ہند-اسرائیل دوستی کا عروج و زوال

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو ہندوستان کے چھ روزہ دورے پر آئے اور چلے گئے۔ وزیراعظم مودی نے ان کا پرتباک استقبال کیا۔ وزیر اعظم مودی کے گزشتہ سال جولائی میں اسرائیل کے دورے کے دوران نتین یاہو نے بھی ان کا اسی طرح پرتباک استقبال کیا تھا ۔مودی نے پوری گرمجوشی کے ساتھ ان کے ساتھ ہاتھ ملایا اور انہیں گلے لگایا ۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ان کی اہلیہ اور 130 رکنی وفد بھی ہندوستان آیا۔نتین یاہو پہلی مرتبہ ہندوستان آئے ہیں۔ان سے پہلے شیرون نے 2003 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی کی آبادی کل 80 لاکھ پر مشتمل ہے۔دفاعی ہتھیار بنانے میں یہ ملک سر فہرست ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ اس کا ایک ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ ہے۔
نتین یاہو کے اس دورے کو کئی نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے بہت سارے امکانات موجود ہیں ۔اس کے باجود دونوںکے درمیان محض پانچ ارب ڈالر کا ہی بزنس ہورہا ہے ۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے اسرائیل انڈیا چیمبرس آف کامرس کی سربراہ انت برنسٹائن کہتی ہیں کہ دونوں ممالک کے تاجروں میں بہت فاصلے ہیں۔اس فاصلے کو حالیہ دورے سے کم کرکے باہمی تجارت کے حجم کو بڑھایا جاسکتا ہے ۔اس کے علاوہ اسرائیلی تاجر امریکیوں کے ساتھ کام کرنے کے عادی ہیں، انھیں جلدی رہتی ہے،جبکہ انڈیا کا ماحول مختلف ہے۔اس مختلف ماحول کو اسرائیلی تاجروںکو سمجھنا ہوگا ۔پھر یہ کہ امریکہ میں کنزیومر جب کسی مال کو خریدتا ہے تو عموماً بیسٹ کوالٹی کو ترجیحی بنیاد پر لیتا ہے جبکہ انڈیا کا کنزیومر چیپ اینڈ بیسٹ کا عادی ہے ۔ ظاہر ہے یہاںکے اس مزاج کو سمجھے بغیر ہندوستان کی منڈی اسرائیلی تاجروںکے لئے کارآمدثابت نہیں ہوسکتی ہے ۔اسی سوچ کو لے کر نتین یاہو تاجروںکی بڑی تعداد کو اپنے ساتھ لائے جس نے اس صورت حال کا جائزہ لیا اور ہندوستان کی بڑی منڈی سے استفادہ کرنے کے امکانات پر غور کیا ۔
بعض ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ 80 لاکھ کی آبادی والے ملک اسرائیل کے لیے ایک سو 30 کروڑ والے ملک کے ساتھ تجارت کرنا اپنی صلاحیتوں سے زیادہ کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ایسے میں تاجروں کے لئے یہ اہم ہوجاتا ہے کہ وہ اس صورت حال کو سمجھیں ۔نیز وزیر اعظم نتین یاہو کا سب سے بڑا چیلنج انڈیا کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات میں گہرائی پیدا کرناہے تاکہ وہ اپنے تاجروں کے لئے ہندوستان میں ایک ماحول تیار کرسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے اس دورے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو 2018 میں دونوںملکوں کے درمیان تجارت کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ اس دورے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان نے حالیہ دنوں میں اسرائیلی سے دفاعی سودے سے تقریباً نصف ارب ڈالر کے لین دین کامعاہدہ ختم کردیا ہے ۔اس کے علاوہ جنرل کونسل میں اس نے اسرائیل کے خلاف فسلطین کے حق میں ووٹ کیا۔ ظاہر ہے اس سے دونوں ملکوںکے درمیان ایک کشیدہ ماحول کو جنم لینے کا امکان پیدا ہوسکتا تھا جس کو ختم کرنے کے لئے یہ دورہ بہت اہم سمجھا جاتا تھا ۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 1992 میں ہوا تھا۔ اس وقت ان دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 200 ملین ڈالرز تھا، تاہم اس تجارت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور گزشتہ برس یہ حجم 4.16 بلین امریکی ڈالرز تک پہنچ گیا۔ مگر یہ اس حجم سے انتہائی کم ہے جو اسرائیل کی اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنرز، امریکا اور یوروپی یونین کے ساتھ ہے اور جس کا حجم قریب 40 بلین ڈالرز سالانہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ہند۔ اسرائیل 9 معاہدوں پر دستخط
ہندوستان اور اسرائیل کے مابین دفاع، تیل اور گیس، قابل تجدید توانائی، سائبر سیکورٹی اور مشترکہ فلم سازی کے شعبوں سمیت متعدد شعبوں میں 9 معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔اس سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم بنیامین نتین یاہو اور نریندر مودی نے وفود کی سطح کے مذاکرات کیے۔ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ۔ اس موقع پر نریندر مودی نے نیتن یاہو کو ’’میرا دوست ‘‘ اور نیتن یاہو نے مودی کو ’’نریندر‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اور اپنے دوستانہ تعلقات کا اظہار کیا۔
نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے کہ مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں، انھیں ایک انقلابی رہنما قرار دیا جبکہ نریندر مودی نے کہا کہ’ میک ان انڈیا‘ پروگرام کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان نے اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو یہاں تجارت کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ایک دوسرے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مل کر کام کریں گے۔
نیتن یاہو نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل دو قدیم تہذیبیں ہیں اور ہمارے رشتے بہت خاص ہو گئے ہیں۔ انھوں نے اقوام متحدہ میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف ہندوستان کے ووٹ پر کہا کہ اس سے ہمارے رشتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔بعض تجزیہ کاروں نے دونوں وزرائے اعظم کے ایک دوسرے کے ملک کے دورے کو باہمی رشتوں اور انسداد دہشت گردی کے لیے بہت اہم قرار دیا ہے۔
تعلقات کی راہ میں رکاوٹ
ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی تجارت کی راہ میں بعض رکاوٹیں بھی دیکھی گئی ہیں جن میں سے ایک ہندوستان کی طرف سے گزشتہ برس مارچ میں اسرائیلی کمپنی رافائل ایڈوانسڈ ڈیفینس سسٹمز لمیٹیڈ کے ساتھ اس معاہدے کو دستخط ہونے سے قبل ہی ختم کر دینا بھی شامل ہے جو ٹینک شکن میزائلوں کی خرید سے متعلق تھا اور جس کی مالیت 500 ملین امریکی ڈالرز تھی۔اس کے علاوہ ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بھی خلاف ووٹ دیا تھا جس میں انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔حالانکہ اس کے بارے میں نتین یاہو نے کہہ دیا ہے کہ خلاف ووٹ ان کے تعلقات کی راہ میں روڑہ نہیں بنیں گے ۔
نیز ایک اور بڑی وجہ ہے جو مستقبل میں ہند-اسرائیل تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور وہ ہے ہند – ایران دوستی۔ ہندوستان اور ایران کے بیچ گہری قدیم دوستی ہے ۔جبکہ ایران اور اسرائیل کی دشمنی بہت گہری ہے ۔ایسے میں ہندوستان کے لئے ایران سے دوستی قائم رکھتے ہوئے اسرائیل کے رشتے کو متوازن رکھنا ایک بڑے چیلنج کی شکل میں اس کے سامنے کھڑا ہے ۔بہر کیف ان تمام رکاوٹوں کے باجود اسرائیل سے دوستی تیزی سے مضبوط ہوتی جارہی ہے۔
نتین یاہو دورے کی مخالفت
عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے سینئر تجزیہ کار اور دہلی مائنارٹیز کمیشن کے چیئر مین ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر اسی تناظر میں عرب ممالک سے ہندوستان کے رشتوں کو دیکھیں تو ساڑھے سات ملین ہندوستانی باشندے عرب ملکوں میں کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں وہاں سے سالانہ اربوں ڈالر غیر ملکی زرمبادلہ ملتا ہے۔ لہٰذا ہندوستان کو اسرائیل کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہیے۔
دریں اثنا نیتن یاہو کے دورے کی مخالفت میں مختلف مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کے نزدیک بائیں بازو کا مظاہرہ ہوا جس میں پرکاش کرات اور ڈی راجہ جیسے سینئر کمیونسٹ لیڈروں نے بہت سخت الفاظ میں ہندوستان اور اسرائیل رشتوں کی مخالفت کی۔اسی طرح متعدد تنظیموں نے ’’یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ‘‘ مہم کے تحت اسرائیلی سفارت خانہ کے باہر مظاہر کیا اور اندیشہ ظاہر کیا کہ انسداد دہشت گردی کے نام پر اسرائیل کے تعاون سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ دیگر مقامات پر بھی مظاہرے ہوئے اور اس دورے کی مخالفت کی گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *