یروشلم پر ہندوستان کا رخ آزاد اور سنجیدہ ہے

اقوام متحدہ سمیت عالمی اختلاف کے باوجود امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کیے جانے کے واقعہ نے پوری دنیا کو تشویش میںمبتلا کیا ہے۔ تل ابیب میںواقع امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے سخت احکام کی فلسطین، اردن اور عرب ممالک سمیت کئی یورپی – ایشیائی ملکوںکے ذریعہ سخت مذ مت کی گئی ہے۔ برطانیہ، چین، فرانس، روس اور جرمنی جیسے ممالک نے اسے بدبختانہ بتاکر مشرقی وسطی میںتشدد بھڑکنے کا خدشہ جتایا ہے تو وہیںعرب دنیا اس کے وسیع اثرات کو لے کر فکر مند ہے۔ یروشلم اور مغربی کنارہ کے علاقوں میںپرتشدد واقعات کی بھی خبریںہیں۔ اسی نقطہ نظر سے 22 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ بھی طلب کی گئی ۔ اس کے جنرل سکریٹری انٹونیو گٹریس کے ذریعہ ٹرمپ کے فیصلے کو دو ملکوںکے بیچ امن کے امکانات کو ختم کرنے جیسا قدم بتایا گیا ہے۔ فیصلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پوپ فرانسس نے امریکہ سے یروشلم کی حیثیت کا احترام کرنے کی گزارش کی ہے۔
واضح ہو کہ امریکی صدر کے اس فیصلے کی پوری دنیا میںمخالفت ہے کیونکہ تقریباً سات دہائیوں سے امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیل – فلسطین کے بیچ جاری امن بحالی کے عمل میںاس متنازعہ پہل کے منفی اثر کے امکانات زیادہ ہیں۔ شروعاتی عمل کے تحت ایران کے صدر حسن روحانی کے ذریعہ اسے اسلامی جذبات کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے قطعی برداشت نہیںکرنے کا تلخ تبصرہ تشویش کو بڑھاتا ہے۔ مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ترکی کے صدر اردوغان کے ذریعہ 13 دسمبر کو استنبول میںاسلامی کنونشن بلایا گیا جس میںآرگنائزیشن آف اسلامک کارپوریشن کے ممبر ممالک شامل ہوں گے۔ ایک قدم آگے بڑھ کر ترکی نے اسرائیل سے اپنے ڈپلومیٹک تعلقات کو ختم کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ اسرائیل جہاںاس فیصلے کو تاریخی اور جرائتمندانہ بتارہا ہے، فلسطین اسے ا من بحالی کے عمل کا ستیا ناس اور مسلم عیسائیوںکے خلاف جنگ کا اعلان مانتا ہے۔
یروشلم کی مذہبی حساسیت
یروشلم کی مذہبی حساسیت سے سب واقف ہیں۔ یہاں سے یہودی،مسلم اور عیسائی تین مذہبوں کی عقیدت جڑی ہوئی ہے۔ مسجد اقصیٰ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے جہاںتین سب سے مقدس مقامات میںسے ایک ہے تو یہودیوں کا سلیمانی ہیکل بھی یہیںواقع ہے۔ اسی جگہ پر عیسائیوں کی دیوار گریہ بھی ہے۔ دہائیوں سے متنازع یہ شہر فلسطین اسرائیل کے تنازعوں کے آنے جانے پر کئی طرح کی رکاوٹیں جیسے نمازیوں کی تلاشی اور دعا کے دوران لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم کرنا و دیگر طرح کی پابندیاں وغیرہ مذہبی ٹکراؤ کے حالیہ اسباب رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے وجود کو منظوری ،سرحدی سیکورٹی،پانی کا حق، مذہبی مداخلت، یروشلم پر کنٹرول، پناہ گزینوں کا مسئلہ وغیرہ طویل عرصہ سے ٹکراؤ کے مدعے بنے ہوئے ہیں۔
تاریخی پہلو یہ ہے کہ 1914 کے دوران جب فلسطین ترکی کی عثمانی خلافت کا حصہ تھا، لاکھوںکی تعداد میںعرب اور ہزاروں کی تعداد میںیورپ سے آئے یہودی رہائش اختیار کرنے لگے تھے۔ اسی دوران برطانیہ کے اس دور کے وزیر خارجہ لارڈ بلفور کے ذریعہ فلسطین میںیہودیوں کو بسانے کا وعدہ کردیا گیا تھا۔ 1922 سے برطانیہ حکومت کے ماتحت ہونے کے باوجود اس خطہ کو لے کر دونوں فریقوں کے بیچ خانہ جنگی جاری رہی۔ 1939 تک یورپ سے لاکھوں کی تعداد میںیہودی فلسطین پہنچے، جس کی فلسطینیوں کے ذریعہ سخت مخالفت ہوتی رہی۔ 30 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کے ذریعہ یہودیوں اور عربوں کا تنازعہ سلجھانے کے منصوبے کو حمایت ملی جس کے تحت 15 مئی 1948کو انگریزی حکومت ختم ہونے کے بعد اسرائیل اور فلسطین کو الگ الگ پہچان ملی۔ مذہب کے اہم مقدس مقامات والے شہر یروشلم کو فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی سے الگ پہچان دی گئی۔ 1948 میںایک بار پھر دونوں میںجنگ ہوئی، جس میںیروشلم کے مغربی حصوں پر اسرائیل کا قبضہ ہوا۔ لاکھوںکی تعداد میںپناہ گزین پڑوسی ملک میں منتقل بھی ہوئے۔ 1967 کی اسرائیل فلسطین جنگ میںفلسطین کو مشرقی یروشلم سمیت اپنے کچھ اور حصے کھونے پڑے۔ اہم یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذریعہ اسرائیلی قبضے والے ان علاقوں کو تسلیم نہیںکیاگیاہے۔ سچ ہے کہ زیادہ تر یورپی ملک اس کی مخالفت میںدکھائی دیتے ہیں لیکن امریکی پالیسیاں غیر واضح ، ایک طرفہ اور غیر ذمہ دارانہ رہی ہیں۔ امریکہمیں 1995 میں اپنے سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنے کا قانون پاس کیا گیا تھالیکن اب تک کے صدور مدعے کی حساسیت اور اقوام متحدہ کے معیاروں کے مدنظر منظوری دینے سے پرہیز کرتے رہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ٹرمپ کا انتخابی وعدہ
ٹرمپ کے ذریعہ اپنی انتخابی تقریروں میںاس مدعے کی خوب تشہیر کرکے وعدہ کیا گیا کہ اقتدار میں آنے پر یروشلم کو راجدھانی کی منظوری دی جائے گی۔ وعدہ یہ بھی کیا گیا تھا کہ وہ اسرائیلیوں کے لیے سب سے چہیتے صدر ہوںگے۔ان کی کابینہ میںیہودی وادی اہم کردار میںہیں بھی۔اس فیصلے کے اشارے گزشتہ 15 فروری کو واشنگٹن میںمنعقد ایک مشترکہ کانفرنس کے دوران ہی مل گئے تھے جب ٹرمپ کے ذریعہ ’ایک قوم کی ہامی بھر کرسفارت خانہ کو تل ابیب سے منتقل کرنے کا بیان دیا گیا تھا۔ ان مدعوںپر اوبامہ انتظامیہ کی پالیسی متوازن رہی ہے جبکہ ٹرمپ اس کے ذریعہ انتخابی وعدہ پورا کرگئے۔
اس میںدو رائے نہیںکہ اسرائیل میں بنیامین نیتانیاہو اور امریکہ میںٹرمپ کے انتخاب کے بعد ان مدعوںمیںگرماہٹ بڑھی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذریعہ فلسطینی سرزمین پر کالونائیزیشن کو لے کر پاس کی گئی قرارداد کا نیتانیاہو کے ذریعہ ٹھکرایا جانا سخت تیور کا اشارہ تھا۔ ڈیوڈ ایم فریڈ مین جو اسرائیل میںبطور امریکی سفیر کام کرتے ہیں، اس پر اسرائیل کے قبضے والے علاقوں میںغیر قانونی کالونائیزیشن کے لیے پیسہ جٹانے کی خبر کافی چرچا میںرہی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ فلسطینیوں کو مل رہی گرانٹ کی رقم بھی بند کی جاچکی ہے۔
ایسے میںتمام سیاق و سباق سے شک کی گنجائش نہیںبچتی کہ امریکی پالیسیاں ’دو قومی ایجنڈے اور علاقے میںامن قائم رکھنے کے حامی نہیںہیں۔ اس حالت میںمضبوط عالمی مداخلتوں سے امید بچی ہے۔ مغربی ایشیا کے ممالک اس موضوع پر سنجیدہ ضرور دکھائی دیے ہیں لیکن فلسطینی یکجہتی روز بروز کمزور ہی ہوئی ہے۔ اس سمت میںایران، ترکی اور دیگر ممالک کے ذریعہ امن کی پہل ضرور ہوئی لیکن یاسر عرفات کی تحریک سے حل کا جیسا راستہ ہموار ہوتا تھا،ا ب نہیںدکھائی دیتا۔ یہ بھی سچ ہے کہ 2007 میںغازہ پٹی میںفلسطینیوں کی آزادی کی جدوجہد میں سخت اور جارحانہ حکمت عملی کو فروغ دینے والے حماس کے قبضے کے بعد لڑائی اور بھی پرتشدد اور بے کنٹرول ہوچکی ہے۔
جہاںتک ہندوستان کا سوال ہے،اس کا رخ آزاد اور سنجیدہ ہے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے واضح ہے کہ مسئلے پر ملک کا رخ اپنے خیالات اور مفادات کے مطابق ہوگا نہ کہ کسی دیگر ملک کے مطابق۔ یاد رہے کہ یہ پہلا غیر عرب ملک تھا جس نے فلسطین کو منظوری دے کر سیاسی تعلق قائم کیے جبکہ 1990 کے شروعاتی دنوںتک ہندوستان- اسرائیل کے فوجی تعلق مضبوط ہوئے۔ اسی سال پہلے ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیل دورہ عالمی واقعہ بنا۔ ان کے فلسطینی دورے کی خبر بھی چر چا میںہے۔امید ہے کہ عالمی مداخلتوں سے یروشلم کا پرامن حل اسے ایک بار پھر امن اور مذہب- مرکز کی علامت بنانے میںکامیاب ہوگا۔
(مصنف جے ڈی یو کے قومی ترجمان ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *