طلاق ثلاثہ کے ساتھ دیگر مذاہب کی طلاق بھی توجہ طلب

پورا ملک کچھ وقت سے طلاق ثلاثہ (ٹریپل طلاق ) کے ایشو پر بحث میں لگا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں حال ہی میں ختم ہوئے سیشن میں سرکار اور اپوزیشن کے درمیان تال میل نہ بن پانے کے سبب قانون میں ترمیم نہیں ہو پائی لیکن امید ہے کہ جلد ہی آنے والے وقت میں یکبارگی طلاق کے مسئلے پر نیا قانون آئے گا۔ ایک طرف جہاں سارا ملک مسلم خواتین کی ترقی سے جڑے اس قانونی بدلائو کے لئے بحث میں لگا ہوا ہے،وہیں دوسرے مذاہب کی شادیوں سے بھی طلاق (ڈائیورس ) کے کچھ ایسے مسئلے سامنے آرہے ہیں جن پر بحث ضروری ہے۔
طلاق سے جڑے معاملوں میں قانونی پیچیدگیاں اور دائوں پینچ عام ہیں اور خاص طور پر این آر آئی شادیوں میں دھوکہ بازی سے طلاق کے معاملے آج جگ ظاہر ہیں لیکن پچھلے کچھ وقت سے قانون سازوں کے سامنے کچھ معاملے ایسے آئے ہیں جہاں شوہر یا بیوی کو پتہ بھی نہیں چل پاتا اور اچانک اس کے سامنے ایک دن اس کے شریک حیات سے طلاق کی عرضی ہوتی ہے۔ اس کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اچھی خاصی شادی شدہ چلتی زندگی میں اس کا شریک حیات طلاق کی سازش رچ رہاہوتا ہے نہ جانے کب سے ۔
شریچا (فرضی نام ) کی بیٹی کا 15واں جنم دن تھا جب وہ اگلے دن بیٹی کی ضد پر اس کی سہیلیوں کو لے کر پارٹی کے لئے مال میں گئی ہوئی تھی۔ تب اس کے17سا ل کے بیٹے کا گھر سے فون آیا۔ شریچا کے لئے ایک بڑا سا کوریئر آیا تھاجسے اس کا بیٹا کھولنے کی اجازت چاہتا تھا۔شریچا ایک گھریلو عورت ہے اور اس کے نام سے کبھی ایسا بڑا لفافہ ڈاک سے نہیں آیا تھا۔ بچے نے شریچا کے گھر پہنچنے سے پہلے کوریئر کھول لیا تھا ۔اس لفافے نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔
یہ اس کے شوہر کی طرف سے طلاق کی عرضی تھی۔ یہ زندگی بدل دینے والا پل صرف اس لئے نہیں تھا کہ یہ طلاق کے کاغذات تھے، اس لئے بھی کہ ٹھیک صبح تک سب کچھ ویسا ہی تھا جو ایک عام کامیاب اور شادی شدہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ایک عام شوہر کی طرح صبح اس کا شوہر روز انہ کی طرح وقت پر دفتر کے لئے گھر سے نکلا تھا ۔ شریچا کو دور دور تک اندازہ نہیں تھا کہ اس کا شوہر اب کبھی گھر واپس لوٹنے والا نہیں ہے بلکہ اس کی طلاق کی عرضی آئے گی ۔اس نے اپنے شوہر کو فون کیا تو جواب بس یہی تھا کہ اب وہ واپس نہیں آئے گا اور اس سے بات کرنے میں وقت برباد کرنے سے اچھا ہے وہ ایک وکیل سے بات کرے۔ اپنے شوہر سے اس کی یہ بس آخری بات چیت تھی۔ اس کی ہر کوشش کے باوجود نہ تو اس کے شوہر نے اس کا دوبارہ فون اٹھایا اور نہ ہی بچوں کا فون اٹھایا اور نہ ہی کبھی ان سے کوئی بات چیت کرنے کی کوئی کوشش کی۔ ساس کی طرف سے بھی جواب ملا کہ یہ میاں بیوی کے درمیان کی بات تھی اور وہ کچھ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بھی اپنے پوتے سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اس کوریئر کے بعد شریچا کی زندگی اچانک بکھر چکی تھی ۔ اگلے کچھ مہینے اسے اس حقیقت کو ماننے میں لگ گئے۔ آج تقریباً دو سال ہو چکے ہیں شریچا کو کورٹ کے چکر کاٹتے ہوئے۔ اتنے وقت بعد بھی شریچا کے بچے اس حالت سے ابھر نہیں سکے ہیں۔ والد کا اچانک نہ صرف گھر چھوڑ دینا اور ان کی ماں سے الگ ہونا بلکہ بچوں کی طرف بھی پلٹ کر نہ دیکھنے کی سچائی نے بچوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شریچا کی 15سال کی بیٹی اور17 سال کا بیٹا اس وقت دہلی کے ایک مشہور اسکول میں پڑھتے تھے۔ آج بیٹا کالج میں ہے ۔زندگی دھیرے دھیرے بڑھ ضرور رہی ہے لیکن یہ خاندان آج بھی اس سچ کو نہیں جان پایا کہ آخر ان کا گھر کیوں بکھر گیا۔
شریچا کا کہنا ہے کہ اسے آج تک پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کے شوہر کے اس فیصلے کے پیچھے وجہ کیا تھی؟ ڈائیورس اپلیکیشن میں بس اس کو اتنا بتایا گیا کہ شریچا کی خرچیلی عادتوں سے تنگ آکر اس کے شوہر کو نفسیاتی دبائو کی وجہ سے طلاق چاہیے تھا۔ شریچا کے مطابق یہ سب بہت سوچی سمجھی ساش کے تحت ہوا تھا ۔گھر میں رینوویشن کے نام پر خاندان کو کرائے کے گھر میں رہنے کے لئے جانا پڑا اور اس بیچ اس کے ہر چھوٹے بڑے خرچوں کے بل کو سنبھال کر رکھاگیا جنہیں کورٹ میں پیش کیا گیا۔ شریچا کے مطابق اس کا شوہر دہلی کا ایک مشہور کاروباری ہے اور ان کے بیچ کبھی خرچوں کو لے کر تنائو نہیںرہا۔ چونکہ طلاق کے کاغذات ملنے کے وقت یہ خاندان کرائے کے گھر میں ہی تھا تو شریچا اپنے بچوں کے ساتھ کبھی شوہر کے گھر واپس نہیں جا پائی اور آج بس ایک لمبی قانونی لڑائی میں الجھی ہے۔ کیونکہ وہ ایک گھریلو عورت تھی۔ اس کے لئے یہ لڑائی اور بھی مشکل رہی ہے کہ اس کے ماں باپ اس کے اور اس کے بچوں کے خرچے اٹھاتے رہے ہیں۔
شریچا کا معاملہ اکلوتا نہیں ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی ایڈوکیٹ گائتری پوری کے مطابق آج سوشل میڈیا کے دور میں جہاں لوگوں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ پبلک فورم پر ہے ۔قانون کے لئے چیلنج بڑھ گئے ہیں کیونکہ لوگ طلاق لینے کے لئے نئے نئے طریقے کو پیش کررہے ہیں۔ گائتری کے مطابق ان چیلنجز کی وجہ سے کئی بار قانونی مشکلوں کا بھی سامناکرنا پڑتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

ایسے ہی منصوبہ بند یا سوچے سمجھے ڈائیورس کے مسئلوں پر بحث کے لئے راجدھانی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں حال ہی میں منعقد ایک سمینار میں بولتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کی جج جسٹس ہیما کوہلی نے کہا کہ ڈائیورس میں بچوں کے مفاد کی سیکورٹی کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
سمینار میں بولتے ہوئے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر اچل بھگت کے مطابق اس طرح کے ڈائیورس کے معاملوں کو کورٹ میں نمٹانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وکیلوںکو خاص طرح کی ٹریننگ دی جائے جس سے کہ دونوں فریقوں کی ثالثی کرتے وقت وکیل صورت حال کو سمجھ کر کیس کی پیروی کر سکیں۔ایجوکسنسٹ گولڈی ملہوترا کا ماننا ہے کہطلاق کسی بھی حالت میں کیاجائے یا کوئی بھی وجہ ہو ،بچوں پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑتاہے ۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ آج کے جدید دور میں ٹوٹے رشتوں میں والدین کی کونسلنگ پر زور دیا جائے۔ سیمینار میں موجود ایڈووکیٹ اور ماہر قانون اس بات پر اتفاق رکھتے ہوئے دکھائی دیئے کہ بدلتے دور میں ٹوٹے رشتوں کے معاملوں کے نئے چیلنجوں کو مانتے ہوئے ہندو میریج ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت پر بھی بحث کی جانی چاہئے۔(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *