ایک امیر ترین شخص کی دلچسپ کہانی

Mansa-Musa

تاریخ میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب دنیا کے امیر ترین افراد میں سب سے زیادہ امیر ایک مسلمان تھا جہاں یوروپ کے بڑے بڑے مالدار گھٹنے ٹیکتے تھے۔وہ شخص مالی کا رہنے والا موسی نامی شخص تھا۔مسوی کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ ہے اس کا دورہ حج ۔ یہ 1324 کا واقعہ ہے۔ اس سفر میں منسا موسیٰ نے تقریباً ساڑھے چھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جب منسا موسیٰ کو دیکھنے کی خواہش رکھنے والے ان سے ملنے گئے تو ان کے قافلے کو ہی دیکھ کر دنگ رہ گئے۔لوگوں نے دیکھا کہ منسا موسیٰ کے کارواں میں 60 ہزار افراد شامل تھے جن میں سے 12 ہزار ان کے ذاتی پیروکار تھے۔ منسا موسیٰ جس گھوڑے پر سوار تھے اس کے آگے 500 افراد کا دستہ چلتا تھا جن کے ہاتھوں میں سونے کی چھڑی تھی۔ منسا کے قافلے کے یہ پیش رو بہترین ریشم کا لباس استعمال کرتے تھے۔ان کے علاوہ اس کارواں میں 80 اونٹوں پر مشتمل ایک قافلہ بھی تھا جس پر 136 کلو سونا لدا تھا۔منسا موسیٰ اس قدر فراخ دل تھے کہ جب مصر سے گزرے تو یہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے غریبوں کو اتنے عطیات دیے کہ علاقے میں افراطِ زر ہو گیا۔منسا موسیٰ کے اس سفر کی وجہ سے ان کی دولت مندی کے قصے یورپ تک پہنچے اور یورپ سے لوگ ان کے یہاں صرف یہ دیکھنے کے لیے آنے لگے کہ آخر ان کے پاس کتنی دولت ہے اور جو کہا جا رہا ہے وہ کس حد تک سچ ہے۔

 

 

 

 

معروف میگزین ’منی‘ نے موسیٰ منسا کو تاریخ کا امیر ترین شخص قرار دیا ہے۔ ان کا تعارف یہ ہے کہ وہ ٹمبکٹو کے فرمانروا تھے۔ انھوں نے مالی کی سلطنت پر اس دور میں حکومت کی جب وہ معدنیات اور بطور خاص سونے کے ذخیرے سے مالا مال تھا۔یہی وہ وقت تھا جب پوری دنیا میں سونے کی مانگ اپنے عروج پر تھی۔ ان کا اصل نام موسیٰ کیٹا اول تھا لیکن تخت نشین ہونے کے بعد وہ منسا کہلائے جس کا مطلب بادشاہ ہے۔ موسیٰ کی سلطنت کی حد کسی کو معلوم نہیں تھی۔آج کے موریطانیہ، سینیگال، گیمبیا، گنی، برکینا فاسو، مالی، نائیجر، چاڈ اور نائجیریا وغیرہ کا علاقہ اس وقت موسیٰ کی سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ منسا موسیٰ نے کئی مساجد کی تعمیر کرائی جن میں سے بعض ابھی تک موجود ہیں۔منسا موسیٰ کی دولت کا آج کے دور میں تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ پھر بھی ایک اندازے کے مطابق ان کی دولت چار سو ارب امریکی ڈالر کے برابر تھی۔اگر افراط زر کو ذہن میں رکھا جائے تو بھی منسا موسیٰ کی دولت تاریخ کسی بھی زندہ یا مردہ دولت مندوں سے زیادہ ہے۔ دولت مندوں کا موازنہ کرنے پر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ روتھ چائلڈ خاندان کے پاس ساڑھے تین سو ارب امریکی ڈالر دولت تھی جبکہ جان ڈی راک فیلر کے پاس 340 ارب ڈالر دولت تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *