موجودہ دور میں مشاعروں کو تفریحی پروگرام بنا دیاگیا :شاعرافروزعالم

shar-AfrozAlam

عرب ممالک میں اردو ادب کے فروغ کے لئے سرگرم معروف وممتاز شاعر ڈاکٹر افروز عالم نے کہاکہ دور حاضر میں مشاعروں کو تفریحی پروگرام بنالیا گیا ہے ،جس کے سبب اردو سے محبت رکھنے اور تعلیم یافتہ لوگ مشاعروں سے دور ہوگئے اور یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ معاشرہ میں مشاعروں کی اہمیت اور معتبریت کم ہورہی ہے،جس کے لئے منتظمین ذمہ دار ہے ،اسلئے آج ضرورت اس بات کی مشاعروں اور زبان و ادب کے فروغ کے لئے پڑھے لکھے لوگوں کو آگے آنا ہوگا اسی وقت مشاعروں کے معیار میں بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔کویت سے دیوبند پہنچے معروف شاعر افروز عالم آج یہاں شاہ منزل خانقاہ میں نامہ نگار سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کاان کاتعلق صوبہ بہار کے ضلع گوپال گنج سے مگر وہ گزشتہ پچیس سالوں سے عرب ممالک میں مشاعرے پڑھ رہے ہیں اور وہیں اردو زبان کے فروغ کے لئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ عربوں میں اردو زبان کے تئیں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے مگر ہندوستانی ،پاکستانی و دیگر ممالک کے لوگ عرب میں اردو زبان کاپرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔

 

 

 

 

انہوں نے موجودہ دور میں مشاعروں کے کمزور ہوتے معیار پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ زبان و ادب کے تحفظ اور فروغ کے لئے مشاعروں کا انعقاد ضروری ہے ،جس سے اردو زبان کا پیغام خواص سے عوام تک پہنچتا ہے یہ اس کی ترویج و ترقی کا بہترین ذریعہ بھی ہے مگر اس کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔افروز عالم نے کہاکہ نوجوان نسل میں خود اعتمادی زیادہ ہوگئی یہ بھی ایک سبب ہے کہ زبان اور مشاعروں کو دونوں کا قابل ذکر فائدہ نہیں پہنچ رہاہے بلکہ وہ تفریحی پروگرا موں میں تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں اور رہی سہی کسر وہ منتظمین پوری کردیتے ہیں جو مشاعروں کو گلیمرائز کررہے ہیں کیونکہ وہ ایسی خواتین کو مشاعروں میں پیش کرنے لگے ہیں جن کا زبان و ادب سے دور دور تک تعلق نہیں ہوتاہے۔

 

 

 

 

 

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ خواتین مشاعروں میں ضرور شرکت کریں ہمیں ان کی شرکت پر اعتراض نہیں ہے مگر انہیں ان کی صلاحیتوں کے اعتبار سے نوازا جانا چاہئے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ منتظمین نے مشاعروں کو خواتین کے سہارے پوری طرح گلیمرائز کردیاہے ،جس سے اردو زبان اور مشاعرہ دونوں کو نقصان ہواہے اور وہ اپنی اصلی تاریخ و حقیقت سے دورہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اچھے شعراء کا فقدان کی سب سے بڑی وجہ اچھے استاذوں کا فراہم نہ ہونا ہے اور جس معیار کے شاعر ہو رہے ہیں اسی معیار کے سامعین بھی پیدا ہورہے ہیں،اس میں سب سے بڑی ذمہ داری ا ن شرفاء اور پڑھے لکھے لوگوں نے جنہوں مشاعروں کو ا ن کے حال پر چھوڑ دیا اسلئے آج ضرورت اس بات ہے کہ زبان و ادب سے محبت کرنے والے لوگ آگے آئیں اور مشاعروں کے معیار کو بہتربنانے کے لئے کوششیں کریں ، اگر وہ ایسے نہیں کرسکتے تو پھر انہیں شکایت کرنے کا بھی حق نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ ان کے دو مجموعہ کلام’ الفاظ کے سائے‘ اور ’دھوپ کے عالم میں‘ میں منظر عام پر آچکے ہیں۔ انہوں نے محبان اردو سے اپیل کی ہے وہ اردو کی خدمت کے لئے آگے آئیں اور مشاعروں و زبان وادب کے معیار کوبلند کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس دوران نامور قلمکار سیدوجاہت شاہ موجودرہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *