اترپردیش میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس تنازعہ ہوا سنگین

لاء اینڈ آرڈر میں آئی اے ایس افسروں کی مداخلت کے خلاف جب آئی پی ایس آفیسر اترپردیش میں تال ٹھونک رہے تھے، ٹھیک اسی وقت اترپردیش کے لاء اینڈ آرڈر کو درست کرنے کے لئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ یوپی کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (یو پی کوکا ) لانے کی تیاری کررہے تھے۔۔پولیس ایکٹ میںسدھار لائے بغیر اور وی وی آئی پی ڈیوٹی، لاء اینڈ آرڈر اور جرائم انکوائری تینوں کو الگ الگ کئے بغیر جرائم پر کارگر کنٹرول کیسے ہوگا، اس کے جواب میں مہارشٹر اور دہلی کی مثال سامنے ہے جہاں پچھلے لمبے عرصے سے کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (کوکا ) لاگو ہے، لیکن جرائم تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اچھی منصوبہ بندی اسکیم اور پالیسیوں میں ضروری سدھار کے بغیر اترپردیش میں لاگو ہو رہے ’کوکا‘ کے سیاسی انتقام کا ہتھیار بننے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اپوزیشن سیاسی پارٹیوں نے تشویش بھی ظاہر کی ہے کہ سیاسی مخالفین کے اوپر ظلم کے لئے ’کوکا ‘قانون کا استعمال ہو سکتا ہے۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ ’یو پی کوکا ‘لاکر بی جے پی سرکار نے مخالفین کی زبان پر تالا ڈالنے کی سازش کی ہے ۔
بہر حال ’یو پی کوکا ‘لانے کے پیچھے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ارادہ آرگنائزڈ کرائم پر کارگر پابندی لگانا ہو سکتا ہے لیکن اس قانون کو اسمبلی کی سطح پر لانے کے پہلے وزیراعلیٰ کو خود اور ان کے کابینی اتحادیوں کو اس پر غور کرنا چاہئے تھا کہ یو پی پولیس کا ڈھانچہ اور انتظامی بندوبست کیا اس قانون کو غیر جانبدار، درست اور ایماندار طریقے سے لاگو کرنے کے لائق ہے؟اس سوال کا جواب ریاست کے عام متاثر عوام جانتے ہیں،جو پولیس کی مجرمین سے قربت، غیر شفاف اور رشوت پر مبنی تفتیشی عمل کا شکار ہے۔ایسے میں ’یو پی کوکا‘ جیسے سخت قانون کا پولیس کیسے استعمال کرے گی اور عام آدمی مزید کتنے افسوسناک دن دیکھیں گے ، اس بات کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔
آئی اے ایس-آئی پی ایس تنازع
لاء اینڈ آرڈر کے مسئلے پر ہی اترپردیش کے آئی پی ایس آفیسر اور آئی اے ایس افسروں کے ذریعہ لاء اینڈ آرڈر کی جانچ کرنے کے عمل کی مخالفت کررہے ہیں۔ جس وقت وزیراعلیٰ یوگی ’کوکا ‘قانون لانے کی تیاری کررہے تھے، ٹھیک اسی وقت یو پی میں آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسروں میں کھلا ٹکرائو چل رہا تھا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے تھے اور خط و کتابت جاری ہورہے تھے۔ آئی پی ایس آفیسر اب آئی اے ایس افسروں کی ماتحتی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایسی حساس صورت حال میں یوگی سرکار نے آئی اے ایس افسروں کے تئیں اپنا رجحان واضح کر دیاہے، اس سے آئی پی ایس خیمے میں بے اطمینانی ہے ۔ جن دنوں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں میں تلواریں تنی ہوئی تھیں، اسی دوران 14 دسمبر 2017 کو وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سینئر آئی اے ایس افسروں کے سمینار کو خطاب کرتے ہوئے صاف صاف کہا کہ امن و قانون باقی رکھنا کلکٹروں کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔اس سے کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔
آپ کو وسط دسمبر میں راجدھانی لکھنو میں ہوئی اعلیٰ انتظامی سرگرمیوں کی طرف لے چلتے ہیں۔ حالانکہ دسمبر کی سرگرمیوں کا اسکرپٹ ستمبر مہینے میں ہی لکھ دیا گیا تھا۔ جب ریاست کے چیف سکریٹری راجیو کمار نے باقاعدہ یہ حکم جاری کیا تھا کہ اضلاع میں لاء اینڈ آرڈر اور جرائم کی جانچ سے متعلق ذمہ داری ضلع کلکٹر ادا کریں گے۔ چیف سکریٹری کے اس حکم کے بعد ریاست کے ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی پی ) سلکھان سنگھ میدان میں اترپڑے۔ ڈی جی پی نے چیف سکریٹری کے حکم کو پولیس افسروں کے دائرہ کار اور اختیار میں سیدھا مداخلت بتایا اور حکومت کو خط لکھ کر اس حکم کو واپس لینے کی اپیل کی۔
دسمبر آتے آتے انتظامیہ کے سینئروں کی سطح پر چل رہی سرد جنگ عوامی ہو گئی اور گرما گرم بحث میں تبدیل ہو گئی۔ آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے آناً فاناً میٹنگ بلا لی اور یہ معاملہ طول پکڑنے لگا۔ محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری اروند کمار کی صفائی کے باوجود معاملہ پرامن نہیںہوا،آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے ضلع کلکٹر کی صدارت میں ہونے والے لاء اینڈ آرڈر کی میٹنگ کی مخالفت کی اور حکومت سے سامراجی پروٹوکول اور وی آئی پی روایت ختم کرنے کی مانگ کی۔اس بارے میں آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے آئی اے ایس ایسوسی ایشن کو باضابطہ خط بھی لکھ ڈالا۔ غور وفکر کرنے کے لئے میٹنگوں کے بعد آئی پی ایس آفٖیسر اس بات پر متفق ہوئے کہ کلکٹر اور پولیس آٖفیسر لاء اینڈ آرڈر کی جائزہ میٹنگ کی جوائنٹ صدارت کریں۔ اس پر آئی اے ایس آفیسر رضامند نہیں ہیں۔
تنازع کو دبانے کی کوشش
آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں کے ٹکڑائو پر پانی ڈالنے کے لئے حکومت نے لفظوں کاکھیل کرکے کسی طرح باہری طور پر دونوں رتبے کے افسروں کو منانے کا رسم پورا کیا لیکن معاملہ اندر اندر سلگ ہی رہا ہے۔ حکومت کے محکمہ داخلہ اور ڈی جی پی دفتر نے مل کر لاء اینڈ آرڈر اور کرائم میٹنگ دونوں کو الگ الگ کیا اور دونوں طرف کے افسروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ یعنی لاء اینڈ آرڈر کی میٹنگ کی صدارت ضلع کلکٹر کریں گے اور کرائم میٹنگ کی صدارت پولیس سپرنٹنڈنٹ کریں گے ۔
اترپردیش کا پورا انتظامیہ عملاء لاء اینڈ آرڈر کی الگ میٹنگ اور الگ کرائم میٹنگ کرانے میں ہی لگا رہے گا۔ جبکہ لاء اینڈ آرڈر اور جرائم دونوں کو الگ الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ایسے میں ’یو پی کوکا‘ قانون کا حشر کیا ہوگا، اس کا اندازہ ابھی سے لگایا جاسکتاہے۔ سب جانتے ہیں کہ اضلاع میں ڈی ایم اور ایس پی کے اختیارات کو لے کر آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسروں میں لمبے وقت سے تنائو چلا آرہا ہے ۔ ایسے میں کرائم میٹنگ کی صدارت ڈی ایم کے ذریعہ کرائے جانے کے چیف سکریٹری کے حکم سے ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ میں غصہ پھیلنے لگا۔کئی اضلاع کے ایس پی نے اس کی شکایت آئی پی ایس ایسوسی ایش سے کی اور چیف سکریٹری کے حکم پر گہرے اعتراض کئے۔ ممبروں کے اعتراضات پر ہی آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے ایمرجینسی میٹنگ بلائی۔
قابل ذکر ہے کہ7 ستمبر 2017 کو چیف سکریٹری راجیو کمار نے لاء اینڈ آرڈر کی نگرانی کے لئے نئے نظام بنانے کو لے کر حکومت اور پولیس افسروں کو خط لکھا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ لاء اینڈ آرڈر کو لے کر ہر مہینے کی 7 تاریخ کو کلکٹر کی صدارت میں ہر ضلع کی پولیس لائنس میں میٹنگ ہوگی۔ میٹنگ میں متلعقہ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ ساتھ اے ڈی ایم انتظامیہ، ایڈیشنل ایس پی، ڈپٹی ایس پی، پروجکیوشن آفیسر اور سبھی تھانہ انچارج موجود رہیں گے، لیکن کیا تھا۔ اس حکم سے پوری ریاست کی نوکر شاہی میں اندر ہی اندر آگ لگ گئی۔
اسے سلگتا دیکھ کر سرکار نے ڈی جی پی کو معاملہ سنبھالنے کا حکم دیا۔ دو مہینے بعد 7نومبر 2017 کو ڈی جی پی سلکھان سنگھ نے لاء اینڈ آرڈر کی میٹنگ کو لے کر حکومت کو کچھ سجھائو بھیجے۔ ڈی جی پی نے سرکار کو لکھا کہ ضلع کلکٹر کی صدارت کرنے سے پولیس کی ڈسپلن سسٹم میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔لہٰذا ضلع کلکٹر کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ماتحت کے پولیس افسروں کو نہیں بلایا جائے لیکن سلکھان سنگھ کا یہ سجھائو حکومت کو ہضم نہیں ہوا۔ سیاسی گلیارے کے ذرائع بتاتے ہیں کہ آئی اے ایس افسروں کی ویل آرگنائزڈ لابی حکومت کو اپنے چنگل میں کسے ہوئی ہے،یہی وجہ ہے کہ سرکار پولیس ڈھانچے میں آنے والی انتظامی اڑچنوں کو نظر انداز کررہی ہے۔
سرکار نے کسی کی نہیں مانی
کئی سال پہلے سینئر آئی پی ایس افسروں نے اس مسئلے کے دانشمندانہ حل کا راستہ بھی سجھایا،لیکن وہ سرکار کو نہیں منظور ہوا۔ سابق آئی اے ایس ستیہ نارائن شکل نے اس بارے میں ریاست کے چیف سکریٹری کو خط بھی لکھا اور انہیں صلاح دی کہ ضلع کلکٹر کی صدارت میں ہونے والے لاء اینڈ آرڈر کی میٹنگ پولیس محکمے کے بجائے ضلع کلکٹر کے دفتر میں منعقد کی جائے اور اس میں صرف پولیس سپرنٹنڈنٹ اور پولیس سرکل آفیسر ہی شریک ہوں۔ اس کے بعد پولیس سپرنٹنڈنٹ پولیس افسروں کے ساتھ میٹنگ کریں اور جانچ کے کام کو آگے بڑھائیں۔ شکلا نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر درست رکھنے کے لئے دونوں سروسز کے افسروں کے درمیان بھائی چارے اور ہم آہنگی کا بنے رہنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ آپسی کشیدگی کا سیدھا اثر لاء اینڈ آرڈر پر ہی پڑے گا جس کا منفی نتیجہ آخر کار ریاست کے عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ شکلا نے چیف سکریٹری کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ماضی میں فوجداری وعدوں کے اعلان کی باقاعدہ ماہانہ جانچ ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ اپنے دفتر میں ہی کی جاتی تھی۔اس کے لئے ضلع افسروں کو پولیس لائن جانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اصلیت میں اہم مدعا ریاست کے چرمرائے ہوئے لاء اینڈ آرڈر میں سدھار کا ہے جو کہ ضلع میں افسروں کو منظم ٹیم کی شکل میں کام کرنے پر ہی ممکن ہو پائے گا۔
آئی پی ایس ایسوسی ایشن کے سکریٹری اسیم ارون نے آئی اے ایس ایسوسی ایشن کو جو خط لکھا ،وہ بھی دلچسپ ہے۔ ارون نے لکھا ہے کہ یو پی سرکار اگر وی آئی پی کلچر ختم کر رہی ہے، تو اسی کے مطابق آئی اے ایس افسروں کو فیوڈل پروٹوکول ختم کرنا چاہئے۔ میٹنگ میں کون اونچی کرسی پر بیٹھا ہے اور کون نیچی کرسی پر، کس کی گاڑی پہلے نکلی ، کس کی بعد میں اور فون پر کون پہلے آیا جیسے بے معنی ایشوز پر نوکر شاہی اپنی توانائی بیکار ضائع کررہے ہیں۔ نوکر شاہوں کو مساوات ، جامعیت اور احترام کے اثر کے ساتھ کام کرنے کا ماحول بنانا چاہئے ۔آئی اے ایس افسروں کو خود کو بڑا سمجھنے کی ذہنیت سے پرہیز کرنا چاہئے۔ دوسری طرف ریاست کے سابق پولیس ڈائریکٹر اے کے جین نے کہا کہ پولیس کو پولیس کا کام کرنا چاہئے۔ پولیس کے کام میں دخل اندازی کم کی جانی چاہئے۔ جن ریاستوں میں کمشنر سسٹم لاگو کر کے پولیس کو طاقتور بنایا گیا، وہاں پر کارگر جرائم کنٹرول اپنے آپ میں مثال ہے ۔
افسروں کا ڈی این اے فرق
آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں کی کشیدگی اتنی گہری ہو گئی ہے کہ وہ ڈی این اے فرق کی طرح ابھر کر سامنے آگئی۔ آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں کے درمیان ہونے والا سالانہ کرکٹ میچ بھی اس تفریق سے باہر نہیں آپایا اور کافی تلخ ہو گیا۔ لکھنو میں آئی اے ایس ہفتہ کے دوران ہوئے کرکٹ میچ میں آئی پی ایس ایسو سی ایشن نے آئی اے ایس ایسو سی ایشن کو9 وکٹ سے ہرا دیا۔ اس جیت سے حوصلہ پاکر آئی پی ایس ایسو سی ایشن نے ٹویٹ پر ریمارکس کیا ’جیت ہمارے ڈی این اے میں ہے، ہم اچھے ہیں۔ تاریخی ۔۔۔۔‘‘ اس ٹویٹ پر آئی اے ایس ایسو سی ایشن نے خوشگوار جواب بھیجا کہ ’مبارکباد، آپ جیت کے حقدار تھے لیکن اس دوستانہ میچ کو ڈی این اے ٹیسٹ میں مت بدلئے‘۔
بگڑے ماحول کے نتائج
اسی بگڑے ماحول میں اترپردیش کے پی سی ایس کے آفیسر بھی اپنی ترقی اور تعیناتی کے مسئلے پر جدو جہد کے لئے سگ بگا رہے ہیں۔پی سی ایس افسروں کو اس کا گہرا ملال ہے کہ ان کے کیڈر کے عہدوں پر بھی آئی ایس آفیسر قبضہ جما رہے ہیں۔وسیع تجربہ اور لمبا دور کار ہونے کے باوجود پی سی ایس افسروں کو محکموں کا چیف نہیں بنایا جاتا، اسے لے کر بھی پی سی ایس افسروں میں گہرا غصہ ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پی سی ایس افسروں کی ناراضگی دور کرنے کی یقین دہانی کرکے ایک اور سردرد مول لے چکے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار سنبھالنے کے دو مہینے بعد ہی یو پی پی سی ایس ایسو سی ایشن نے سرکار کو الٹی میٹم دے کر کہا تھاکہ پی سی ایس کیڈر کے عہدوں پر تقرری آئی اے ایس افسروں کو 15 دنوں کے اندر ہٹایا جائے۔ اس وقت کے چیف سکریٹری راہل بھٹناگر کے ذریعہ ایسوسی ایشن کو ملاقات کا وقت نہیں دینے کی وجہ سے بھی پی سی ایم ایسو سی ایشن اب تک ناراض ہے۔
ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ پراپرٹی آفیسر اور ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے وائس پریسیڈنٹوں کے عہدہ پر آئی اے ایس افسروں کی تعیناتی ناجائز ہے کیونکہ یہ عہدہ پی سی ایس کیڈر کے افسروں کے لئے طے ہے۔ ایسو سی ایشن کی ناراضگی کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے مسائل کے کئی معاملے حکومت کی سطح پر عرصے سے ملتوی ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے پی سی ایس افسروں کے ملتوی مسائل کا حل کرنے اور ان کے پروموشن کی کارروائی ترجیحی بنیاد پر کرنے کا حکم دیاہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اب یوگی لائے’ یوپی کوکا‘
نوکر شاہی کے دو کیڈروں میں مچی کھینچاتنانی، تنائو اور تنازع کے بیچ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ 20 دسمبر 2017 کو اسمبلی میں اترپردیش ’یو پی کوکا‘ بل 2017 پیش کیا جو 21دسمبر 2017 کو پاس ہوگیا۔اصولی طور پر اس بل میں ملک مخالف سرگرمی ، دہشت گردی پھیلانے یا طاقت کے بل پر تشدد کے ذریعہ سرکار کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے دھماکہ خیز مواد یا دیگر پُرتشدد وسائل کا استعمال کرنے، کسی کی جان یا جائیداد کو برباد کرنے، پبلک اتھارٹی کو موت کی دھمکی دے کر یابرباد کردینے کی دھمکی دے کر پھروتی کے لئے کام میں رکاوٹ ڈالنے جیسے سنگین جرائم سے نمٹنے کے لئے سخت پروویژن دیئے گئے ہیں لیکن اس قانون کے ذریعہ پولیس کیا کیا کرے گی،یہ وقت ہی بتائے گا۔حالانکہ وزیراعلیٰ نے ایوان میں کہا ہے کہ یہ قانون سیاسی انتقام کے لئے ہیں بلکہ جرائم کے خلاف ہے۔ یوگی نے یہ بھی یقین دلایا کہ سرکار پہلے سے لدے 20سیاسی مقدمے ختم کرنے جارہی ہے۔
بل کے مقاصد اور اسباب میں کہا گیا ہے کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ منصوبہ بند جرائم کے خطرے کے خاتمے اور کنٹرول کے لئے ناقابل پایا گیا ہے ، اس لئے منصوبہ بند جرائم کے خطرے کو کنٹرول کرنے کے لئے جائیداد کی کرکی ، ریمانڈ کا عمل ، جرائم کنٹرول کی سرگرمی، فوری غور وفکر اور انصاف کے مقصد سے خصوصی عدالتوں کی تشکیل اور خصوصی ججوں کی تقرری اور آرگنائزڈ جرائم کے خطرے کو کنٹرول کرنے کی تحقیقاتی سرگرمیوں کو سخت اور ٹھوس تجاویز کے ساتھ مزید قانونی ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔بل میں منصوبہ بند جرائم کی تفصیل کے ساتھ تشریح کی گئی ہے ۔
پھروتی کے لئے اغوا، سرکاری ٹھیکہ میں طاقت کا مظاہرہ ،خالی یا متنازع سرکاری زمین یا عمارت پر جالی دستاویزوں کے ذریعہ یا طاقت کے بل پر قبضہ ، بازار اور فٹ پاتھ دکانداروں سے غیر قانونی وصولی، طاقت کا استعمال کرکے غیر قانونی کانکنی ،دھمکی یا وائلڈ لائف کاروبار ،فنڈ کی ہیرا پھیری، انسانی اسمگلنگ ،نقلی دوائوں یا غیر قانونی شراب کا کاروبار ، زہریلے اشیاء کی تسکری وغیرہ کو اس کے تحت رکھا گیا ہے۔ بل میں آرگنائزڈ جرائم کے لئے سخت سزا کا پروویژن رکھا گیا ہے۔
سزا کا اہتمام
آرگنائزڈ جرائم کی وجہ سے کسی کی موت ہونے کی حالت میں موت کی سزا یا تا حیات قید کی سزا ہے۔ ساتھ ہی کم سے کم 25لاکھ روپے کے جرمانہ کا پروویژن ہے ۔ کسی دیگر جرم کے معاملے میں کم سے کم سات سال کی سزا سے لے کر تا حیات قید تک کا پروویژن ہے اور کم سے کم 15لاکھ روپے کا جرمانہ بھی تجویز میں ہے۔’یو پی کوکا‘ بل منظم جرائم کے معاملوں کے تیزی سے نمٹانے کے لئے خصوصی عدالت کی تشکیل کا پروویژن کرتا ہے۔
بل میں اسٹیٹ آرگنائزڈ کرائم کنٹرول اتھارٹی کی تشکیل کا بھی پروویژن ہے جس کے صدر محکمہ داخلہ کے چیف سکریٹری ہوں گے۔ اس میں تین دیگر ممبر اَپَر پولیس ڈائریکٹر (لاء اینڈ آرڈر) اَپر پولیس ڈائریکٹر ( کرائم ) اور محکمہ قانون کے ایڈیشنل سکریٹری کی سطح کے آفیسر شامل ہوں گے جو کہ سرکا رکی طرف سے نامزد ہوں گے۔ اس کے علاوہ ضلع سطح پر جرائم کنٹرول اتھارٹی بنانے کی تجویز ہے، جو متعلقہ ضلع کلکٹر کی صدارت میں ہوگا اور اس میں پولیس سپرنٹنڈنٹ، اپر پولیس سپرنٹنڈنٹ اور پروسکیوٹنگ آفیسر بطور ممبر شامل ہوں گے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائر جج کی صدارت میں ایک اپیلیٹ اتھارٹی ہوگی۔ جس میں ریاستی سرکار کے دو ممبر ہوں گے ۔یہ اتھارٹی ’یوپی کوکا‘ کے تحت ملزم کی عرضی کی سنوائی کرے گی۔
اپوزیشن کی مخالفت
یوگی سرکار کے اس بل کی ایوان میں اپوزیشن نے جم کر مخالفت کی۔ بل پیش ہونے کے پہلے بھی سماج وادی پارٹی صدر و سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور بہو جن سماج پارٹی لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ مایاوتی سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے کہا کہ سیاسی انتقام کے جذبے سے اس بل کا غلط استعمال ہو سکتاہے۔ ان لیڈروں نے تشویش ظاہر کی کہ اس بل کا بے جا استعمال اقلیتوں، غریبوں او سماج کے کمزور طبقہ کے خلاف ہو سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی لیڈر اکھلیش نے کہا کہ ’یو پی کوکا ‘نہیں، یہ دھوکہ ہے۔ اکھلیش نے کہا کہ فرنیچر صاف کرنے کے پائوڈر کو خطرناک دھماکہ خیز بتا کر عوام کو بہکانے والی پارٹی اب ’یو پی کوکا‘ کے نام پر لوگوں کو خوفزدہ کررہی ہے۔ اکھلیش نے یہ کہتے ہوئے چٹکی لی کہ یوگی سرکار نے نئے سال میں عوام کو تحفہ دیا ہے۔ اب سیلفی لینے پر بھی’ یو پی کوکا‘ لگ سکتا ہے ۔
ان رد عمل کے بیچ سرکار کی طرف سے ریاست کے کابینی وزیر شری کانت شرما نے صفائی دی کہ قانون کا نمونہ باقاعدہ عدلیہ محکمہ کے اتفاق سے تیار ہوا ہے۔ شرما نے کہا کہ منظم جرائم، مافیائوں اور دیگر سفید پوش مجرموں کی سرگرمیوں پر کنٹرول کے سلسلہ میں ہائی کوٹ میں دائر عرضی پر 12جولائی 2006 کو پاس حکم کے تئیں مافیا سرگرمیوں اور ریاستی سرکار کے کاموں میں مداخلت پر لگام لگانے کے لئے قانون کا نمونہ عدلیہ محکمہ کی رضامندی سے تیار کیا گیا۔ اس بل میں 28 ایسے پروویژن ہیں جو پہلے سے لاگو گینگ اسٹار ایکٹ میں شامل نہیں ہیں۔ مجوزہ قانون کے تحت درج مقدموں کی سنوائی کے لئے خصوصی عدالتیں بنیں گی، انہوں نے کہا کہ بل کی جانچ کے لئے داخلہ محکمہ کے سکریٹری کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل کی گئی تھی۔ اس میں اپر پولیس ڈائریکٹر (کرائم ) اور ایڈیشنل سکر یٹری ( عدلیہ محکمہ ) کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کے ذریعہ جانچ کے دوران ہائی کورٹ کے کنٹرول اور مہاراشٹر منظم جرائم کنٹرول قانون 1999 (مکوکا) کا بھی گہرا تجزیہ کرکے اس بل کا نمونہ تیار کیا گیا۔ سرکار نے کہا کہ اسٹیٹ آرگنائزڈ کرائم کنٹرول اتھارٹی خود نوٹس لے کر یاشکایت ہونے پر منظم جرائم کی سرگرمیوں کی چھان بین کرے گا اور اس کے لئے اتھارٹی ریجم کی کوئی بھی فائل دیکھنے کے لئے بااختیار ہوگا۔
بچ نہیں پائیں گے مجرم
سرکار یہ مانتی ہے کہ منظم جرائم میں ملوث مجرموں سے نمٹنے کے لئے لائے جارہے یو پی کوکا سے مجرم بچ نہیں پائیں گے۔داخلہ محکمہ کے اعلیٰ آفیسر نے کہاکہ’ یو پی کوکا‘ بل کو گورنر کی منظوری ملتے ہی آرگنائزڈ جرائم میں ملوث مجرموں پر سرکار کا شکنجہ کس جائیگا۔ بل کے پروویژنوں کے مطابق کسی آدمی کے ذریعہ اکیلے یا مشترکہ طور سے یاآرگنائزڈ جرائم یا آرگنائزڈ جرائم کے سنڈیکیٹ کے ممبر کی شکل میں کام کرنا، تشدد کا سہارا، دبائو کی دھمکی، رشوت خوری ، لالچ کے سہارے جرائم کو انجام دینا آرگنائزڈ جرائم کے درجے میں آئے گا۔ اس کے علاوہ مالی فائدہ، کسی دیگر آدمی کو غیر مناسب فائدہ پہنچانے، بغاوت کو بڑھاوا دینے ، غیر قانونی وسائل سے غیر قانونی کارکردگی کو جاری رکھنے، دہشت گردی پھیلانے، طاقت یا تشدد کے ذریعہ سرکار کو اکھار پھینکنے کے لئے دھماکہ خیز مواد ،آتشی مواد، پر تشدد وسائل کے استعمال کرکے زندگی یا جائیداد کو نقصان پہنچانے ، پبلک اتھارٹی کو مارنے یا برباد کرنے کی دھمکی دے کر پھروتی کی مانگ کرنا بھی اس کے دائرے میں آئے گا۔ اس کے علاوہ پھروتی کے لئے اغوا کرنے، کسی ٹھیکہ کے ٹینڈر میں حصہ دار بننے سے کسی کو روکنے ، سپاری لے کر قتل کرنے ، زمین پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کرنے ،جالی دستاویز تیار کرانے ،بازاروں سے غیر قانونی وصولی کرنے، غیر قانونی کانکنی، حوالہ کاروبار ، انسانی اسمگلنگ، نقلی دوائوں کا دھندہ کرنے اور غیر قانونی شراب کی فروخت کرنے پر بھی ’یو پی کوکا‘ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اسے بتاتے ہوئے داخلہ محکمہ کے آفیسر نے کہا کہ آرگنائزڈ جرائم کو روکنے کے لئے سرکار نے بل میں کافی سخت پروویژن رکھے ہیں۔ ابھی تک پولیس ملزم کو پکڑتی تھی اور عدالت میں پیش کر کے بتاتی تھی کہ مذکورہ آدمی مجرم ہے۔ اسے ثابت کرنے کے لئے ثبوت لگاتی تھی لیکن یو پی کوکا کے پروویژنوں میں جرم کے وقت موقع پر ہونے کا ثبوت ملنے کے بعد ملزم کو ہی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ملزم نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

اپنی پہچان چھپا سکیں گے گواہ
کئی بار گواہوں کی پہچان اجاگر ہونے پر ان کی جان مال کا خطرہ بنارہتا ہے،لیکن ’یو پی کوکا‘ قانون کے تحت اس کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ اگر گواہ چاہے تو اس کی پہچان اجاگر نہیں کی جائے گی۔اس پروویژن کے تحت سرکار گواہوں کو نہ صرف تحفظ دے گی، بلکہ گواہوں کا پروسیس بھی بند کمرے میں ہوگا اور عدالت بھی گواہ کا نام اجاگر نہیں کرے گی۔من مانے ڈھنگ سے کسی آدمی پر مقدمے نہ درج ہوں، اس کے لئے بھی بل میں پروویژن کیا گیا ہے۔ ہر ضلع میں ایک ضلع آرگنائزڈ جرائم کنٹرول اتھارٹی ہوگی۔ ’یو پی کوکا‘ لگانے کے لئے وہ اپنی سنڈیکیٹ کمیٹی اور آئی جی یاڈی آئی جی کی دو رکنی کمیٹی کے پاس بھیجے گا۔ ضلع اتھارٹی سے آئی سنڈیکیٹ پر کمیٹی اور رینج کے آئی جی اور ڈی آئی جی کی کمیٹی کو ایک ہفتہ میں فیصلہ لینا ہوگا۔ ان کی منظوری کے بعد ہی’ یو پی کوکا‘ کے تحت کوئی مقدمہ درج کیا جائے گا۔ تجزیہ کے بعد چارج شیٹ ژون کے اے ڈی جی یاآئی جی کی منظوری کے بعد ہی داخل کی جاسکتی ہے ۔’یو پی کوکا‘ کے تحت ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی صدارت میں اپیلیٹ اتھارٹی کی تشکیل کا پروویژن کیا گیا ہے۔ اگر کسی کو غلط پھنسایا گیا تو وہ کارروائی کے خلاف اتھارٹی میں اپیل کر سکے گا۔
ضبط ہو جائے گی مجرموں کی جائیداد
بل کے لاگو ہونے پر ریاستی سرکار آرگنائزڈ جرائم سے کمائی گئی جائیداد کو تجزیہ کے دوران متعلقہ عدلیہ کی منظوری لے کر ضبط کر سکے گی۔ عدلیہ سے سزا پانے کے بعد آرگنائزڈ جرائم کی جائیداد ریاستی سرکار کے ذریعہ ضبط کر لئے جانے کا پروویژن ہے۔ غیر قانونی قبضے اور غیر قانونی کانکنی کے ملزم بھی اس کے دائرے میں ہوں گے ۔ گینگ اسٹار ایکٹ کے 28 پروویژن الگ سے کئے جارہے ہیں۔ دہشت گردی ، حوالہ ، غیر قانونی شراب کاروبار، طاقت سے ٹھیکہ ہتھیانے ، پھروتی کے لئے اغوا ،غیر قانونی کانکنی، جنگلاتی پیدوار کے غیرقانونی ڈھنگ سے اخراج، جنگلاتی پیداوار کی تسکری ، نقلی دوائوں کا بنانا یا بیچنا ، سرکاری و غیر سرکاری جائیداد کو قبضہ کرنے اور رنگداری یا غنڈہ ٹیکس وصول کرنے ،میں آرگنائزڈ جرائم میں ’یو پی کوکا‘ لاگو کیا جائے گا۔ اس میں 28پروویژن ایسے ہوں گے جو گینگ اسٹار ایکٹ میں نہیں ہیں۔ اس کے تحت کم سے کم سات سال کی قید اور 15 لاکھ روپے کا جرمانہ اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت اور 25 لاکھ روپے تک کے جرمانے کا پروویژن ہے۔
آرگنائزڈ کرائم کنٹرول اتھارٹی رکھے گی نظر
ریاست میں جرائم کرنے والے گروہوں پر شکنجہ کسنے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے چیف سکریٹری داخلہ کی صدارت میں ریاستی سطح پر آرگنائزڈ کرائم کنٹرول اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ ضلعی سطح پر ڈی ایم کی صدارت میں ڈسٹرکٹ آرگنائزڈ کرائم کنٹرول اتھارٹی کی تشکیل بھی کی جائے گی۔
’یو پی کوکا‘ بھی سیاہ قانون
دیکوکا، مکوکا، گوجکوکا کے بعد اب یو پی کوکا چرچا میں ہے۔ کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ ( کوکا ) ملک کے ان نصف درجن بدنام قانونوں میں شمار ہو گیاہے جسے لے کر تمام تنازع اٹھتے رہے ہیں۔ ایسے ہی متنازع قانونوں میں شامل ہے خوب چرچے میں رہنے والا قانون افسپا (آرمڈ فورسیز اسپیشل پاور ایکٹ )، الزام لگتے رہے ہیں کہ افسپا سے سیکورٹی دستوں کو من مانی چھوٹ مل جاتی ہے۔ لیکن عام دلیل یہ ہے کہ اگر افسپا ہٹا دیا جائے تو متاثرہ علاقوں میں لاء اینڈ آرڈر ختم ہوجائے گا۔۔ملک کے تشدد اور دہشت گرد ی متاثر ہ علاقوں میں یہ قانون لگایا جاتا ہے ۔ ابھی کشمیر اور شمالی اترپردیش کے کچھ حصے میں یہ قانون لاگو ہے۔ افسپا 1958 میں لایا گیا تھا۔ منی پور میں ایروم شرمیلا اسی افسپا قانون کے خلاف 2000 کے نومبر سے انشن پر بیٹھی ہوئی تھیں جو 9اگست 2016 کو ختم ہوا۔ افسپا سے متعلق معاملوں کی جانچ کے لئے سنتوش ہیگڑے کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کے پہلے ایمرجینسی کے درمیان میسا ( مینٹننس آف انٹرنل سیکورٹی ایکٹ ) کا نام دہشت کے ساتھ لیاجاتا تھا۔ یہ متنازع قانون 1971 میں اندرا گاندھی سرکار کے دور حکومت میں پاس ہوا تھا۔ اس کے بعد مرکزی سرکار کے پاس لامحدود اختیار آگئے تھے ۔پولیس یا سرکاری ایجنسیاں کسی کو بھی لا محدود وقت کے لئے کسی کو گرفتار کر سکتی تھی۔ اس قانون کے ذریعہ فون ٹیپنگ بھی سرکار کے لئے قانونی ہو گیاتھا۔ 39ویں ترمیم کے ذریعہ اسے 9ویں شیڈول میں ڈال کر اندرا گاندھی نے اسے کورٹ کے دائرے سے الگ کر دیاتھا۔ ایمرجینسی کے دوران اس کا خوب بے جا استعمال ہوا۔ کانگریس مخالفوں کو مہینوں جیلوں میں بند رکھا گیا۔ اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی، چندر شیکھر، شرد یادو، لالو پرساد سمیت کئی لیڈر اس قانون کے تحت جیل میں رہے تھے۔ میسا قانون کے تحت گرفتار لوگوں کو میسا بندی بھی کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد ٹاڈا (ٹیریرسٹ اینڈ ڈسرپٹیو ایکٹیویز ایکٹ ) کا نام آیا۔ ٹاڈا قانون 1985 سے 1995 کے بیچ لاگو تھا۔ پنجاب میں بڑھتی دہشت گردی کی وجہ سے سیکورٹی دستوں کو خصوصی اختیارات دینے کے لئے یہ قانون لایا گیا تھا ۔سنجے دت کو اسی قانون کے تحت پہلے گرفتار کیا گیا تھا ۔1994 تک ٹاڈا میں 76166 لوگ گرفتار کئے جاچکے تھے لیکن اس میں صرف چار فیصد لوگ ہی مجرم ثابت ہوئے۔ اس قانون کے سخت پروویژنوں کی وجہ سے کئی لوگ برسوں تک جیل میں سڑتے رہے۔ پوٹا (پریونشن آف ٹیریرزم ایکٹ ) بھی ایسا ہی قانون تھا۔ 2002 میں پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پوٹا قانون پاس کیا گیاتھا۔ ٹاڈا کی طرح پوٹا بھی دہشت گردی کو روکنے والا قانون تھا۔ پوٹا کے تحت بھی سرکاری سیکورٹی ایجنسیوں کو لامحدود اختیارات مل گئے تھے۔ 2004 میں اس قانون کو رد کر دیا گیا۔
اترپردیش کے موجودہ وزیر راجا بھیا،تمل ناڈو کے سینئر لیڈر وائی کے اس ایکٹ میں گرفتار ہونے والے اہم لیڈروں میں شامل ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ایس آر گیلانی کو پوٹا کورٹ نے پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں موت کی سزا دی تھی جسے بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے رد کردیا۔ کافی پہلے 1967 میں آن لافل ایکٹویوٹیز پریونشن ایکٹ ( یو اے پی اے ) لایا گیا تھا۔ یہ قانون آج بھی لاگو ہے۔ اس قانون کے ذریعہ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کئے جانے کے الزام لگتے رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر جی این سائی بابا اور مائووادی دانشور کوباڑ گاندھی کو اسی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *