ایران کے پرائمری اسکولوں میں انگریزی ممنوع 49 برس بعد ضرورت کیوں پڑی؟

ایران میں پرائمری اسکول میں انگریزی پڑھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی انگریزی زبان پر تنقید کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ تعلیم کے آغاز کے دور میں ہی انگریزی پڑھانے سے مغربی ثقافت کے غلبے کے لیے دروازے کھل جاتے ہیں۔ایران کے قومی ادارے ہائی ایجوکیشن کونسل کے سربراہ مہدی نوید ادھام کا کہنا ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کے نصاب میں انگریزی پڑھانا قاعدے اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایسا مانا جاتا ہے کہ پرائمری اسکولوں کے طالب علموں میں ایرانی ثقافت کی بنیاد نہیں پڑتی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر نصابی انگریزی کی کلاسز پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔
ایران میں انگریزی پڑھائی کا سلسلہ عام طور پر 12 سے 14 سال کی عمر میں مڈل سکول میں شروع ہوتا ہے لیکن بعض پرائمری اسکولوں میں اس عمر سے کم کے بچوں کے لیے بھی انگریزی کی کلاسز ہوتی ہیں۔اسی طرح بعض بچے اسکول کے بعد نجی اداروں میں انگریزی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور بہت سے امیر گھرانوں کے بچے غیر سرکاری اسکولوں سے انگریزی کی ٹیوشن لیتے ہیں۔
ایران کے تمام سرکاری معاملات کا آخری فیصلہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہی کرتے ہیں جنھوں نے اساتذہ سے خطاب کے دوران کہا کہ ’اس کا مطلب غیر ملکی زبانوں کو سیکھنے کی مخالفت کرنا نہیں بلکہ غیرملکی ثقافت کو ملک کے بچوں، نوجوانوں اور نوجوان نسل میں فروغ دینے کی مخالفت کرنا ہے۔انگریزی پر پابندی کے اعلان کی وجہ ایران میں گزشتہ دنوں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے مظاہروں اور احتجاج کو تو نہیں بتایا گیا تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا تھا کہ یہ حکومت مخالف مظاہرے غیر ملکی دشمنوں نے ہی کروائیں۔

 

 

 

 

 

 

 

رہبر ایران کے اس بیان کو مختلف نظریہ سے دیکھا گیا ۔ایک نظریہ یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم ایسی نہیں ہے جس نے کسی اور زبان میں تعلیم حاصل کر کے ترقی کی ہو۔ آپ کے سامنے پورے یوروپ کی مثال موجود ہے۔ کسی بھی یورپی ملک میں انگریزی زبان کو نہ تو سرکاری حیثیت حاصل ہے نہ ہی تعلیمی۔ وہ تمام مضامین اپنی ہی زبان میں پڑھاتے اور سکھاتے ہیں۔ چین اور جاپان تو ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں مگر پھر بھی ان کے یہاں ذریعہ تعلیم انگریزی نہیں ہے۔تمام مضامین جن میں سائنس اور انجینئر نگ بھی شامل ہیں وہ اپنی ہی زبان میں پڑھاتے ہیں اور بہترین نتائج بھی حاصل کرتے ہیں۔
مگر کچھ ماہرین تعلیم کا موقف اس سے بالکل الگ ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ بچے کو ابتدائی جماعتوں میں مادری زبان میں تعلیم دینی چاہیے، جس کے بعد ہی وہ اگلی جماعتوں میں کسی اور زبان کا انتخاب کرے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دلیل درست نہیں کیونکہ عمر کے ساتھ زبان سیکھنے کا عمل مشکل ہوتا جاتا ہے۔ لہٰذا آپ کے بچے کو بچپن سے ہی کسی ایک زبان کا انتخاب کر کے اس پر مکمل عبور حاصل کرنا چاہیے۔ پھر چاہے وہ مقامی زبان ہو جس کی جاب مارکیٹ میں کوئی اہمیت نہیںیا پھر وہ زبان ہو جو آپ کے کریئر کی ترقی میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔
مختلف ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے اگر انگریزی کی ضرورت ہے تو اس کو درجہ دوم کی زبان کے طور پر بآسانی سیکھا جا سکتا ہے۔ ملازمت یا تعلیم کے حصول کے لیے ہماری آبادی کا بہت ہی زیادہ قلیل حصہ ہی سفر کرکے بیرون ملک جاتا ہے۔ اس بات کو وجہ بنا کر پورے ملک کا ذریعہ تعلیم انگریزی کر دینا کسی صورت بھی مناسب نہیں ہے جبکہ ہمارے ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ دیہاتوں میں بستا ہے جہاں تعلیمی صورت حال ویسے ہی بڑی خستہ ہے۔ انگریزی محض ایک زبان ہے جو کہ کوئی بھی شخص کچھ ہی مہینوں کی محنت کے بعد بآسانی سیکھ سکتا ہے اور اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اسکے لیے بچوں کو انکی معصومیت کے دنوں میں تختہ مشق بنانا کہاں کی عقلمندی ہے۔

 

 

 

 

 

 

مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں یوروپی اقوام کے فرد عربی زبان سیکھتے ضرور تھے وہ بھی صرف اس لیے کہ مسلمانوں کے علم سے استفادہ حاصل کرسکیں مگر اپنے ممالک میں عربی کو ذریعہ تعلیم نہیں بناتے تھے۔آپ تاریخ میں سے کوئی ایک مثال سامنے رکھ دیں جس سے پتہ چلتا ہو کہ مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں کسی یورپی قوم نے عربی کو اپنایا ہو یا اپنا ذریعہ تعلیم بنایا ہو۔ آج ہم لفظ الجبرہ تو سنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عربی لفظ ہے مگر صرف اس نام کے آپ کو ماضی کی الجبرہ کی کسی کتاب میں عربی نظر نہیں آئے گی جو کسی یوروپین حساب دان نے لکھی ہوگی۔
اسپین کا حال تو سب ہی جانتے ہیں، کیاانہوں نے بھی مسلمانوں کے جانے کے بعد عربی کو ذریعہ تعلیم بنایا تھا ؟ یقینا نہیں۔ انہوں نے تو عربی لباس ، عربی زبان اور عربی ثقافت کا قلع قمع کرنے کی بھرپور کوشش کی، جس میں وہ پوری طرح کامیاب بھی رہے۔ انہوں نے تو مسلمانوں کا علمی ذخیرہ تک جلا کر خاکستر کردیاتھا، وہ تمام کتابیں جو عربی زبان میں تھیں چاہے وو مذہبی ہوں یا نہ ہوں صفحہ ہستی سے مٹا ڈالی تھیں۔ اسکے باوجود آج انکا شمار ترقی یافتہ ممالک میں کیا جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *