طلاق ثلاثہ بل کتنا عملی، کتنا مفید؟

طلاق ثلاثہ( ٹریپل طلاق) کو مذہب اسلام میں طلاق بدعت کہا گیا ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہے تو مسلم پرسنل لاء کے مطابق اس طریقہ کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے مگر یہ تینوں طلاق واقع ہوجائے گی اور میاں بیوی کا باہمی رشتہ ختم ہوجائے گا۔ مگر سپریم کورٹ کا 22اگست 2017کو جو فیصلہ آیا ،وہ یکسر اس سے الگ ہے۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی ججوں کی بینچ میں تین ججوں کی اکثریت نے طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دیا جبکہ دو ججوں کی اقلیت نے اسے نافذ العمل رہنے کا فیصلہ سنا دیا ۔
سپریم کورٹ بینچ کے تین ججوں نے اپنے فیصلہ میں قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ قرآن میںایک مجلس میں تین طلاق واقع ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا اس کا استعمال کالعدم ہوگاجبکہ امت مسلمہ میں جتنے بھی مسالک ہیں ،تمام مسلکوں میں طلاق کے واقع ہونے پر اتفاق ہے ۔البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ طلاق ایک ہوگی یا تین ۔یہ ایک الگ بحث ہے ،لیکن اس کے واقع ہونے پر کسی کو اختلاف نہیں ہے۔لیکن سپریم کورٹ نے سرے سے طلاق کے واقع ہونے کو ہی مسترد کردیا ہے جبکہ دو جج اس فیصلہ کے خلاف تھے۔البتہ اس اقلیتی گروپ نے اپنے فیصلے میں ایک سفارش کی تھی کہ تین طلاق دینے والوں کی سزا کے لئے حکومت قانون بنائے تاکہ طلاق ثلاثہ کے رجحان میں کمی واقع ہو۔
اقلیتی گروپ کے اس فیصلے کو عمل میں لاتے ہوئے حکومت نے پارلیمنٹ میں 28دسمبر کو ایک بل پیش کیا جس میں طلاق ثلاثہ پر تین سال کی سزا اور جرمانہ کا تعین کیا گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت نے اقلیتی فیصلے کے اس شق کو تو اختیار کرلیا جو کہ قانون بنانے کے تعلق سے تھا مگر اس کا ایک اہم پہلو جس میں طلاق واقع نہ ہونے کی بات کہی گئی تھی ،کو نظر انداز کردیا کیونکہ یہ فیصلہ اکثریتی فیصلہ کے برخلاف تھا۔ اقلیت کے اس فیصلے کے ایک پہلو کو لے کر بل پیش کرنے اور دوسرے پہلو کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے کئی طرح کے اعتراضات اور منطقی دشواریاں سامنے آرہی ہیں جس کی توضیح ہم آگے کریںگے۔
مسلمانوں میں دو رائے
پہلے ہم یہ بتاتے چلیں کہ اس بل کے مسودہ کے سامنے آنے کے بعد مسلم طبقہ میں متضاد صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ کچھ لوگ اسے بہتر اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کا نام دے رہے ہیں تو کچھ اسے شریعت میں مداخلت سے تعبیر کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف یہ ہے کہ حالیہ بل آئین میں دیئے گئے حقوق کے خلاف اور مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کے مترادف ہے۔ لہٰذا حکومت اس قانون سے گریز کرے۔جبکہ قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین، لا کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن اور اسلامی و دیگر قانون پر متعدد کتابوں کے مصنف پروفیسر طاہر محمود جیسے دانشورکا کہنا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دیئے جانے کے غیر اسلامی رواج پر پابندی لگانے کیلئے اگرکوئی قانون بنایا جاتا ہے تو وہ طلاق کے قرآنی قانون سے کسی طرح متصادم نہیں ہوگا۔
متنوع آراء کے درمیان مرکزی حکومت نے 15دسمبر 2017 کو اس مسودہ قانون کو منظوری دے دی اور حالیہ پارلیمانی سیشن کے دوران 28دسمبر کو لوک سبھا سے پاس کرا لیا جبکہ راجیہ سبھاسے بھی منظور کرانے کی کوشش جاری ہے ۔اس بل کی رو سے کسی بھی شخص کو ایک ساتھ تین طلاق دینے پر تین سال کی سزا ہوگی ۔ پولیس کرمنلآفنس کی بنیاد پر اسے گرفتار کرکے چارج شیٹ جمع کرے گی۔مجرم کو اپنے بچوں کے اخراجات بھی برداشت کرنے پڑیں گے۔اس کے ساتھ ہی مجرم کو کچھ جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا جس کا تعین عدالت کرے گی۔مجرم کو تھانہ سے ضمانت نہیں ملے گی ۔البتہ وہ اپنی ضمانت عدالت سے کروا سکتا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

سیاسی رد عمل
بل کی کئی سیاسی پارٹیوں نے مخالفت کی۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ،مسلم لیگ ،اے آئی اے ڈی ایم کے بیجو جنتا دل ، راشٹریہ جنتا دل ، سماج وادی پارٹی اور ترنمول کانگریس نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور الزم لگایاکہ مسلم نمائندوں سے اس سلسلے میں بات نہیں کی گئی۔کانگریس اور بائیں بازو نے لوک سبھا میں بل پیش کرتے وقت بولنے کا موقع نہ دیئے جانے کی مخالفت کی اور ایوان کا بائیکاٹ کیا۔تاہم کانگریس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ مگر بل میں مجوزہ سزا پر اختلاف کیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو بہانہ بنا کر کسی ایسے عمل کو مجرمانہ بنانے جارہی ہے جس کی ابھی تک روایتی قانون میں اجازت تھی اور اسے جرم کے دائرے میں نہیں رکھا جاتا تھا۔
مسلم رد عمل
اس بل پر تبصرہ کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم نعمانی کہتے ہیں کہ طلاق ثلاثہ سے متعلق مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں جو بل پیش کیا ہے، وہ مشتبہ ہے کیونکہ حکومت نے اس کی ڈرافٹنگ کرتے وقت مذہبی شخصیات علماء اور مسلم قائدین سے نہ تو مشورہ کیا اور نہ خواتین اور ان کا تحفظ کرنے والی تنظیموں اور اداروں سے کوئی گفتگو کی۔لہٰذا اس بل کو مرکزی حکومت کی من مانی اور شریعت میں کھلی مداخلت کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔ ویسے حکومت بھی یہ اقرار کرچکی ہے کہ بل کو تیار کرنے سے قبل اسٹیک ہولڈرز یعنی مسلم گروپوں سے مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔
دارالعلوم وقف کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے طلاق بدعت کو ختم کرنے والے غلطیوں سے پُر بل کو پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل بہت عجلت میں تیار کیا گیا ہے جو خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ بل خواتین کے لئے مسائل پیدا کردے گا ۔اس کے علاوہ شریعت میں صریح مداخلت کے ساتھ ساتھ آئین ہند میں موجود اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہوگا۔ دراصل یہ مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سازش ہے۔ اس قانون کے ذریعہ حکومت مسلمانوں سے طلاق کا حق سلب کرلینا چاہتی ہے ۔
معہد انور کے چیف مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کا کہنا ہے کہ اس قانون میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔اس کی ڈرافٹنگ کے وقت مسلمانوں کے شرعی امور اور معاشرہ پر اثر انداز ہونے والے منفی اثرات کا بغور جائزہ نہیں لیاگیا۔اس میں کئی ایسے پہلو ہیں جو میاں بیوی کے درمیان دشواریاں پیدا کریں گے۔
مشہور اکیڈمک اسکالر اختر الواسع کہتے ہیں کہ جس طرح حکومت بل کو پیش اور پاس کرانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کررہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔بل کو اس شکل میں پاس کیا جانا ٹھیک نہیں ہے ۔بی جے پی 33فیصد خواتین کے لئے ریزرویشن کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی تھی مگر وہ اب تک اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش اور پاس نہیں کرسکی مگر ایک بے فائدہ بل کو قانونی شکل دینے کے لئے بے چین ہے۔اس کے پیچھے اس کے سیاسی مقاصد ہوسکتے ہیں۔
بل سے اٹھے اہم سوالا ت
بل میں تین طلاق دینے والوں کے لئے سزا اور جرمانے کی تشریح ہے ۔اب اس میں دشواری یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص ایک مجلس میں تین طلاق دیتا ہے تو یہ طلاق واقع ہی نہیں ہوگی۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جو چیز واقع ہوئی ہی نہیں یا جو عمل بے اثر ہے تو پھر اس پر سزا کا قانون بنانے کا کیا معنی ؟۔ اس بل میں ایک تو تین طلاق دینے والوں کو کرمنل لاء کے تحت سزا دینے کا ذکر ہے جس کی مدت تین سال ہے۔ اس کے علاوہ جرمانہ بھی ہوگا۔ جرمانہ کا تعین عدالت کرے گی۔اب سوال یہ ہے کہ یہ سزا یا جرمانہ کس جرم پر ہے۔اگر تین طلاق دینا کرمنل آفنس ہے تو سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ سے متصادم ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تین طلاق واقع ہوگی ہی نہیں،یعنی تین طلاق دینے والے کا عمل بے اثر ہوگا ۔ جب عدالت نے اسے پہلے ہی بے اثر کردیا ہے تو پھر اس بے اثر عمل پر حکومت کسی کو سزا کیسے دے سکتی ہے؟
ہاں اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ ہوتا کہ تین طلاق دینے سے یہ واقع ہوجائے گی،جوکہ مسلم پرسنل لاء کا موقف بھی ہے اور چونکہ یہ ایک گناہ ہے، لہٰذا اس پر سزا اور جرمانہ ہو تو یہ ایک فطری بات ہے اور یہ شریعت کے مطابق بھی ۔کیونکہ بعض علماء نے ایک بار میں تین طلاق دینے والوں کے لئے سزا کا ذکر کیا ہے۔مفتی رشید احمد’احسن الفتاویٰ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ طلاق ثلاثہ کا مروج دستور بلا شبہ واجب التعزیر جرم ہے ۔حکومت پر فرض ہے کہ ایسے جرم پر عبرتناک سزا دے ۔ حکومت کی طرف سے غفلت کی صورت میں برادری کی طرف سے مقاطعہ (بائیکاٹ ) کی تعزیر مناسب ہے‘‘۔مگر سوال وہی ہے کہ یہ تب ہوتا جب تین طلاق کو کسی نہ کسی شکل میں قابل عمل قراردیا جاتا مگر اسے کالعدم قرار دینے کی وجہ سے یہ محض ایک بے اثر جملہ بن کر رہ گیا ہے اور کسی بے اثر جملہ پر کسی کو اتنی بڑی سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔
پھر یہ کہ ایک بے اثر عمل پر اتنی بڑی سزا کا تعین کیوں اور کیسے؟انڈین پینل کوڈ میں تین سال کی سزا بڑے گناہوںپر ہے جیسے اغوا، زناکاری وغیرہ ۔جبکہ کئی ایسے بڑے گناہ ہیں جن کی سزا تین سال سے کم ہے۔مثلاً رشوت پر ایک سال ، مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے پر دو سال، جعل سازی پر دو سال، چار سو بیسی پر ایک سال ،ملاوٹ پر 6 ماہ یا ایک ہزار روپے یا دونوں۔تو ایسے گناہوں پر یہ سزائیں متعین ہیں تو کیا تین طلاق جس کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بیوی پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا،کی اتنی بڑی سزا کہ اسے اغوا جیسے جرائم کے برابر رکھ دیا جائے، کہاں کی منطق ہے۔
اس بل میں کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو مضحکہ خیز ہیں ۔مثال کے طور پر طلاق دینے کے بعد مرد کو اپنی بیوی وبچوں کا خرچ برداشت کرنے کی بات کہی گئی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب ایک مرد طلاق ثلاثہ کے پاداش میں جیل چلا جائے گا تو یہ خرچ کون دے گا؟۔نیز دیکھنے والی بات یہ ہے کہ جب مرد تین سال جیل میں زندگی گزار کر باہر آئے گا تو وہ عورت اس وقت بھی اس کی بیوی رہے گی جیسا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ،ایسی صورت میں جس عورت نے مرد کو تین سال جیل کی ہوا کھلائی ہو،اسے بیوی کی حیثیت سے ساتھ رکھنا کیا عملًا ممکن ہوگا؟۔ظاہر ہے یہ چیزیں بتا تی ہیں کہ کہیں نہ کہیں اس بل کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ بل میں تین طلاق کو کرمنل ایکٹ میں رکھا گیا ہے جبکہ نکاح ایک معاہدہ اور سول معاملہ ہے، سول معاملہ کو کرمنل بنادینا خود قانون دانوں کی رائے کے خلاف ہے۔ 2006 میں سپریم کورٹ کے ججوں ایچ کے سیما اور آروی رویندرن نے فیصلہ سنایا تھا کہ سول معاملات کو کرمنل بنادینا صحیح نہیں ہے۔ایسی کسی بھی کوشش کو بہتر نہیں کہا جاسکتا۔یہ طریقہ کار انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے جس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
حکومت کا موقف
اس سلسلہ میں حکومت کا موقف یہ ہے کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے لیکن اب بھی لوگ اپنی بیویوں کو اس طریقے سے طلاق دے رہے ہیں اور بیویوںکو گھر چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں ۔مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کے پارلیمنٹ میں دیئے گئے ایک بیان کی رو سے سپریم کورٹ کے فیصلہ آجانے کے بعد سے اب تک 100 طلاق ثلاثہ کے واقعات ہوچکے ہیں۔لہٰذا اس طریقہ کار کو روکنا اورایسے لوگوں کو سزا دینا ضروری ہے۔یہ طریقہ کار اس لیے وضع کیا گیا ہے تاکہ جب شوہر بیوی کو گھر چھوڑنے کو کہے تو اس کو قانونی سہارا حاصل ہو۔
بہر کیف بل میں ان کمیوں کو دور کیا جاسکتا تھا لیکن یہ تب ہی ممکن تھاجب بل کے تیار کرنے میں علماء کرام اور دانشوران ملت بھی شامل ہوتے اور ان کے مشورے سے بل تیار کیا جاتا۔ لیکن حکومت نے ایسا نہ کرکے ایسا ماحول بنا دیا جس کی وجہ سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس بل کی سخت مخالفت کرنی پڑی۔ بورڈ کے سکریٹری مولانا خلیل ارحمن سجاد نعانی کہتے ہیں کہ یہ بل مسلم خواتین کی پریشانیاں بڑھانے والااور شریعت میں براہ راست سرکاری مداخلت ہے۔ یہ بل پوری طرح سے ناکام ہے۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خواتین کے حق میں کم اور سیاسی اسٹنٹ زیادہ ہے۔جس طرح دیگر ایشوز جیسے لو جہاد، گھر واپسی وغیرہ حقیقت سے زیادہ سیاسی نقطہ نظر سے انجام دیئے جارہے ہیں، اسی طرح ایک ناقابل التفات ایشو کو اہم ایشو بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔اس کے علاوہ حکومت اس بل کے ذریعہ مسلم مردوں سے طلاق کے حق کو چھیننا چاہتی ہے جو کہ قانون کے حساب سے قطعی غلط ہے۔ پروفیسر طاہر محمود کہتے ہیں کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اس کیلئے منتخب ماہرین قانون کی ایک کمیٹی بنائی جانی چاہئے جومجوّزہ قانون کے خد و خال طے کرے اور مطلوبہ قانون اسکی تجاویز کے مطابق ہی تیار ہو۔ پروفیسر محمود نے واضح کیا کہ ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کو صرف ایک طلاق مانے جانے کا قانون بنانا کافی ہوگا جیسا کہ تقریباً سبھی مسلم ممالک میں ہوا ہے لیکن نئے قانون کے مؤثر نفاذ کیلئے اس میں اگر کوئی تعزیری دفعہ بھی شامل کی جاتی ہے تو وہ بھی غلط نہیں ہوگا کیونکہ اسلامی تاریخ میں اسکی نظیر موجود ہے۔حضرت عمر کے زمانے میں ایسا کرنے والوں کو سزا دی جاتی تھی۔
مسلم دانشوران اور خواتین کے مواقف
بہر کیف حکومت کے اس بل نے مسلم دانشوران اور خواتین کو دو طبقوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ایک وہ طبقہ ہے جو اس بل کی حمایت کررہا ہے ۔اس طبقہ کا ماننا ہے کہ اس سے طلاق اور طلاق سے ہونے والے منفی اثرات سے چھٹکارا ملنے میں مدد ملے گی ۔دوسرا وہ ہے جو اس کی مخالفت کررہا ہے۔اس طبقہ کا ماننا ہے کہ اس بل کی وجہ سے آئین میں پرسنل لاء کی ملی آزادی میں مداخلت ہے ۔اس سلسلہ میں ’’چوتھی دنیا ‘‘ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے جڑی شخصیات سے سوالات پوچھے تو اندازہ ہوا کہ دونوں طرف خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
عظمی ناہید کہتی ہیں کہ نکاح ، طلاق یا خلع ،یہ سب سول ایشوز سے متعلق ہیں لیکن اس بل میں حکومت نے انہیں کرمنل آفنس میں شامل کردیا ہے ۔بل میں مرد کی سزا اور پھر بچوں کے اخراجات کی بات کہی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مرد جیل کے اندر بند ہوگا تو پھر بچوں اور بیوی کا خرچہ کہاں سے ملے گا۔یہ سب اس لئے ہوا کیونکہ حکومت نے بل تیار کرتے وقت علماء اور مذہبی دانشوروں سے صلاح و مشورہ نہیں کیا۔ اس سے گھریلو افراتفری میں اضافہ ہوگا اور میاں بیوی کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہوگی۔
شائستہ عنبر کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ جب سے قائم ہوا ہے ،ایک بھی کوئی ایسا مسئلہ حل نہیں کیا جو امت میں قابل قبول ہو۔ تین طلاق کا مسئلہ قرآن کے خلاف ہے ،عرصہ سے اس پر غور کرنے کی باتیں ہوتی رہی ہیں مگر بورڈ نے کبھی اس پر دھیان نہیں دیا۔جب حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پارلیمنٹ میں بل پیش کرنے کی بات کی تو ہم نے لاء کمیشن کو خط لکھا کہ اس بل کو تیار کرنے میں علماء و مسلم جانکاروں کو بھی شامل کیا جائے،یہی وجہ ہے کہ بل میں سزا کا تعین کیا گیا ہے اور ساتھ ہی جرمانہ بھی جو کہ غلط ہے۔
ایڈووکیٹ مشتاق احمد آن ریکارڈ : سپریم کورٹ نے کہا کہ تین طلاق کالعدم ہے ۔اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جب اس کا کوئی اثر ہی نہیں ہے تو پھر اس پر سزا کیسی؟بل پیش ہوا ہے تو اس کے خلاف مسلمانوں کو سپریم کورٹ میں جانا چاہئے ۔سپریم کورٹ اس بل کو خود بخود غیر قانونی بنا دے گا۔کیونکہ اس بل کی بنیاد جس پر رکھی گئی ہے وہی کمزور ہے۔ہاں اگر اس کو قانون مان لیا جائے تو کرمنل آفنس کی وجہ سے عورت کی طرف سے شکایت کرتے ہی مرد گرفتار ہوجائے گا اور اس پر مقدمہ چلے گا۔
پروفیسر طاہر محمود : تین طلاق پر سزا کا تعین تو ہونا ہی چاہئے۔ یہ قرآن کے حکم کے خلاف نہیں ہے لہٰذا سزا کا تعین غلط نہیں ہے لیکن حکومت نے غلطی یہ کی ہے کہ اس کو طے کرنے میں مسلم علماء و دانشوروں سے مشورہ نہیں کیا اس لئے کئی خامیاں رہ گئی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مسلم دانشوران اور ماہر خواتین کی آراء
عظمی ناہید:
نکاح ، طلاق یا خلع ،یہ سب سول ایشوز سے متعلق ہیں لیکن اس بل میں حکومت نے انہیں کرمنل آفنس میں شامل کردیا ہے ۔بل میں مرد کی سزا اور پھر بچوں کے اخراجات کی بات کہی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ مشتاق احمد:
سپریم کورٹ نے کہا کہ تین طلاق کالعدم ہے ۔اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جب اس کا کوئی اثر ہی نہیں ہے تو پھر اس پر سزا کیسی؟بل پیش ہوا ہے تو اس کے خلاف مسلمانوں کو سپریم کورٹ میں جانا چاہئے۔سپریم کورٹ اس بل کو خود بخود غیر قانونی بنا دے گا۔
پروفیسر طاہر محمود :
تین طلاق پر سزا کا تعین تو ہونا ہی چاہئے۔ یہ قرآن کے حکم کے خلاف نہیں ہے لہٰذا سزا کا تعین غلط نہیں ہے لیکن حکومت نے غلطی یہ کی ہے کہ اس کو طے کرنے میں مسلم علماء و دانشوروں سے مشورہ نہیں کیا اس لئے کئی خامیاں رہ گئی ہیں۔
مفتی ابو القاسم نعمانی
اس بل کو مرکزی حکومت کی من مانی اور شریعت میں کھلی مداخلت کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔ حکومت نے اس کو تیار کرنے میں علماء کرام سے مشورہ نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ دشواریاں ہوئی ہیں۔
مولانا محمد سفیان قاسمی:
غلطیوں سے پُر یہ بل بہت عجلت میں تیار کیا گیا ہے جو خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بل خواتین کے لئے مسائل پیدا کردے گا ۔اس کے علاوہ شریعت میں صریح مداخلت کے ساتھ ساتھ آئین ہند میں موجود اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہوگا۔
سید احمد خضر شاہ مسعودی
اس قانون میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔اس کی ڈرافٹنگ کے وقت مسلمانوں کے شرعی امور اور معاشرہ پر اثر انداز ہونے والے منفی اثرات کا بغور جائزہ نہیں لیاگیا۔اس میں کئی ایسے پہلو ہیں جو میاں بیوی کے درمیان دشواریاں پیدا کردے گا۔
اختر الواسع
جس طرح حکومت بل کو پیش اور پاس کرانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کررہی ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔بل کو اس شکل میں پاس کیا جانا ٹھیک نہیں ہے ۔بی جے پی 33فیصد خواتین کے لئے ریزرویشن کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی تھی وہ اب تک اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش اور پاس نہیں کرسکی مگر ایک بے فائدہ بل کو قانونی شکل دینے کے لئے بے چین ہے۔اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ہوسکتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

طالبات و گھریلو عورتوں کے مواقف
نادرہ خاتون
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بیچلرآف سائنس (بی ایس سی )کی طالبہ نادرہ خاتون نے مرکزی حکومت کی جانب سے لوک سبھامیں پیش کردہ طلاق ثلاثہ بل پر کہاکہ یہ صرف اورصرف شرعی امورمیں مداخلت ہے۔ یہ مسلمانوں کاپرسنل معاملہ ہے،اسلئے مسلمانوں پرچھوڑدیناچاہئے۔ایک مجلس میں شوہرکی جانب سے تین طلاق بولنے پرشوہرپریکطرفہ تین سال جیل کی سزامتعین کرناسمجھ سے باہرہے۔
ساکشی وشیل
طلاق ثلاثہ بل پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ہندوطالبہ ساکشی وشیل(بی اے آنرس ترکش سال دوم) کاکہناہے کہ یہ ریلیزن کامسئلہ ہے ،اس میں کسی کوانٹرفیئرنہیں کرناچاہیے۔انہو ںنے کہاکہ کسی کوطلاق دینابھی غلط اورکسی کویکطرفہ سزابھی نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ میں دونوں مسئلے کی مخالفت کررہی ہوں۔
صابرین
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیرتعلیم بی اے اردوآنرس کی طالبہ صابرین نے کہاکہ شریعت کامعاملہ ہے،قرآن واحادیث میں طلاق ثلاثہ کے بارے جیساذکرہے ،اسی کے مطابق پرسنل شرعی امورمیں فیصلہ ہو۔حکومت کواسلامی احکامات پرمداخلت کرنے سے گریزکرنی چاہئے۔
ثمرین شمسی
بی اے اردوآنرس کی ہی طالبہ ثمرین شمسی طلاق ثلاثہ بل اپنی رائے دیتے ہوئے کہاکہ چودہ سوسال قبل جواحکامات کتاب وسنت میں مسلمان ومردوخواتین کیلئے فرمائے گئے ہیں وہ معتدل اورعدل وانصاف پرمبنی ہے۔ہمارے لئے یکساں حقوق ہیں،اسلام میں تفریق نہیں ہے۔خواتین کوبھی طلاق لینے کا حق ہے،جسے خلع کہتے ہیں۔اسی طرح مردوں کوبھی طلاق دینے کا حق ہے۔اسلئے صرف مردوں پرسزامتعین کرناصحیح نہیں ہے۔بہتریہی ہے کہ حکومت شرعی امورمیں دخل اندازی نہ کرے۔
فرزانہ اختر
جامعہ ملیہ میں اسلامک اسٹڈیزبی اے آنرس سال اول کی طالبہ فرزانہ اخترکاکہناہے کہ طلاق ثلاثہ مجوزہ بل میں صرف مردوں کیلئے تین سال جیل کی سزاتجویزکرناسمجھ سے بالاترہے ۔کیوں کہ طلاق کی جب نوبت آتی ہے تواس میں صرف مردوں کی ہی غلطیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ خواتین کی بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔اسلئے دونوں کے درمیان آپسی عدم سمجھداری بھی ہوتی ہے،جس کے باعث طلاق کی نوبت آتی ہے۔
کسریٰ شبنم
بزرگ خاتون کسریٰ شبنم (ہاؤس وائف)نے کہاکہ ہندوستانی آئین قابل احترام وقابل تسلیم ہے اورہندوستان میںاپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آئینی حق ہے ۔اسلئے ہمیں صرف اورصرف مذہبی امورمیں اسلامی قوانین ہرنوعیت سے بہترہے۔ہاں خدانخاستہ ازدواجی زندگی میں کوئی مشکل گھڑی آجائے،کوئی اختلاف ہوجائے،رشتہ ٹوٹنے کی نوبت آجائے توصحیح فیصلے کیلئے ہمارے قضاء ،شریعہ اورعلماء کرام موجود ہیں۔
صابرہ خاتون
ہاؤس وائف صابرہ خاتون مئو، کاکہناہے کہ اتنے سال گزرگئے ،سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہاتھا،ہرکوئی ہرجگہ اپنے مسائل کولیکرعلماکرام کے پاس جاتے تھے،وہاں پریکساں فیصلہ وانصاف ملتا۔لیکن آج کے دورمیں کبھی اذان ،توکبھی طلاق یاکبھی کچھ اور۔بہتریہی ہے کہ اس پرسیاست نہ کی جائے بلکہ مذہبی معاملات کوپرسنل لاء پرچھوڑدے تواچھاہے۔
فاطمہ زہرہ
جامعہ ملیہ کی طالبہ فاطمہ زہرہ (کلاس بی اے آنرس انگلش فائنل ایئر)نے مرکزی حکومت کی جانب سے لوک سبھامیںپیش کردہ طلاق ثلاثہ بل پرکہاکہ جب مسلمانوںمیں قرآن واحادیث پرمبنی پرسنل لاء ہے ،اورطلاق ثلاثہ ودیگرمذہبی امورکے حل کیلئے مسلم پرسنل لاء ہے توپھرحکومت یادیگراورلوگوں کومذہبی معاملات میں دخل اندازی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جب حکومت ایک مجلس میں تین طلاق دینے پرایک بھی طلاق نہیں مانتی ہے توپھر شوہر کوتین سال جیل کی سزاکس کیلئے؟ حکومت کوچاہئے کہ طلاق ثلاثہ کونہ ایشوزبناکرجہیزایشوزبنائے اورہرسماج سے جہیزجیسی لعنت رسم ورواج کوختم کرے۔
حلیمہ خاتون
جامعہ نگر،اوکھلاوہارکی رہنے والی حلیمہ خاتون جوایک ایک ہاؤس وائف ہیں ،طلاق ثلاثہ بل معاملے پران کاکہناہے کہ طلاق جیسے معاملے میںہرمردوخواتین کوعدالت کے بجائے دارالقضاء یاوہاں پرجائیں جہاں پرپرسنل لاء کے مطابق ہرمذہبی امورکافیصلہ ہو۔طلاق بھی پرسنل لاء سے متعلق ہے۔
ناظمہ صدیقی
نئی دہلی ،شاہین باغ کی رہنے والی ناظمہ صدیقی سے طلاق ثلاثہ بل اوراس سے متعلق درپیش مشکلات کے بارے میں پوچھاگیاتوانہوں نے کہاکہ پرسنل لاء معاملے میں کسی کودخل اندازی نہیں کرناچاہئے ،چاہے وہ حکومتیں ہوں یاکوئی اور۔انہو ںنے جب طلاق واقع ہی نہیں ہوگی تومردکوسزاکیوں ہوگی؟انہوں نے کہاکہ ہرمسلک میں ایک مجلس ایک طلاق یاتین طلاق کہے توطلاق ضرورواقع ہوتی ہے ۔پھرحکومت کیسے کہہ رہی طلاق بھی نہیں ہوئی اورپھرحکومت سزابھی دے رہی جوسراسرغلط ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *