایک امید کی کرن دکھائی دی۔یہ ہندوستان ہے، ہندوستان اپنے آپ امید کی کرن لاتا ہے۔ جسٹس ارون مشرا، جو لویا کی بینچ دیکھ رہے تھے، انھوں نے کل ایک ذہانت دکھائی۔ وہ لویا بینچ سے خود ہٹ گئے۔ انھوں نے بہت ہی ہوشیار ی سے قدم اٹھایا۔ اس سے مجھے امید جاگی کہ یہ تنازع سلجھ جائے گا۔دیپک مشرا بھی سمجھ گئے کہ داداگیری نہیںچلے گی۔ ٹھیک ہے، چاروں ججوںکو بھی کچھ نہ کچھ سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کا وقار کیوںگرائیں؟ایک بات اور ہے۔ لوگوںکو پتہ نہیںہے۔ کوئی بھی بینچ بیٹھتی ہے تو ہر بینچ کیبرابر حقوق ہوتے ہیں۔ کوئی بھی جونیئر یا سینئر نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا جج، جج ہے۔ آپ کا کیس سامنے آیا، انھوں نے جو فیصلہ سنا دیا، وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ اس کو چیف جسٹس بدل نہیںسکتے ۔ اگر ریویو کے لیے کوئی جائے گا تو اسی بینچ کے نام سے جائے گا۔کیوریٹو پیٹیشن کے لیے کوئی جائے گا، تو اسی بینچ کے سامنے جائے گا۔ سپریم کورٹ کی یہی طاقت ہے۔ اس طاقت کو کمزور کرنا ہندوستانی جمہوریت پر حملہ ہے۔ اگر ایگزیکٹو کام ٹھیک نہیں کرے تو پارلیمنٹ ہے، جو دوسرا ستون ہے۔ تیسرا ستون ہے عدلیہ اور چوتھا ستون پریس کو مانتے ہیں۔ پریس تو ڈھے گیا ہے۔ اب پریس کی بات ہندوستان میں کرنا، کوئی معنی نہیںرکھتا۔ ایک رپورٹ ورلڈ اکانومک فورم کی آئی ہے، جس کے مطابق انڈین پریس کی کوئی معتبریت ہی نہیں ہے۔ کیوں؟ اس کا سبب یہ بتایا جارہا ہے کہ جب سے مودی وزیر اعظم بنے ہیں،پریس کوکوئی بات برداشت نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ خواندہ لوگ ناخواندہ ہونے کی دوڑ میںہیں۔ اب عدلیہ میںبھی یہی ہوجائے تو معاملہ ختم۔ یہ جو سرکارمیںشامل لوگ بار بار پاکستان بولتے ہیں،شاید ان کا منشا یہی ہے کہ ہندوستان کو پاکستان بنادیں،ہندو روپ میں۔ لیکن جمہوریت نہیںرہے۔ اجارہ داری ہوجائے۔ موگابے نے جیسے زمبابوے میں37 سال راج کیا۔ ویسے ہی مودی صاحب کا راج چلتا رہے۔ الیکشن کچھ بھی ہو۔ نتیجہ مرضی کے مطابق آتا رہے۔ ای وی ایم اور آدھار، دونوں ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ ٹیکنالوجی مس یوز ہو سکتی ہے، یہ سب جانتے ہیں۔ ان کا (سرکار) پورا گیم یہ ہے کہ عوام کی رائے ایک طرف، ٹیکنالوجی زندہ باد۔ آدھار کے ذریعہ ہر شہر ی پر نظر رکھیں گے۔ جس کو دبانا ہے، دبادیںگے جیسے روس اور باقی ملکو ںمیںہوتا تھا۔ ای وی ایم کے استعمال سے ہر الیکشن کا نتیجہ ڈکلیئر کریں گے کہ ہم جیت گئے۔
اب ہندوستان کس طرف جارہا ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیںہے۔ ہاں کچھ ہمت والے صحافی ہیں،جیسے رویش کمار۔ انھوںنے کہا ہے کہ اگر جسٹس لویا کیس کی ٹھیک سے جانچ ہوتو امت شاہ کو پھانسی ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ رویش کمار نے یہ بہت ہمت والی بات کہی ہے۔ کیا ہوگا، نہیںہوگا ، وہ پولیس اور سی بی آئی پر ہے۔ لیکن اپنے آپ میں ایسا کہنے کا مطلب ہے کہ آج بھی جمہوریت زندہ ہے لیکن اس کی گارنٹی نہیں ہے کہ آگے بھی یہ جمہوریت رہے گی ہی۔ اس پر حملہتو ہورہا ہے۔ این ڈی ٹی وی پر سرکار نیحملہ کیا۔ جو چینل ان کے خلاف بولتا ہے،اسے انکم ٹیکس کا نوٹس چلا جاتا ہے۔ انکم ٹیکس سے کون ڈرتا ہے؟ ایماندار آدمی ڈرتا ہے، چور نہیںڈرتا ہے۔ انکم ٹیکس والے کیا کریںگے؟ اگر 40 کاغذ صحیح ہیں تو چھوٹی موٹی غلطی نکال دینے سے چینل تو بند نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ہے۔ اسے سرکار نے بہت پاور دے دی ہے۔ اٹل جی نے پاور لے لی تھی۔ فیرا کو فیما بنا دیا تھا۔ اریسٹ کرنے کی پاور ای ڈی کے پاس نہیںتھی۔اس سے اس کی دہشت گردی تھوڑی کم ہوگئی تھی۔اس سرکار نے پریونیشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ بنایا او رای ڈی اب لوگوںکر پریشان کرسکتی ہے۔اب جسے پریشان کرنا ہے، اس کے خلاف اس ایکٹ کی دو دفعات لگا دیں گے او ر گرفتار کرلیں گے۔

 

 

 

 

 

 

 

ہندوستان جیسے ملک میںگرفتاری کی خبر چھپتی ہے۔ سالوں کیس چلتا رہتا ہے۔ اس آدمی کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ ختم کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملک بھی کبھی ختم نہیںہوگا۔ ختم ہوںگی وہ پارٹیاں، جو آئین کو نہیںسمجھتی ہیں اور آئین کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ لیکن وقت بہت سنگین اور پیچیدہ ہے۔ مسائل اور پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ ڈر کا ماحول ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال ہیں ۔ انھوںنے ایک تقریر میںکہا کہ اب سب لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ عام انسان ڈرا ہوا ہے ۔ آفیسر ڈرے ہوئے ہیں، تاجر ڈرے ہوئے ہیں، چھوٹے تاجر ڈرے ہوئے ہیں، بڑے صنعت کار ڈرے ہوئے ہیں۔ ان کے کابینہ وزیر تک ڈرے ہوئے ہیں۔ صرف دو لوگ ہیں، مودی اور امت شاہ، جن کو پتہ ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ اتنا تو اندرا گاندھی کے راج میںبھی نہیںہوا۔ وہ کچھ بھی کرتی تھیںتو بیورو کریسی ان پر تھوڑی لگام لگا دیتی تھی۔ سرکار متوالے ہاتھی کی طرح ہے۔ ا س پر لگام بہت ضروری ہے۔ یہ سرکار روز امبیڈکر کا نام لیتی ہے۔ امبیڈکر کی سب سے بڑی دین یہ تھی کہ انھوں نے آئین میںاتنی لگام دی ہیںکوئی متوالا ہاتھی نہیں ہوسکتاہے۔ پریس ہے، جوڈیشیری ہے۔ عدلیہ نے بار بار پریس کے فری ڈم کی حفاظت کی ہے۔ لیکن آج صورت حال دوسری ہے۔ پہلا حملہ ایگزیکٹو کے ذریعہ ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ میں اکثریت ہے ہی۔ آدھا ر کو منی بل بتاکر پاس کرانا، اس سے زیاہ غیر آئینی قدم کچھ ہو ہی نہیں سکتاہے جبکہ آدھار معاملے میں سپریم کور ٹ میںپیٹیشن ہے۔ اگر صحیح بینچ نے، جو سرکار کی طرف نہ دیکھ کرکیس سنے، آدھار کی لازمیت کو ختم کردیا تو یہ بل ہی ختم ہوجائے گا۔
آنے والے دنوں میںیہ دیکھنا اہم ہے کہ لویا کیس کا کیا ہوتا ہے؟ آدھار کیس کا کیا ہوتا ہے؟ جنم بھومی کیس کا کیا ہوتا ہے؟ سپریم کورٹ کے سامنے ایسے مسئلے ہیں، جوآنے والے دنوں میں ملک کا سقتبل طے کریں گے۔ یہ آسان وقت نہیں ہے۔ نوجوان نسل کو اٹھنا چاہیے۔ جگنیش میوانی، ایک ایسا لیڈر ابھر رہا ہے، جس پر دلت ہونے کی وجہ سے اٹیک ہورہے ہیں۔ یہ اونچی اور نچلی ذات کی جو لڑائی ہے ، وہ بھیانک ہوجائے گی۔ آپ جمہوریت میں تانا شاہی دکھائیں گے تو المیہ ہی ہے۔ سب کی نظر سپریم کورٹ پر رہنی چاہیے۔ 10-15 دن میں کئی کیسوںپر فیصلہ آنا ہے۔ انگریزی میں ایک کہاوت ہے، جس کا مطلب ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتے ہوئے دکھائی بھی دینا چاہیے۔ اب ذمہ داری دیپک مشرا پر ہے۔ یا تو وہ استعفیٰ دیںیا یہ یقینی بنائیں کہ لوگوںکی آواز سپریم کورٹ میںمضبوطی سے سنی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *