آئینی تحفظات کے باوجود آدیواسی ترقی کے نام پر اجاڑے جارہے ہیں

ترقی کی سب سے بڑی قیمت آدیواسی سماج کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ آدیواسیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کیا جارہا ہے۔جنگل کی جس زمین پر ان کی رہائش ہے،وہ اپنے پیٹ میںکوئلہ، لوہا، باکسائٹ، ہیرا،یورینیم وغیرہ بیش قیمت معدنیات چھپائے ہوئے ہے۔ ان جنگلات کو تباہ کیے بغیر اس خزانے کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
آئینی تحفظات
آدیواسیوںکے مفادات کے تحفظ کے لیے آئین کے پروویژن میںپانچویں اور چھٹیجدول اہم ہے۔ پانچویں جدول میںملک کی دس ریاستوں کے وہ علاقے شامل ہیں جہاں آدیواسیوں کی آبادی 50 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان علاقوں میںآدیواسی کی طرز ندگی اور جیون درشن کی حفاظت کرتے ہوئے آدی واسیوںکی دقیانوسی روایتوں کے مطابق حکومت چلانے اور ترقیاتی پروجیکٹوں کے بنانے اور چلانے کا پروویژن ہے۔ آئین کی پانچویں جدول میں درج علاقوں،جن میں50 فیصد سے زیادہ آبادی قبائل کمیونٹی کی ہے، جہاں پنچایتوںکے شیڈول ایریازمیں توسیع قانون ضروری ہے جسے پنچایت ایکس ٹینشن اوور شیڈول ایریاز ایکٹ 1996 (پیسہ) کہا جاتا ہے۔ ملک میں پیسہ قانون 2 نومبر 2011 کو جاری نوٹیفکیشن کے بعد لاگو ہوا۔ ملک میںپیسہ کی تعمیل سے متعلق ریاست آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ،گجرات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ،مدھیہ پردیش، اڑیسہ، راجستھان کے آدیواسی اکثریتی علاقے آتے ہیں۔ایکٹ کے مطابق ایک سال میں تین تین ماہ کے وقفے میں چار گرام سبھائیں ہوتی ہیں۔ اس قانون کے تحت مقامی کمیونٹی کی پہچان، کمیونٹی وسائل اور تنازع سلجھانے کے روایتی طریقوں کا تحفظ کرنے کا حق ہے۔
تمام سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں، پروگراموں اور پروجیکٹوں کا پنچایت کے ذریعہ نفاذ سے پہلے منظوری کا حق فراہم کیا گیا ہے۔ وہیں ترقیاتی منصوبوںکے لیے شیڈول ایریاز میںزمین تحویل کرنے سے پہلے ایسے منصوبوں کی طرف سے متاثرہ لوگوں کی بازآبادکاری سے پہلے گرام سبھا سے مشورے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے آبی وسائل کی ملکیت، انتظام، مائنر فاریسٹ کی پیداوار کی ملکیت کا حق ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ مائنر منرلس کے لیے کانکنی کی مزدوری اور نشہ آور چیزوں کی فروخت اور استعمال کو ریگولر کرنے کے حق کے ساتھ ساتھ ساہوکاری رواج پر کنٹرول کا حق ہے۔ وہیں مقامی اور قبائلی ذیلی منصوبہ علاقے کے منصوبوںسے حاصل رقم کے تحت اپنی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حق ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

مہاراشٹر کا گڑھ چرولی
مہاراشٹر کا گڑھ چرولی وہ علاقہ ہے، جہاں گرام سبھاؤں نے بانس،تیندو اور دیگر چھوٹے جنگلی پروڈکٹ کی اچھے ڈھنگ سے فروخت کرکے روزگار بناکر ذاتی،اجتماعی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ یہاں گاؤںسے متعلق کسی بھی فیصلے کے لیے گرام سبھا ہی اہم ہے۔ یہ سب کچھ گڑھ چرولی ضلع کی گرام سبھاؤں نے جدو جہد کرکے حاصل کیا ہے۔
اس لڑائی کا نتیجہ ہے کہ گرام سبھا جھنڈے پار،لواری ییرنڈی،وہیر گاؤ، دراچی گھوڑاجھری، موہ گاؤ،ریکھا ٹولہ، ناگ ویلی، پسیر، کیئر، مرکنار ار دیگر گرام سبھاؤں کے ذریعہ کیے گئے طریقہ کارمیںضلع کی گرام سبھاؤں کے ساتھ کام کرکے ہی عوامی تنظیموں،سماجی اداروں اور لوگوںکا اہم رول رہا ہے۔ گرام سبھا کے تصور اور جنگلات پر گرام سبھا کے حق کو مضبوط کرتے ہوئے اجتماعی جنگل کی مانیتا اور فاریسٹ رائٹ قانون کے مؤثر عمل پر بھی عوامی تنظیموں، سماجی اداروںنے کوششیںکی ہیں۔گڑھ چرولی کو آج پورے ملک میںسب سے زیادہ کلیکٹو فاریسٹ رائٹس سے تسلیم شدہ ضلع مانا جاتا ہے، جہاں قبائل کی خود مختار کمیونٹی ہے۔ آج یہ نکسلی، کارپوریٹ اورریجنسی کے تکون میںپھنسی ہوئی ہے۔
گڑھ چرولی ضلع کے ایٹاپلی بلاک کے سورج گڑھ علاقے میں سورج گڑھ کی پہاڑیاں مقامی آدیواسیوں اور دیگر کمیونٹیز کے لیے اہم پوجا مقام ہے۔ ان پہاڑیوںمیںاہم پہاڑ پر اس علاقے کے خاص ’ٹھاکر دیو‘ کا پوجا استھل اور دیگر قدرتی پوجا استھل ہے۔ صدیوںسے مقامی دیواسی اور دیگر کمیونٹیز یہاںپر ہر سال پوجا کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ سورج گڑھ پہاڑ کا یہاں کی مقامی کمیونٹیز کی روایت،ثقافت اور مذہبی رچنامیںاہم مقام ہے۔ اس کے ساتھ ہی 1857 کے انگریز سامراجواد کے خلاف لڑائی کے گڑھ چرولی کے عظیم شہید ویر بابو راؤ شیڈماکے کے روپ میں سورج گڑھ کی تاریخی پہچان ہے۔ اس وقت کی تاریخ کی باقیات آج بھی اس پہاڑ پر دستیاب ہیں جو ویر بابوراؤ شیڈماکے کی انقلابی تاریخ کو آج بھی بیان کرتی ہیں۔ لوگوںکے وجود کا اس پہاڑ کے وجود سے سیدھا تعلق ہے لیکن اب اس پہاڑ کا ہی وجود ختم کرنے پر سرکار آمادہ ہے۔
معدنیات کا گڑھ
سورج گڑھ گڑھ چرولی ضلع میںواقع ہے۔ یہ گاؤں مہاراشٹر کی اس اہم پٹی پر ہے، جس میںریاست کی 60 فیصد معدنیات ہے۔ اس علاقے میںکوئلہ، چونا پتھر،کچا لوہااور میگنیز سمیت 17 طرح کی معدنیات کا 575.3کروڑ ٹن کا متوقع ذخیرہ ہے جو ہندوستان کے کل معدنیاتی ذخیرے کا 22.56 فیصد ہے۔
سماجی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارہ ’وستھاپن ورودھی جن وکاس آندولن‘ کے کارکن کا کہنا ہے کہ ضلع کے چھ تعلقہ میں18000 سے زیادہ ایکڑ میں25 نئے مائننگ پروجیکٹس کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے آدیواسی فکر مند ہیں۔ بھامراگڑھ تعلقہ میںبیجور گاؤں کے 40 سالہ بھومیا (گاؤں پجاری) رام مہاکا کہتے ہیں، ’’ہم مانتے ہیںکہ لوگ، جانور اور دیگر زندہ اور بے جان چیزیں جنگلوں،پہاڑوں، ندیوں او ربارش میںرہتے ہیں۔ اگر قدرت کی ان چیزوںکو ہم چھیڑتے ہیں تو جس دنیا میںہم رہتے ہیں، وہ ختم ہوجائے گی۔‘‘ گڑھ چرولی کی لڑائی، ہندوستان کے آدیواسی علاقوں میںچل رہی بڑی لڑائی کی مثال ہے۔
کوئلہ سے بھرپور علاقوں اور وسط و مشرقی ہندوستان کے جنگلوں میںوسائل کی مخالفت میںتیزی ایک مشہور واقعہ بن چکی ہے۔ ملک کی توانائی کی کل پیداوار میںکوئلے کی شراکت 60 فیصد ہے۔ وسائل کو لے کر قریب ہر مہینے ہونے والی اس لڑائی کے بارے میںکچھ ہی گرامین ہندوستانی جانتے ہیں یا سوچتے ہیں۔
ہندوستان کے ٹاپ مائننگ علاقوں میں سے گڑھ چرولی جیسے آدیواسی زمین پر ہیں۔ 2011 سے 2014 کے بیچ سینٹرل مائنس منسٹری کے ذریعہ ملک میں 48 مائننگ پٹوں کو آدیواسی علاقوں میںمنظور کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے معدنیات پیدا کرنے والے ضلعوں میں جنگلوں کا اوسط تناسب 28 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار 20.9 فیصد کے قومی اوسط کے مقابلے میںزیادہ ہے۔
سورج گڑھ کے آدیواسیوں کی طرح ہی چھتیس گڑھ کے کوربا ضلع ،آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم ضلع اور اوڈیشہ کے کھندادر ہلز کے آدیواسی کمیونٹی مائننگ پروجیکٹس کے خلاف متحد ہوئے ہیں۔ انھوںنے مائننگ سے روزگار پیدا کرنے اور ترقی کو بڑھاوا ملنے کی دلیل کو مسترد کردیا ہے۔ مائننگ لائسنس دیتے وقت گرام سبھاؤں کے ذریعہ صلاح مشورہ نہیںکیے جانے پر کافی غصہ ہے۔
بھامراگڑھ پٹی پارمپرک سمیتی کے نمائندے اور ضلع پریشد ممبر ایڈ لالسو ناگوٹی بتاتے ہیں کہ سورج گڑھ اور دیگر مقامات پر جہاںیہ مجوزہ مائنسہیں یا جہاں منظوری دی گئی ہے، ان ہی جگہوںپر ہمارے ٹھاکر دیو، تلورمتے،مارائی سیڈو، بنڈا پین وغیرہ دیوتاؤں کے مقدس پہاڑ اور جنگل ہیں،جو کہ یہاںکے مقامی آدیواسی اور دیگر کمیونٹیز کی اہم ثقافتی اور مذہبی وراثتیں ہیں۔ ان سبھی مجوزہ مائنس سے تقریباً 15946 ایکڑاور لگ بھگ 40 ہزارایکڑ جنگل- زمین، کان کے کام پورے کرنے کے لیے ختم کی جائے گی۔ اس سے صرف سورج گڑھ علاقے ہی نہیں بلکہ ایٹا پلی، بھامرا گڑھ اور دیگر تحصیل کی گرام سبھاؤں کے لوگوںکے جنگلوں پر مبنی روزگار ختم ہوجائیںگے۔ ان ہی اسباب سے مجوزہ اور مختص کانوں کی ایٹا پلی اور بھامراگڑھ تحصیل کی گرام سبھائیں پرزور مخالفت کرتی ہیں۔ اگر سرکا رجلد ہی سورج گڑھ میںچل رہی مائن بند نہیں کرتی ہے اور دیگر مائنس کو منظوری دینے کے عمل کو ایسے ہی آگے چلاتی رہتی ہے تو پورے علاقوں میںزور دار تحریک شروع کی جائے گی۔

 

 

 

 

 

 

 

گڈکری کا کارنامہ
مرکزی وزیر نتن گڈکری نے چارج سنبھالنے کے بعد جو پہلا کام کیا ہے،وہ یہ ہے کہ مائننگ کے معاملے گرام سبھا کی رائے کو اور جنوری 2014 میںیو پی اے کے ذریعہ پیش کیے گئیلینڈ ایکوئیزیشن ایکٹ میں سماجی اثر کے تخمینہ کے پروویژن کو کمزور کرنا ہے۔ پچھلے سال ضلع کلکٹر کے ذریعہ مہاراشٹر کے گورنر کو ایٹا پلی تعلقہ کی 70 گرام سبھاؤں کے ذریعہ بھیجے گئی ایک قرارداد کے مطابق، ’’ہم سرکار سے اپیل کرتے ہیںکہ ہمارے روایتی کمیونٹی وسائل اوربایو ڈائیورسٹی کو ، مقامی لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرنے کے نام پر ہمارے جنگلوں میںکانوں اور پہاڑوں کی کھدائی کرکے نہ ختم کرو۔‘‘ تحریک کے کنوینر مہیش راؤت نے کہا کہ ’’ان پروجیکٹس کے لیے نیلامی طے کی گئی ہے اور ایگری منٹ لیٹر مائننگ کمپنیوں کے ساتھ دستخط کیے گئے ہیں۔ وہ اب ماحولیات اور جنگل سے متعلق منظوری کے مختلف مراحل میںہیں۔‘‘ بھامراگڑھ پٹی گوتل کمیٹی کی صدر راج شری لیکامے نے کہا، ’’یہ پہلی بار ہے کہ تیوہار میںہم معاش اور حقوق سے متعلق مدعوں پر چرچا کررہے ہیں۔‘‘ گرام سبھا کے ذریعہ پاس کی گئی قرارداد پر سرکار کی طرف سے کوئی ردعمل نہیںآیا ہے۔گڑھ چرولی کلکٹر نے کہا کہ انھیںکچھ ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔ ایک جواب میںوہ کہتے ہیںکہ ’’مختلف اداروں کومخاطب کرتے ہوئے کئی خط اور تجاویز ہوسکتی ہیں۔ مجھے ان سبھی کی جانچ کرنی ہوگی۔‘‘ پنچایتوں کے پروویژن (شیڈول علاقوں کے لیے توسیع)پیسہ ایکٹ، 1996 کے دفعہ 4(کے) کے مطابق، پروگرام علاقوں میںمائنر منرلس کے مائن پٹے دینے سے پہلے گرام سبھاؤں سے صلاح کرنا لازمی ہے۔ مہاراشٹرسرکار کی منرل ریگولیشن کے مطابق مائنر منرلس میںگھریلو برتن بنانے والے پتھر، بجری، سنگ مرمر، کنکڑ کی تعمیروغیرہ کے لیے استعمال والے پتھر شامل ہیں اور اہم منرلس وہ ہیںجو دیگر صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں جیسے کوئلہ میگنیز(کچا)۔کچا لوہا اورباکسائٹ وغیرہ۔ نائک کہتے ہیںم مائن اور منرلس ایکٹ 1957 کے مطابق سورج گڑھ میںکچا لوہا ایک اہم منرل ہے۔ سرکارنے مقامی آدیواسیوں سے وعدہ کیا ہے کہ ماننگ شروع کرنے سے علاقے میں صنعتی ترقی ہوگی۔ اس سے آدیواسی خاندانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نوکریاںپیدا ہوںگی اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا لیکن آدیواسیوں کا کہنا ہے کہ فاریسٹ پروڈکٹس ہی ان کے لیے کافی ہیں۔ 2016 میں ضلع کی 1267 گرام سبھاؤں میںتیندو کی فروخت سے 35 کروڑ کی کمائی ہوئی ہے، جس کے بعد مہاراشٹر سرکار نے ریاست کی اجارہ داری سے تیندو اور بانس کی فروخت کو آزاد کردیاہے۔
سرکار نے گرام سبھاؤں کو جنگل سے آئی پیداوار کو نجی خریداروں کو سیدھے سیدھے بیچنے کا اختیار دے دیا ہے۔ ہر خاندان 15 دن میں 30,000 روپے سے 50,000 روپے تک کما سکتا ہے۔ مہاراشٹر گرام وکاس جن آندولن کے ایک ممبر ،رام داس جاترے کہتے ہیں، ’’جب خاندان پہلے سے ہی لاکھ روپے کما رہا ہے تو ہم سے نوکریوں اور ترقی کی بات کیوں کی جا رہی ہے۔‘‘ جاترے کا الزام ہے کہ سرکار اس علاقے میں بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹس کے قیام مقامی حالات کو بہتر بنانے کے لیے نہیں، بلکہ بڑے کاروبار کے لیے آسان راستہ بنانے کے لیے کرنا چاہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’ سڑک کی تعمیر کی گئی کیونکہ وہ سیمنٹ بیچنا چاہتے تھے۔ وہ زراعتی سامان پر سبسڈی فراہم کرتے ہیںکیونکہ وہ اپنا پروڈکٹ بیچنا چاہتے ہیں۔ وہ مائننگ کرتے ہیں کیونکہ اس سے انھیںفائدہ اور کمیشن ملتا ہے۔ یہ سرکار اور کمپنیاں ہیں جنھیں ترقی کے موجودہ تصور سے فائدہ ملتا ہے۔‘‘
آدیواسی کو کلچرل رائٹس بھی چاہئیں
آدیواسی اپنی روزمرہ کی ضرورتوں کے لیے تھیلی (مچھلی جال) اور دھینکی (چاول کٹائی) جیسے آسان عام آلات کا استعمال کرتے ہیں، جسے مین اسٹریم میں لانے کی ضرورت ہے۔ جاترے کا ماننا ہے کہ فاریسٹ رائٹس کے ساتھ ساتھ آدیواسیوں کو کلچرل رائٹس بھی دیے جانے چاہئیں۔ وہ کہتے ہیںکہ لین دین اور اجتماعی کام کی خوشحال روایت ہے جو ہمارے سماج میں رائج ہے۔ یہ سب مین اسٹریم کے اقتصادی رواجوںکے مقابلے میں بھی پسند کیا جارہا ہے۔‘‘ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر جنگلوں کو ختم کیا جائے گا تو اپنے گھروں سے بے دخل ہونے سے پہلے ہی آدیواسیوں کو اپنی جگہ چھوڑنی پڑے گی۔ جاترے کہتے ہیں ۔ ’’ہم نے تاریخ میں پڑھا ہے کہ چندر پور کا راجہ ایک گونڈ تھا لیکن برطانیہ دور کے دوران کوئلہ مائننگ پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد سے اب مشکل سے چندر پور میںکوئی گونڈ آبادی بچی ہے۔ وہ کہاں گئے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق چندر پور ضلع مں 9.35 فیصد سے زیادہ شیڈول ٹرائب نہیں ہیں جبکہ گڑھ چرولی کی کل آبادی میںسے 38.71 فیصد شیڈول ٹرائب ہیں۔ جاترے کہتے ہیں، 1982 میںضلع کی تشکیل کے بعد سے گڑھ چرولی میںآدیواسیوں کی آبادی میںلگاتار گراوٹ ہوئی ہے، ’’ ضلع میںآدیواسی آبادی تب 60 فیصد تھی اور اسی وجہ سے گڑھ چرولی کو چندر پور سے الگ کرکے ایک نیا ضلع بنایا گیاتھا۔ لیکن اب آبادی کم ہوکر محض 38 فیصد رہ گئی ہے۔‘‘
مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع میںحال میںچل رہی یا چالو کرنے کی کوشش والی مائنس: سورج گڑھ (ایٹا پلی تعلقہ)۔-1 لائیڈس کمپنی348.09- ہیکٹر ، دیؤل گاؤں (آرموری تعلقہ)۔ -2 تاواکّل 5.41- ہیکٹیئر۔-3ما ڈرن منرل 1.62-ہیکٹیئر۔ -4کوٹا منرلس 20- ہیکٹیئر۔
گڑھ چرولی ضلع میں مجوزہ مائنس:
کورچی تعلقہ: جھنڈے پار علاقہ1-۔امول کمار اگروال کمپنی 12- ہیکٹیئر۔ -2 نرمل چند کمپنی 25.62 ہیکٹیئر۔ -3 انوج مائن اینڈ منرلس 12-ہیکٹیئر،-4 رمیش واجورکر کمپنی 8- ہیکٹیئر، -5 منوج کمار سریا 4- ہیکٹیئر، بھری ٹولہ علاقہ 1- ونائک انڈسٹریز 21.21- ہیکٹیئر،مسیلی علاقہ۔-1اجنتا منرلس 65- ہیکٹیئر، .2چمن میٹا لکس پرائیویٹ لمٹیڈ 200-ہیکٹیئر، -3دھاولی اسپات150- ہیکٹیئر، -4 سورک گائیڈ اسٹیل اینڈ مائنس50- ہیکٹیئر، -5 دھاریوال انفراسٹرکچر353.60- ہیکٹیئر، -6 ٹاٹا اسٹیل 131.10 ہیکٹیئر، (پوری آئرن منرل مائن)
ایٹا پلی تعلقہ: گوپنی آئرن 153.09 ہیکٹیئر، دمکونڈواہی ۔ -1 گوپنی آئرن 295- ہیکٹیئر، -2 جے ایس ڈبلیو اسپات 2050- ہیکٹیئر، بانڈے-1سنفلاگ آئرن 236.75 ہیکٹیئر، ناگلموٹا 1- گریس انڈسٹریز 156- ہیکٹیئر، گندجر 1-۔ آدھونک کوپ لمٹیڈ 449.28 ہیکٹیئر، گندرواہی میٹا 2-۔ ستیہ نارائن اگروال 571- ہیکٹیئر، ملّیر میٹا 2-۔ کلپنا اگروال 463- ہیکٹیئر، ادریلگڈا1-۔ سدھاوالی انڈسٹریز307-ہیکٹیئر، کمرپلی 1-۔ ویرانگنا اسٹیل 631.55 ہیکٹیئر، پرہور میٹا 1-۔ اسپات انڈسٹریز 463- ہیکٹیئر۔ (پوری آئرن منرل مائنس)
اہیری تعلق: دیلولماری 1- وائے اینڈ ایم سیمنٹ 252- ہیکٹیئر،-2گجرات سیمنٹ 271- ہیکٹیئراس کے ساتھ دھانیرا، چمورشی، بھامرا گڑھ تعلقہ میںبھی مائنس تجویز ہونے کا عمل چل رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *