کیاہندوستان قانوناً ہم جنسی کی جانب بڑھ رہاہے؟

gay-file-photo
اس وقت جوسوال ملک کے شہریوں کے ذہن پریشان کررہاہے، وہ یہ ہے کہ ہندوستان قانوناً ہم جنسی جانب بڑھ رہاہے۔اس کا اندازہ اس بات سے ہوتاہے کہ سپریم کورٹ اس سے متعلق دفعہ پرغورکرنے کیلئے رضامندی دے دی ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کوبڑی بنچ کوریفرکردیاہے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ نازفاؤنڈیشن معاملے پردوبارہ غورکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں لگتاہے کہ اس میں آئینی معاملے جڑے ہیں۔دوبالغوں کے بیچ جسمانی تعلقات کیاجرم ہے، اس پربحث ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ اپنی خواہش سے کسی کومنتخب کرنے والوں کوخوف کے ماحول میں نہیں رہناچاہئے۔کوئی بھی خواہش کوقانون کے چاروں طرف نہیں رہ سکتالیکن سبھی کودفعہ 21کے تحت جینے کے حقوق کے تحت قانون کے دائرے میں رہنے کاحق ہے۔حالانکہ سپریم کورٹ جانوروں کے ساتھ تعلقات بنانے کے معاملے سنوائی نہیں کرے گاجوکہ کسی بھی دفعات کے تحت جرم ماناگیاہے۔
لہٰذاسپریم کورٹ نے 2013 کے اپنے اس فیصلے پر ازسرنوغور کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کر دی ہے جس میں باہمی اتفاق رائے سے دو بالغوں کے درمیان قائم کئے جانے والے جنسی تعلق کو جرم کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے آج اس معاملے کو آئینی بنچ کے سپرد کردیا جو تعزیرات ہند کی دفعہ 377کی قانونی حیثیت پر ازسر نو غور کرے گی۔
بنچ نے کہا کہ وہ دفعہ 377کے آئینی جواز کی جانچ کرنے اور اس پر دوبارہ غور کرنے کے لئے تیار ہے۔ عدالت عظمی نے ایل جی بی ٹی فرقہ کے پانچ افراد کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا ہے۔ عرضی گذاروں نے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی فطر ی جنسی پسند کے معاملے میں پولیس کے خوف کے سائے میں جینے کے لئے مجبور ہیں۔
عیاں رہے کہ دفعہ 377ملک میں انگریزوں نے 1862میں نافذکیاتھا۔اس قانون کے تحت غیرفطری جنسی تعلقات کوغیرقانونی ٹھہرایاگیاتھا۔اگرکوئی خاتون اورمردآپسی رضامندی سے بھی غیرفطری جنسی تعلقات بناتے ہیں تواس دفعہ کے تحت 10سال کی سزااورجرمانہ کاپروویزن ہے۔کسی جانورکے ساتھ جنسی تعلقات بنانے پراس قانون کے تحت عمرقیدیادس سال کی سزااورجرمانے کا پروویزن ہے۔رضامندی سے اگردومردوں یاخواتین کے بیچ سیکس اس قانون کے دائرے میں آتاہے۔اس دفعہ کے تحت اس جرم کوسنگین بنایاگیاہے۔اس میں گرفتاری کیلئے کسی طرح کے وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔شک کی بنیادپریاخفیہ جانکاری کا حوالہ دیکرپولس اس معاملے میں کسی کوبھی گرفتارکرسکتی ہے۔دفعہ 377ایک غیرضمانتی جرم ہے۔
عیاں رہے کہ عدالت عظمی نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو بدلتے ہوئے 2013 میں بالغ ہم جنس پرستوں کے درمیان اتفاق رائے سے جسمانی تعلق قائم کرنے کو جرم قرار دیا تھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *