اپوزیشن کی خموشی اور میڈیا کا تعریف میں لگنا جمہوریت کے لیے مہلک

ملک کی تاریخ میںدو بار ایسے موقع آئے جب ملک کے دو بڑے لیڈروں نے اپوزیشن لیڈروں کی گرتی حالت کو لے کر اپنے تبصرے کیے۔ ایک بار اندرا گاندھی نے کہا کہ ملک میںاپوزیشن تو ہے ہی نہیں، میڈیا اپوزیشن کا رول نبھا رہا ہے۔ میڈیا کو اپنا کام کرنا چاہیے، اپوزیشن کا رول نہیںنبھانا چاہیے۔ اپوزیشن اس وقت ہارا ہوا تھا، مردہ تھا۔ اس میںاندرا گاندھی سے لڑنے کا حوصلہ ہی نہیں بچا تھا۔ ایسے میںمیڈیا نے ان سارے سوالوںکو اٹھایا، جو عوام کے سوال تھے۔ میڈیا کا یہی سب سے بڑا کام ہوتا ہے۔ ان دنوںچینل نہیںتھے، اخبار تھے۔ اخباروںنے عوام سے جڑے سوالوںکو بخوبی اٹھایا۔ تب مجبوراً اندرا گاندھی کو کہنا پڑا کہ میڈیا اپوزیشن کا رول نبھا رہا ہے۔
دوسری بار، راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے اور اس وقت بھی اپوزیشن ڈھیر ہوگئی تھی۔ راجیو گاندھی کی قیادت میں 400 سے زیادہ کانگریسی اراکین پارلیمنٹ لوک سبھا کا الیکشن جیت کر آئے تھے۔ اپوزیشن کی سمجھ میںہی نہیںآرہا تھا کہ راجیو گاندھی کا مقابلہ کیسے کرے؟ تب دوردرشن پر ایک پروگرام شروع ہوا، جو ہندوستان کا پہلا نیوز اور کرنٹ افیئرس کا پروگرام تھا۔ اس پروگرام کا نام تھا نیوز لائن، جسے آنند بازار پتریکا کے ذریعہ بنایا گیا تھا۔ اس پروگرام کے ایڈیٹر اِن چیف اور ڈائریکٹر آف ڈائریکشن ایم جے اکبر تھے۔ وہ کمال کا پروگرام تھا۔ بے خوف، سیدھا ، بغیر لاگ لپیٹ کے اور موضوع پر مبنی۔ اس پروگرام سے جڑے بہت سے لوگ آج میڈیا کے سپر اسٹار ہیں، جن میںونود دوعا اور راگھو بہل جیسے نام شامل ہیں۔ میںاس پروگرام کا خصوصی نامہ نگار تھا ۔ ایم جے اکبر کی قیادت میںآدھے گھنٹے کے ہفتہ وار پروگرام نیوز لائن نے اتنا دھیان مرکوز کرلیا تھا اور سرکار کو اتنا پریشان کردیا تھا کہ اس وقت راجیو گاندھی کے سکریٹری گوپی اروڑہ نے راجیو گاندھی سے کہا کہ اگر آپ کو نیوز لائن ہی جاری کرنا ہے تو پھر کسی مخالف کی ضرورت کیا ہے؟ راجیو گاندھی نے 13 ایپی سوڈ کے بعد، اس پروگرام کو بند کرنے یا اسے ایکسٹینشن نہ دینے کی ہدایت اپنے وزیر برائے اطلاعات و نشریات کو دے دی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے دور میں، اپوزیشن لیڈروں میںراج نارائن، بھوپیش گپتا، جیوترمے بسو، مدھو لمیے اور ناتھ پائی جیسے بڑے بڑے نام تھے۔ یہ وہ نام تھے، جو کن ہی حالات کے سبب خاموش ہوئے، تب پریس نے مدعوں کو اٹھایا۔ اسی طرح راجیو گاندھی کے دور میںچندر شیکھر تھے، ہیم وتی نندن بہوگنا تھے، کرپوری ٹھاکر تھے۔ یہ لوگ بھی راجیو گاندھی کی جیت سے حیران تھے اور تقریباً خاموش ہوکر بیٹھ گئے تھے۔ جب آج کی حالت دیکھتے ہیں، تو اتنا پریشان اپوزیشن ہندوستان کی سیاسی تاریخ میںکبھی نہیںرہا۔ آج حالت یہ ہے کہ ملک میںکوئی ایسا اپوزیشن لیڈر نہیں بچا ہے ، جس کے فون پر دوسرا اپوزیشن لیڈر مثبت جواب دے۔ کچھ لیڈروں نے اپنے آپ اپنی حالت خراب کرلی۔ ایک معقول کوشش ہوئی تھی۔ ملائم سنگھ کی قیادت میںایک پارٹی بنانے کی کوشش ہوئی تھی، جس میںملک کے سبھی اہم اپوزیشن لیڈر شامل تھے۔ لیکن ملائم سنگھ جی نے عوامی طور پر ، پریس کانفرنس میں، قیادت قبول کرنے کا وچن دے کر، پھول مالا پہننے کے بعد بھی،کسی وجہ کے تحت ، جسے ہم نامعلوم وجہ بھی کہہ سکتے ہیں، اس مہم کو پلیتہ لگادیا۔ اس کے بعد کوئی ایک لیڈر بن کر نہیںابھرا۔ اترپردیش کی خاندانی لڑائی نے ملائم سنگھ کے امکانات ختم کردیے اور اکھلیش یادو میںیہ خواہش ہی نہیںبچی کہ 5 سال تک اترپردیش میںسرکار چلانے کے بعد وہ ملک میںگھومتے اور ملک کے ا ن سبھی لوگوں کو اکٹھا کرتے، جنھیںہم اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں۔ ممتا بنرجی اپنی زبان کی کمزوری کی وجہ سے اپوزیشن لیڈروں کو متحد کرنے میںکبھی اہم رول ادا نہیںکرپائیں۔ لالو یادو کے خلاف جس طرح عدالتی کارروائی چل رہی ہے اور ایک قانون کے حساب سے جب تک ان کی سزا پوری نہیںہوجاتی، تب تک وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ نتیش کمار کے اوپر لوگوں کی نظریں جاکر رکی تھیں کہ شاید نتیش اس اہم کام کو پورا کریں گے لیکن لالو یادو اور نتیش کمار کے تضاد نے نتیش کمار کو بی جے پی کے ساتھ جانے پر مجبور کردیا اور یہ امکان بھی ختم ہوگیا۔ اس وقت ملک میںکوئی ایسا لیڈر نہیں ہے،جسے ہم اپوزیشن کا سب سے بڑا لیڈر کہہ سکیں یا جو لوگوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
آج نتیجہ یہ ہے کہ عوام کے سوال، عوام کے دکھ و تکلیف کو کوئی نہیں اٹھا رہا ہے۔ راہل گاندھی کانگریس کے نئے صدر بنے ہیں۔ اپوزیشن کے لیڈر ہیں لیکن ان کی طرف سے بھی آج تک کبھی اپوزیشن لیڈروں کو بلاکر بات چیت کرنے کی کوئی پہل نہیں ہوئی۔ جو خبریںراہل گاندھی کے یہاںسے باہر نکلتی ہیں یا کانگریس کے لوگ جس طرح سے بات کرتے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ راہل گاندھی اپوزیشن کے اتحاد کو کوئی اہمیت نہیںدیتے۔ ان کا ماننا ہے کہ کانگریس پارٹی اکیلی اپوزیشن ہے اور انھیں ہی بی جے پی سے لڑنا ہے۔ جب تک بی جے پی اپوزیشن میںتھی یا اٹل اور اڈوانی جی بی جے پی کے لیڈر تھے، وہ ہمیشہ اپوزیشن کے لوگوں سے بات چیت کرتے تھے۔ حالانکہ ان دنوں یہ ماحول تھا کہ کوئی بی جے پی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملانا چاہتا تھا، کیونکہ لوگوںکے گمان میںیہ نہیں تھا کہ بی جے پی کبھی اقتدار کی دعویدارہوسکتی ہے۔
ایسی حالت میںملک کو سب سے بڑا نقصان ، ان سوالوں کو نظر انداز کرنے سے ہورہا ہے، جن کا رشتہ اس ملک کے 70 فیصد سے زیادہ لوگوں سے جڑا ہے۔ چاہے معیشت ہو ، صنعتی ترقی یا نوکریوں کا مسئلہ ہو، کالا دھن، تعلیم، صحت اور مہنگائی ہو، ان سب پر سوال اٹھنے بند ہوگئے اور صرف اس لیے کہ اپوزیشن کمزور ہے۔ جمہوریت میںیہ ہمیشہ ہوتا ہے کہ اقتدار ایک راستے پر چلتا ہے۔ ایک سمت میںچلتا ہے، ایک نظریہ سے چلتا ہے۔ اگر اس راستے پر چلنے یا اس نظریہ کو اپنانے سے کچھ تضاد پیدا ہوتے ہیںتو ان تضادات کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری اپوزیشن کی ہوتی ہے۔ آج ملک میںکہیں اپوزیشن نہیں ہے۔
اکھلیش یادو میں ابھی بھی امکان بچا ہوا ہے۔ اکھلیش یادو اپنا گھر تھوڑا ٹھیک کرلیں، پھر چاہیں تو اپوزیشن کو متحد کرنے کا کام کرسکتے ہیں۔ وہ عمر میںچھوٹے ہیں اور سارے اپوزیشن لیڈروں کو اپنے والد کے زمانے سے جانتے ہیں۔ وہ انھیںاکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن اکھلیش یادو کے من میںیہ بات کیوں نہیںآتی یا ہمت کیوںنہیں پیدا ہوتی، یہ کسی کی سمجھ میںنہیںآرہا ہے۔ کچھ لوگوں کا اندازہ ہے کہ جس نیو لبرل مارکیٹ سسٹم نے ملک کے سارے اداروں کو بدلنے یا انھیں لقویٰ مارنے کا کام کیا ہے، اسی طریقے سے ملک کے سبھی اپوزیشن لیڈروں کو اس نے گہری نیند میںسلا دیا ہے۔ لیفٹ لیڈروں کی پریشانی یہ ہے کہ انھیںاس تکنیک پر کبھی بھروسہ نہیں ہوا یا وہ شاید شمالی ہند کے عام لوگوں کے ساتھ بات چیت پیدا نہیں کرپائے، جیسی بات چیت انھوںنے مغربی بنگال میں یا کیرالہ میں پیدا کی۔ اس لیے یہ سوچنا کہ لیفٹ لیڈران سبھی پارٹیوں کو اکٹھا کرلیں گے، یہ تصور سے باہر ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

ایسے وقت میںجمہوریت کے چوتھے ستون پر جو ذمہ داری ہے، وہ ذمہ داری چوتھا ستون یا میڈیا نہیں نبھا رہا ہے۔ اس وقت میڈیا حکومت کی تعریف کرنے یا اقتدار کی قدم گیری کرنے میں لگا ہے۔ ہر چینل ان ساے سوالوں کو نظر انداز کررہا ہے جن سوالوں پر اسے سب سے زیادہ دھیان دینا چا ہیے۔ رپورٹر یا صحافی نام کی ایک مخلوق ہوا کرتی تھی، وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی رپورٹ پر کوئی ٹیلی ویژن چینل نہیںچلتا۔ کہہ سکتے ہیںکہ اخباروں کو ٹیلی ویژن چینلوںنے ڈھک لیا ہے۔ اخباروں کو مجبور کیا ہے کہ جیسا ٹیلی ویژن چینل لوگوںکی رائے بنائیں، اخبار اسی سمت میںتیزی کے ساتھ چلیں۔ ٹی وی چینل سرکار کی تعریف میں لگے ہیں اور لوگوں کو نظر اندا ز کررہے ہیں۔ سارے فیصلے سویرے نیوز روم میںبیٹھ کر ہوتے ہیں۔ نیوز روم میںیہ طے ہوتا ہے کہ کون سی بائٹ چلنی ہے اور کس طرح کی بائٹ چلنی ہے۔ وہ اپنے ریاستی نامہ نگار کو اشارہ کر دیتے ہیں او رویسی ہی رپورٹ آتی ہے۔ وہ سبھی رپورٹ سرکار کے کسی نہ کسی کام کی تعریف کرنے کی ہوتی ہے۔ دوسرا، شام 5 بجے سے لے کر رات 10 بجے تک ٹیلی ویژن چینلوں میں جو مباحثے ہوتے ہیں، وہ مباحثے ایبسٹریکٹ ٹاپکس کو لے کر ہوتے ہیں۔ ان موضوعات کو لے کر ہوتے ہیں، جن میں عوام کو انٹرٹینمنٹ ملے لیکن عوام کو اپنے مسائل کا حل ہوتے ہوئے نہ دکھائی دے۔ اس کی پریشانی کو کوئی زبان نہ ملے۔ پانچ سے لے کر دس بجے تک ہر ٹی وی چینل اس عمل کو آگے بڑھانے میںاور دوسروںکو تعریف کرنے میںپیچھے چھوڑ رہا ہے۔ اینکر بی جے پی کے ترجمانوںکی طرح کام کررہے ہیں۔ کچھ کانگریس کے لہجے میں بول رہے ہیں لیکن عوام کے لہجے میںکوئی بھی سوال نہیں اٹھا رہا ہے۔ یہ صورت حال جمہوریت کے لیے بہت مہلک ہے۔ جمہوریت تب تک ٹھیک نہیںچل سکتی، جب تک کہ میڈیا مضبوط نہیںہو۔ اپوزیشن کمزور ہوجائے، کوئی بات نہیں لیکن میڈیا کو کمزور نہیں ہونا چاہیے، لیکن آج ایسا ہورہا ہے۔ یہ بدقسمتی کی صورت حال ہے۔ اس صورت حال کو حکمراں پارٹی نے اپنے مفاد میںمانا ہے اور اپوزیشن اپنی کاہلی کی وجہ سے اس حالت کے ساتھ اپنے کو انجذاب کررہا ہے۔ ہم کس سمت میںجارہے ہیں، یہ ہمیںنہیںپتہ۔شاید اب سرکار کو بھی نہیںپتہ کہ وہ کس سمت میںجارہی ہے۔ ہم دھیرے دھیرے کالونیل مینٹالٹی میںگلے تک پھنس گئے ہیں۔ اس کے اچھے یا برے نتائج شاید اسی سال ہم کو اور دیکھنے کو مل جائیںگے۔ اپوزیشن کا خاموش ہونا اور میڈیا کا تعریف میںبڑھ چڑھ کر حصہ لینا جمہوریت کے لیے بہت مہلک ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *