قاری ابوالحسن اعظمی نے کہا! دارالعلوم دیوبند تعلیمی تجاویز کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرے

Qari-Abul-Hasan
قومی تعلیمی پالیسی کاسوال ہے وہ دو اور دو چار کی طرح واضح ہے کہ تعلیم صنعت وحرفت، طب و صحت، تعمیر و قانون کے گرد گھومتی ہے جو منشی ، کلرک،وکیل،ڈاکٹر، سائنسداں ،انجینئر او رانسانی ضروریات کی کفالت کے افراد تیار کرتی ہے، قومی تعلیم کے دائرہ میں نہ زعفرانی رنگ ہے نہ یوگا او روندے ماترم او رنہ کسی مذہبی شعار کی پابندی اس لیے اچھا شہری خود کفیل ہندوستانی ملک کی ترقیات کاخواب دیکھنے والے انسان کاتیار کرنا تعلیم کامقصد ہے۔مذکورہ خیالات تنظیم فضلاء دیوبند کے قومی صدر قاری سید ابوالحسن اعظمی نے میڈیا کو جاری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر قومی تعلیمی پالیسی کو بامقصد وکامیاب بناناہے او راگر اسے کسی رہنمائی کی ضرورت ہے تو وہ ہے تعلیم کے رشتے کو اعلیٰ اخلاقیات سے ہم آہنگی ، تعلیم یافتہ شہری ایمان دار سچا ملک سے سے محبت کرنے والا، پاک باز، دوسرے کے کام آنے والا کیسے بنے، پورے تعلیمی نظام کو اخلاقیات سے جوڑنا تعلیمی پالیسی کی اولین بنیادی اور آخری ضرورت ہے۔جہاں تک بات ہے مدارس کے فارغین کی اسناد کو بارہویں کے مساوی تسلیم کرنے کے مشورے کی تو یہ بات خود مستقل مشورہ کی محتاج ہے اور اس موضوع پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر اس مقصد کاحصول مطلوب ہے اور یقیناًمطلوب ہونا چاہیے تو اس کے لیے منظم تحریک چلانی ہوگی ، اس کے لیے قومی شعور کو بیدار کرنا ہوگا، حکومت کے سامنے اپنے احتجاج کو مضبوطی کے ساتھ درج کرانا ہوگا، اور اگر ضرورت پڑے تو مدارس کے موجودہ نصاب کو بعینہٖ باقی رکھتے ہوئے ، ایک دو کتاب کو بڑھایا بھی جاسکتاہے ۔
دار العلوم کی تاریخ گواہ ہے کہ وقت ،حالات او رتقاضے کے مطابق، مناسب تعلیمی فیصلے لئے جاتے رہے ہیں۔ہمارے سامنے دو باتیں ہیں ایک مدارس کی تعلیم کو بہتر بنانا دوسری قومی تعلیمی پالیسی کی رہنمائی دونوں ہی توجہ طلب ہیں۔ضرورت اس بات کہ ہے کہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہونے والے ’’کل ہندرابطۂ مدارس‘‘ کے اجلاس میں اس موضوع کو اہمیت دی جائے او ررابطۂ مدراس کے اس اجلاس کے ایجنڈے میں اسے شامل کیاجائے ، مارچ میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس ایک روایتی بن کر نہ رہ جائے بلکہ ضرورت ہے کہ تمام قابل ذکر دادارے جو عموماً شرکت کو اپنی ضرور ت نہیں سمجھتے انہیں تاکیداً مدعو کیاجائے ،نیز ادارہ کے وہ ذمہ داران جنہوں نے دینی وعصری دونوں طرح کی تعلیم حاصل کی ہے، ان کو ضرور مدعو کیاجائے اور دارلعلوم کے وہ فضلاء جنہو ں نے دارالعلوم کی فراغت کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں بھی منفرد مقام حاصل کیا اور PC.S و .I.A.S.بن کر ملک کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *