ہندو سماج تنگ نہیں ،ہمہ گیر سوچ کا نام ہے

آر ایس ایس کہتی ہے کہ ملک میں ہندوتو آنا چاہئے۔ بی جے پی کے ایم ایل اے کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو ہندوتو کی طرف لائیں گے ۔وہ بہت بڑی بھول کررہے ہیں۔ آج آر ایس ایس کو سیکولر لفظ پسند نہیں ہے لیکن ہندوستان اگر سیکولر ہے تو صرف اس لئے کیوںکہ یہاں ہندو زیادہ ہیں۔ ہندو درشن اور ہندو خود سیکولر ہیں۔ ہندوئوں میں اتنے دیوی دیوتا ہیں، اتنے عقائد ہیں اتنی طرح کی پوجا کے طور طریقے ہیں۔ ہندوئوں میں ایسا ہے نہیں کہ جمعہ کو ایک بجے نماز پڑھنا ہے یا اتوار کو دس بے چرچ میں پرارتھنا کرنی ہے۔ ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔کوئی شیو کی پوجا کرتا ہے،کوئی گنیش کی، تو کوئی پوجا نہیں بھی کرتا ہے۔ ہندو دھرم ایسا ہے لیکن یہ بات بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں کو پسند نہیں آئے گی۔ مجھے کہنا پڑے گا کہ اگر ہندو درشن کو زندہ رکھنا ہے تو ہندوتو سے ملک کو بچانا ہوگا۔ یہ ہندوتو سب سے زیادہ ہندو درشن کا ہی نقصان کرے گا۔
مسلمان تو اس ملک میں صرف15فیصد ہیں۔ ان کا کیا ہونا ہے ؟ان کو آپ برباد بھی کروگے تو اس سے ملک کا کیا ہونا ہے؟مسلمانوں اور عیسائیوں کا آپ ذاتی نقصان کر دوگے یا خون خرابہ کر دوگے تو اس سے کچھ بھی نہیں ہونا ہے۔ ہمارے مسائل اور ہمارے مسائل کا حل صرف ہندو سماج ہے اور ہندو سماج کو بانٹئے مت ۔ہندو سماج کو اشتعال مت دلائیے۔
ہندو سماج کو بانٹنے کی کوشش مت کیجئے کہ یہ کورے گائوں بھیم کا سانحہ ہو رہا ہے تو غلط ہورہا ہے اور یہ مسلمان کی نماز ہورہی ہے تو یہ غلط ہو رہا ہے۔ یہ کچھ نہیں ہے۔ ہر گائوں میں ہندو مسلمان باہمی اعتماد کے ساتھ رہتے ہیں۔ملک میں 6 لاکھ گائوں ہیں۔ میں آر ایس ایس سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اب تو 2018 آگیا ۔100 سال پورے ہونے میں آر ایس ایس کو7 سال بچے ہیں۔ اگر آپ کی سوچ اتنی بڑی تھی تو پورا ہندو سماج آپ کے ساتھ کیوں نہیں ہے؟کانگریس کو کیوں ووٹ دیتے ہیں؟وہ لوگ اس لئے ووٹ دیتے ہیں کیونکہ کانگریس کی جو بنیادی سوچ ہے، وہ ہندو سوچ ہے۔ جو آئین ہے، وہ ہندو سوچ کا آئین ہے۔ ہندو لفظ استعمال نہیں کرتے ہیں، تاکہ دوسرے مذہب کے لوگ خراب نہ مانیں لیکن اصل بنیاد وہی ہے۔ہندو آدرش جو تھے، جس سے ہمارا ہزاروںسال پرانا سماج بنا ہے ،وہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ایسا اسی لئے ہے، کیونکہ یہاں جمہوریت ہے۔ یہاں ایک آدمی ،ایک ووٹ کو لوگ منظور کرتے ہیں۔ یہاں پنچایت راج ہے۔ آج بھی گائوں میں بڑے بوڑھوں کی قدر ہوتی ہے۔ اسکول اساتذہ کی قدر ہوتی ہے ۔یہ کوئی لیڈروں کی دین نہیں ہے۔یہ کوئی آر ایس ایس کی دین نہیں ہے۔ آر ایس ایس تو صرف برانچ میں جاکر لوگوں میں دوری پھیلا سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو بلا کر کہتے ہیں کہ آپ لوگ ٹھیک ہو، باقی لوگ غلط ہیں۔ اس سے کوئی سماج کا بھلا نہیں ہوگا۔ سیکو لر سوچ یعنی سب کو ساتھ لے کر چلو، لیکن یہ نہیں ہو رہا ہے۔ مہاراشٹر میں دلتوں کو دبایا جارہاہے، آسام میںمسلمانوں کو دبایا جارہاہے۔
لالو یادو کو عدالت نے پھر سے قصوروار قرار دیا ہے۔ فیصلہ آتے ہی کچھ لوگ یہ بولنے لگے کہ لالو یادو تو گئے۔لیکن وہ بھول گئے کہ لالو یادو کو پہلے بھی سزا ہو چکی ہے اور لالو یادو الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں لالو اور نتیش نے مل کر بی جے پی کا سُپرا صاف کر دیا ۔یہاں کی پبلک الگ ہے۔یہاں کی سوچ الگ ہے ۔یہاں کی سوچ اگر میں ایک لفظ میں کہوں تو ساگر ہے۔ ہندو دھرم ایک ساگر ہے ۔اس ساگر کو ایک کنوئیں میں بند نہیں کرسکتے ہیں۔ چاہے لوگ جتنی بھی کوشش کر لیں۔ آر ایس ایس کے لوگ ایسا کر رہے ہیں۔ہر ادارہ کو کام کرنے کا اپنا اختیار ہے۔ سبھی اپنا کام کریں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان کی شناخت بدل دیں گے۔پانچ سال کے لئے کوئی سیاسی پارٹی انتخاب میں آتی ہے اور جیت کر یہ سوچنے لگتی ہے کہ پانچ سال میں سب کچھ بدل دیںگے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ پانچ ہزار سال کا معاملہ ہے۔ پانچ سال تو کیا، پچاس سال ،سو سال ،پانچ سو سال میں بھی کچھ نہیں بدلے گا۔یہ بات جتنی جلدی سمجھ میں آجائے، اتنا ہی ملک کا بھلا ہوگا۔ اب سیاست پر آتے ہیں۔ اب ایک ڈیڑھ سال بچا ہے ۔غریبوں کی حالت خراب ہے، تھوڑی مرہم پٹی کیجئے۔ کسانوں کی حالت خراب ہے،نوجوانوں کو نوکری نہیں مل رہی ہے۔ ان کے لئے کچھ کیجئے۔ حالانکہ اب ڈیڑھ سال میں کچھ ہو نہیں سکتا لیکن مثبت کوشش کیجئے ۔ان لوگوں کو طول مت دیجئے جو گائے کو بچانے والے ہیں، وہ گائے کو بچانے کی بجائے انسانوں کو مار دیتے ہیں۔ اس بات میںتو کوئی منطق ہی نہیں ہے۔
آج بھی ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ساتھ میں لیجئے ،اپوزیشن کو بھی ساتھ میں لیجئے۔ گجرات کے بعد تو بی جے پی کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کانگریس مکت بھارت ہونا ہی نہیں ہے۔ گجرات کانگریس مکت نہیں ہوا ہے، تب ہندوستان تو بہت دور کی بات ہے۔ پارلیمنٹ کانگریس مکت نہیں ہوا ہے۔ راہل گاندھی جن کو آپ سائڈ کر چکے تھے، وہ مودی جی سے 20 سال چھوٹے ہیں۔ راہل کی بیس سال عمر زیادہ ہے، مودی جی سے سیاست کرنے کے لئے ۔2019چھوڑیئے ،2024 میں وہ 54 سال کے ہوں گے۔ وزیراعظم عہدہ کے لئے وہ زیادہ عمر نہیں ہے۔ کسی کے خلاف بولنا، مذاق اڑانا ذمہ داری کی بات نہیں ہے ۔ کوئی جنرلسٹ یا اخبار کے ایدیٹر بھی ایسا نہیں کرتے،تب کسی سیاست داں کو تو ایسا بولنا ہی نہیں چاہئے۔اگر ملک کو آگے چلانا ہے تب خاص کر وزیر اعظم کو تو زبان سنبھال کر بولنا چاہئے۔ جواہر لال نہرو کا ایک بھی بیان آپ کو لیول سے نیچے نہیں ملے گا۔ اندرا گاندھی بھی انتخاب کے وقت ایسا کرتی تھیں، لیکن پارلیمنٹ میں کوئی بھی غلط بیان نہیں دیتی تھیں۔
اب کیا معیار ہو گیا ہے؟چار لوگ تالی بجانے والے ہیں، تو آپ کچھ بھی بول کر نکل لیتے ہیں۔ بلی آنکھ بند کرکے دودھ پیتی ہے اور وہ سوچتی ہے کہ کوئی دیکھ نہیں رہا ہے۔ پوری دنیا میں آپ کا مذاق اڑ رہا ہے۔ مئی 2014 سے لے کر جنوری 2018 تک کافی وقت گزر چکا ہے۔ کہتے ہیں ٹائم از ٹیکنگ۔ کچھ کیجئے لیکن مساوات میں کیجئے ۔دو نمبر کم آجائیںگے تو لڑکا فیل نہیں ہوتا ہے۔جیسا کہ گجرات میں ہوا۔ گجرات میں بی ے پی کی سرکار ہے ،ٹھیک ہے۔اگلی بار مودی جی پھر وزیراعظم بنیں،لیکن ڈینگیں ہانگنے بند کیجئے۔ بی جے پی کے پاس ایک امیت شاہ ہیں۔ امیت شاہ کی کیا اپوزیشن ہے؟احمد آباد میں سب جانتے ہیں کہ ان کے خلاف بھی کیس ہے۔ یہ سزا یافتہ ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اتنا پرانا ملک ہے۔ ملک کی عزت کیجئے۔ ملک کی تہذیب کی عز ت کیجئے ۔جو بات آر ایس ایس کہتی ہے ،وہ بات لاگو کیجئے ۔ہندوئوں کی عزت کیجئے۔ ہندوتو سکھا کر مسلمانوں یا دلتوں کو دبانا ہندوئوں کی بے عزتی ہے۔ بابری مسجد زبردستی گرا دینا ہندوئوں کی بے عزتی ہے۔ کچھ حاصل ہوا نہیں۔ مسلمانوں کی کیا بے عزتی ہے؟مسلمانوں میں تو جگہ کی اہمیت ہے ہی نہیں۔ ہندوئوں میں جگہ کی اہمیت ہے۔ ہندو مورتی کی ’پران پرتشٹھا ‘کرتے ہیں۔وہاں تو ایسا ہے ہی نہیں۔ وہاں تو نماز پڑھی جارہی تھی۔ وہاں کون سی ’پران پرتشٹھا ‘ ہے۔ کسی نے آپ سے کہہ دیا کہ وہ بھگوان رام کا جنم استھان ہے۔ کیا رام کا جنم استھان بھی کورٹ طے کرے گا۔ کیا رام بھی ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں ،جیسے آپ اور ہم؟رام اوتار تھے۔ وہ اوتار بن کر آئے تھے۔اس جگہ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اب رام اور کرشن اوتار تھے۔ اوتاوں کی عزت کیجئے۔ ہماری جو اتنی قدیم روایت ہے ،اتنی وقف شدہ سوچ ہے اس کی تخلیق نو کیجئے۔ہماری نئی نسلوں کو بتائیے۔ ایک دوست سے گیتا پریس، گورکھپور کے معاملے میں ہندو دھرم کے پرچار پر بات ہو رہی تھی۔ تو آج ضرورت ہے اسے ڈیجیٹل کرنے کی۔ نئی نسل کے لوگ جو اس زبان کو سمجھ سکیں۔ انہیں سنسکرت نہیں آتی۔ فصیح ہندی بھی ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ ان کو آسان زبان میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہندو کیا چاہتے ہیں؟ہندو کیا ہیں؟ہماری روایت رواداری پیغام رسانی کی ہے۔ پوری دنیا اس کا احترام کرتی ہے۔ ہم کسی کی ایک اینچ زمین نہیں لینا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی بھی ایک انچ زمین نہیں دیں گے۔ ہمارے خود کی عزت ہے ۔ہندوئوں کا جو بنیادی اصول ہے،اسے واپس لانے کی ضرورت ہے۔ اس سے ملک میں یکدم امن آٓجائے گا۔ ہندو بہت متحمل آدمی ہے۔کوئی ہندو ایسا نہیں ہے کہ سائیکل پر جارہاہو تو گاڑی پر پتھر مار دے گا کیونکہ اسکے پاس کار نہیں ہے۔یہ ہندوئوں کی سوچ ہی نہیں ہے۔یہ مان کر چلتے ہیں کہ ہر ایک آدمی کے پاس اپنا جو کردار ہوتا ہے،اتنا ہی بھرے گا۔ اسی کو آگے چلایئے ۔آپ سرکار میں ہیں۔ جدید ٹکنالوجی اور پیسے ہیں، تو کچھ کیجئے ۔ اب صرف ممبئی ، احمدآباد بلیٹ ٹرین چلانے سے تو ہندوستان کا بھلا نہیں ہوگا۔ کیجئے ، وہ بھی کیجئے۔میں ان چیزوں کی تنقید نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن ایسا کچھ کیجئے جس سے سب لوگ ساتھ میں جڑیں۔ایک ،ڈیڑھ سال ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا کرتے ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *