ملک کے کسان اور نوجوان کو مزید دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا

کچھ چیزیںکبھی سامنے نہیںآپاتیں اور انھیںجان بوجھ کر سامنے نہ لانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اب میںوزیر اعظم صاحب کے امنگی خیالات یا امنگی منصوبہ اسٹارٹ اَپ انڈیا کے بارے میںکچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ اسٹارٹ اَپ انڈیا وزیر اعظم مودی کا بہت ہی امنگی منصوبہ تھا۔ انھوںنے بے روزگاری ختم کرنے اور نوجوان کاروباریوںکو فروغ دینے کے لیے 15 اگست 2015 کو لال قلعہ سے اعلان کیا کہ ہم نہیںچاہتے کہ ملک کے نوجوان نوکری کے لیے سڑکوںپر بھٹکیں بلکہ ہم چاہتے ہیںکہ ملک کا نوجوان اپنا کاروبار شروع کرے، تجارت شروع کرے اور اس میں باقی لوگوںکو روزگار دے۔ جیسے ہی مودی جی نے اس منصوبہ کا اعلان لال قلعہ سے کیا ،ملک میںایک نیا جوش دوڑ گیا کہ وزیر اعظم نے ہر سال چار کروڑ لوگوںکو روزگار دینے کی بات کہی ہے، وہ ضرور حقیقی شکل اختیار کرے گی۔ اس منصوبہ کو شروع کرنے میں ہی تھوڑا وقت لگا۔ اس منصوبہ کو فروغ دینے کے لیے 26 جنوری 2016 کو اسٹارٹ اَپ انڈیا کی تشکیل کی گئی۔
اس منصوبہ کے تحت چار سال تک رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپ کو 2500 کروڑ روپے کا سرمایہ مہیا کرانے کا ہدف رکھا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دو سال گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک صرف 77 اسٹارٹ اَپ کو کل 337 کروڑ روپے کا سرمایہ دستیاب کرایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میںاس وقت 5350 رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپ چل رہے ہیں۔ ان میں40 ہزار سے زیادہ لوگ کام کررہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب ہر سال 2500 کروڑ کا پروویژن اسٹارٹ اَپ کے لیے کیا گیا تھا تو 2500 نہ سہی، کم سے کم 2000 کروڑ روپے ہی ان نوجوانوں کو دیے جاتے، جنھوں نے اپنا رجسٹریشن کرارکھا تھا۔ لیکن 5350 رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپ میں سے صرف 77 میں ہی کیوں 337 کروڑ کا سرمایہ لگایا گیا؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا یا ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ سرمایہ کی کمی کی وجہ سے زیادہ تر اسٹارٹ اَپ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ جی ایس ٹی کا بھی ان اسٹارٹ اَپ پر منفی اثر پڑا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ہوا یہ ہے، شاید یہ سرکاری افسروںنے کیا ہو کیونکہ یہ وزیر اعظم کا امنگی منصوبہ تھا۔ اس لیے وزیر اعظم صاحب کو بتایا بھی گیا کہ ان اسٹارٹ اَپ کو سیدھے سرمایہ دینے کے بجائے ان کے لیے الگ سے الٹرنیٹو انوسٹمنٹ فنڈ بنایا جائے۔ الگ سے الٹر نیٹو انوسٹمنٹ فنڈ، جسے اے آئی ایف کہتے ہیں، بنایا گیا۔ اس فنڈ کا سنچالن سیڈ بی کو دیا گیا۔ یہ طے کیا گیا کہ اسٹارٹ اَپ سیبی میںرجسٹرڈ ہوںگی اور جو سیبی میںرجسٹرڈ ہوںگی، صرف انھیںہی سرمایہ مہیا کرایا جائے گا۔ اب یہ اتنا لمبا عمل ہے کہ رجسٹریشن کرانے والے اسٹارٹ اَپ کو عمل کا نہیںپتہ۔ وہ سیبی میںجا نہیں پائے، سیڈبی سے رابطہ نہیںکر پائے۔ یہ نوجوان وزیر اعظم کے خطاب کو ہی سچ مان کر باقی عمل میںدلچسپی نہیں دکھا سکے اور نہ ہی ان کی مدد کرنے یا گائڈ کرنے کے لیے کوئی تھا۔ نتیجتاً تمام اسٹارٹ اَپ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ میرے من میںایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا وزیر اعظم مودی نے اپنے اس امنگی منصوبے کا کوئی جائزہ لیا ہے یا ایک بار لال قلعہ سے اسٹارٹ اَپ بول کر اسے سرکاری افسروںکے حوالے کردیا۔ اسے ہم موٹی زبان میںنوکر شاہی کہتے ہیں۔ میںیقینی طور پر یہ اندازہ لگا سکتا ہوںکہ وزیر اعظم نے اس کا کوئی تجزیہ نہیںکیا ہوگا۔ تبھی راجیہ سبھا میںسرکار کو یہ قبول کرنا پڑا کہ اسٹارٹ اَپ کو پچھلے دو سال میں کل 337 کروڑ روپے کا سرمایہ ہی دستیاب کرایا گیا جبکہ انھیں ہر سال 2500 کروڑ روپے فراہم کرائے جانے تھے۔ یہ سچ یہ بتاتا ہے کہ سرکاری افسروں نے یا نوکر شاہی نے اسٹارٹ اَپ انڈیا کو کس بری طرح سے برباد کیا اور وزیر اعظم نے بھی اس کا جائزہ لینے میں،اس کی پروگریس جاننے میں ممکنہ طور پر کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ورنہ اتنا بڑا دھوکا ملک کے ساتھ نہیںہوتا۔ اس لیے، ملک میںجب اعداد و شمار تلا ش کیے جاتے ہیں کہ پچھلے تین سال میںکتنے روزگار ملے تولاکھوں میںہی آتے ہیں، کروڑوں میںنہیں آتے ہیں۔ جبکہ ہر سال چار کروڑ لوگوںکو روزگار دینے کا ہدف الیکشن کے فوراً بعد رکھا گیا تھا۔ الیکشن میںاس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس وعدے کی وجہ سے ملک کے نوجوانوں نے بڑی امید اور بیتابی کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اور خاص طور سے وزیر اعظم مودی کو ووٹ دیا تھا۔ نوجوانوںکو یہ یقین تھا کہ بیوروکریسی چاہے جو کرے، لیکن وزیر اعظم مودی ان سب دشواریوںسے یا ان سب رکاوٹوں کو پار کر نوجوانوں کے لیے روزگار کا انتظام ضرور کریںگے۔ اس امید کے ٹوٹنے سے نوجوانوں میں بڑی مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ اب یہ دیکھنے میںآرہا ہے کہ ملک کا نوجوان 2014 کے مقابلے میںوزیر اعظم نریندر مودی میںیقین تو کرتا ہے لیکن مایوس بھی ہوگیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میںشامل ہونے کاخواب دیکھ رہی ہماری مرکزی سرکار اقتصادی طور پر کتنی مضبوط ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سرکاری شعبے کے 9 بڑے پبلک بینک بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ ان میں سے دو بینکوںکے ذریعہ قرض بانٹنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکاری بینکوںکا نن پرفارمنگ اسیٹ لگاتار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ستمبر 2017 تک سرکاری بینکوںکا این پی اے 7.34 لاکھ کروڑ کے این پی اے میں77 فیصد حصہ بڑے صنعتی گھرانوں کا ہے، جس میں اڈانی ، امبانی سے لے کر وہ سب شامل ہیں،جن کی سرکاروں یا بینکوںکے ساتھ سازباز ہے۔ ان سبھی نے یہ پیسہ لیا ہے۔سرکار نے اس کی لسٹ ابھی تک ملک کے سامنے نہیں رکھی ہے۔ لیکن 77 فیصد اعداد و شمار کی جانکاری سرکار کی طرف سے ہی آئی ہے۔ اب ا س کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ بڑے صنعتی گھرانوں نے بینکوںسے اناپ شناپ قرض لیا اور وہ وجے مالیا کی طرح قرض واپس نہیں کررہے ہیں۔ پچھلے دس سال میں، جس میںمودی جی کے بھی تین سال شامل ہیں،کافی این پی اے بڑھا اور این پی اے کو رائٹ آف کیا گیا۔ ظاہر ہے، جس طریقے سے یہ پیسہ ان بڑے صنعتی گھرانوں نے ہضم کیا، اسی طرز پر پھر سے بینکوںکے ساتھ مل کر ایک بڑی لوٹ کا منصوبہ شاید بن چکا ہے۔ یہ سب جاننے کے بعد بھی سرکار چپ ہے، اس لیے ڈر لگ رہا ہے ۔ بینکوںکا پیسہ لٹ کر جب ملک کے باہر چلا گیا یا بڑے صنعتی گھرانوں نے ہضم کرلیا ، تب بینکوںکے عام کام کاج کو چلانے کے لیے سرکار کو پیسہ ڈالنا پڑا۔ سرکار کہاںسے پیسہ لیتی ہے؟ سرکار ملک کے لوگوںسے پیسہ لے کر اس میںڈالتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ پیسہ کبھی واپس نہیںآئے گا اور جن لوگوںنے اس پیسے کو لوٹا، ان کی بھرپائی اس ملک کے عام شہریوں کی محنت کی کمائی سے کی جائے گی۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کے سامنے جو بحران آگیا ہے، اسے لوگ سمجھیں لیکن میڈیا اور اپوزیشن بھی مل کر اس بحران کو ملک کے سامنے نہیں رکھ رہے ہیں۔
دوسری طرف، چھوٹے کسان ان ہی بینکوںسے لیے گئے قرض کے دباؤ میںروزانہ خود کشی کررہے ہیں۔ ایسی ریاست جہاںپہلے کسان خود کشی نہیں کرتے تھے، جیسے چھتیس گڑھ ، جھارکھنڈ، وہاںبھی کسان اب خود کشی کررہے ہیں۔ قرض کی وجہ سے کسان کے ذریعہ کی گئی خود کشی کو سرکار کے بے حس وزیر فیشن بتاتے ہیں۔ کسانوں کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ وہ اپنے سماجی وقار بچانے کے لیے خود کشی کرتا ہے اور وزیر اسے فیشن بتاتے ہیں۔ جب میںان سطور کو لکھ رہا ہوں تومجھے پتہ چلا کہ بندیل کھنڈ میںپچھلے دنوں 10 سے 15لوگوں نے خود کشی کی۔ ان لوگوںنے وزیر اعلیٰ کو خط بھی لکھا تھا کہ وہ کیوں خود کشی کررہے ہیں۔ ان میںایک کونسلر ہیں، الہ آباد یونیورسٹی کا ایک طالب علم ہے۔ یہ قرض کی اس تاریکی میںگھس گئے تھے جہاںسے نکلنے کاکوئی راستہ نہیں۔ وہ خودکشی کررہے ہیں۔ کسان کا قرض معاف نہ ہو، اس کے لیے کارپوریٹ گھرانوںسے جڑے اخبار اور چینل شور مچاتے ہیں کہ اگر قرض معاف ہوگیا تو معیشت بگڑ جائے گی۔ لیکن دوسری طرف کارپوریٹ گھرانے قرض کو ہضم کرجائیں تو اس سے ملک کی ترقی ہوگی، یہ ماحول بنایا جارہا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا اس صورت حال کو جان کر کسان، کسان کے ناتے کھڑا ہوگا یا ذات اور مذہب کے نام پر بٹ کر اپنے اقتصادی مفادات کی قربانی کرتے ہوئے ، کچھ وزیروں کے مطابق ، فیشن ایبل خود کشی کی راہ پر چلتا رہے گا۔ ملک کے عوام اپوزیشن پارٹیوں، میڈیا کے سامنے یہ ایسے سوال ہیں، جنھیںوہ جنتا چاہیں نظر انداز کریں لیکن جلد ہی وہ دن آئے گا ، جب ملک کا کسان اور نوجوان اس صورت حال کو سمجھے گا اور وہ بینک لوٹ کے اصلی گنہگاروں کے خلاف آواز اٹھائیںگے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *